| عنوان: | آپ ﷺ کا خونِ مبارک (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | محمد سمیر احمد العطاری |
الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلِيِّهِ وَالصَّلَاةُ عَلَى نَبِيِّهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ الْمُتَأَدِّبِينَ بِآدَابِهِ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد سے ربِ کائنات کا ازسرِ نو تعارف کروانے کے لیے بے شمار انبیاء اور رسل دنیا میں مبعوث فرمائے۔ ان میں سے ہر ایک پیغمبر اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا شاہکار تھا۔ ہر پیغمبر کو عمومی صفات سے نوازا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ کچھ منفرد خصوصیات سے بھی ان کی شخصیت کو متصف کیا گیا تھا، جبکہ انبیاء کرام کی جملہ خصوصیات کو نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ مقدس میں جمع کر دیا گیا اور اپنی تخلیق کے اعلیٰ کمال و وصف کو اپنے حبیب ﷺ کی شخصیت میں اپنے تمام بندوں کے لیے واضح کر دیا۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بعد انسانوں نے عقل کو حیران کر دینے والے کثیر معجزات کا مشاہدہ کیا۔
انہیں میں سے نبی کریم ﷺ کا دمِ اطہر (خونِ مبارک) ہے۔ جی ہاں! جس کے متعلق آج ہم گفتگو کریں گے کہ دمِ اقدس کی پاکیزگی کے بارے میں اس کے فائدے کیا کیا ہیں اور اس موضوع کے حوالے سے بزرگانِ دین کے اقوال اور اشعار بھی بیان کرنے کی کوشش کی جائے گی، انشاء اللہ الکریم۔
سراپائے طہارت
عمومی طور پر دیکھا جائے تو ہر انسانی جسم سے برآمد ہونے والا پسینہ، تھوک، بلغم اور سانس بدبو دار اور لائقِ کراہت ہوتا ہے؛ اسی طرح انسانی جسم سے خارج ہونے والا خون بھی بدبو دار ہوتا ہے۔ لیکن قربان جائیں نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس پر کہ ہر کمال و خوبیاں بکثرت آپ کی ذاتِ اقدس میں موجود تھیں۔
قاری ظہور احمد قاضی، حضور اکرم ﷺ کے خونِ مبارک کے بارے میں لکھتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے جسمِ اقدس سے نکلا ہوا خونِ مبارک بھی آپ ﷺ کے پسینے، تھوک، بلغم اور سانس کی طرح خوشبودار، پاکیزہ اور بابرکت تھا۔ (بحوالہ: لطافتِ جسدِ مصطفیٰ ﷺ، مطبوعہ باب العلم، ص ۶۴)
امام شرف الدین بوصیری علیہ الرحمہ اپنے شعر میں فرماتے ہیں:
وَطِيبُ جِسْمٍ كَأَنَّ المِسْكَ بَعْضُ دَمٍ
وَحُسْنُ وَجْهٍ كَأَنَّ البَدْرَ فِي الظُّلَمِ
(قصیدہ بردہ شریف، باب ۷)
ترجمہ: آپ ﷺ کا جسم مبارک ایسا خوشبودار ہے کہ گویا خون بھی مشک کا ہے، اور چہرہ ایسا روشن ہے جیسے اندھیروں میں چاند۔
خونِ مبارک کی خوشبو کو مشک کی مثال دے کر اس کی پاکیزگی اور برکت کو ظاہر کیا گیا ہے، اور یہ کہ جسمِ مبارک کا حسن و جمال اپنی مثال آپ ہے۔
لہو کی پاکیزگی
صحابیات و صحابہ کرام علیہم الرضوان نے اس خونِ نبوی ﷺ کو نوش فرمایا اور ایسی دائمی خوشبو حاصل کی کہ جس کی گواہی بہت سے لوگوں نے دی ہے، اور پھر یہی نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ سے آخرت میں جہنم کی آگ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آزادی کی بشارت بھی حاصل کر لی۔ آپ ﷺ کے جان نثار صحابہ جن کی زندگی کا نصب العین ہی یہی تھا کہ حضور ﷺ پر کوئی تکلیف آنے سے پہلے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے تھے، حتیٰ کہ صحابہ کے بارے میں یہاں تک لکھا گیا ہے کہ آپ ﷺ کے وضو کا پانی بھی نیچے گرنے نہیں دیتے تھے۔ مختلف مواقع پر حضور اکرم ﷺ کے جسمِ اقدس سے خون باہر آیا؛ کبھی آپ ﷺ نے فصد (پچھنے) لگوائی تو صحابہ کرام نے اسے پی لیا، اور جہاد وغیرہ میں دشمن کی طرف سے شدید حملے کی وجہ سے جو خونِ مبارک جدا ہوا، صحابہ کرام نے اسے زمین پر گرنے نہ دیا بلکہ ازراہِ محبت و تعظیم نوشِ جان کر لیا۔
امام نبہانی علیہ الرحمہ اپنے شعر میں اس طرح بیان فرماتے ہیں:
لَوْ مَسَّ دَمُهُ الثَّرَى لأزْهَرَ الرَّبَى
وَأفَاحَ نَشْرُ المِسْكِ فِي الأجْوَاءِ
(وفاء المحبة لصفوة الخلق ﷺ، ص ۱۱۹)
ترجمہ: اگر حضور ﷺ کا خون زمین کو چھو لے تو زمین سرسبز و شاداب ہو جائے گی، اور فضاؤں میں مشک کی خوشبو پھیل جائے گی۔
یہ شعر ظاہر کرتا ہے کہ خونِ مبارک کی فضیلت ایسی ہے کہ وہ صرف ایک قطرہ بھی ہو تو زمین کو زندگی بخش دے، اور اس کی خوشبو سے فضا معطر ہو جائے۔ یہ خون پاکی، برکت اور زندگی کی علامت ہے۔
صحابہ کرام کا خونِ مبارک نوش فرمانا
حضور اکرم ﷺ کا خونِ مبارک انتہائی طیب و طاہر تھا اور اسی وجہ سے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کو نوش بھی فرمایا ہے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
أَنَّهُ شَرِبَ دَمَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ
(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، ج ۳، ص ۳۵)
ترجمہ: یقیناً انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا خونِ مبارک نوش کیا تھا۔
اسی طرح امام ابن حجر عسقلانی شافعی علیہ الرحمہ اس حوالے سے لکھتے ہیں:
وَيُرْوَى عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ شَرِبَ دَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
(تلخیص الحبیر، ج ۱، ص ۱۷۰)
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بھی حضور ﷺ کا خونِ مبارک نوش کیا تھا۔
یعنی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے بھی آپ ﷺ کا خونِ مبارک نوش فرمایا اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی نوش کیا۔ اس سلسلے میں اور بھی متعدد احادیث ہیں، چنانچہ حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لِي: غَيِّبِ الدَّمَ۔ فَذَهَبْتُ فَشَرِبْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ لِي: مَا صَنَعْتَ؟ فَقُلْتُ: غَيَّبْتُهُ۔ فَقَالَ: شَرِبْتَهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ
(مسند البزار، ج ۹، ص ۲۸۴؛ السنن الکبریٰ للبیہقی، ج ۷، ص ۶۷)
ترجمہ: حضور اکرم ﷺ نے پچھنے لگوائے اور مجھ سے فرمایا: اس خون کو باہر جا کر چھپا دو۔ میں گیا اور اسے پی لیا پھر لوٹ آیا، تو حضور ﷺ نے فرمایا: تو نے کیا کیا؟ میں نے عرض کی: میں نے اسے چھپا دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اسے پی لیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔
خونِ مبارک پینے کے اقرار کے بعد نبی اکرم ﷺ نے اس پر نکیر نہیں فرمائی، جس سے صریح اشارہ ملتا ہے کہ خونِ مبارک پاکیزہ و طاہر ہے۔
چنانچہ ایک اور روایت میں حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
احْتَجَمَ فَقَالَ: خُذْ هَذَا الدَّمَ فَادْفِنْهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالطَّيْرِ وَالنَّاسِ، فَتَغَيَّبْتُ فَشَرِبْتُهُ ثُمَّ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَضَحِكَ
(المعجم الکبیر للطبرانی، ح ۶۴۳۴، ج ۷، ص ۸۱)
ترجمہ: انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فصد لگائی، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ خون لے جاؤ اور اس کو چوپایوں، پرندوں اور لوگوں سے چھپا کر دفن کر دو۔ میں نے اس کو چھپ کر پی لیا، پھر میں نے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ ہنس پڑے۔ (ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے تبسم فرمایا)۔
ایسا ہی ایک اور واقعہ ایک قریشی لڑکے سے بھی منقول ہے۔ چنانچہ اس حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامٌ لِبَعْضِ قُرَيْشٍ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ حِجَامَتِهِ أَخَذَ الدَّمَ فَذَهَبَ بِهِ فَشَرِبَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ فَنَظَرَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ: وَيْحَكَ! مَا صَنَعْتَ بِالدَّمِ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نَفِسْتُ عَلَى دَمِكَ أَنْ أُهَرِيقَهُ فِي الْأَرْضِ فَهُوَ فِي بَطْنِي، فَقَالَ: اِذْهَبْ فَقَدْ أَحْرَزْتَ نَفْسَكَ مِنَ النَّارِ
(الخصائص الکبریٰ للسیوطی، ج ۲، ص ۴۴۰)
ترجمہ: قریش کے کسی لڑکے نے حضور ﷺ کو پچھنے لگائے، جب فارغ ہوا تو خونِ مبارک کو لے کر باہر چلا گیا، پھر اسے پی لیا۔ پھر حضور ﷺ کے سامنے آیا تو آپ ﷺ نے اس کے چہرے میں غور کر کے فرمایا: تجھ پر رحمت ہو! تو نے خون کے ساتھ کیا کیا؟ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے نامناسب سمجھا کہ آپ ﷺ کے مقدس خون کو زمین پر گراؤں، سو وہ میرے پیٹ میں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جا! تو نے اپنے آپ کو یقیناً نارِ جہنم سے آزاد کروا لیا۔
اسی طرح ایک واقعہ ابو طیبہ حجام کا بھی ہے، جن کا نام "دینار" یا "نافع" ہے۔ چنانچہ امام ابن حجر عسقلانی شافعی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
أَنَّ أَبَا طَيْبَةَ الْحَجَّامَ شَرِبَ دَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُنْكِرْ عَلَيْهِ
(تلخیص الحبیر، ج ۱، ص ۱۶۸)
ترجمہ: حضرت ابو طیبہ حجام رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کا خونِ مقدس پی لیا اور آپ ﷺ نے اس پر اعتراض نہ فرمایا۔
معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ کا خونِ مبارک انتہائی طیب و طاہر تھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کو متعدد بار نوش کیا ہے۔
(نوٹ: آپ ﷺ کے خونِ مبارک کا ذائقہ اور خواجۂ کائنات ﷺ کے زخمی ہونے کا احوال دوسری قسط میں بیان کیا جائے گا۔)
