صبر کا قرآنی بیان

صبر کا قرآنی بیان
عنوان: صبر کا قرآنی بیان
تحریر: غفران المصطفیٰ بن عبدالمصطفیٰ

صبر کا مفہوم اور تعریف

صبر ایک ایسی عظیم نعمت ہے جو مومن کے ایمان کی علامت، دل کے اطمینان کا ذریعہ اور اللہ کی رضا پانے کا سبب ہے۔ صبر کے بغیر نہ عبادت میں لذت ملتی ہے، نہ زندگی میں سکون۔ صبر مومن کی ڈھال، مصیبتوں میں چراغ اور مشکلات میں انسان کے ایمان کا سب سے بڑا امتحان ہے۔

لفظ "صبر" عربی میں روکنے اور برداشت کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں صبر کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نفس کو شریعت کے مطابق روک لینا خواہ کیسی بھی تکلیف یا آزمائش ہو۔

قرآنِ پاک میں صبر کی فضیلت

قرآنِ مقدس میں صبر کی فضیلت جگہ جگہ بیان کی گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ" (۱)
ترجمہ: بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (کنز العرفان)

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

"وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ" (۲)
ترجمہ: اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو۔ (کنز العرفان)

یہ آیاتِ مبارکہ واضح طور پر بیان کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو اپنی خاص مدد اور رحمت سے نوازتا ہے۔

انبیاءِ کرام علیہم السلام کا صبر

قرآنِ کریم میں انبیاءِ کرام علیہم السلام کے صبر کا بار بار ذکر آیا ہے تاکہ قومِ مسلم ان کا اسوہ پڑھ کر سبق حاصل کرے:

۱) حضرت ایوب علیہ السلام نے سخت بیماری میں صبر کیا تو قرآن نے اس کو یوں بیان فرمایا:
"اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ اِنَّهٗ اَوَّابٌ" (۳)
ترجمہ: بے شک ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا، وہ کیا ہی اچھا بندہ ہے بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔ (کنز العرفان)

۲) حضرت یوسف علیہ السلام کی جدائی میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے صبر کا بیان قرآنِ مجید میں اس طرح سے وارد ہوا:
"فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ" (۴)
ترجمہ: تو عمدہ صبر ہے، اور تمہاری باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں۔ (کنز العرفان)

۳) ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں بے شمار اذیتوں کے باوجود صبر و استقامت کا مظاہرہ فرمایا:
"فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ" (۵)
ترجمہ: تو تم صبر کرو جیسے ہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔ (کنز العرفان)

صبر کا بے حساب اجر

صبر کے اجر و ثواب کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:

"اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ" (۶)
ترجمہ: صبر کرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (کنز العرفان)

اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والے بڑے ہی خوش نصیب ہیں کیونکہ قیامت کے دن انہیں بے حساب اجر عطا کیا جائے گا۔

حاصلِ کلام

پیارے پیارے اسلامی بھائیوں! صبر محض برداشت کا نام نہیں بلکہ ایک عبادت ہے جو دل کی گہرائیوں سے کی جاتی ہے۔ قرآنِ مجید کا بھی واضح پیغام ہے کہ آسائش و آزمائش، کامیابی و ناکامی میں تمام مومنین کو ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ" (بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)۔

ہمیں چاہیے کہ ہم زندگی کے ہر موڑ پر صبر کو اپنا شعار بنائیں کیونکہ صبر اسلام کا شعار ہے اور حقیقی کامیابی کا راز بھی اسی میں مضمر ہے۔

حوالہ جات / حواشی

(۱) پ۲، سورة البقرة: ۱۵۳
(۲) پ۲، سورة البقرة: ۱۵۵
(۳) پ۲۳، سورة صٓ: ۴۴
(۴) پ۱۲، سورة یوسف: ۱۸ / ۸۳
(۵) پ۲۶، سورة الاحقاف: ۳۵
(۶) پ۲۳، سورة الزمر: ۱۰

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!