آزادی وطن میں علمائے اہلِ سنت کا کردار

آزادی وطن میں علمائے اہلِ سنت کا کردار
عنوان: آزادی وطن میں علمائے اہلِ سنت کا کردار
تحریر: محمد عارف رضا قادری امجدی

یومِ آزادی اور اس کی اہمیت

ہندوستان کو ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو انگریزوں سے آزادی ملی اور اس وقت لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ہندوستان کی آزادی کا اعلان کیا تھا۔ ہندوستان اس سال اپنا ۸۰واں یوم آزادی منا رہا ہے۔ یہ دن ہندوستانیوں کے لئے بہت اہم ہے اور سب مل کر اسے مناتے ہیں۔

یوم آزادی کیا ہے: یوم آزادی ہندوستان میں برطانوی راج کے خاتمے کی علامت ہے۔ ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو ہندوستان نے آزادی حاصل کی تھی۔ یہ دن قومی تعطیل ہے یعنی اسکول، دفاتر اور کاروبار بند ہوتے ہیں۔ یہ دن ملک کے ہر شہری کے لئے بہت خاص ہوتا ہے کیونکہ اس دن ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا تھا۔

یوم آزادی کیوں اہم ہے: یوم آزادی کئی وجوہات کی بنا پر اہم ہے۔ یہ ہمیں آزادی کی قدر اور اس کے حصول کے لئے دی گئی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے یہ ہندوستان کے اتحاد اور تنوع کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے لوگ اس خاص دن کو منانے کے لئے اکٹھا ہوتے ہیں یہ ہندوستانی ہونے پر فخر محسوس کرنے اور ملک کے روشن مستقبل کے منتظر ہونے کا دن ہے۔

آزادی کی جدوجہد اور اہم شخصیات

ہندوستان کی آزادی کی لڑائی ایک طویل اور مشکلوں سے بھرا سفر تھا۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بڑے بوڑھے سبھی نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ انہوں نے بہت سے چیلنجوں کا سامنا کیا لیکن آزاد ہندوستان کے خواب کو کبھی ترک نہیں کیا ان کی ہمت اور عزم ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ہم آزاد ہندوستان میں سانس لے رہے ہیں۔

تحریک میں اہم شخصیات:
مسٹر گاندھی: انہوں نے ہندوستان کی عدم تشدد کی تحریک آزادی کی قیادت کی تھی۔ پرامن مزاحمت کے ان کے خیالات نے دنیا بھر کے لوگوں کو متاثر کیا تھا۔
جواہر لال نہرو: انہیں ہم نہرو کے نام سے جانتے ہیں۔ وہ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم تھے۔
ابوالکلام آزاد: انہیں آزاد ہندوستان کا پہلا وزیر تعلیم بنایا گیا تھا انہوں نے جدوجہد آزادی سے لے کر قومی و ملی رہنمائی کے شعبے میں اپنی منفرد شناخت قائم کی تھی۔
سبھاش چندر بوس: نیتا جی کے نام سے مشہور، انہوں نے برطانوی راج کے خلاف لڑنے کے لئے انڈین نیشنل آرمی بنائی تھی۔
بھگت سنگھ: ایک نوجوان مجاہد آزادی جس نے اپنی بہادری اور قربانی سے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا تھا۔ وہ ایسا ہندوستان چاہتے تھے جس میں سب کو یکساں حق ملے۔
بیگم حضرت محل: جنگ آزادی میں پہلی سرگرم عمل خاتون رہنما کے نام سے مشہور ہیں۔ ۱۸۵۷ء-۱۸۵۸ء کی جنگ آزادی کے دوران ان کی ناقابل فراموش جدوجہد تاریخ کے صفحات میں سنہرے الفاظ میں درج ہے۔

آزادی کی تقریبات اور جشن

یوم آزادی کیسے منایا جاتا ہے: یوم آزادی پورے ہندوستان میں بڑے فخر اور خوشی کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ملک کے شہری قومی پرچم لہراتے ہیں، حب الوطنی کے گیت گاتے ہیں اور آزادی کے لئے دی گئی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں۔

آزادی کی تقریبات: ملک کے بہت سے اسکولوں اور کالجوں میں یومِ آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی جاتی ہے اس کی تیاری پہلے سے کی جاتی ہے طلبہ حب الوطنی کے گیت تقریریں اور مختلف پروگرام پیش کرتے ہیں۔ کئی شہروں میں پریڈ بھی ہوتی ہے اس موقع پر لوگ سبز، سفید اور زعفرانی رنگ کے اعمامہ شریف پہنتے ہیں وطن کی سلامتی، ترقی اور امن کے لیے دعا بھی کی جاتی ہے۔

آزادیٔ ہند میں علماۓ اہل سنت کا کردار

ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد ایک طویل، پُر خطر اور قربانیوں سے لبریز داستان ہے۔ اس جدوجہد میں مختلف طبقات مذاہب اور مکاتب فکر کے لوگوں نے بھرپور حصہ لیا ان میں ایک اہم اور نمایاں کردار اہلِ سنت کے علما کا رہا جنہوں نے نہ صرف سیاسی میدان میں بلکہ فکری، دینی اور اخلاقی محاذ پر بھی انگریزی سامراج کے خلاف آواز بلند کی اور مسلمانوں میں بیداری پیدا کی۔

۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کو اگرچہ ناکام قرار دیا جاتا ہے، مگر یہی وہ بنیاد تھی جس نے انگریزوں کے خلاف عوامی مزاحمت کو جنم دیا۔ اس جنگ میں علماۓ اہل سنت کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ حضرت شاہ عبدالعزیز دہلوی (۱۷۴۶ء–۱۸۲۴ء) نے سب سے پہلے فتویٰ جاری کیا کہ ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے اور انگریزوں کے خلاف جہاد فرض ہو چکا ہے اگرچہ وہ ۱۸۵۷ء سے پہلے وفات پا گئے، لیکن ان کے افکار نے بعد کے علما کو تحریک دی۔

۱۸۵۷ء کی جنگ میں جو علما پیش پیش تھے ان میں سب سے نمایاں نام حضرت علامہ فضلِ حق خیرآبادیؒ کا ہے جنہوں نے انگریزوں کے خلاف فتویٰ جہاد جاری کیا۔ آپ کو اس جرم میں گرفتار کیا گیا اور کالا پانی (انڈمان جزائر) میں جلاوطن کیا گیا، جہاں آپ نے شہادت پائی۔ دیگر علما جیسے مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا حافظ ضامن شہید، مولانا عبدالقادر بدایونی اور مولانا امام بخش صہبائی نے بھی جہاد میں حصہ لیا اور انگریزوں کے خلاف علانیہ فتویٰ دیا۔

۱۹۲۰ء کی دہائی میں خلافت تحریک کے دوران بھی اہلِ سنت علما نے اہم کردار ادا کیا۔ تحریک خلافت کا مقصد سلطنت عثمانیہ (ترکی) کے خلیفہ کی حمایت اور انگریزوں کے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ بریلوی مکتب فکر کے علما نے نہ صرف خلافت کی حمایت کی بلکہ مسلمانوں کو باہمی اتحاد کی تلقین کی۔

امام احمد رضا خان فاضلِ بریلویؒ اور دیگر علمائے کرام کی جدوجہد

حضور سیدی اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ (۱۸۵۶ء–۱۹۲۱ء) اگرچہ براہِ راست سیاست میں سرگرم نہیں تھے لیکن انگریزوں کے ظلم و ستم کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کرتے رہے۔ آپ نے انگریزوں کی ملازمت، ان کی عدالتوں اور ان کی اطاعت کو مسلمانوں کے لیے باعثِ ذلت قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کفّار کی حکومت کو مضبوط کرنا اور ان کے ساتھ تعاون کرنا دینی غیرت کے خلاف ہے۔ اگرچہ آپ نے مسلمانوں کو انقلابی تحریکوں سے دور رہنے کی تلقین کی لیکن اس کی وجہ اختلافِ طریق کار تھی نہ کہ غلامی کو قبول کرنا。

آپ کے خلفا اور متبعین نے بھی آزادی کی تحریک میں حصہ لیا جن میں علامہ حامد رضا خان، علامہ نعیم الدین مرادآبادی، مولانا عبدالحامد بدایونی، مولانا مظہراللہ سیوانی اور مولانا مظہر الدین دہلوی رحمہم اللہ قابلِ ذکر ہیں۔ یہ تمام حضرات جلسوں، جلوسوں، خطابات اور تحریرات کے ذریعے عوام میں انگریزوں کے خلاف شعور بیدار کرتے رہے۔

علما و ادبا کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا

آج جنت نشان ہندوستان کا یومِ آزادی ہے، یہ تمام ہندستانیوں کے لیے انتہائی خوشی کا موقع ہے۔ یہی وہ دن ہے جب ہم انگریزی تسلط سے آزاد ہوئے اور ہمیں آزاد ملک میں سانس لینے کا موقع ملا۔ لیکن یہ ملک یوں ہی آزاد نہیں ہوا، بلکہ اس کی آزادی کی راہ میں لاکھوں ہندستانیوں کا خون بہا ہے، زندگیاں قربان ہوئی ہیں تب اسے آزادی ملی ہے۔ اس کی آزادی کا خواب ۱۸۵۷ء سے بہت پہلے دیکھا جانے لگا تھا جب ملک کے کچھ علاقوں میں انگریزوں سے چھوٹی چھوٹی جھڑپیں اور جنگیں ہوئی تھیں۔ نواب سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان کی قربانیاں تاریخ ہند کا ایک تازہ ورق ہیں۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی ہندستانیوں کی جانب سے بہت بڑی کوشش تھی جسے انگریزوں نے ’’غدر‘‘ کا نام دیا تھا۔ یہ چنگاری بطل حریت علامہ فضل حق خیرآبادی اور ان کے رفقا نے سلگائی تھی جو ۱۹۴۷ء تک آتے آتے شعلہ جوالہ بن گئی اور پھر ظالم انگریزوں کو یہ ملک چھوڑ کر جانا پڑا۔

جنگ آزادی میں ہند و مسلم، سکھ اور عیسائی سب نے مل کر حصہ لیا ہے لہٰذا تاریخ ہندوستان میں ان تمام کو ہیرووں کی شکل میں یاد کیا جانا چاہیے، نہ تاریخ لکھنے میں تعصب برتنا چاہیے، نہ پیش کرنے میں۔ یہ ان مجاہدین کا حق تھا جو انھیں ضرور ملنا چاہیے۔ ہم امن کے داعی ہیں، ملک میں شانتی چاہتے ہیں اس لیے ہم دہشت پسندی سے نفرت کرتے ہیں۔ آج بھی ہم اعلان کرتے ہیں کہ جو اس دیش سے بغاوت والے لوگ ہیں ہم ان سے بیزار ہیں، ہمارا ان سے کوئی رشتہ ناطہ نہیں۔ یہ دیش آزاد ہوا ہے لہٰذا یہاں ہم سب کو آزادی کے ساتھ رہنے کا حق ہے اور یہ حق ہم سے کوئی چھین نہیں سکتا۔

آزادیٔ ہند کی جدوجہد صرف بندوق یا سیاست تک محدود نہ تھی بلکہ اس میں فکری، علمی اور دینی سطح پر بھی زبردست محاذ آرائی ہوئی۔ علماۓ اہل سنت نے اس جدوجہد میں اپنے قلم، زبان اور جان سے حصہ لیا۔ ان کی قربانیاں، تحریریں، فتاویٰ اور عملی جدوجہد ہماری تاریخ کا روشن باب ہیں۔ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان علما کی قربانیوں کو یاد رکھیں، ان کے پیغام کو عام کریں اور اپنے دین و وطن سے سچی وفاداری کا ثبوت دیں۔

دعائیہ کلمات اور نذرانۂ عقیدت

اے اللّٰه! اپنے حبیبِ سرکار نامدار، مدینے کے تاجدار، دونوں عالم کے مالک و مختار، امام انبیاء حضور محمد مصطفیٰ ﷺ کے صدقے ہمارے وطنِ عزیز ہندوستان کو امن و امان عطا فرما، اسے ہر قسم کے فتنوں، آفتوں اور مصیبتوں سے محفوظ فرما۔ مولا کریم! ملک کے تمام باشندوں کے جان و مال کی حفاظت فرما، سب کو امن و سکون عطا فرما اور مسلمانوں کو ایمان و عافیت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔ اے اللّٰه! ہمارے ملک میں عدل و انصاف قائم فرما، ظلم و فساد کو دور فرما اور ہمیں اپنے پیارے حبیب ﷺ کی سنتوں پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ یا اللّٰه! ہمارے وطن کو امن، سلامتی اور خیر و برکت کا گہوارہ بنا۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔

وطن کی خاک بھی ہم کو عزیز جان سے ہے
یہ ملک امن سے آباد ہو یہی دل کی دعا ہے

قربانیاں جو دے گئے ان کو سلام کرتے ہیں
عارفؔ وطن کی خیر و سلامتی کا پیام کرتے ہیں

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!