| عنوان: | علماء کی فضیلت (چوتھی قسط) |
|---|---|
| تحریر: | حضرت فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی |
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں علماء کے فضائل
۱۱۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے:
«إِذَا اجْتَمَعَ الْعَالِمُ وَالْعَابِدُ عَلَى الصِّرَاطِ قِيْلَ لِلْعَابِدِ ادْخُلِ الْجَنَّةَ وَتَنَعَّمْ بِعِبَادَتِكَ وَقِيْلَ لِلْعَالِمِ قِفْ هُنَا وَاشْفَعْ لِمَنْ أَحْبَبْتَ فَإِنَّكَ لَا تَشْفَعُ لِأَحَدٍ إِلَّا شُفِّعْتَ فَقَامَ مَقَامَ الْأَنْبِيَاءِ»
ترجمہ: جب عالم اور عابد پل صراط پر جمع ہوں گے تو عابد سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ اور اپنی عبادت کے سبب ناز و نعمت کے ساتھ رہو، اور عالم سے کہا جائے گا کہ یہاں ٹھہر جاؤ اور جس شخص کی چاہو شفاعت کرو۔ اس لیے کہ تم جس کسی کی شفاعت کرو گے قبول کی جائے گی۔ تو وہ انبیاء کے مقام پر کھڑا ہو گا۔
(رواہ الدیلمی فی الفردوس - کنز العمال ج ۱۰، ص ۸۶)
۱۲۔ حضرت واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
«مَا مِنْ شَيْءٍ اَقْطَعُ لِظَهْرِ اِبْلِيْسَ مِنْ عَالِمٍ يَّخْرُجُ فِيْ قَبِيْلَةٍ»
ترجمہ: عالم جو کسی خاندان میں پیدا ہوتا ہے اس سے بڑھ کر ابلیس کی کمر توڑنے والی کوئی چیز نہیں۔
(رواہ الدیلمی فی الفردوس - کنز العمال ج ۱۰، ص ۸۴)
۱۳۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
«اَكْرِمُوا الْعُلَمَاءَ فَاِنَّهُمْ وَرَثَةُ الْاَنْبِيَاءِ فَمَنْ اَكْرَمَهُمْ فَقَدْ اَكْرَمَ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ»
ترجمہ: عالموں کی عزت کرو اس لیے کہ وہ انبیاء کے وارث ہیں تو جس نے ان کی عزت کی تحقیق اس نے اللہ و رسول کی عزت کی۔
(رواہ الخطیب - کنز العمال ج ۱۰، ص ۸۵)
۱۴۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
«اِنَّ الْفِتْنَةَ تَجِئُ فَتَنْسِفُ الْعِبَادَةَ نَسْفًا وََّيَنْجُو الْعَالِمُ مِنْهَا بِعِلْمِهٖ»
ترجمہ: بیشک فتنہ اٹھے گا تو عبادت کے محل کو پورے طور پر ڈھا دے گا اور عالم اپنے علم کے سبب اس فتنے سے نجات پائے گا۔
(رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ - کنز العمال ج ۱۰، ص ۸۵)
۱۵۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
«إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَحْتَاجُونَ إِلَى الْعُلَمَاءِ فِي الْجَنَّةِ وَذٰلِكَ أَنَّهُمْ يَزُورُونَ اللهَ تَعَالٰى فِي كُلِّ جُمُعَةٍ فَيَقُولُ لَهُمْ تَمَنَّوْا عَلٰى مَا شِئْتُمْ فَيَلْتَفِتُونَ إِلَى الْعُلَمَاءِ فَيَقُولُونَ مَاذَا نَتَمَنَّى فَيَقُولُونَ تَمَنَّوْا عَلَيْهِ كَذَا وَكَذَا فَهُمْ يَحْتَاجُونَ إِلَيْهِمْ فِي الْجَنَّةِ كَمَا يَحْتَاجُونَ إِلَيْهِمْ فِي الدُّنْيَا»
ترجمہ: یقیناً جنتی جنت میں علماء کے محتاج ہوں گے اور وہ اس لیے کہ وہ ہر جمعہ کو اللہ کے دیدار سے سرفراز ہوں گے تو خدائے تعالیٰ ان سے فرمائے گا جس چیز کی چاہو تمنا کرو۔ تو وہ لوگ علماء کے پاس جائیں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ ہم کس چیز کی تمنا کریں؟ تو وہ کہیں گے خدائے تعالیٰ سے ایسی ایسی تمنا کرو۔ تو جنتی جنت میں عالموں کے محتاج ہوں گے جیسا کہ دنیا میں وہ ان کے محتاج ہیں۔
(رواہ ابن عساكر - کنز العمال ج ۱۰، ص ۸۶)
۱۶۔ حضرت محمد بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے:
«رَكْعَتَانِ مِنْ عَالِمٍ أَفْضَلُ مِنْ سَبْعِيْنَ رَكْعَةً مِنْ غَيْرِ عَالِمٍ»
ترجمہ: عالم کی دو رکعت نماز غیر عالم کی ستر رکعت سے افضل ہے۔
(رواہ ابن النجار - کنز العمال ج ۱۰، ص ۸۴)
۱۷۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
«سَاعَةٌ مِنْ عَالِمٍ مُّتَّكِئٍ عَلٰى فِرَاشِهِ يَنْظُرُ فِي عِلْمِهِ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ الْعَابِدِ سَبْعِيْنَ عَامًا»
ترجمہ: ایسا عالم جو بستر پر ٹیک لگا کر علم کے بارے میں غور و فکر کرے، اس کی ایک ساعت (گھڑی) عابد کی ستر سالہ عبادت سے بہتر ہے۔
(رواہ الدیلمی فی الفردوس - کنز العمال ج ۱۰، ص ۸۴)
۱۸۔ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
«مَوْتُ قَبِيْلَةٍ أَيْسَرُ مِنْ مَّوْتِ عَالِمٍ»
ترجمہ: قبیلے کی موت عالم کی موت سے آسان ہے۔
(رواہ الحاکم - کنز العمال ج ۱۰، ص ۹۰)
۱۹۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
«مَنْ صَلَّى خَلْفَ عَالِمٍ مِّنَ الْعُلَمَاءِ فَكَأَنَّمَا صَلَّى خَلْفَ نَبِيٍّ مِّنَ الْأَنْبِيَاءِ»
ترجمہ: جس نے عالموں میں سے کسی عالم کے پیچھے نماز پڑھی تو گویا اس نے نبیوں میں سے کسی نبی کے پیچھے نماز پڑھی۔
(تفسیر کبیر جلد اول ص ۲۷۵)
۲۰۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے:
«فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ بِسَبْعِينَ دَرَجَةً، بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ عَدْوُ الْفَرَسِ سَبْعِينَ عَامًا، وَذَلِكَ أَنَّ الشَّيْطَانَ يَضَعُ الْبِدْعَةَ لِلنَّاسِ، فَيُبْصِرُهَا الْعَالِمُ فَيُزِيلُهَا، وَالْعَابِدُ يُقْبِلُ عَلَى عِبَادَتِهِ لَا يَتَوَجَّهُ وَلَا يَتَعَرَّفُ لَهَا»
ترجمہ: عالم کی فضیلت عابد پر ستر درجے ہے۔ ہر درجے کے درمیان ستر سال گھوڑا دوڑنے کے برابر فرق ہے۔ اور وہ اس لیے کہ شیطان لوگوں کے لیے بد مذہبی (بدعت) پیدا کرتا ہے، تو عالم اسے دیکھ کر مٹا دیتا ہے اور عابد عبادت میں مشغول رہتا ہے، ادھر متوجہ نہیں ہوتا اور نہ بد مذہبی کو پہچانتا ہے۔
(تفسیر کبیر جلد اول ص ۲۷۵)
۲۱۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
«رَحْمَةُ اللهِ عَلَى خُلَفَائِي، فَقِيلَ: مَنْ خُلَفَاؤُكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: الَّذِينَ يُحِبُّونَ سُنَّتِي وَيُعَلِّمُونَهَا عِبَادَ اللهِ»
ترجمہ: "اللہ کی رحمت ہو میرے جانشینوں پر!" عرض کیا گیا: "یا رسول اللہ! آپ کے جانشین کون لوگ ہیں؟" فرمایا: "جو میری سنت سے محبت رکھتے ہیں اور اسے اللہ کے بندوں کو سکھاتے ہیں۔"
(تفسیر کبیر جلد اول ص ۲۷۵)
