فتاویٰ فیض الرسول — ایک مستند فقہی سرمایہ

فتاویٰ فیض الرسول — ایک مستند فقہی سرمایہ
عنوان: فتاویٰ فیض الرسول — ایک مستند فقہی سرمایہ
تحریر: سمیر احمد فیضی ازہری

برصغیر کی علمی و فقہی تاریخ میں "العطایا النبویۃ فی الفتاویٰ الرضویۃ" کے بعد اگر کسی فتاویٰ کو غیر معمولی شہرت، مقبولیت اور استناد حاصل ہوا ہے، تو وہ "فتاویٰ فیض الرسول" ہے۔ یہ علمی گہرائی، فقہی استدلال اور شرعی بصیرت کے لحاظ سے ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ یہ محض ایک فتاویٰ نہیں بلکہ علومِ فقہ و افتاء کا ایک گراں قدر انسائیکلوپیڈیا ہے، جو اپنے علمی استدلال، دقتِ نظر، باریک بینی، وسعتِ مطالعہ اور فقہی استنباط کے بے مثال انداز کی بدولت اہلِ علم و تحقیق کے لیے سند کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

حضور فقیہِ ملت کی علمی و فقہی خدمات

حضور فقیہِ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ (سابق صدر شعبۂ افتاء دار العلوم فیض الرسول، براؤں شریف و بانی مرکزِ تربیتِ افتاء، اوجھا گنج بستی) کی علمی، تحقیقی اور فقہی خدمات کا دائرہ انتہائی وسیع ہے۔ ان کی تصنیفات کی طویل فہرست اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ وہ محض ایک مفتی نہیں، بلکہ ایک محقق، محدث، فقیہ اور اسلامی علوم کے نباض تھے۔

ان کے قلم سے نکلنے والے بیش بہا علمی و فقہی خزانے، جیسے:

  • فتاویٰ فقیہِ ملت
  • فتاویٰ مرکزِ تربیتِ افتاء
  • خطباتِ محرم
  • انوار الحدیث
  • فتاویٰ برکاتیہ
  • بزرگوں کے عقیدے
  • عجائب الفقہ
  • محققانہ فیصلہ
  • غیر مقلدوں کے فریب
  • باغِ فدک اور حدیثِ قرطاس
  • خلفائے راشدین
  • انوارِ شریعت
  • نورانی تعلیم
  • فقہی پہیلیاں
  • حج و زیارت
  • احکامِ نیت
  • تعلیمِ نبی
  • معارف القرآن
  • سید الأولیاء
  • ضروری مسائل
  • اوجھڑی کا مسئلہ
  • مساجد سے غیر مقلدوں کا اخراج
  • علم اور علماء

یہ تمام تصنیفات علمی دنیا میں ان کے فکری تفوق اور فقہی تبحر کے منہ بولتے ثبوت ہیں۔

فقہی دنیا میں فتاویٰ فیض الرسول کا مقام

ان تمام کتب میں جس کتاب کو فقہی دنیا میں سب سے زیادہ پذیرائی ملی اور جو علمی حلقوں میں مقبولیت کی معراج کو پہنچی، وہ "فتاویٰ فیض الرسول" ہے۔ اس کتاب کی علمی رفعت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک عرصے سے محققین، علماء اور مفتیانِ کرام اپنے فتاویٰ میں اس کا حوالہ بطورِ سند پیش کر رہے ہیں، اور اسے فقہِ حنفی کے معتمد مراجع میں شمار کیا جا رہا ہے۔

یہ مقبولیت محض اتفاقیہ نہیں، بلکہ اس علمی، تحقیقی اور روحانی فیضان کا نتیجہ ہے جو اس فتاویٰ کی ترتیب و تدوین میں شامل ہے۔ یہ درحقیقت اس مردِ قلندر کی فقہی بصیرت کا شاہکار ہے جس نے اسے ترتیب دیا، اور اس مدرسۂ خلوص و للٰہیت بنام "دار العلوم اہل سنت فیض الرسول براؤں شریف" کی دین ہے جس کی طرف یہ منسوب ہے۔ یہ فقہ و افتاء کا وہ منفرد شاہکار ہے جس میں تحقیق و تدقیق کے جوہر نمایاں ہیں، اور جس کے ہر ہر صفحے پر علمی ژرف نگاہی، گہرے فقہی استدلال اور باریک فقہی نکات کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔

سرپرستی اور استنادی حیثیت

اس فتاویٰ کے علمی معیار اور اس کی استنادی حیثیت میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب شہزادۂ شعیب الاولیاء، مفکرِ اسلام، محبوب العلماء والمشائخ علامہ الشاہ غلام عبدالقادر علوی (سجادہ نشین خانقاہِ فیض الرسول و ناظمِ اعلیٰ دار العلوم فیض الرسول، براؤں شریف) کی سرپرستی میں اس کا اجراء ہوا۔ ان کی علمی سرپرستی اور فکری رہنمائی نے اس کتاب کو ایک ایسی فقہی دستاویز میں تبدیل کر دیا جس نے دیگر فتاویٰ پر سبقت حاصل کر لی، اور جو ہر مفتی، محقق اور عالمِ دین کے لیے ایک لازمی مرجع بن گئی۔

یہ کتاب درحقیقت فقہی دانش، علمی بصیرت، تحقیقی صلاحیت اور اجتہادی مہارت کا وہ حسین امتزاج ہے جو فقہ و افتاء کے میدان میں ایک بے مثال اضافہ ہے۔ یہ نہ صرف علمی سختی اور گہرائی کا مظہر ہے، بلکہ اس کی نثر کا جلال، اسلوب کی متانت اور بیان کی فصاحت و بلاغت اسے دیگر فتاویٰ سے ممتاز کر دیتی ہے۔

جدید مسائل اور عوام و خواص کے لیے افادیت

یہ ایک ایسی علمی دستاویز ہے جو نہ صرف قدیم فقہاء کی فقہی روش کے تسلسل کو باقی رکھتی ہے، بلکہ جدید فقہی مسائل پر بھی ٹھوس دلائل اور مستند حوالہ جات کے ذریعے قابلِ قدر رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس کی انفرادیت کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ یہ سخت فقہی اصطلاحات اور دقیق قانونی موشگافیوں کو انتہائی سلیقے اور ترتیب کے ساتھ پیش کرتی ہے، تاکہ نہ صرف علماء و فقہاء بلکہ عوام الناس بھی اس سے استفادہ کر سکیں۔

یہی وجہ ہے کہ فقہِ حنفی کے مفتیانِ کرام، علمی مراکز، دار الافتاء اور تحقیقی مجالس اس فتاویٰ کو اپنے فیصلوں میں بطورِ حوالہ استعمال کرتی ہیں اور اس پر مکمل اعتماد و انحصار کرتی ہیں۔ اس کے علمی نکات، استدلالی قوت، منطقی ترتیب اور اصولی مباحث کی پختگی نے اسے فقہ و افتاء کی دنیا میں ایک مسلمہ مقام عطا کر دیا ہے۔

اختتامیہ

پس، یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ "فتاویٰ فیض الرسول" محض ایک فتاویٰ نہیں، بلکہ فقہ و افتاء کا ایک ایسا روشن مینار ہے جس کی روشنی آنے والی کئی نسلوں کے مفتیانِ کرام اور اہلِ علم کو راہ دکھاتی رہے گی۔ یہ علمی سختی، تحقیقی استدلال، فقہی دقتِ نظر اور شرعی اصولوں کے حسین امتزاج کا ایک شاہکار ہے، جو ہمیشہ اپنی علمی تابندگی اور فقہی عظمت کے سبب فقہ و افتاء کے دائرے میں سند کی حیثیت رکھے گا۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!