کیا ہر صاحبِ خلافت، صاحبِ مزار ہوتا ہے؟ (قسط: اول) | سرفراز احمد قادری

کیا ہر صاحبِ خلافت، صاحبِ مزار ہوتا ہے؟ (قسط: اول)
عنوان: کیا ہر صاحبِ خلافت، صاحبِ مزار ہوتا ہے؟ (قسط: اول)
تحریر: سرفراز احمد قادری امجدی
پیش کش: محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن، سیتامڑھی، بہار

آج کے دور میں خلافت اور سجادہ نشینی کا معاملہ ایک نازک اور فکری توجہ کا طالب بن چکا ہے۔ کہیں خلافت کو بے جا تقسیم کیا جا رہا ہے اور کہیں اس عظیم امانت کو محض ظاہری تعلقات اور ذاتی مفادات کی بنیاد پر عطا کیا جا رہا ہے۔ ایک وقت تھا کہ "پدرم سلطان بود" کے مصداق چند افراد سجادہ نشینی کے دعوے دار تھے، مگر اب صورتِ حال اس سے بھی آگے بڑھ کر "کھلی آفت" تک پہنچ چکی ہے۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ بعض حضرات بغیر کسی تحقیق، بغیر تقویٰ و پرہیزگاری کو دیکھے، اور بغیر علمی و عملی خدمات کا جائزہ لیے خلافتیں تقسیم کر رہے ہیں۔ معیار یہ رہ گیا ہے کہ کس نے کتنی بار بلایا، کس نے کتنی خاطر مدارات کی، اور کس سے ذاتی تعلقات مضبوط ہو سکتے ہیں۔ نتیجتاً ایسے افراد بھی "صاحبِ خلافت" بن بیٹھے جو نہ علمی پختگی رکھتے ہیں اور نہ ہی روحانی صلاحیت۔ جب یہ کھلی آفت مل جاتی ہے تو پھر ایک نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے—کرامات کے دعوے، مریدوں کی کثرت، اور اندھی عقیدت۔ سادہ لوح عوام ایسے افراد کے جال میں پھنس کر اپنی دنیا و آخرت دونوں کو نقصان پہنچانے لگتے ہیں۔

بنیادی سوالات اور شریعت کا پیمانہ

یہاں چند بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں: کیا ہر سجادہ نشین یا صاحبِ خلافت ولی اللہ ہوتا ہے؟ کیا ہر وہ شخص جو برسوں مدرسہ میں تدریس کرے، لازماً ولایت کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے؟ اور کیا ہر ایسے شخص کا مزار بنا کر اس پر نذر و نیاز کا سلسلہ شروع کر دینا درست ہے؟

اگر ہم شریعت کی روشنی میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی ولی وہی ہے جو کامل طور پر شریعت کا پابند ہو، جس کی زندگی تقویٰ، اخلاص اور اتباعِ سنت سے مزین ہو۔ محض منصب، لقب یا خلافت کا کاغذ کسی کو اللہ کا مقرب بندہ نہیں بنا دیتا۔ ہم نے اپنے اکابرین میں ایسے اولیاء کو دیکھا ہے جن کے دیدار سے خدا یاد آتا تھا، جن کی زندگی سراپا سنت تھی، اور جن کے اخلاق و کردار خود ان کی ولایت کی گواہی دیتے تھے۔ لیکن اگر ہر عالم، ہر پیر، اور ہر صاحبِ خلافت کے نام پر مزار بنانے کا سلسلہ شروع ہو جائے، تو وہ دن دور نہیں جب سال کے تین سو پینسٹھ دن بھی اعراس کے لیے کم پڑ جائیں گے، اور ہر گاؤں میں کئی کئی مزارات قائم ہو جائیں گے—مگر اس سے دین و ملت کو کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہ ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس طرزِ عمل نے سب سے زیادہ نقصان مسلکِ اعلیٰ حضرت کو پہنچایا ہے، کیونکہ جعلی پیری مریدی اور بے اصل خلافت نے اس مسلک کی سنجیدگی، علمی وقار اور روحانی عظمت کو متاثر کیا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں، ہر دعوے کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھیں، اور دین کے نام پر پھیلنے والی ان خرابیوں سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔

حقیقی اللہ والے کون ہوتے ہیں؟

قرآن پاک میں ارشادِ خداوندی ہے:
﴿اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۙ۔ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ﴾
ترجمہ کنز العرفان: سن لو! بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔ (پارہ 11، سورۃ یونس، آیت: 62، 63)

مزید ارشادِ پاک ہے:
﴿اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ﴾
ترجمہ کنزالایمان: بے شک اللہ کی رحمت نیکوں کے قریب ہے۔ (سورۃ الاعراف، پ 08، آیت 56)

ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ﴾
ترجمہ کنزالعرفان: بے شک اللہ پرہیزگاروں سے محبت فرماتا ہے۔ (سورۃ التوبۃ، پ 10، آیت 04)

تفسیرِ صراط الجنان کی روشنی میں

تفسیر صراط الجنان میں ہے: ”لفظِ 'ولی' وِلَاء سے بنا ہے جس کا معنی قرب اور نصرت ہے۔ وَلِیُّ اللہ وہ ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کے نورِ جلال کی معرفت میں مستغرق ہو، جب دیکھے قدرتِ الٰہی کے دلائل کو دیکھے اور جب سنے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی آیتیں ہی سنے اور جب بولے تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی ثنا ہی کے ساتھ بولے اور جب حرکت کرے، اطاعتِ الٰہی میں حرکت کرے اور جب کوشش کرے تو اسی کام میں کوشش کرے جو قربِ الٰہی کا ذریعہ ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے نہ تھکے اور چشمِ دل سے خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے۔ یہ صفت اَولیاء کی ہے، بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا ولی و ناصر اور معین و مددگار ہوتا ہے۔“

مفسرین نے اس آیت کے بہت سے معنی بیان کیے ہیں، ان میں سے 3 درج ذیل ہیں:

  1. مستقبل میں انہیں عذاب کا خوف نہ ہو گا اور نہ موت کے وقت وہ غمگین ہوں گے۔

  2. مستقبل میں کسی ناپسندیدہ چیز میں مبتلا ہونے کا خوف ہوگا اور نہ ماضی اور حال میں کسی پسندیدہ چیز کے چھوٹنے پر غمگین ہوں گے۔

  3. قیامت کے دن ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ اس دن یہ غمگین ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ولیوں کو دنیا میں ان چیزوں سے محفوظ فرما دیا ہے کہ جو آخرت میں خوف اور غم کا باعث بنتی ہیں۔

[حوالہ: صراط الجنان، جلد 4، صفحہ 344، 345، مکتبۃ المدینہ، کراچی]

کب تلک آپ پکاریں گے کہ پدرم سلطان؟
آپ خود کو بھی سنواریں گے کہ پدرم سلطان؟
زیب دیتا نہیں یہ رنگ و نسب کا طُرّہ
فطرتِ بد بھی سدھاریں گے کہ پدرم سلطان؟
(فریدی)

وضاحت: اس مضمون میں جو کچھ عرض کیا گیا ہے، وہ تمام سجادہ نشینوں یا تمام اصحابِ خلافت کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ صرف اُن بعض نام و نمود کے طلبگار اور بے تحقیق خلافت و سجادہ نشینی کے دعویداروں کے متعلق ہے جو اس مقدس منصب کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اہلِ حق، باعمل، متقی اور سچے اولیاء و مشائخ اس تنقید سے مستثنیٰ ہیں اور ہمارے دلوں میں ان کی ہمیشہ عزت و عقیدت قائم ہے۔

اللہ رب العزت ہمیں ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے، ہمیں مسلکِ اعلیٰ حضرت پر ثابت قدم رکھے، اور جعلی پیروں اور بے بنیاد دعویداروں کے فتنوں سے ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!