| عنوان: | آپ ﷺ کا خون مبارک (قسط الخامس) |
|---|---|
| تحریر: | محمد سمیر احمد عطاری |
بوئے لہو مبارک
رسول اکرم ﷺ کے خونِ مبارک کو پینے کے بعد اس کی خوشبو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے منہ مبارک میں رچ بس گئی تھی؛ یہی وجہ ہے کہ آپ کی شہادت کے وقت بھی یہ خوشبو مبارک موجود تھی۔ چنانچہ اس بارے میں امام قسطلانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
وَفِي الْكِتَابِ الْجَوْهَرِ الْمَكْنُونِ فِي ذِكْرِ الْقَبَائِلِ وَالْبُطُونِ أَنَّهُ لَمَّا شَرِبَ أَيْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ دَمَهُ تَضَوَّعَ فَمُهُ مِسْكًا وَبَقِيَتْ رَائِحَةٌ مَوْجُودَةً فِي فَمِهِ إِلَى أَنْ صُلِبَ
(المواہب اللدنیۃ، ج ۲، ص ۷۷)
ترجمہ: کتاب "الجوہر المکنون فی ذکر القبائل والبطون" میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے جب حضور اکرم ﷺ کا خونِ مبارک پیا تو ان کے منہ سے مشک کی خوشبو مہکی اور وہ خوشبو ان کے منہ میں انہیں سولی دیے جانے تک باقی رہی۔
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنے شعر میں فرماتے ہیں:
وہ خونِ پاک جسے چھو کے بھی طہارت ملے
وہ ہے محمدِ عربی ﷺ کا لہوئے مشکبار
(مجموعۂ نعتیہ کلام دہلی، ص ۸۷)
مفہوم: یہاں خونِ پاک کو ایسی شے قرار دیا گیا ہے جسے صرف چھونے سے بھی چیزیں پاک ہو جاتی ہیں، اور یہ خون خود مشک جیسی خوشبو والا ہے۔ یہ حضور ﷺ کے جسمانی تقدس اور پاکیزگی کی علامت ہے۔
حضرت شیخ سعدی شیرازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
اگر بہ خاک رود خونِ پاکِ پیغمبر
ز خاک مشک برآید چو بادِ بہرِ صبا
(کلیاتِ سعدی، قصائد)
ترجمہ: اگر پیغمبر ﷺ کا پاک خون زمین کو چھو لے تو اس مٹی سے مشک کی خوشبو بادِ صبا کی طرح پھیلتی ہے۔
محبتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی آپ ﷺ سے محبت کی یہ حالت تھی کہ جب آپ ﷺ وضو کرتے تھے تو وضو کے پانی کا ایک قطرہ زمین پر نہ گرنے دیتے تھے، بلکہ آپ ﷺ کے وضو کا پانی اپنے ہاتھوں میں لیتے، منہ پر ملتے اور آنکھوں سے لگاتے تھے۔ ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ سب سے پہلے آپ کے وضو کا پانی میرے ہاتھوں میں آئے، چنانچہ اس کوشش میں وہ ایک دوسرے پر گر پڑتے تھے۔
ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک بار حضور ﷺ نے پچھنے لگوائے اور اس کا خون ایک صحابی کو دیا کہ اس کو کسی جگہ احتیاط سے دفن کر دو؛ صحابی کی محبت نے گوارا نہ کیا کہ حضور ﷺ کا خون زمین میں دفن کیا جائے، انہوں نے الگ جا کر اسے خود پی لیا۔ اس پر یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ نعوذ باللہ صحابہ کرام بے حس تھے کہ ان کو تھوک ملتے ہوئے اور خون پیتے ہوئے گھن نہیں آتی تھی۔ بات یہ ہے کہ ان امور کا تعلق عشق و محبت سے ہے۔ حضور ﷺ کی حالت یہ تھی کہ قدرتی طور پر آپ کا تمام بدنِ اقدس خوشبودار تھا، آپ ﷺ کا لعابِ دہن نہایت خوشبودار و شیریں تھا اور یہی حال آپ کے خونِ مبارک کا تھا، تو ایسی پاکیزہ شے سے کون شخص گھن کر سکتا ہے! (بحوالہ: اشرف الجواب، ص ۶۰-۶۱)
الحاصل
نبی کریم ﷺ کا خونِ مبارک عظیم برکتوں کا حامل تھا۔ جن کی برکتوں کو صحابہ کرام سے زیادہ کون جان سکتا تھا کہ نبی کریم ﷺ کا دمِ اقدس شہد سے بھی زیادہ میٹھا تھا! بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نبی کریم ﷺ کے خونِ مبارک کو نوش فرمانے کی وجہ سے جنت کی بشارت دی گئی اور آپ ﷺ کا مبارک خون نوش فرمانے کی وجہ سے وہ بے مثال شجاعت و قوت کے حامل ہوئے۔
ربِ کائنات نے آپ ﷺ کو ایسے عظیم صحابہ عطا فرمائے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ہر ممکن تعظیم و محبت کی اور بے شمار فیوض و برکات حاصل کیے؛ یہ وہ عظیم نفوس تھے جنہوں نے نہ صرف رسول اللہ ﷺ سے محبت کی بلکہ آپ ﷺ سے تعلق رکھنے والی ایک ایک شے کی تعظیم و توقیر کی اور دونوں جہان میں کامیاب ہوئے۔ آپ ﷺ ہی کے وسیلے سے فیوض و برکات، کمالات اور درجات پا کر انہوں نے پوری دنیا میں حق کا پیغام پھیلایا۔
خداوندِ متعال عزوجل سے دعا گو ہوں کہ ہمیں آپ ﷺ سے صحیح معنوں میں سچی و پکی الفت کرنے کی توفیق بخشے اور رسولِ اکرم، نورِ مجسم ﷺ کی ذاتِ بابرکات سے منسلک ہر چیز سے فیوض و برکات حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم تسلیماً کثیراً کثیراً۔
