سیرتِ مطہرہ حضرت امام مالک رحمہ اللہ علیہ

سیرتِ مطہرہ حضرت امام مالک رحمہ اللہ علیہ
عنوان: سیرتِ مطہرہ حضرت امام مالک رحمہ اللہ علیہ
تحریر: محمد آزاد رضوی الطیبی

علمِ حدیث اور فقہِ اسلامی کے افق پر چمکنے والے تابندہ ستارے، امام دارالہجرت حضرت امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ کی حیاتِ طیبہ زہد و تقویٰ، عشقِ رسول اور علم و حکمت کا بے نظیر شاہکار ہے۔ آپ کی زندگی کا ہر گوشہ طالبانِ حق اور عاشقانِ مدینہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

نام، نسب اور درخشندہ خاندان

اسمِ گرامی و کنیت: آپ کا اسمِ گرامی مالک، کنیت ابو عبداللہ اور لقب امام دارالہجرت ہے۔

سلسلہ نسب: مالک بن انس بن مالک بن ابو عامر بن عمرو بن حارث بن غیمان (یا عثمان) بن جثیل (یا خثیل) بن عمرو بن ذی اصبح اصبحی مدنی۔

خاندانی پس منظر: آپ کا نسب یمن کے نامور قبیلے حمیر بن سباء (یعرب بن قحطان) سے ملتا ہے۔ آپ کے جدِ اعلیٰ ابو عامر اس خاندان کی وہ پہلی شخصیت تھے جنہیں قبولِ اسلام کا شرف حاصل ہوا۔

نسبتِ ولاء: بعض ائمہِ سیر کی تحقیق کے مطابق آپ کے جدِ اعلیٰ بنو تیم کے موالی میں سے تھے، اور چونکہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تعلق بھی بنو تیم سے ہے، اس بناء پر آپ کی نسبت ولاء قرشی بھی کہلاتی ہے۔

ولادتِ با سعادت

اربابِ تاریخ کے نزدیک آپ کی ولادتِ با سعادت کے سن میں مختلف اقوال (۹۰ھ سے ۹۸ھ) ملتے ہیں، تاہم اکثر محققین و مورخین کا متفقہ اور راجح قول یہ ہے کہ آپ ۹۳ھ میں مدینہ منورہ کی مقدس سرزمین پر جلوہ گر ہوئے۔

دورِ تحصیلِ علم اور ایامِ عسرت

معاشی تنگ دستی: آپ کا خاندان دنیاوی ثروت و مال سے پاک تھا۔ آپ کے والدِ گرامی تیر سازی کے پیشے سے وابستہ تھے، جبکہ آپ اور آپ کے بھائی کپڑے کی تجارت (بزازی) کے ذریعے کسبِ معاش کرتے تھے۔

صبر و استقلال: طلبِ علم کے ابتدائی ایام میں آپ نے بلا کی فقر و فتاق کشی دیکھی۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ تحصیلِ علم کے لیے آپ کو اپنے مکان کی چھت توڑ کر اس کی لکڑیاں تک فروخت کرنا پڑیں، مگر ان شدائد کے باوجود آپ کے عزمِ محکم میں کوئی تزلزل نہ آیا۔

پردہ پوشی اور رازِ الٰہی: بعد کے ادوار میں جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو وسعت عطا فرمائی تو خلیفہ ابو جعفر منصور نے آپ سے آپ کے ایامِ افلاس کا ذکر کیا کہ جب آپ کی بچی بھوک سے روتی تو آپ پڑوسیوں سے پردہ رکھنے کے لیے خالی چکی چلوایا کرتے تھے۔ اس پر امام صاحب نے فرمایا کہ خدا کی قسم! اس راز کو اللہ کے سوا کوئی نہ جانتا تھا۔

علمی مقام اور خرقِ عادت حافظہ

اساطینِ مدینہ سے کسبِ فیض: آپ نے مدینہ طیبہ کے جلیل القدر علماء اور شیوخ سے قرآن، حدیث اور فقہ و فتاویٰ کا درس حاصل کیا اور اپنے سینہِ مبارک کو علم و عرفان کا بحرِ بے کنار بنا لیا۔

پیشگوئیِ امام اعظم: زمانہ طالب علمی ہی میں آپ کی ذکاوت دیکھ کر امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ اگر ان میں سے کوئی نجیب و ممتاز ہوگا تو وہ سرخی مائل مالک ہوگا۔

حافظے کا معجزہ: آپ فرمایا کرتے تھے کہ جو بات ایک بار میرے ذہن کے خزانے میں داخل ہو گئی، وہ پھر کبھی نہ نکلی۔ ایک بار امام ابن شہاب زہری کی مجلس میں شریک ہوئے اور ایک ہی نشست میں چالیس سے زائد احادیث سنیں، دوسرے دن جب امام زہری نے تعجب کا اظہار کیا تو آپ نے تمام احادیث بلا کم و کاست زبانی سنا دیں۔

مسندِ درس و افتا اور شیوخ کی گواہی

امام دارالہجرت نے محض ۱۷ سال کی عمر میں مسندِ تدریس پر قدم رکھا، لیکن آپ کے تقویٰ اور احتیاط کا عالم یہ تھا کہ جب تک مدینہ منورہ کے ۷۰ جلیل القدر شیوخ اور فقہاء نے آپ کی علمی اہلیت کی گواہی نہ دے دی، آپ نے حلقہ درس قائم نہیں کیا۔

آپ کا مجلسِ درس و افتا دو مقامات پر منعقد ہوتا تھا:

۱. وادیِ عقیق میں واقع آپ کا آبائی مکان۔
۲. مسجدِ نبوی شریف (جہاں حضرت نافع کی رحلت کے بعد آپ انہی کی نشست گاہ پر مسند نشین ہوئے)۔

حدیثِ پاک اور مدینہ طیبہ کا بے مثال ادب

تعظیمِ حدیث: آپ جب بھی درسِ حدیث کے لیے تشریف لاتے تو پہلے وضو یا غسل فرماتے، بہترین و قیمتی لباس زیبِ تن کرتے، بالوں میں کنگھی کرتے اور خوشبو لگاتے؛ پوری مجلس کے دوران عود و عنبر کی دھونی سے فضا معطر رہتی۔

تعظیمِ ارضِ پاک: آپ کبر سنی اور ضعف کے باوجود مدینہ طیبہ کی حدود میں کبھی سواری پر سوار نہیں ہوئے اور فرماتے کہ جس زمین میں رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا جسمِ اطہر آرام فرما ہو، وہاں چوپائے کے سموں سے چلنا شانِ ادب کے خلاف ہے۔

ارضِ پاک سے تمسک: خلیفہ ہارون رشید نے جب آپ کو عظیم تحائف پیش کر کے بغداد کا ہم سفر بننے کی دعوت دی تو آپ نے صاف انکار فرما دیا اور فرمانِ نبوی یاد دلایا کہ مدینہ ہی لوگوں کے لیے بہتر ہے کاش وہ اس کا مرتبہ جانتے۔

وصالِ باکمال

علم و عمل، اشاعتِ حدیث اور ترویجِ شریعت کے اس عظیم سفر کی تکمیل کے بعد، بالآخر امام دارالہجرت حضرت امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے ۱۷۹ھ (بمطابق ۷۹۵ء) میں ۸۴ سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ آپ کی تدفین مقدس قبرستان جنت البقیع میں کی گئی، جہاں آپ کا مزارِ مبارک مرجعِ خلائق ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!