آپ ﷺ کا خون مبارک

آپ ﷺ کا خون مبارک (قسط الثانی)
عنوان: آپ ﷺ کا خون مبارک (قسط الثانی)
تحریر: محمد سمیر احمد العطاری

آپ ﷺ کے خون مبارک کا ذائقہ

رسول اکرم ﷺ کے اخلاق حمیدہ کو تو ہر شخص شہد سے بھی زیادہ میٹھا سمجھتا ہے، کفار بھی آپ ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کے قائل ہیں، لیکن اس کو معنوی مٹھاس کہا جاتا ہے اور یہاں حضور ﷺ کی معنوی نہیں بلکہ حسی اور جسمانی مٹھاس کی بات ہو رہی ہے۔

مشہور مقولہ ہے:

كُلُّ إِنَاءٍ يَنْضَحُ بِمَا فِيهِ
(بحوالہ: مفید الطالبین، ص ۶)

ترجمہ: ہر برتن وہی نکالتا ہے جو اس میں ہوتا ہے۔

اس قاعدے کو سامنے رکھتے ہوئے احادیث کا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جسمانی طور پر بھی شہد سے زیادہ میٹھے تھے، اسی وجہ سے آپ ﷺ کا خونِ مبارک بھی میٹھا تھا۔ چنانچہ امام شعبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ آپ نے جو حضور نبی کریم ﷺ کے جسمِ اطہر سے نکلا ہوا خون پیا، وہ کیسا تھا؟ فرمایا:

أَمَّا الطَّعْمُ فَطَعْمُ الْعَسَلِ وَأَمَّا الرَّائِحَةُ فَرَائِحَةُ الْمِسْكِ
(شرح الشفا، ج ۱، ص ۱۶۲)

ترجمہ: ذائقہ شہد کی طرح میٹھا اور خوشبو مشک کی طرح تھی۔

امام قسطلانی علیہ الرحمہ اس حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ بلا شبہ نبی کریم ﷺ تمام طیبین سے بڑھ کر طیب ہیں اور تمہارے لیے اتنی دلیل کافی ہے کہ آپ ﷺ کا پسینہ بطورِ خوشبو لیا جاتا تھا، پس آپ ﷺ ہی وہ ہستی ہیں جن سے پھیلنے والی ہوا کو اللہ تعالیٰ نے موجودات کے لیے طیب بنایا۔ پس کائنات نے آپ ﷺ سے خوشبو اخذ کی تو رفعت کو پہنچی اور دلوں نے آپ ﷺ سے روحانی غذا پائی تو طیب ہو گئے اور روحوں نے آپ ﷺ سے فیض لیا تو ثمر آور ہوئیں۔ (المواہب اللدنیۃ، ج ۲، ص ۳۸)

علامہ ابن جوزی علیہ الرحمہ اپنے شعر میں فرماتے ہیں:

وَدَمُهُ الطَّاهِرُ لَوْ سَالَ عَلَى مَاءِ الْبَحْرِ
لَأَصْبَحَ الْبَحْرُ عَذْبًا فِي لَحْظَةٍ
(الوفا بأحوال المصطفى ﷺ، ج ۱، ص ۲۱۲)

ترجمہ: اگر آپ ﷺ کا پاک خون سمندر کے پانی پر بہہ جائے تو وہ پلک جھپکتے میں میٹھا ہو جائے۔

خواجۂ کائنات ﷺ کا زخمی ہونا

حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ معرکۂ احد میں صحابہ کرام کا کفار سے جنگ کرنا، کفار کو قتل کرنا، صحابہ کا شہید ہونا، حضور اکرم ﷺ پر جاں نثاری کرنا اور عہد کی وفا کا حق ادا کرنا جیسے بے شمار واقعات پیش آئے، لیکن اس میں سید عالم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کو جو شدت، محنت اور ایذا پہنچا وہ جداگانہ اہمیت رکھتا ہے۔ اربابِ سیر بیان کرتے ہیں کہ کفار و فجار میں سے پانچ آدمیوں نے باہم عہد کیا تھا کہ سید کائنات ﷺ کو (معاذ اللہ) شہید کریں گے۔ ان میں سے ایک عبد اللہ بن قمیہ تھا جو اپنی قوم میں جفا جو اور سخت گیر تھا۔ دوسرا عتبہ بن ابی وقاص زہری جو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بھائی تھا جس کے ہاتھ سے حضور اکرم ﷺ کے لب و دندانِ شریف شکستہ ہوئے۔ تیسرا عبد اللہ بن شہاب زہری، چوتھا ابی بن خلف، اور بعض کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن حمید اسدی بھی انہی میں سے تھا۔

ان اشقیاء نے اتنا نہ جانا کہ حضور ﷺ ان کے ہاتھوں شہید ہونے والے نہیں، جب تک کہ آپ کا دین مکمل ہو کر تمام ادیان پر غالب نہ آ جائے، اس وقت تک آپ اس جہان سے تشریف نہیں لے جائیں گے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يُرِيدُونَ أَنْ تُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ

ترجمہ: یہ کفار چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل فرمانے والا ہے اگرچہ کافر کتنا ہی برا مانیں۔

ابن قمیہ ملعون نے درجۂ رسالت ﷺ پر ایسا پتھر پھینکا کہ آپ کا رخسارِ مبارک خون آلود ہو گیا اور خود (لوہے کی ٹوپی) کی کڑیاں آپ کے رخساروں میں پیوستہ ہو گئیں، حتیٰ کہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے بیٹھ کر اپنے آگے کے دونوں دانتوں کو خود کی ایک کڑی پر رکھ کر حضور اکرم ﷺ کے روئے مبارک سے کھینچا تو ان کا ایک دانت ٹوٹ کر گر پڑا، پھر دوسرا دانت کڑی پر رکھ کر کھینچا تو وہ دانت بھی ٹوٹ کر گر پڑا۔ اسی بنا پر ان کو "اَثْتَم" (سامنے کے دانت ٹوٹا ہوا) کہا جاتا ہے۔

حضور اکرم ﷺ کی پیشانی مبارک بھی زخمی ہوئی جس نے آپ کے محاسنِ شریف کو لہولہان کر دیا۔ حضور اکرم ﷺ اپنی چادرِ مبارک سے خون کو صاف کرتے جاتے اور فرماتے جاتے کہ وہ قوم کس طرح نجات پائے گی جو اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کرے، حالانکہ وہ نبی اللہ کی طرف ہی بلاتا ہے۔ جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے اور یہ آیت نازل ہوئی:

لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ

ترجمہ: آپ کو اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں، چاہے اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے یا ان پر عذاب نازل کرے، کیونکہ وہ ظالم ہیں۔

مطلب یہ کہ ہر تصرف و اختیار حق تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر چاہے تو بخش دے اور رحمت کے ساتھ انہیں توبہ کی توفیق دے دے یا چاہے ان پر عذاب فرمائے۔ یہ حضور اقدس ﷺ کی تہذیبِ نفس اور حسنِ ادب کی تعلیم ہے۔ اس آیت کا نزول اس وقت بھی بتایا جاتا ہے جب حضور اکرم ﷺ قبائلِ کفار پر قنوت میں بددعا فرماتے تھے۔

ایک روایت میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ خون کو صاف کرتے رہتے تھے اور اتنا موقع نہ آنے دیتے کہ خون کا قطرہ زمین پر ٹپکے، کیونکہ آپ نے فرمایا: اگر اس خون کا کوئی جزو زمین پر گر جائے تو یقیناً اہل زمین پر آسمان سے ایسا عذاب نازل ہو جس سے وہ سب ہلاک ہو جائیں اور اس کے بعد زمین پر کوئی چیز نہ اگے۔ آپ ﷺ نے دعا مانگی: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (اے اللہ! میری قوم کو معاف فرما دے کیونکہ وہ مجھے نہیں جانتے)۔

عتبہ بن ابی وقاص نے حضور اکرم ﷺ کی جانب ایسا پتھر پھینکا جس سے آپ کا لبِ شیریں لہولہان ہو گیا اور آگے کے نچلے دندانِ مبارک شہید ہو گئے۔ عبد اللہ بن شہاب نے حضور ﷺ کی کہنی مبارک کو زخمی کر دیا۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب روئے پر انوارِ سیدِ ابرار ﷺ سے خون جاری ہوا تو میرے والد مالک بن سنان رضی اللہ عنہ نے اپنے منہ کو اس جگہ رکھ کر خونِ چکیدہ پی لیا۔ اس پر کچھ لوگوں نے کلام کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جس کے خون میں میرا خون مل جائے اسے آتشِ دوزخ نہیں چھو سکتی۔

مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا حضور اکرم ﷺ کے روئے مبارک سے خون صاف کرتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے ڈھال میں پانی لاتے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا دھوتی تھیں؛ ہر چند کہ زخم دھویا جاتا مگر خون نہ رکتا، اس کے بعد بوریا کا ایک ٹکڑا جلایا اور اس کی راکھ زخم پر چھڑکی تب خون بند ہوا۔ اربابِ سیر کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضور ﷺ بوسیدہ ہڈی سے اس زخم کا علاج فرماتے رہے یہاں تک کہ اس کا اثر تک نہ رہا۔

روضۃ الاحباب میں بروایتِ شیخ ابن حجر شرحِ بخاری سے نقل ہے کہ حضور ﷺ کے روئے انور پر تلوار کے ستر زخم آئے تھے مگر حق تعالیٰ نے آپ کو سب کے شر سے محفوظ رکھا۔ علماء فرماتے ہیں کہ ستر کے عدد سے مراد شاید واقعتاً ستر ہی ہوں یا کثرت میں مبالغہ مقصود ہو۔ (بحوالہ: مدارج النبوۃ، ج ۲، ص ۱۷۳ تا ۱۷۵)

(نوٹ: نبی کریم ﷺ کے چہرۂ انور پر خون کا اتر آنا تیسری قسط میں بیان کیا جائے گا۔)

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!