بدرِ ملت علامہ الشاہ بدرالدین احمد رضوی رحمہ اللہ

خلیفۂ حضور مفتیِ اعظم ہند، بدرِ ملت علامہ الشاہ بدرالدین احمد رضوی رحمہ اللہ — ایک علمی و روحانی شخصیت
عنوان: خلیفۂ حضور مفتیِ اعظم ہند، بدرِ ملت علامہ الشاہ بدرالدین احمد رضوی رحمہ اللہ — ایک علمی و روحانی شخصیت
تحریر: سمیر احمد فیضی ازہری

جب علم و فضل کے آسمان پر نظر دوڑائی جائے اور برصغیر کے ان جلیل القدر علماء کو شمار کیا جائے جنہوں نے اپنی علمی گہرائی، فقہی بصیرت اور روحانی رفعت سے ملتِ اسلامیہ کو منور کیا، تو ان میں ایک تابندہ ستارہ امام المحققین، استاد الفقہاء، رئیس الاتقیاء، محدث، فقیہ، مفتیِ جلیل، علامہ الشاہ بدرالدین احمد رضوی بدرِ ملت رحمہ اللہ (بانیِ ادارہ مدرسہ غوثیہ فیض العلوم بڑھیا شریف، کھنڈسری، سدھارتھ نگر و سابق صدر المدرسین دار العلوم فیض الرسول، براؤں شریف) کی ذاتِ گرامی بھی ہے۔

آپ وہ نابغۂ روزگار شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے قلم و قرطاس کے ذریعے علم و ادب کے کئی دریا بہائے اور اپنی فقہی تحقیق، منطقی استدلال اور ادبی چاشنی سے ایک لازوال علمی ورثہ چھوڑا۔

سوانح اعلیٰ حضرت اور علمی مقام

آپ کی علمی خدمات کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کی تصنیف "سوانحِ اعلیٰ حضرت" کو برصغیر میں وہی مقام حاصل ہے جو خلیفۂ اعلیٰ حضرت ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری رحمہ اللہ کی تصنیف "حیاتِ اعلیٰ حضرت" کے بعد سب سے زیادہ مقبول و مستند مانی جاتی ہے۔ اگرچہ اس میدان میں کئی محققین نے طبع آزمائی کی، مگر جو پذیرائی اور استناد آپ کی کتاب کو حاصل ہوا، وہ منفرد اور عدیم النظیر ہے۔

سند المحققین، حضور بدرِ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان اپنی علمی زندگی میں صرف ایک محقق اور مصنف ہی نہیں، بلکہ ایک زبردست متکلم، مناظر، مدرس اور محدث بھی تھے۔ آپ کی تصانیف علم و تحقیق کے آفاق میں گراں قدر اضافہ ہیں۔

تصانیف و شاہکار کتب

آپ کے قلم سے نکلنے والی اہم کتابیں درج ذیل ہیں:

  • تعمیرِ ادب (چھ حصے)
  • فیض الادب (دو حصے)
  • جواہر المنطق
  • تلخیص الاعراب
  • سوانحِ اعلیٰ حضرت
  • تعمیرِ قواعد (اول و دوم)
  • عروس الادب

ان شاہکار کتابوں نے علمی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا اور ملک و بیرونِ ملک اپنی انفرادیت و امتیاز کی درخشاں مثال بنی رہیں۔ آپ کی کتابیں نہ محض فکر و دانش کے جواہرِ آبدار سے مزین ہیں، بلکہ تحقیق و تدقیق کی رفعتوں کو چھوتی ہوئی، اپنی جامعیت، استدلال کی پختگی اور علمی رسوخ کے باعث اربابِ علم و فن کے حلقوں میں سند کا درجہ رکھتی ہیں۔

فنِ منطق اور ادب میں مہارت

حضور بدرِ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کے علمی تبحر کا ایک نمایاں پہلو ان کا فنِ منطق میں یدِ طولیٰ ہونا تھا۔ آپ نے اس فن کو جس سلاست، وضاحت اور فصاحت کے ساتھ پیش کیا، وہ نہ صرف مبتدی طلبہ کے لیے مفید ثابت ہوا بلکہ کہنہ مشق علماء کے لیے بھی بصیرت کا سامان بنا۔ آپ کی کتاب "جواہر المنطق" کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح ایک ماہرِ منطق، دقیق مباحث کو کس قدر عمدگی اور شائستگی سے پیش کرتا ہے۔

اسی طرح آپ کی تصانیف میں ادب کی وہ لطافت، شائستگی اور نکھار نظر آتا ہے جو کسی بلند پایہ ادیب کا خاصہ ہوتا ہے۔ "تعمیرِ ادب" اور "فیض الادب" جیسی کتابیں اس کا واضح ثبوت ہیں۔

علمی احسانات اور فیض الرسول سے وابستگی

آپ کے علمی و فکری احسانات کا دائرہ محض کسی ایک مدرسے، ادارے یا جماعت تک محدود نہیں، بلکہ برصغیر کے تمام علمی حلقوں پر اس کے اثرات مرتسم ہیں۔ بلاشبہ مرکزِ علم و فن دار العلوم فیض الرسول کا احسان کوئی ایسا مدرسہ نہیں جو محسوس نہ کر سکے۔ آپ کی تحقیقات اور علمی محنتوں کے نتائج آج بھی مدارس و جامعات کے نصاب میں شامل ہیں، اور آپ کے تبحرِ علمی کے نقوش آج بھی طلبہ و علماء کے اذہان کو منور کر رہے ہیں۔

آپ نے کئی مقامات پر منصبِ تدریس و ارشاد پر فائز ہو کر علوم و معارف کے بے بہا لؤلؤ بکھیرے، مگر حیاتِ مستعار کے آخری ایام میں حضور سیدی و سندی شیخ المشائخ سرکارِ شعیب الاولیاء (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) بانیِ ادارہ دار العلوم اہل سنت فیض الرسول براؤں شریف کی بارگاہِ جلالت میں خدمت کو منتہائے سعادت مندی گردانا اور مرکزِ علم و فن، دار العلوم فیض الرسول، براؤں شریف میں منصبِ صدارت پر فائز ہو کر ترویجِ علومِ دینیہ اور اشاعتِ معارفِ سلفیہ میں مشغول رہے۔

وصال مبارک اور عرسِ پاک

حتیٰ کہ ۷ رمضان المبارک کو داعیِ اجل کو لبیک کہہ کر دارِ فانی سے دارِ بقا کی جانب رحلت فرما گئے۔ آپ کی آخری آرام گاہ بڑھیا شریف، کھنڈسری بازار، سدھارتھ نگر میں مرجعِ خلائق ہے، جہاں ہر سال ۷ رمضان المبارک کو آپ کا عرسِ پاک نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوتا ہے۔

اس بابرکت محفل کی قیادت و صدارت آپ کے نورِ نظر، پرتوِ جمال، عکسِ حضور بدرِ ملت، مفتیِ مذاہبِ اربعہ، استاذی الکریم مفتی محمد رابع نورانی بدری (حفظہ اللہ) استاذِ حدیث و فقہ دار العلوم فیض الرسول براؤں شریف و قاضیِ شرع ضلع سدھارتھ نگر انجام دیتے ہیں۔

یہ عرسِ سعید ایک منفرد علمی، روحانی اور عرفانی اجتماع ہوتا ہے، جس میں ہزارہا مریدین، متوسلین، معتقدین، علماء، فقہاء اور مفتیانِ کرام شریک ہو کر فیضانِ حضور بدرِ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان سے متمتع و مستفیض ہوتے ہیں۔

اس مجلسِ عرفان میں بطورِ خاص سرپرستِ عرس، استاد الفقہاء حضور بدرِ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کے چہیتے اور برگزیدہ شاگرد، شہزادۂ شعیب الاولیاء، مفکرِ اسلام علامہ الشاہ غلام عبدالقادر علوی (حفظہ اللہ و رعاہ) سجادہ نشین خانقاہِ فیض الرسول و ناظمِ اعلیٰ دار العلوم فیض الرسول، براؤں شریف جلوہ افروز ہوتے ہیں۔ آپ نے اپنے استاذ و مربی، امام المحققین سرکارِ بدرِ ملت سے اکتسابِ فیض کیا اور اپنے روحانی و علمی اسلاف کے نقوشِ جادہ پر گامزن ہیں۔ یہ منظر اس عظیم علمی ربط و تسلسل کی عکاسی کرتا ہے، جیسے سیدنا امامِ اعظم ابو حنیفہ (رضی اللہ عنہ) کا شاگردِ رشید، امام ابو یوسف (رحمہ اللہ)، اپنی علمی میراث کو زندہ رکھنے کے لیے دربارِ علم میں حاضر ہو رہا ہو۔

اختتامیہ

اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی علمی میراث سے صحیح طور پر استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین!

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!