| عنوان: | معاشرے میں اصلاح کی ضرورت |
|---|---|
| تحریر: | غفران المصطفیٰ بن عبدالمصطفیٰ |
معاشرہ اور اس کی اہمیت
انسان ایسی مخلوق ہے جو تنہا زندگی نہیں گزار سکتی، بلکہ اسے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسروں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اسی باہمی تعلق سے معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ جب معاشرے کے افراد نیک سیرت، باکردار اور احکامِ الٰہی کے پابند ہوں تو معاشرہ امن، محبت اور خوشحالی کا گہوارہ بن جاتا ہے، لیکن جب برائیاں عام ہو جائیں اور لوگ دینی تعلیمات سے دور ہو جائیں تو معاشرے میں بے سکونی، انتشار اور بدامنی پیدا ہو جاتی ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی اصلاح کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ کریم نے مختلف مقامات پر اصلاحِ معاشرہ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور نیکی کو فروغ دینے اور برائی سے روکنے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا موجودہ دور میں معاشرے کی اصلاح ایک نہایت اہم اور ضروری امر ہے۔
انبیائے کرام علیہم السلام کا مقصدِ بعثت
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب علیہ السلام کا یہ قول نقل فرمایا:
"اِنْ اُرِيْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ"
ترجمہ: "میں تو صرف اصلاح چاہتا ہوں، جتنی مجھ سے ہو سکے۔" (۱)
اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کا ایک اہم مقصد لوگوں کی اصلاح اور انہیں راہِ راست پر لانا تھا۔
امتِ مسلمہ کی ذمہ داری
امتِ مسلمہ کو بھی اصلاح کا فریضہ سونپا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ"
ترجمہ: "اور تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، اچھی بات کا حکم دے اور بری بات سے منع کرے، اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔" (۲)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ معاشرے میں اصلاح کا کام صرف علماء یا مخصوص افراد کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پوری امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نیکی کو فروغ دے اور برائی کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔
عدمِ اصلاح پر عذابِ الٰہی کا اندیشہ
معاشرے میں اصلاح کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ جب برائیاں عام ہو جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاصَّةً"
ترجمہ: "اور اس فتنے سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں ہی کو نہ پہنچے گا۔" (۳)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب معاشرے میں برائیاں پھیل جائیں اور لوگ انہیں روکنے کی کوشش نہ کریں تو اس کے برے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنی استطاعت کے مطابق اصلاحِ معاشرہ میں حصہ لے۔
زمین میں فساد کی ممانعت
آج ہمارا معاشرہ بے شمار برائیوں کا شکار ہے۔ جھوٹ، غیبت، چغلی، بددیانتی، ظلم، رشوت، بے حیائی، والدین کی نافرمانی اور دینی احکام سے غفلت عام ہوتی جا رہی ہے۔ ان تمام برائیوں کا خاتمہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کریں۔
ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے فساد سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"وَ لَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا"
ترجمہ: "اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو۔" (۴)
اس آیت میں واضح حکم دیا گیا ہے کہ اے لوگو! انبیائے کرام علیہم السلام کے تشریف لانے، حق کی دعوت دینے، احکامِ الٰہی بیان کرنے اور عدل قائم فرمانے کے بعد تم کفر و شرک، گناہوں اور ظلم و ستم کے ذریعے زمین میں فساد برپا نہ کرو۔
انفرادی اصلاح اور اسلامی اخوت
معاشرے کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنی اصلاح سے آغاز کرے، کیونکہ ایک اچھا فرد ہی ایک اچھا معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے۔ اگر ہر شخص سچائی، امانت داری، حسنِ اخلاق اور نیکی کو اختیار کرے تو پورا معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
اسی طرح قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ"
ترجمہ: "مسلمان تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرا دو۔" (۵)
مسلمان آپس میں دینی تعلق اور اسلامی محبت کے ساتھ مربوط ہیں، اور یہ رشتہ تمام دنیوی رشتوں سے زیادہ مضبوط ہے۔ لہٰذا جب کبھی دو بھائیوں میں جھگڑا واقع ہو تو ان کے درمیان صلح کرا دینی چاہیے۔
حاصلِ کلام
الغرض، معاشرے کی اصلاح ہر دور کی اہم ضرورت رہی ہے، اور آج کے پُرفتن دور میں اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اگر ہم ایک مثالی اسلامی معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآنِ کریم کی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا، نیکی کو عام کرنا ہوگا، برائی سے روکنا ہوگا اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اپنے باہمی تعلقات سمجھنے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
حوالہ جات / حواشی
(۱) پ۱۲، سورة هود: ۸۸
(۲) پ۴، سورة آل عمران: ۱۰۴
(۳) پ۹، سورة الانفال: ۲۵
(۴) پ۸، سورة الاعراف: ۵۶
(۵) پ۲۶، سورة الحجرات: ۱۰ (تفسیر صراط الجنان)
