| عنوان: | ذکرِ خیر: حضرت سید شاہ بدر الدین قادری چشتی عرف بدیع میاں علیہ الرحمہ |
|---|---|
| تحریر: | اختر امام انجم ایڈوکیٹ |
ولادتِ با سعادت اور خاندانی پس منظر
شہرِ سہسرام جسے مدینۃ الاولیاء کہا جاتا ہے، یہاں اپنے عہد کی ایک ایسی علمی و روحانی، عظیم المرتبت و عبقری شخصیت گزری ہے جن کو زمانہ آج بھی بدرالاولیاء حضرت سید شاہ بدرالدین احمد حسینی قادری چشتی المعروف بدیع میاں علیہ الرحمہ کے نام سے جانتا اور پہچانتا ہے۔ بدر الاولیاء حضرت سید شاہ بدر الدین احمد حسینی قادری چشتی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ کی ولادت باسعادت ۱۸۸۲ء میں محلہ شاہ ہارون برتلہ سہسرام، ضلع روہتاس، صوبہ بہار میں ہوئی۔
نام و نسب کے اعتبار سے آپ کا نامِ نامی، اسمِ گرامی حضرت سید شاہ بدر الدین احمد حسینی قادری چشتی ہے، عرفِ عام میں لوگ آپ کو بدیع میاں کہہ کر پکارتے تھے، اس طرح آپ کا عرفی نام "بدیع میاں" مشہور ہو گیا۔ آپ نسباً حسینی سید، مسلکاً حنفی اور مشرباً قادری چشتی تھے، یعنی دونوں سلسلوں سے آپ فیض یافتہ تھے۔ آپ کے والد گرامی حضرت سید شاہ بشیر الدین احمد ابن سید شاہ واجد حسین اور والدہ ماجدہ بی بی قمر النساء بنت قاضی الفت حسین رحمۃ اللّٰہ علیہ ہیں۔ آپ کا دادیہال و نانیہال دونوں گھرانے اپنے علاقہ میں بڑے شریف و دیندار کے ساتھ ساتھ زمین دار گھرانے بھی شمار کیے جاتے تھے، یہی وجہ تھی کہ جب آپ کی ولادت ہوئی تو پورے علاقہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جشن کا ماحول بپا ہو گیا۔ لوگوں کی نظر میں بچپن سے ہی آپ کی قدر و منزلت کی حسین و دل کش تصویر منقش ہو گئی، گویا آپ سبھوں کے محبوبِ نظر بن گئے۔
آپ کے ۵ برادران تھے یعنی آپ کو ملا کر ۶ بھائی ہوئے جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں: سید شاہ قمرالدین احمد، سید شاہ محی الدین احمد، مولانا سید شاہ صغیر الدین احمد (فارغ التحصیل ۱۳۵۰ ہجری دارالعلوم خیریہ نظامیہ، سہسرام)، سید شاہ سلیم الدین احمد، اور سید شاہ جسیم الدین احمد۔
شجرۂ نسب
آپ کا نسب نامہ شریف اس طرح ہے:
حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم، حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم، حضرت امام حسین رضی اللّٰہ عنہ، حضرت امام زین العابدین رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید حسین اصغر رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید علی خدری رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید حسن رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید میر تقی / سید مرتضیٰ رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید ھود رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید علی رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید احسن ابو الفضل رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید زید رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید برہان الدین رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید جمال الدین رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید بختیار رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید قطب رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید رحمان ہوشیار رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید دانیال رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید عبد الرسول رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید کریم الدین رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید جلال رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید قتال رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید محمد احمد رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید جلیل رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید محمد درویش رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید عبد الرحیم قادری رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید شاہ فیروز قادری رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید شاہ ابو محمد قادری رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید شاہ مراد علی قادری رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید شاہ خادم حسین رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید شاہ واجد حسین رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید شاہ بشیر الدین احمد رضی اللّٰہ عنہ، حضرت سید شاہ بدر الدین احمد رضی اللّٰہ عنہ۔
آپ کا سلسلۂ نسب ۳۳ویں واسطے پر حضورِ اکرم نور مجسم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم سے جا کر ملتا ہے۔ اس طرح آپ خاندانی طور پر حسینی سید اور آلِ رسول مقبول صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم ہیں، اور حضرت سید شاہ عبد اللہ ابدال قادری بغدادی ثم سہسرامی رضی اللّٰہ عنہ کے گیارہویں نمبر کے سجادہ نشین خانقاہ قادریہ ابدالیہ سہسرام ہیں۔
ازدواجی زندگی اور منصبِ سجادگی کی منتقلی
حالات و معمولات کے مطابق دیکھا جائے تو آپ کی ولادت زمین دار گھرانے میں ہونے کے باوجود، آپ بچپن سے ہی زمین دارانہ ٹھاٹ باٹھ سے کوسوں دور رہتے تھے اور صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے۔ تمام بچوں سے ہٹ کر اکثر وقت آپ مسجد میں ہی گزارا کرتے تھے۔ آپ نے زمین داری کے کسی بھی کام میں حصہ نہ لیا، یہاں تک کہ جو کچھ آمدنی آپ کے حصے میں ہوتی اپنے استعمال بھر رکھنے کے بعد ضرورت مندوں میں تقسیم کر دینا آپ کی عادتِ مبارکہ تھی۔
ازواج اور اولاد: آپ کا پہلا نکاح آپ کے چچا کی صاحب زادی حضرت فاطمہ سے ہوا جن سے ۱ بیٹی اور ایک بیٹا ہوئے لیکن بیٹا کم عمری ہی میں انتقال کر گئے۔ آپ کا دوسرا نکاح موضع سیمری کے سید تبارک حسین کی صاحب زادی حضرت کافیہ خاتون سے ہوا جن سے ایک لڑکی کا ظہور ہوا۔ آپ کا تیسرا نکاح پیرِ طریقت حضرت شاہ معیز الدین شہودی سہسرامی کی صاحب زادی سالمہ خاتون سے ہوا، جن سے ایک فرزند ارجمند کا ظہور ہوا اور ان ہی سے آپ کا خانوادہ آباد ہے۔
خانقاہ کی ذمہ داری: آپ کی پہلی صاحب زادی ام حفصہ عرف قریشہ خاتون کی شادی اولادِ غوثِ اعظم، شہزادۂ حضرت شاہ جمعہ پیر، حضرت سید شاہ امجد حسین قادری (ساکن محلہ شاہ جمعہ پیر) سے ہوئی تھی۔ ۱۹۳۷ء میں آپ کے شوہر حضرت سید شاہ امجد حسین علیہ الرحمہ کا انتقال پر ملال ہو گیا، آپ کو کوئی اولاد نہیں تھی۔ انتقال کے وقت آپ (حضرت شاہ بدیع میاں) اپنے سسرالِ ثانی موضع سیمری میں موجود تھے۔ آپ کے خواب میں شاہ امجد حسین علیہ الرحمہ تشریف لائے اور کہا: "قبلہ! حضور حفصو کو سنبھالیں" (حفصو، گھر میں ام حفصہ کو کہا جاتا تھا اور شاہ بدیع میاں کو حضرت شاہ امجد حسین علیہ الرحمہ "قبلہ" کہہ کر ہی مخاطب کیا کرتے تھے)۔ جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو خبر ملی کہ شاہ امجد حسین صاحب کا انتقال ہو گیا ہے، لہٰذا آپ نے فوراً سہسرام روانہ ہونے کا فیصلہ کیا۔
حضرت شاہ امجد حسین صاحب کے انتقال کے بعد ان کی زوجہ ہی تمام ذمہ داریوں (بشمول خانقاہ و درگاہ کی دیکھ بھال اور زیارتِ تبرکات) کی وارث تھیں۔ بذریعۂ خواب شاہ امجد حسین صاحب نے یہ ذمہ داری حضرت بدیع میاں علیہ الرحمہ کے سپرد کر دی اور اہل محلہ و دیگر صاحبِ شعور حضرات نے اس بات کو تسلیم کر کے مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ لوگوں کی گزارش پر آپ محلہ شاہ ہارون سے محلہ شاہ جمعہ میں مستقل طور پر اقامت پذیر ہو گئے اور جامع مسجد میں امامت و خطابت کی ذمہ داری قبول فرمائی۔ بی بی قریشہ خاتون نے خانقاہ و درگاہ کی ساری ذمہ داریاں آپ کے سپرد کر دیں اور اہل محلہ نے بھی آپ کو حضرت کا خلیفہ تسلیم کر لیا۔ اس طرح خانقاہ و درگاہ کی ساری ذمہ داری حسنی خاندان سے حسینی خاندان میں منتقل ہو گئی۔
معمولاتِ زندگی اور روحانی خدمات
آپ کو ظاہری اور باطنی دونوں طریقوں سے خانقاہ کی مکمل ذمہ داری عطا کی گئی جس کو آپ نے تقریباً ۴۲ سال تک بحسن و خوبی انجام دیا، اور بغیر اُجرت کے ۴۲ سال تک مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔
آپ کا روزانہ کا یہ معمول تھا کہ رات کے تیسرے پہر مسجد چلے جاتے اور فجر کی نماز پڑھا کر اوراد و وظائف میں مشغول رہتے، حتیٰ کہ اشراق و چاشت ادا کر کے ہی مسجد سے گھر واپس آتے۔ ظہر کی نماز پڑھانے کے بعد اپنی ضروریات سے فارغ ہو کر عوام الناس کی خدمت میں مشغول رہتے۔ بعد نمازِ عصر لوگوں کی خیریت دریافت کرنے محلہ شاہ جمعہ سے محلہ شاہ ہارون تک چلے جاتے، راستے میں بچوں کے لئے کچھ چیزیں لیتے اور ان میں تقسیم کر دیتے۔ بعد نمازِ مغرب ضرورت مند لوگوں کا ہجوم لگا ہوتا جن کو آپ روحانی فائدہ پہنچاتے۔ آپ کو دستِ غیب بھی حاصل تھا۔ بعد نمازِ عشاء اپنی ضروریات سے فارغ ہو کر رات کے دوسرے پہر میں ذکر و اذکار کی کثرت کرتے اور اسی دوران رجال الغیب کی آمد کا ہونا روزانہ کا معمول تھا؛ اس دوران آپ کے حجرۂ خاص میں کسی کو آنے کی اجازت نہ ہوتی تھی۔
بزرگوں سے عقیدت و محبت کے معاملے میں دیکھا جائے تو آپ اپنے دور کے بڑے عابد و زاہد، صابر و شاکر، حسین و جمیل اور اعلیٰ ترین اخلاق کے مالک تھے۔ آپ ہر بزرگ کے نام پر ان کی تاریخِ عرس میں فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ ہر جمعرات کو حضرت مولیٰ علی شیرِ خدا کرم اللہ وجہہ الکریم کے نام سے کشمش پر نیاز دیتے، محرم کی ۵ تاریخ کو حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر علیہ الرحمہ کی گنجی فاتحہ کرتے، اور ۸ شعبان کو بڑے احترام و اہتمام سے سات سالن پکوا کر حضرت یعقوب علیہ السلام کی نیاز دلواتے۔ یہ بھی آپ کا معمول تھا کہ اپنے خاندان کے بزرگوں اور مرحومین کی تاریخِ وصال پر فاتحہ کر کے تبرک لوگوں اور بچوں میں تقسیم فرماتے۔
(آخری ایام میں جب آپ کمزور اور علیل رہنے لگے تو اپنی جگہ پر امامت کے لئے حضرت الحاج مفتاح الدین علیگ علیہ الرحمہ کو منتخب و مقرر فرما دیا تھا، جنہوں نے حضور بدرِ ملت کے انتخاب کی لاج رکھتے ہوئے تقریباً ۳۶ سال محلہ شاہ جمعہ پیر کی جامع مسجد میں فی سبیل اللہ امامت کے فرائض انجام دیے۔)
وصالِ با کمال
عین ۱۲ ربیع الاول شریف کے روز ۱۹۷۹ء کو آپ علالت کی وجہ سے بستر پر تھے اور بار بار گھر والوں سے وقت دریافت کر رہے تھے کہ عصر کی اذان ہوئی یا نہیں؟ جیسے کہ آپ کو معلوم تھا کہ آپ عصر کی نماز کے بعد دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔ جوں ہی عصر کی اذان ہوئی، آپ نے بستر پر ہی نماز کی نیت کی اور نماز مکمل فرمائی۔ اس کے بعد آپ کے جسم سے روح پرواز کر گئی اور آپ اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن۔
آپ کی نمازِ جنازہ پیرِ طریقت حضرت حافظ و مولانا سید شاہ انوار الحق شہودی علیہ الرحمہ نے پڑھائی۔ اس طرح تقریباً ۱۰۰ سال کی عمر شریف میں آپ کا وصالِ باکمال ہو گیا اور اہلِ شہر بالخصوص اہلِ محلہ سے ایک بڑی روحانی شخصیت کا سایہ اٹھ گیا۔
آپ کے خاص عزیزوں میں حضرت مولانا ضیاء الحسن سہسرامی، حضرت مفتی صدیق سہسرامی اور جناب پروفیسر اظہر سہسرامی شامل تھے جو اکثر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ وصال کے وقت جب ان بزرگوں نے آپ کے جانشین شہزادے کو غمگین دیکھا تو حضرت مولانا ضیاء الحسن علیہ الرحمہ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا: "آپ کے والد بزرگوار تو اللہ کے پاک باز بندوں میں سے تھے اور اللہ کے پاک باز بندوں کی روحیں ہمیشہ آزاد رہتی ہیں۔ وہ ہمہ وقت سپر بن کر آپ کی مدد گار ثابت ہوں گی۔"
اعلانِ جانشینی اور زیارتِ تبرکات کے امین
آپ نے وصال سے تین سال قبل ہی اپنی حیاتِ مبارکہ میں اپنے فرزند ارجمند، گلِ گلشنِ حسینیت، شہزادۂ بدرِ ملت، خادم و وارثِ بارگاہِ ابدالیت، حضرت سید شاہ ابو الحسنات حسینی قادری سجادی الچشتی المداری السہروردی الفردوسی علیہ الرحمہ کو گیارہویں شریف کے موقع پر اپنا ولی عہد و جانشین ہونے کا اعلان فرما دیا تھا۔
واضح رہے کہ خانقاہ قادریہ ابدالیہ میں ہر سال گیارہویں شریف کے موقع پر تبرکاتِ غوث الاعظم دستگیر کی زیارت حضرت سید شاہ عبد اللہ ابدال قادری بغدادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لے کر اب تک جن حضرات نے کرائی ہے، ان کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:
حضرت سید شاہ عبد اللہ ابدال حسنی قادری بغدادی، حضرت سید شاہ ابراہیم حسنی قادری، حضرت سید شاہ محمد افضل حسنی قادری، حضرت سید شاہ غلام رسول حسنی قادری (حضرت شاہ جمعہ پیر)، حضرت سید شاہ نہال علی حسنی قادری، حضرت سید شاہ محمد آلِ یاسین حسنی قادری، حضرت سید شاہ محمد جلال الدین حسنی قادری، حضرت سید شاہ امیر علی حسنی قادری، حضرت سید شاہ واجد حسین حسینی قادری، حضرت سید شاہ وحید حسین حسنی قادری، حضرت سید شاہ امجد حسین حسنی قادری، حضرت سید شاہ بدرالدین احمد حسینی قادری، حضرت سید شاہ ابوالحسنات حسینی قادری، حضرت سید شاہ تبریز حسنات حسینی قادری، حضرت سید شاہ ابوذر حسنات حسینی قادری۔
منقبت در شانِ حضرت سید بدرالاولیاء علیہ الرحمہ
نتیجۂ فکر: سید شاہ محمد عارف قادری چشتی نقشبندی سہروردی علیہ الرحمہ (جمشید پور، جھاڑکھنڈ)
روحانیت کے شاہ تھے، اور امامِ وقت
مانا کہ ظاہراً نہیں رکھتے تھے تاج و تخت
تھے آفتابِ علم، عمل کے تھے ماہتاب
دنیا سے چل بسے وہ سوئے خلد نیک بخت
تا عمر، رات بھر وہ رکوع و سجود کا
دیتے رہے وہ خوفِ خدا امتحان سخت
وہ کیا گئے کہ ہستیِ کامل چلی گئی
صدمہ ہے ان کی موت کا ہر آدمی کو سخت
سوسال کی عمر میں، ہوئے راہیِ عدم
سچ ہے کہ موت کا بھی مقرر ہے ایک وقت
الموت جسر يوصل الحبيب الى الحبيب
اللّٰہ کے حبیب، بسوئے حبیب رفت
کرتے تھے اتباع وہ ہمیشہ حضور کی
مردم شناس، اہلِ بصیرت، حکیمِ وقت
اللّٰہ کی کتاب کے عاشق تھے بدرِ دیں
رہتے تھے ہر گھڑی وہ تلاوت میں غرق و مست
سیراب ہو رہے ہیں، ہر اک طالبان علم
جاری ہے ان کے فیض کا چشمہ ہر ایک سمت
افسوس! نکتہ دان شریعت نہیں رہا
صد آہ! راز دارِ طریقت نہیں رہا
غم گین ہے اب عارف ان کی وفات سے
وہ بدرِ دیں سراپا محبت نہیں رہا...
نالۂ غم بر وفات حسرت آیات
نتیجۂ فکر: سید محمد عارف قادری چشتی نقشبندی سہروردی علیہ الرحمہ (جمشید پور، جھاڑکھنڈ)
صدق و صفا کا ماہِ درخشاں کہیں جسے
مہر و وفا کا نیرِ تاباں کہیں جسے
حق تو یہ ہے کہ صاحبِ ایماں کہیں جسے
ایک باکمال صاحبِ عرفاں کہیں جسے
علم و عمل کا شمع فروزاں کہیں جسے
وہ بدرِ دیں کہ ماہرِ قرآں کہیں جسے
وہ نائبِ رسول کہ ذیشان کہیں جسے
فخرِ زمانہ، نازشِ دوراں کہیں جسے
وجہِ سکونِ قلبِ پریشاں کہیں جسے
افسوس اب نگاہ سے پنہاں کہیں جسے
وہ بدرِ دیں کہ آیۂ رحماں کہیں جسے
علم و عمل کا ایک گلستاں کہیں جسے
حسنات قادری جو ہیں ان کے جانشیں
گُلزارِ بدرِ دیں کا نگہباں کہیں جسے
جن کو ملا شیوخ سے فیضانِ باطنی
وہ مرتبہ کہ خلدِ بداماں کہیں جسے
جاری ہے جس کے فیض سے چشمہ علوم کا
اک فضلِ خاص، رحمتِ یزداں کہیں جسے
وہ مردِ باخدا، وہ سراپا شعور و فکر
دانائے راز زیست کا عنواں کہیں جسے
دینِ محمدی کی اشاعت تھی رات دن
یہ وہ ادا تھی جانِ بہاراں کہیں جسے
وہ زندگی جو خدمتِ انساں میں کٹ گئی
وہ خدمتِ بلیغ، کہ احساں کہیں جسے
وہ کشتیِ حیات جو ساحل سے لگ گئی
اہل ہوس کے واسطے طوفاں کہیں جسے
عارف کہاں سے لائیں اب ڈھونڈ کر انہیں
خلق خدا کے درد کا درماں کہیں جسے...
