| عنوان: | کیا تم صحابہ سے زیادہ حضور ﷺ سے محبت کرتے ہو؟ |
|---|---|
| تحریر: | ابو حامد بنارسی |
ایک اعتراض اور اس کا جواب
ایک دیوبندی نے کہا: "کیا صحابہ نے اس طرح جلسے جلوس نکال کر میلاد منایا تھا؟ کیا تم صحابہ سے زیادہ حضور ﷺ سے محبت کرتے ہو؟"
مجھے جلال آگیا اور پھر یوں گویا ہوا:
تم صحابۂ کرام کے عشقِ رسول ﷺ کی بات کرتے ہو!
صحابہ کرام کا بے مثال عشقِ رسول ﷺ
• صحابہ تو وہ تھے جو حضور اکرم ﷺ کے لعابِ پاک کو زمین پر گرنے نہیں دیتے تھے، بلکہ اسے اپنے جسم پر مل لیتے تھے۔
• صحابہ تو وہ تھے جو حضور ﷺ کے موئے مبارک کو تبرکاً محفوظ رکھتے اور اس سے برکت حاصل کرتے تھے۔
• صحابہ تو وہ تھے جو حضور ﷺ کے پسینۂ مبارک کو خوشبو کے طور پر محفوظ فرماتے تھے۔
• صحابہ تو وہ تھے جو وضوئے رسول ﷺ کے بچے ہوئے پانی کو حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے تھے اور اسے اپنے جسموں پر ملتے تھے۔
• صحابہ تو وہ تھے جن کے لیے حضور ﷺ کا ہر اثر، ہر چیز اور ہر نسبت باعثِ برکت تھی۔
• صحابہ تو وہ تھے جو حضور ﷺ کی ایک جھلک کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار رہتے تھے۔
• صحابہ تو وہ تھے جو حضور ﷺ کے وصالِ ظاہری کے بعد آپ ﷺ کی یاد میں تڑپتے تھے، جدائی کا غم برداشت نہ ہوتا تھا اور آنکھوں سے آنسو جاری رہتے تھے۔
عشقِ رسول ﷺ کا سبق اور حقیقت
اور تم ہمیں عشقِ رسول ﷺ کا سبق پڑھاتے ہو؟
تم کہتے ہو: "کیا صحابہ نے جلسے جلوس نکال کر میلاد منایا تھا؟"
ارے! میلاد کے جلوس کی ایک صورت پر گفتگو کرنے سے پہلے صحابہ کے عشقِ رسول ﷺ کی وہ کیفیت تو سمجھو، جس کے سامنے ہماری محبت کا دعویٰ بھی شرما جائے!
شاید تم جیسے بدبخت لوگ اُس دور میں ہوتے تو کہتے: "قرآن میں کہاں لکھا ہے؟ حدیث میں اس کا کہاں حکم ہے؟"
بدبختو! بغضِ رسول ﷺ کی عینک اتارو، پھر عشقِ رسول ﷺ کی دنیا نظر آئے گی!
