| عنوان: | میلادِ مصطفیٰ ﷺ — محبت، تعظیم اور سیرتِ طیبہ کا روشن پیغام (قسط ہفتم) |
|---|---|
| تحریر: | سرفراز احمد قادری امجدی |
میلادِ مصطفیٰ ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور ان کا جواب
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ربیع الاول کا مبارک مہینہ آتا ہے تو عاشقان رسول ﷺ کے دلوں میں خوشی کی ایک نئی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ محافل میلاد منعقد ہوتی ہیں، قرآن کریم کی تلاوت ہوتی ہے، درود و سلام پڑھا جاتا ہے، نعتیں پڑھی جاتی ہیں اور سیرت مصطفیٰ ﷺ بیان کی جاتی ہے۔ لیکن اسی موقع پر بعض لوگ میلاد کے جواز پر مختلف اعتراضات بھی کرتے ہیں۔ ضروری ہے کہ جذبات کے بجائے علم، ادب اور دلیل کے ساتھ ان اعتراضات کا جواب سمجھا جائے۔
کیا میلاد منانے کا مطلب نئی عبادت ایجاد کرنا ہے؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی کام کی اصل شرعی حیثیت معلوم کیے بغیر اسے بدعت یا ناجائز قرار دینا درست نہیں۔ میلاد کی محفل میں اگر قرآن کریم کی تلاوت ہو، نعت شریف پڑھی جائے، درود و سلام پڑھا جائے، سیرت رسول ﷺ بیان کی جائے، صدقہ و خیرات کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے تو ان میں سے کون سا عمل اپنی اصل کے اعتبار سے ناجائز ہے؟
قرآن پڑھنا عبادت ہے۔ درود پڑھنا عبادت ہے۔ ذکر کرنا عبادت ہے۔ صدقہ کرنا عبادت ہے۔ سیرت بیان کرنا نیکی ہے۔ اور نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت پر خوشی کا اظہار محبت کا تقاضا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص ان جائز اعمال کو ایک جگہ جمع کرکے ولادت مصطفیٰ ﷺ کی یاد میں محفل منعقد کرتا ہے تو محض اجتماع کی اس صورت کی وجہ سے اسے حرام قرار دینا درست نہیں۔
قرآن ہمیں خوشی کا حکم دیتا ہے
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا (ترجمہ کنزالایمان: تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوش ہوں)۔
اب غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت پر خوش ہونے کا حکم ہے اور حضور رحمت عالم ﷺ اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَا أَرْسَلْنٰكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِينَ (ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے)۔ لہٰذا حضور ﷺ کی تشریف آوری پر خوشی کا اظہار محبت و شکر کا ایک جائز طریقہ ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی خلاف شرع کام شامل نہ ہو۔
کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے میلاد منایا؟
یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں میلاد کی موجودہ صورت میں محفل نہیں ہوتی تھی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی نیک عمل کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ بعینہٖ اسی ہیئت کے ساتھ پہلے زمانے میں موجود ہو، بلکہ دیکھا جاتا ہے کہ اس عمل کی اصل شریعت میں موجود ہے یا نہیں۔
مثلاً آج ہم ایک مسجد میں بیٹھ کر مائیک کے ذریعے قرآن و حدیث سنتے ہیں۔ مائیک صحابہ کے زمانے میں نہیں تھا، مگر قرآن و حدیث سننا تو شریعت میں موجود ہے۔ اسی طرح سیرت کی کتابیں آج باقاعدہ کتابی شکل میں موجود ہیں، جبکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں موجودہ طباعتی شکل نہیں تھی۔ لہٰذا اصل اعمال کو دیکھا جائے گا، محض نئی ظاہری صورت کو دیکھ کر ہر چیز کو ناجائز قرار دینا درست نہیں۔
میلاد کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟
یہاں ایک بہت اہم بات ہے۔ میلاد کو صرف چراغاں، جلسہ یا جلوس تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ میلاد کا اصل پیغام یہ ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کی ولادت، حیات، اخلاق، عبادات، معاملات، رحمت، عدل اور سنت کو یاد کریں اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنانے کی کوشش کریں۔
اگر محفل میلاد کے بعد نماز کی پابندی بڑھ جائے، والدین کی خدمت شروع ہوجائے، جھوٹ چھوڑ دیا جائے، غیبت سے توبہ کرلی جائے، حقوق العباد ادا کیے جائیں اور سنتوں سے محبت پیدا ہوجائے تو یہ میلاد کے حقیقی فیضان کی علامت ہے۔
میلاد منائیں مگر خلاف شرع امور سے بچیں
ہمیں یہ بھی واضح طور پر سمجھنا چاہیے کہ میلاد کی نسبت سے کوئی ایسا کام جائز نہیں ہوجاتا جو شریعت میں ناجائز ہے۔ مرد و زن کا بے پردہ اختلاط، گانے باجے، فحش حرکات، نمازوں کی کوتاہی، فضول خرچی، لوگوں کو تکلیف دینا اور دیگر خلاف شرع امور سے بہرحال بچنا ضروری ہے۔ محبت مصطفیٰ ﷺ ہمیں شریعت سے دور نہیں بلکہ شریعت کے قریب کرتی ہے۔ لہٰذا صحیح طریقہ یہ ہے کہ میلاد بھی ہو، درود و سلام بھی ہو، نعت بھی ہو، سیرت بھی بیان ہو اور شریعت کی پابندی بھی پوری ہو۔
اختتامیہ
آخر میں یہی کہنا ہے: میلاد پر اعتراض کرنے سے پہلے میلاد کی محفل میں ہونے والے اعمال کو دیکھیے، اور میلاد منانے والوں کو بھی چاہیے کہ اپنی محفل کو ہر خلاف شرع چیز سے پاک رکھیں۔ یہی اعتدال ہے، یہی ادب ہے اور یہی محبت کا حسین راستہ ہے۔
رشحات قلم: سرفراز احمد قادری امجدی (11 ربیع النور 1448ھ / 25 اگست 2026ء)
تعارف: بانی و صدر محبوب الاولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف، ضلع سیتامڑھی، بہار۔ خطیب و امام، سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی۔
