| عنوان: | میلادِ مصطفیٰ ﷺ — محبت، تعظیم اور سیرتِ طیبہ کا روشن پیغام (قسط پنجم) |
|---|---|
| تحریر: | سرفراز احمد قادری امجدی |
ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کی محفلیں اور میلاد کی روایت
ربیع الاول کا مہینہ آتے ہی عاشقانِ رسول ﷺ کے دلوں میں خوشی کی ایک نئی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ مساجد و مدارس میں محافل سجتی ہیں، قرآن کریم کی تلاوت ہوتی ہے، درود و سلام کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، نعت خوانی ہوتی ہے اور سیرتِ طیبہ کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ یہ سب دراصل اس عظیم نعمت کی یاد ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو نوازا۔
حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس ایسی عظیم نعمت ہے جس کا ذکر خود قرآن کریم نے بارہا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو رحمت للعالمین بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
ترجمہ کنزالایمان: بے شک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔
لہٰذا حضور ﷺ کا ذکر کرنا صرف ایک تاریخی واقعہ بیان کرنا نہیں بلکہ اپنی زندگی کے لیے ایک کامل نمونہ یاد کرنا ہے۔
محبتِ رسول ﷺ صحابہ کرام کا سرمایہ تھی
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور اکرم ﷺ سے بے مثال محبت کرتے تھے۔ ان کے لیے حضور ﷺ کی ذات دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب تھی۔ وہ آپ ﷺ کے اقوال، افعال، اخلاق اور عادات کو محفوظ کرتے اور اپنی زندگی میں نافذ کرتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
ترجمہ: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محبتِ رسول ﷺ ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صرف محبت کا دعویٰ نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے عمل سے محبت ثابت کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سیرتِ طیبہ ان کے لیے محض سننے سنانے کی چیز نہیں بلکہ زندگی کا دستور تھی۔
ذکرِ مصطفیٰ ﷺ خود ایک عظیم سعادت ہے
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کا ذکر بلند فرمایا:
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کر دیا۔
دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا لمحہ گزرتا ہو جس میں کسی نہ کسی خطے میں حضور ﷺ پر اذان، درود، سلام یا نعت کے ذریعے آپ ﷺ کا ذکر نہ ہو رہا ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کے ذکر کی بلندی کا ایک مظہر ہے۔
لہٰذا جب مسلمان حضور ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا ذکر کرتے ہیں، آپ ﷺ کے شمائل و خصائل بیان کرتے ہیں، نعت پڑھتے ہیں اور درود و سلام پیش کرتے ہیں تو اصل مقصد اپنے دلوں میں محبت و تعظیمِ رسول ﷺ کو تازہ کرنا ہونا چاہیے۔
میلاد کی محفل کا اصل مقصد
میلاد کی محفل کا اصل حسن اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب اس میں حضور ﷺ کی سیرت بیان کی جائے۔ آپ ﷺ کی ولادت، آپ ﷺ کا بچپن، صدق و امانت، اعلانِ نبوت، دعوت و تبلیغ، مکی زندگی، ہجرتِ مدینہ، مدنی زندگی، فتحِ مکہ، اخلاق، عبادت، رحمت، امت پر شفقت اور آپ ﷺ کی ظاہری وفات کے تمام واقعات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ سننے والوں کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ بڑھے اور وہ آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کا جذبہ لے کر اٹھیں۔
میلاد کو رسم نہیں بنانا چاہیے
یہ بات بہت اہم ہے کہ میلاد شریف کو محض ایک رسم نہ بننے دیا جائے۔ اگر کوئی شخص سال بھر رسول اللہ ﷺ کی سنتوں سے دور رہے، نمازوں میں غفلت کرے، معاملات میں جھوٹ بولے، والدین کی نافرمانی کرے، حقوق العباد پامال کرے اور صرف ربیع الاول میں چند دن نعت و چراغاں کرے تو اسے اپنے عمل پر غور کرنا چاہیے۔
میلاد کا حقیقی پیغام یہ ہے کہ انسان پورا سال بلکہ پوری زندگی حضور ﷺ کی تعلیمات سے وابستہ رہے۔ ربیع الاول ہمیں محبت کا آغاز دے اور باقی گیارہ مہینے اس محبت کا عملی ثبوت بن جائیں۔
محفلِ میلاد اور شریعت کی پابندی
میلاد شریف کی محفل میں جائز اور نیک اعمال جیسے تلاوتِ قرآن، درود و سلام، نعتِ رسول ﷺ، ذکرِ الٰہی، سیرتِ طیبہ کا بیان، صدقہ و خیرات، غریبوں کو کھانا کھلانا، علمِ دین کی تعلیم اور سنتوں کی ترغیب کا اہتمام ہونا چاہیے؛ یہ سب ایسے اعمال ہیں جن میں خیر ہی خیر ہے۔
لیکن کسی بھی نیک مقصد کے نام پر شریعت کی خلاف ورزی جائز نہیں ہو سکتی۔ نماز قضا کرنا، بے پردگی، مرد و زن کا ناجائز اختلاط، فحش کلامی، ناجائز موسیقی، فضول خرچی، دوسروں کو تکلیف دینا یا کوئی دوسرا شرعی ممنوع کام میلاد کی نسبت سے بھی جائز نہیں ہو سکتا۔ ہمیں محبت کے ساتھ شریعت اور شریعت کے ساتھ محبت کو جمع کرنا ہو گا۔
ہماری نسل اور میلاد
آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو صرف میلاد کی ظاہری رونق نہ دکھائی جائے بلکہ انہیں حضور ﷺ کی سیرت سے واقف کرایا جائے۔ انہیں بتایا جائے کہ ہمارے نبی ﷺ سچے، امانت دار اور رحم دل تھے؛ یتیموں سے محبت فرماتے تھے، غریبوں کا خیال رکھتے تھے، والدین اور پڑوسیوں کے حقوق کی تعلیم دیتے تھے، علم کی ترغیب دیتے تھے اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھتے تھے۔ اگر ہماری نئی نسل حضور ﷺ کے اخلاق کو اپنا لے تو ہمارا معاشرہ خود بخود بدل سکتا ہے۔
اختتامیہ
میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی محفل کا سب سے خوبصورت نتیجہ یہ ہے کہ انسان محفل سے اٹھے تو اس کے دل میں درود ہو، زبان پر ذکر ہو، آنکھ میں محبت ہو اور عمل میں سنت ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ربیع الاول میں اپنے آقا ﷺ کی سیرت پڑھیں، بچوں کو سنائیں، گھروں میں سیرت کی کتابیں پڑھیں، نعت و درود کی محافل منعقد کریں اور اپنی زندگی کو سنت کے مطابق بنانے کا عہد کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو محبتِ مصطفیٰ ﷺ سے معمور فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کی سچی اتباع نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔
(نوٹ: قسط ششم میں ان شاء اللہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ اور ہماری اجتماعی و معاشرتی ذمہ داریوں پر گفتگو ہو گی۔)
