| عنوان: | آخری نبی محمدِ عربی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سونے کا انداز |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد ناصر جمال عطاری مدنی |
اللہ پاک کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک نعمت "نیند" بھی ہے، اس نعمت کی بدولت ذہن کو آرام ملتا ہے اور جسم تھکن سے نجات پاتا ہے۔ اللہ کے آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سونے کا انداز ہمیں بتاتا ہے کہ نیند جیسی نعمت کی قدردانی کیسے کی جائے؟ اس نعمت پر اللہ کریم کی حمد و ثنا اور اس کا شکریہ کس انداز میں ادا کیا جائے؟ سونے سے پہلے یادِ خدا کا طریقہ کیسا ہو؟ وغیرہ وغیرہ۔
آئیے! اس عزم کے ساتھ یہ اندازِ مصطفیٰ پڑھتے ہیں کہ ہم بھی اس اندازِ مصطفیٰ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔
سونے سے پہلے صفائی کا اہتمام
نیند اُس بھاری بے ہوشی کا نام ہے جو دل پر حملہ آور ہو کر معرفتِ اشیاء (یعنی چیزوں کو پہچاننے) کی صلاحیت ختم کر دیتی ہے، غالباً اسی لیے نیند کو "موت کا بھائی" کہتے ہیں۔(۱) اللہ کے آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے نیند کی کیفیت میں جانے سے پہلے ہمیں قولاً و فعلاً صفائی کا اہتمام کرنے کی تعلیم دی ہے۔
سونے سے پہلے وُضو
رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سونے سے پہلے وُضو فرماتے۔(۲) حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت بَراء بن عازِب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو نماز جیسا وُضو کرو۔(۳) باوُضو سونے کی ترغیب دینے میں حکمت یہ ہے کہ خواب سچّے آئیں، شیطان کے ڈرانے دھمکانے سے حفاظت ہو اور اگر موت آ جائے تو بندہ پاکیزگی کی حالت میں ہو۔(۴)
سونے سے پہلے مسواک
اللہ کے آخری نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا معمول تھا کہ رات میں کئی مرتبہ مسواک فرماتے۔(۵) آپ سونے سے پہلے مسواک اپنے قریب ہی رکھتے، جب بھی آنکھ کھلتی پہلے مسواک فرماتے۔(۶) سو کر اٹھنے کے بعد مسواک کرنا مستحب ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ سونے کی حالت میں معدے سے گیس منہ کی طرف آتی ہے جس سے منہ میں بدبو اور ذائقے میں تبدیلی ہو جاتی ہے، مسواک کرنے سے یہ دونوں مسئلے حل ہو جاتے ہیں۔(۷)
سونے سے پہلے تلاوت و تسبیحات کا اہتمام
قرآنِ کریم ہمیں بتاتا ہے کہ "اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔"(۸) اور یادِ الٰہی کا بہترین ذریعہ تلاوتِ قرآن ہے، رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے ارشادات اور عمل کے ذریعے سونے سے پہلے تلاوتِ قرآن کی تلقین فرمائی ہے، آئیے! اندازِ مصطفیٰ کا یہ پہلو بھی ملاحظہ کرتے ہیں:
تینوں قل پڑھنے کا اہتمام
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر ان میں پھونکتے اور ان میں: ﴿قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ﴾، ﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ اور ﴿قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ پڑھتے، پھر جسم کے جس حصے تک ہو سکتا وہ ہاتھ پھیرتے، اپنے سرِ مبارک اور چہرے کے سامنے والے حصے سے شروع کرتے (اور جسم کے پچھلے حصے پر ختم کرتے)۔ یہ عمل آپ تین بار کیا کرتے تھے۔ جو یہ عمل کرنا چاہے وہ دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں پھیلا کر تینوں "قل" ایک ایک بار پڑھ کر ان پر دم کر کے سر اور چہرہ اور سینے اور آگے پیچھے جہاں تک ہاتھ پہنچیں سارے بدن پر پھیر لے، پھر دوسری اور تیسری مرتبہ بھی اسی طرح کرے، یہ عمل کرنے والا ہر بلا سے محفوظ رہے گا۔
سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ زمر پڑھنے کا اہتمام
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ زُمر کی تلاوت کیے بغیر نہیں سوتے تھے۔ نیز رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سونے سے پہلے سورۂ بقرہ کی آخری دو آیات، آیت الکرسی اور سورۂ کافرون پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔
سونے سے پہلے دُعا کا اہتمام
ربِّ کریم نے حدیثِ قدسی میں دُعا مانگنے والوں کو حوصلہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: «وَأَنَا مَعَهُ، إِذَا دَعَانِي» یعنی اور میں اُس کے ساتھ ہوں جب مجھ سے دُعا کرے۔
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جو مصیبتیں نازل ہو چکی ہیں اور جو نازل نہیں ہوئیں ان سب میں دعا سے فائدہ ہوتا ہے، تو اے اللہ کے بندو! دُعا کو خود پر لازم کر لو۔ ایک موقع پر فرمایا: رات دن اللہ پاک سے دُعا مانگتے رہو کہ دُعا مومن کا ہتھیار ہے۔ دُعا کی اتنی تاکید فرمانے والے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا سونے سے پہلے اندازِ دعائیہ رہا:
مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم بستر پر لیٹتے تو فرماتے:
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ، وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ»
یعنی اے اللہ! میں ہر اُس چیز کے شر سے تیری کرم نواز ذات اور تیرے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں جس کی چوٹی تیرے قبضۂ قدرت میں ہے، اے اللہ! تو ہی قرضہ اور گناہ ختم کرنے والا ہے، اے اللہ! تیرے لشکر کو ہرایا نہیں جا سکتا، تیرا وعدہ توڑا نہیں جا سکتا، تیری بارگاہ میں مال دار کو مال داری فائدہ نہیں دیتی، تیری ذات پاک ہے اور تعریف تیرے لیے ہے۔
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جس وقت سونے لگتے تو یہ پڑھتے:
«اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا»
یعنی اے اللہ! تیرے ہی نام سے مرتا (سوتا) اور زندہ ہوتا (جاگتا) ہوں۔ نیند حرکت و ادراک کی صلاحیت ختم کر دیتی ہے اور جاگنے کے بعد حرکت و ادراک کی صلاحیت لوٹ آتی ہے اس لیے حدیث میں نیند کو موت سے اور جاگنے کو زندگی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
حوالہ جات و حواشی
(۱) المواہب اللدنیہ علی الشمائل المحمدیہ، ص ۴۳۰
(۲) مواہب اللدنیہ، ۲/ ۱۸۵
(۳) بخاری، ۱/ ۱۰۴، حدیث: ۲۴۷
(۴) شرح مسلم للنووی، ج ۹، ۱۷/ ۳۲
(۵) بخاری، ۱/ ۱۰۴، حدیث: ۲۴۵؛ الطب النبوی لابی نعیم، ۱/ ۳۹۱
(۶) شرح الزرقانی علی المواہب، ۶/ ۳۹۱
(۷) عمدۃ القاری، ۲/ ۶۹۳ مأخوذاً
(۸) پ ۱۳، الرعد: ۲۸
(۹) عمدۃ القاری، ۱۳/ ۵۵۹
(۱۰) بخاری، ۳/ ۴۰۷، حدیث: ۵۰۱۷
(۱۱) الوظيفۃ الكريمه، ص ۳۳
(۱۲) ترمذی، ۵/ ۲۵۹، حدیث: ۳۴۱۶
(۱۳) بخاری، ۳/ ۴۰۵، حدیث: ۵۰۰۹؛ ۲/ ۸۲، حدیث: ۲۳۱۱؛ ابو داؤد، ۴/ ۴۰۷، حدیث: ۵۰۵۵
(۱۴) مسلم، ص ۱۱۰۷، حدیث: ۲۶۷۵
(۱۵) ترمذی، ۵/ ۳۲۱، حدیث: ۳۵۵۹
(۱۶) مسند ابو یعلی، ۲/ ۲۰۱، حدیث: ۱۸۰۶
(۱۷) ابو داؤد، ۴/ ۴۰۶، حدیث: ۵۰۵۲
(۱۸) بخاری، ۴/ ۱۹۶، حدیث: ۶۳۲۴؛ الشمائل المحمدیہ، ص ۱۵۷ واللفظ لہ
(۱۹) المواہب اللدنیہ علی الشمائل المحمدیہ، ص ۴۳۳۔
