۱۲ ربیع الاول میلاد النبی یا وفات النبی ﷺ

۱۲ ربیع الاول میلاد النبی یا وفات النبی ﷺ
عنوان: ۱۲ ربیع الاول میلاد النبی یا وفات النبی ﷺ
تحریر: غفران المصطفیٰ نظامی

میلادِ مصطفیٰ ﷺ پر خوشی

حضور نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت و رحمت ہے، اسی لیے اہلِ ایمان آپ ﷺ کی تشریف آوری پر خوشی اور شکر کا اظہار کرتے ہیں۔ ۱۲ ربیع الاول کے بارے میں بعض حضرات اسے یومِ وفات قرار دے کر میلاد کی خوشی پر اعتراض کرتے ہیں۔ اس مضمون میں قرآن، حدیث، اصولِ جرح و تعدیل، تاریخی روایات اور علمِ تقویم کی روشنی میں اس مسئلے کا مختصر تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور رحمت ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:

"قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا"
ترجمہ: ’’اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوشی منائیں۔‘‘ (۱)

لہٰذا اہلِ سنت و جماعت ۱۲ ربیع الاول کو ولادتِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشی مناتے ہیں، اسے وفات کی خوشی کہنا درست نہیں۔

۱۲ ربیع الاول یومِ وفات نہیں

وفات کی تاریخ کے بارے میں صحابہ کرام سے ۴ روایات منقول ہیں، لیکن وہ سنداً مضبوط نہیں:

• پہلی سند جو حضرت عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب ہے اس سند میں محمد بن عمر الواقدی ہے، جسے امام احمد نے کذاب، امام بخاری نے متروک اور دیگر ائمہ نے سخت ضعیف قرار دیا ہے۔
• دوسری روایت جو حضرت عبداللہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب ہے اس میں ایک راوی سیف بن عمر ضعیف ہے اور دوسرا راوی محمد بن عبیداللہ العزرمی متروک ہے۔
• تیسری اور چوتھی روایت کی سند کتبِ مطبوعہ حدیث میں ذکر ہی نہیں ہے۔ (۲)

یونہی علمِ تقویم کے اعتبار سے بھی ۱۲ ربیع الاول کو یومِ وفات قرار دینا درست نہیں۔ حضور ﷺ کا وصال سوموار کے دن ہوا، جبکہ ۱۱ ہجری کے تقویمی حساب سے ۱۲ ربیع الاول سوموار نہیں بنتا۔ امام سہیلی نے بھی صراحت کی کہ کسی حساب سے ۱۲ ربیع الاول سوموار کا دن نہیں بنتا، اور حافظ ابن حجر، امام ذہبی، حافظ ابن کثیر اور دیگر محققین نے بھی اس بحث کو تسلیم کیا ہے۔ (۳)

محققین کے نزدیک یومِ وفات کے لیے ۱ یا ۲ ربیع الاول کے اقوال زیادہ قوی ہیں۔ حافظ ابن حجر نے ۲ ربیع الاول کو راجح قرار دیا اور ۱۲ ربیع الاول کے قول کو راوی کا وہم قرار دیا۔ (۴)

۱۲ ربیع الاول یومِ میلاد ہے

ولادتِ نبوی کی تاریخ کے بارے میں صحابہ کرام سے صرف ایک ہی قوی و مستند روایت بارہ ربیع الاول کی منقول ہے۔ لہٰذا یہاں دو روایات ذکر کی جاتی ہیں:

۱) روایتِ اول:
"عَنْ عَفَّانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَا، عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُمَا قَالَا: وُلِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفِيلِ، يَوْمَ الْاِثْنَيْنِ الثَّانِي عَشَرَ مِنْ شَهْرِ رَبِيعِ الْأَوَّلِ"
ترجمہ: عفان سے روایت ہے، وہ سعید بن مینا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت جابر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت عام الفیل میں، سوموار کے روز، بارہویں ربیع الاول کو ہوئی۔ (۵)

۲) روایتِ دوم:
"يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا: وُلِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ لِاثْنَتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ"
ترجمہ: یونس بن بکیر، اپنے والد گرامی سے، وہ سعید بن جبیر سے، وہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت با سعادت ہاتھیوں والے سال، ربیع الاول کی بارہ راتیں گزرنے پر ہوئی۔ (۶)

اسی طرح زبیر بن بکار، ابن عساکر، ابن الجوزی اور ابن الجزار وغیرہ نے بھی ۱۲ ربیع الاول کو یومِ میلاد قرار دیا ہے۔ (۷)

اہلِ مکہ و مدینہ اور دیگر بلادِ اسلامیہ میں بھی قدیم زمانے سے اس تاریخ کو میلاد منانے کا معمول رہا ہے۔ (۸)

شرعی و عقلی نقطۂ نظر

باوجود اس کے بالفرض اگر ۱۲ ربیع الاول کو یومِ وفات مان بھی لیا جائے، تب بھی اس دن کو ہمیشہ غم اور سوگ کا دن قرار دینا شرعی طور پر درست نہیں؛ کیونکہ شریعت نے عام میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کی اجازت نہیں دی۔ صحیح بخاری و مسلم میں ہے:

"أُمِرْنَا أَنْ لَّا نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا لِزَوْجٍ"
ترجمہ: ’’ہمیں حکم دیا گیا کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کریں، سوائے شوہر کے۔‘‘ (۹)

اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی نعمت پر خوشی کا اظہار باقی رہ سکتا ہے۔ قرآنِ کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مائدہ کے نزول کے دن کو عید قرار دینے کا ذکر ہے۔ اسی کی روشن مثال جمعہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن ان کی وفات ہوئی، لیکن آپ ﷺ نے جمعہ کو مسلمانوں کے لیے عید قرار دیا۔

لہٰذا اگر بالفرض ۱۲ ربیع الاول کو یومِ وفات تسلیم بھی کر لیا جائے، تو وفات کا غم تین دن سے زیادہ باقی نہیں رہ سکتا، جبکہ ولادتِ مصطفیٰ ﷺ کی نعمت پر خوشی اور شکر کا اظہار اپنی جگہ باقی رہتا ہے۔

حاصلِ کلام

الغرض ۱۲ ربیع الاول کو یومِ وفات قرار دینا مضبوط دلائل سے ثابت نہیں۔ اس سلسلے کی روایات سنداً کمزور ہیں اور تقویمی حساب سے بھی اس میں اشکال ہے، جبکہ ۱۲ ربیع الاول کو یومِ میلاد قرار دینے کے لیے روایات، اقوالِ محققین اور مسلمانوں کا قدیم معمول موجود ہے۔

لہٰذا ۱۲ ربیع الاول یومِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ ہے، یومِ وفات نہیں؛ اور اس دن خوشی و شکر کا اظہار محبتِ رسول ﷺ کا مظہر ہے۔

حوالہ جات / حواشی

(۱) پ۱۱، سورة یونس: ۵۸
(۲) ۱۲ ربیع الاول میلاد النبی یا وفات النبی، ص ۹-۱۲
(۳) ۱۲ ربیع الاول میلاد النبی یا وفات النبی، ص ۱۳
(۴) ۱۲ ربیع الاول میلاد النبی یا وفات النبی، ص ۱۴-۱۵
(۵) البدایہ والنہایہ، ابن کثیر، ۲۲۰/۲، مطبوعہ بیروت
(۶) تقریب التہذیب، ص ۱۲۶
(۷) ۱۲ ربیع الاول میلاد النبی یا وفات النبی، ص ۱۹
(۸) ۱۲ ربیع الاول میلاد النبی یا وفات النبی، ص ۲۰-۲۱
(۹) مؤطا امام مالک، ص ۲۱۹-۲۲۰

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!