پانچ کو پانچ سے پہلے غنیمت سمجھو

پانچ کو پانچ سے پہلے غنیمت سمجھو
عنوان: پانچ کو پانچ سے پہلے غنیمت سمجھو
تحریر: مولانا ابو رجب محمد آصف عطاری مدنی

عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُوْنٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ وَهُوَ يَعِظُهُ: «اِغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ، وَغِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ، وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِك»

حضرت عمرو بن میمون اودی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: "پانچ کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو؛ جوانی کو بڑھاپے کے آنے سے پہلے، تندرستی کو بیمار ہونے سے پہلے، مالداری کو تنگدستی سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو موت آنے سے پہلے۔"(۱)

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اِغْتَنِمْ جس کا مطلب ہے کسی چیز کو غنیمت جاننا، یعنی اس سے فائدہ اٹھانا اور قدر کرنا۔ ان پانچ حالتوں میں انسان کے پاس عمل کا موقع ہوتا ہے اور جب یہ حالتیں بدل جاتی ہیں تو انسان کے پاس عمل کا وقت یا طاقت نہیں رہتی۔ یہ حدیثِ مبارکہ مختصر مگر انتہائی جامع نصیحت پر مشتمل ہے۔ اس میں انسان کی پوری زندگی کا نچوڑ بیان کیا گیا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پانچ ایسی نعمتوں کی طرف متوجہ فرمایا ہے جو بظاہر عام دکھائی دیتی ہیں لیکن حقیقت میں ان کا صحیح قدر دان بننا بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔

ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کی وضاحت

حضرت علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو“

جوانی کو بڑھاپے سے پہلے: یعنی اپنی طاقت اور قوت کے زمانے میں عبادت کر لو، اس سے پہلے کہ بڑھاپے کی کمزوری تمہیں نیکی سے روک دے۔

ریاضت کے یہی دن ہیں، بڑھاپے میں کہاں ہمت
جو کچھ کرنا ہو اب کر لو، ابھی نوری جواں تم ہو

صحت کو بیماری سے پہلے: یعنی چاہے بڑھاپے ہی میں کیوں نہ ہو!

مالداری کو تنگدستی سے پہلے: یعنی جب تک مال موجود ہے، اس سے صدقہ خیرات اور نیکی کے کام کرو، اس سے پہلے کہ مال ختم ہو جائے اور تم کچھ کرنے کے قابل نہ رہو۔

فراغت کو مشغولیت سے پہلے: اس کا بنیادی مفہوم اور معنی پہلے بیان ہو چکا ہے۔

زندگی کو موت سے پہلے: یعنی جب تک زندگی باقی ہے، اگرچہ بڑھاپے اور غربت کی حالت میں ہی کیوں نہ ہو، ان حالتوں میں بھی کم از کم اللہ کا ذکر تو کیا ہی جا سکتا ہے تو اسے بھی موت آنے اور عمل کا سلسلہ ختم ہو جانے سے پہلے غنیمت جانو۔(۲)

زندگی کی حقیقت اور آخرت کی تیاری

اللہ تعالیٰ کا ہمیں یہ زندگی عطا فرمانا اور ایک مخصوص مدت گزرنے پر ہماری موت کا واقع ہو جانا بھی خالی از حکمت نہیں ہے۔ چنانچہ سورۂ ملک میں ارشاد فرمایا:
﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا﴾
ترجمہ کنز الایمان: وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ (یعنی آزمائش) ہو تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے۔(۳)

یہ پانچ نعمتیں: زندگی، صحت، فرصت، جوانی اور مالداری، انسان کے پاس امانت ہیں۔ ان کی حقیقت اور قدر اکثر لوگ اس وقت جان پاتے ہیں جب یہ ہاتھ سے نکل جاتی ہیں۔ دانشمند وہ ہے جو ان نعمتوں کو آخرت کی تیاری میں استعمال کرے، تاکہ کل پچھتاوا نہ ہو۔ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اس میں جیسا بیج ڈالیں گے آخرت میں ویسا ہی پھل ملے گا۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے میرے شانے پر اپنا دستِ مبارک رکھ کر فرمایا:
«كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيْلٍ وَّعُدَّ نَفْسَكَ فِيْ أَهْلِ الْقُبُوْرِ»
فَقَالَ لِيَ ابْنُ عُمَرَ: «إِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَكَ بِالصَّبَاحِ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ قَبْلَ سَقَمِكَ وَمِنْ حَیَاتِكَ قَبْلَ مَوْتِكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي يَا عَبْدَ اللهِ مَا اسْمُكَ غَدًا»
یعنی دنیا میں اس طرح رہ گویا کہ تو اجنبی ہے یا راہ چلتا ہوا (مسافر) اور اپنے آپ کو (زندگی ہی میں) اہل قبور میں شامل کر لے اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ! جب تو صبح کرے تو اپنے دل میں شام تک زندہ رہنے کی امید نہ کر اور جب شام کرے تو صبح تک زندگی کی آس نہ رکھ۔ اپنی صحت میں اپنی بیماری کے لیے کچھ کر لے اور اپنی موت سے پہلے زندگی میں اس کی تیاری کر لے اے عبداللہ! تجھے کچھ خبر نہیں کل تیرا نام کیا ہوگا؟(۴)

بعض دفعہ انسان فیملی کو یہ کہہ کر باہر جاتا ہے کہ میں کچھ دیر میں واپس آرہا ہوں۔ لیکن راستے میں وہ کسی ایکسیڈنٹ کا شکار ہو جاتا ہے کچھ دیر میں لوٹنے کے بجائے چند لمحات کے بعد اس کی میت گھر آ جاتی ہے۔ سورة لقمن میں ہے:
﴿وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا ؕ وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ﴾
ترجمہ کنز الایمان: اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی۔(۵)

جو زندگی میں عمل نہ کرے، موت کے بعد اس کے لیے کوئی راستہ باقی نہیں رہتا پھر انسان حسرت کرتا ہے کہ کاش! اسے واپس بھیج دیا جائے تاکہ نیک اعمال کر سکے، مگر یہ صرف حسرت ہی رہ جاتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے:
﴿حَتّٰىٓ اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ ۙ لَعَلِّيٓ اَعْمَلُ صَالِحًـا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا ؕ وَمِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ﴾
ترجمہ کنز الایمان: یہاں تک کہ جب اُن میں کسی کو موت آئے تو کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھے واپس پھیر دیجئے شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں اس میں جو چھوڑ آیا ہوں ہرگز نہیں (ہرگز نہیں) یہ تو ایک بات ہے جو وہ اپنے منہ سے کہتا ہے اور اُن کے آگے ایک آڑ ہے اس دن تک جس میں اٹھائے جائیں گے۔(۶)

سورۃ المُنٰفِقُون میں ہے:
﴿وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَآ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰىۤ اَجَلٍ قَرِیْبٍ ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَکُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ﴾
ترجمہ کنز الایمان: اور ہمارے دیے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے اے میرے رب تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا۔(۷)

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں دنیا و آخرت کی ڈھیروں بھلائیوں سے نوازے، ہماری عمریں، اوقات، صحت اور جوانی کو اپنے دین کی خدمت اور نیک اعمال میں صرف کرنے کی توفیق دے، ہمارے گھروں کو طاعت و نیکی کا گہوارہ بنائے اور ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلنے والا بنائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم

حوالہ جات

(۱) المستدرک، ۵/ ۴۳۵، حدیث: ۷۹۱۶
(۲) مرقاة المفاتیح، ۹/ ۲۸، حدیث: ۵۱۷۴
(۳) پ۲۹، الملک: ۲
(۴) دیکھئے: بخاری، ۴/ ۲۲۳، حدیث: ۶۴۱۶، ترمذی، ۴/ ۱۴۹، حدیث: ۲۳۴۰
(۵) پ۲۱، لقمن: ۳۴
(۶) پ۱۸، المؤمنون: ۹۹، ۱۰۰
(۷) پ۲۸، المنافقون: ۱۰

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!