معترضین کے اعتراضات اور ان کے مدلل و دندان شکن جوابات

معترضین کے اعتراضات اور ان کے مدلل و دندان شکن جوابات
عنوان: معترضین کے اعتراضات اور ان کے مدلل و دندان شکن جوابات
تحریر: محمد آزاد رضوی الطیبی

پیش لفظ

اسلامی تاریخ میں جب بھی علم و حکمت اور عشقِ رسول کے سورج نے طلوع ہو کر باطل کے اندھیروں کو للکارا، تو حاسدین اور معترضین کی جانب سے الزامات اور افواہوں کا طوفان کھڑا کیا گیا۔ امامِ اہلسنت، مجددِ دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز کی ذاتِ گرامی بھی ایسے ہی بے بنیاد اعتراضات اور جھوٹے الزامات کا نشانہ بنی۔ ذیل میں معترضین کے تمام اعتراضات اور اہلسنت و الجماعت کی طرف سے دیے گئے مدلل و محقق جوابات کو نہایت خوبصورتی، نفاست اور بالترتیب پیش کیا جا رہا ہے تاکہ حق و باطل کا فرق روزِ روشن کی طرح واضح ہو جائے۔

اعتراضات اور مدلل جوابات

اعتراض ۱: امام احمد رضا بریلوی اور اشرف علی تھانوی مدرسہ دیوبند سے پڑھے ہیں۔
جواب: یہ ایک کھلم کھلا تاریخی جھوٹ ہے۔ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ۱۲۷۲ھ میں پیدا ہوئے اور صرف چودہ سال کی عمر میں ۱۲۸۶ھ میں فارغ التحصیل ہو کر مسندِ افتاء پر رونق افروز ہو گئے۔ جبکہ تھانوی ۱۲۸۰ھ میں پیدا ہوئے، ۱۲۹۵ھ میں دیوبند میں داخلہ لیا اور بیس سال بعد فارغ ہوئے۔ جب تھانوی تعلیم حاصل کر رہے تھے، اس وقت تک اعلیٰ حضرت سو (100) سے زائد کتب تصنیف فرما کر ایک مسلمہ مفتی بن چکے تھے۔

اعتراض ۲: اعلیٰ حضرت کی طبیعت میں گرمی اور گفتگو میں شدت تھی۔
جواب: دین اور حق کی حفاظت کے معاملے میں غیرت کا ہونا ایمان کی علامت ہے۔ خود صحیح بخاری شریف کی روایت سے ثابت ہے کہ صاحبِ حق کو گفتگو میں گرمی اور شدت کا حق حاصل ہے۔ بد عقیدوں اور گستاخوں کے مقابلے میں سخت رویہ عینِ شریعت ہے۔

اعتراض ۳: احمد رضا خان نے دیوبندیوں کو کافر بنایا۔
جواب: اعلیٰ حضرت نے کسی کو کافر بنایا نہیں بلکہ فتویٰ دے کر بتایا ہے۔ دیوبندی اکابرین نے خود اپنی کتابوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخانہ عبارات لکھ کر کفر اختیار کیا، اعلیٰ حضرت نے صرف شریعتِ مطہرہ کا حکم واضح کیا۔

اعتراض ۴: احمد رضا خان کا رنگ سیاہ تھا۔
جواب: یہ محض سنی سنائی اور بد نیتی پر مبنی بات ہے۔ جن مبارک آنکھوں نے اعلیٰ حضرت کی زیارت کی، انہوں نے گواہی دی کہ آپ نہایت سرخ و سفید اور نورانی چہرے کے مالک تھے۔

اعتراض ۵: احمد رضا کو اپنے والدین کا رکھا نام پسند نہیں تھا، وہ عبد المصطفٰے لکھتے تھے جو کہ ناجائز ہے۔
جواب: نام پسند نہ ہونے کا الزام بالکل باطل ہے۔ آپ اپنا نام "احمد رضا" بھی لکھتے تھے اور تحریم و احترام کے لیے اس کے ساتھ عبد المصطفٰے کا اضافہ فرماتے تھے انبیاء و اولیاء کی طرف نسبت کر کے ایسا نام رکھنا قرآن، حدیث اور اکابرین کے فتاویٰ (مثلاً حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی کلام) سے جائز ثابت ہے۔

اعتراض ۶: احمد رضا کو شدید دردِ سر اور بخار ہمیشہ رہتا تھا۔
جواب: شدید اور ہمیشہ کا لفظ معترضین کی اپنی زبور سے ہے۔ کثرتِ مطالعہ اور دینی فکر کی وجہ سے اگر آپ کو کبھی دردِ سر ہوا تو اس پر معترضین کو تکلیف کیوں؟

اعتراض ۷: ان کی ایک آنکھ بے نور ہو گئی تھی۔
جواب: کثرتِ مطالعہ اور تصنیف و تالیف کی وجہ سے وقتی طور پر بینائی میں تنگی آئی تھی جو بعد میں ٹھیک ہو گئی۔ کسی علمی مشقت کی وجہ سے آنکھ پر اثر پڑنا کوئی عیب نہیں ہے۔

اعتراض ۸: ایک دفعہ عینک سر پر رکھ لی اور تلاش کرنے لگے، نسیان کے مریض تھے۔
جواب: عینک رکھ کر بھول جانا ایک عام انسانی طبعی بھول چوک ہے جو ہر شخص کے ساتھ ہو سکتی ہے، اسے نسیان کا مرض نہیں کہا جاتا۔ نسیان کا حقیقی نمونہ دیکھنا ہو تو دیوبندی مکتب فکر کی کتب دیکھیں جہاں ان کے مولوی عمامے کی جگہ پاجامہ سر پر باندھ کر باہر آ گئے۔

اعتراض ۹: احمد رضا کو بہت جلدی غصہ آتا تھا اور غضب ناک ہو جاتے تھے۔
جواب: بالکل درست ہے! لیکن یہ غصہ ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ "غیرتِ ایمانی" کا تقاضا تھا۔ آپ کو غصہ صرف اس شخص پر آتا تھا جو اللہ و رسول ﷺ کا گستاخ اور بد عقیدہ ہوتا تھا، اور یہ پکے ایماندار ہونے کا ثبوت ہے۔

اعتراض ۱۰: وہ اکثر گالیاں بھی دے دیتے تھے۔
جواب: اعلیٰ حضرت کے شرعی و سخت علمی الفاظ کو گستاخ لوگ گالیاں سمجھتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت نے کبھی کسی کو گالی کا جواب گالی سے نہیں دیا۔ حقیقت دیکھنی ہو تو دیوبندی کتاب شہاب ثاقب اٹھا کر دیکھیں جس کے 150 صفحات میں 640 گالیاں درج ہیں۔

اعتراض ۱۱: احمد رضا نے بغیر حوالے کے واقعات بیان کر دیے۔
جواب: اعلیٰ حضرت کی کوئی ایک تحریر ایسی نہیں جو بغیر شرعی و تاریخی حوالے کے ہو۔ اس کے برعکس معترضین نے خود شہاب ثاقب جیسی کتب میں خزینۃ الاولیاء اور ہدیۃ الاسلام جیسی فرضی اور من گھڑت کتابوں کے حوالے دیے جن کا پوری دنیا میں کوئی وجود نہیں ہے۔

اعتراض ۱۲: احمد رضا نے انبیاء سے ہمسری کا دعویٰ کیا۔
جواب: یہ سراسر بہتان ہے۔ اگر کسی معترض کے پاس اس کا ثبوت یا حوالہ ہے تو پیش کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کی ہمسری بلکہ توہین دیوبندی اکابرین (مثلاً محمود الحسن نے مرثیہ گنگوہی میں) کی ہے، جہاں گنگوہی صاحب کے لیے لکھا گیا کہ انہوں نے زندوں کو مرنے نہ دیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مسیحائی سے اس کا موازنہ کیا۔

اعتراض ۱۳: احمد رضا خان نے صحابہ کی ہمسری کی تھی۔
جواب: اس جھوٹ پر بھی دہائیاں گزرنے کے باوجود کوئی حوالہ پیش نہیں کیا جا سکا۔ جبکہ مرثیہ گنگوہی میں واضح لکھا گیا کہ "وہ تھے صدیق اور فاروق پھر کہئے عجب کیا ہے" یعنی گنگوہی صاحب کو حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے برابر کھڑا کر دیا گیا۔

اعتراض ۱۴: احمد رضا نے چار سال کی عمر میں ناظرہ قرآن مجید پڑھ لیا اور چھ سال میں تقریر کیسے کر لی...؟
جواب: یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے جو اپنے خاص بندوں پر ہوتا ہے۔ اعلیٰ حضرت کا گھرانہ علمی تھا، اور بچپن میں ہی اتنی صلاحیت کا ظاہر ہونا آپ کی کرامت اور علمی عبقریت کی دلیل ہے۔

اعتراض ۱۵: احمد رضا خان کا استاد مرزا غلام قادر بیگ تھا، جو مرزا قادیانی کا بھائی تھا۔
جواب: اعلیٰ حضرت نے جس مرزا غلام قادر بیگ سے ابتدائی بضع کتب پڑھیں، وہ ایک مدرس و مولوی تھے اور قادیانی کے بھائی نہیں تھے۔ دونوں الگ شخصیات تھیں، محض نام ملنے سے رشتہ قائم نہیں ہو جاتا۔

اعتراض ۱۶: احمد رضا بن نقی علی ابن رضا علی ابن کاظم علی...... یہ شیعہ خاندان تھا۔
جواب: اہل بیت اطہار کے مبارک ناموں پر نام رکھنا برکت کا باعث ہے۔ اگر علی، حسین اور باقر نام رکھنے سے خاندان شیعہ ہو جاتا ہے، تو پھر دیوبندی اکابرین کے ناموں (مثلاً اشرف علی، حسین علی، غلام حسین، محمد باقر) پر کیا فتویٰ لگے گا؟ اعلیٰ حضرت نے شیعہ رافضیت کے رد میں بیسیوں کتابیں تصنیف کیں۔

اعتراض ۱۷: امام بریلوی نے معاذ اللہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان میں توہین کی ہے۔
جواب: یہ اہلسنت پر لگایا گیا سب سے بڑا اور گھناؤنا ڈراما ہے۔
حقیقت: اعلیٰ حضرت کی حیات (۱۹۲۱ء) تک دیوان حدائق بخشش کے صرف دو حصے شائع ہوئے تھے۔ آپ کے وصال کے دو سال بعد (۱۹۲۳ء) مولانا محبوب علی قادری نے متفرق کلام جمع کر کے "حدائق بخشش حصہ سوم" نابھہ پریس بمبئی سے چھپوایا۔ پریس کے ایک خارجی کاتب نے خباثت کرتے ہوئے ام زرع مشرکہ عورتوں والے اشعار ام المؤمنین حضرت عائشہ کے نام سے شامل کر دیے۔
توبہ و حقیقت: جب سنی علماء (علامہ مشتاق احمد نظامی) نے اس پر توجہ دلائی تو مولانا محبوب علی صاحب نے ۹ ذی قعدہ ۱۳۴۵ھ کو اعلانیہ اخبار میں توبہ شائع کی اور ۱۱۹ علماء نے اس اعلانیہ توبہ پر تصدیق فرمائی۔ اعلیٰ حضرت کا حصہ سوم کی ترتیب یا اشاعت سے دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔

اعتراض ۱۸: احمد رضا کا رضا خانی مذہب ہے۔
جواب: احمد رضا خان نے کوئی نیا مذہب یا فرقہ نہیں بنایا۔ جس دیوبندی (سعید احمد) نے یہ الزام لگایا تھا، وہ خود اپنے اس باطل موقف سے توبہ کر کے سنی حنفی بریلوی بن گیا۔

اعتراض ۱۹: احمد رضا نے نیا فرقہ نکالا۔
جواب: اعلیٰ حضرت قدیم مسلکِ اہلسنت (سنی حنفی) پر قائم و دائم تھے۔ اس بات کی گواہی غیروں نے بھی اپنی کتب میں دی ہے، جیسے ثناء اللہ امرتسری (شمع توحید)، سلیمان ندوی (حیات شبلی)، شیخ محمد اکرام (موج کوثر) اور عبدالحی ندوی (نزہۃ الخواطر)۔

اعتراض ۲۰: احمد رضا کو فقہ میں عبور حاصل نہیں تھا۔
جواب: اعلیٰ حضرت کا شاہکار ۳۰ جلدوں پر مشتمل "فتاویٰ رضویہ" اس بات کا زندہ ثبوت ہے۔ مٹی کی اقسام سے تیمم کی صورتیں بیان کرتے ہوئے جہاں قدماء نے 84 صورتیں لکھی تھیں، اعلیٰ حضرت نے مزید 107 اقسام بیان کر کے فقہ حنفی پر اپنی کامل دسترس کا لوہا منوایا۔

اعتراض ۲۱: احمد رضا نے امام حسین رضی اللہ عنہ کے مزار مبارک کی تصویر رکھنا جائز لکھا ہے۔
جواب: کسی بزرگ یا مزار مبارک کی تبرک کے طور پر ایسی تصویر رکھنا جو شرعی حدود کے اندر ہو، جائز ہے۔ اس میں کوئی شرعی خرابی نہیں ہے۔

اعتراض ۲۲: احمد رضا خان پان کھاتے اور حقہ پیتے تھے، یہ بری باتیں ہیں۔
جواب: پان اور حقہ کا استعمال شرعاً مباح ہے۔ اگر معترضین اسے عیب سمجھتے ہیں تو ان کے اپنے اکابر رشید احمد گنگوہی نے "فتاویٰ رشیدیہ" میں پان اور حقے کے استعمال کو بالکل درست اور جائز قرار دیا ہے۔

اعتراض ۲۳: احمد رضا خان نے اللہ تعالیٰ کی شان میں نا زیبا کلمات کہے۔
جواب: یہ عبارات دیوبندی عقیدہ "امکانِ کذب" (یعنی معاذ اللہ خدا کا جھوٹ بولنا ممکن ہے) کے رد میں لکھی گئی تھیں۔ اعلیٰ حضرت نے اللہ کی پاکیزگی (تنزیہہ) کا دفاع کرتے ہوئے اس باطل عقیدے کی شنیع خرابیاں ظاہر کی تھیں۔

اعتراض ۲۴: احمد رضا خان کے رسائل ہی رسائل ہیں، جو کتاب نہیں کہلا سکتے۔
جواب: اعلیٰ حضرت کے کثیر ضخیم رسائل تحقیق کا سمندر ہیں۔ اگر دیگر علمائے دیوبند کے 8-9 صفحات کے رسالے "کتاب" بن سکتے ہیں تو اعلیٰ حضرت کے 40 سے 100 صفحات پر مشتمل بحرِ علم رسائل کتاب کیوں نہیں؟

اعتراض ۲۵: اعلیٰ حضرت نے ہندوستان کو دارالاسلام قرار دیا جبکہ وہ دارالحرب تھا۔
جواب: ہندوستان کے دارالاسلام ہونے کا فتویٰ صرف اعلیٰ حضرت کا نہیں تھا، بلکہ کرامت علی جونپوری، نواب صدیق حسن خان، نذیر حسین دہلوی اور خود اشرف علی تھانوی (تحذیر الاخوان) نے بھی ہندوستان کے دارالاسلام ہونے کو ترجیح دی۔

اعتراض ۲۶: احمد رضا خان کا مقام رضا خانی کتاب میں غلط پیش کیا گیا۔
جواب: جس رضا خانی مصنف کا حوالہ دیا جاتا ہے، اس نے دیوبندی مکتب فکر کے دباؤ یا مغالطے میں وہ باتیں لکھی تھیں اور بعد میں اپنے تمام سابقہ حوالے اور کتابیں منسوخ کر کے اعلانیہ توبہ کر لی تھی۔

اعتراض ۲۷: احمد رضا خان نے جہاد کا فتویٰ نہیں دیا، لہٰذا وہ انگریز کے ایجنٹ تھے۔
جواب: اعلیٰ حضرت نے فقہ حنفی (مجتبیٰ، شرح وقایہ، ردالمحتار) کی روشنی میں واضح فرمایا کہ جہاد کی فرضیت کے لیے شرائط (مثلاً سلطانِ اسلام اور قوت) کا ہونا ضروری ہے۔ جبکہ انگریزوں سے ماہانہ تنخواہیں اور وظائف لینے کا ثبوت خود دیوبندی اکابرین کی کتب (مکالمۃ الصدرین) میں موجود ہے۔

اعتراض ۲۸: احمد رضا خان ہندوؤں کے خیر خواہ تھے۔
جواب: یہ محض ایک بے بنیاد الزام ہے۔ اعلیٰ حضرت نے گاندھی سے ملاقات کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ آپ کے وصال کے بعد جب ہندوستانی وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے آپ کے عرس میں آنے کا پروگرام بنایا تو اعلیٰ حضرت کے پرپوتے مفتی اعظم اختر رضا خان (اختر رضا بریلوی) نے انہیں سخت سے منع کر دیا۔ جبکہ جشنِ دیوبند میں اندرا گاندھی کو بلایا گیا تھا۔

اعتراض ۲۹: احمد رضا کو "اعلیٰ حضرت" کہنا انبیاء و صحابہ کی گستاخی ہے۔
جواب: اعلیٰ حضرت کا لفظ تعظیماً اپنے دور کے علمائے حق کے پیشوا کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، نہ کہ انبیاء و صحابہ سے افضل بتانے کے لیے۔ خود دیوبندی عالم عاشق الٰہی میرٹھی نے "تذکرۃ الرشید" میں ۱۱ جگہ حاجی امداد اللہ کو "اعلیٰ حضرت" لکھا، اور تھانوی نے بھی یہ لقب اپنے اکابر کے لیے استعمال کیا۔

اعتراض ۳۰: احمد رضا خان کی کتابیں 100 کے قریب ہیں، اس سے زیادہ نہیں۔
جواب: یہ معترضین کی کم علمی کا ثبوت ہے۔ اعلیٰ حضرت کی صغیرہ و کبیرہ تصانیف اور رسائل کی تعداد ایک ہزار (1000) کے قریب پہنچتی ہے جن کی باقاعدہ فہارس موجود ہیں۔

اعتراض ۳۱: احمد رضا تعویذ کے پیسے لیتے تھے۔
جواب: اعلیٰ حضرت نے پوری زندگی تعویذ نویسی کے کوئی پیسے نہیں لیے۔ اگر کوئی شخص مٹھائی وغیرہ پیش کر کے تعویذ مانگتا تو آپ اس کی مٹھائی بھی واپس کر دیتے تھے تاکہ خلوص پر حرف نہ ائے۔

اعتراض ۳۲: بریلوی امام نے انبیاء کی بشریت کا انکار کیا۔
جواب: اعلیٰ حضرت نے "فتاویٰ رضویہ" میں واضح لکھا ہے کہ جو شخص مطلقاً حضور ﷺ کی بشریت کا انکار کرے وہ کافر ہے۔ اہلسنت کا عقیدہ یہ ہے کہ حضور ﷺ بشر ہیں مگر انسانوں اور مخلوق میں "بے مثل و بے مثال" بشر ہیں۔

اعتراض ۳۳: بریلویوں کی کتاب "تذہیب تہذیب"، "نغمہ روح" اور "باغ فردوس" میں گستاخانہ عبارات ہیں۔
جواب: یہ کتابیں نہ تو اہلسنت کے بنیادی عقائد کی نمائندہ ہیں اور نہ ہی قابلِ اعتماد و معتبر شمار ہوتی ہیں۔ غیر معتبر کتب سے حوالے دینا مناظرت کے اصولوں کے خلاف ہے۔

اعتراض ۳۴: امام بریلوی نے انبیاء علیہ السلام کی موت کا انکار کیا ہے۔
جواب: اعلیٰ حضرت کا عقیدہ یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام پر اللہ کا وعدہ پورا ہونے کے لیے ایک لحظہ (آن) کے لیے موت طاری ہوتی ہے، اس کے بعد انہیں دائمی حیاتِ برزخی عطا کی جاتی ہے۔ جیسا کہ آپ نے فرمایا:
انبیاء کو بھی اجل آنی ہے
مگر ایسی کہ فقط آنی ہے

اعتراض ۳۵: بریلوی عقیدہ ہے کہ تین خدا کا قائل مشرک نہیں ہے" (فتاویٰ رضویہ)۔
جواب: یہ فتاویٰ رضویہ پر لگایا گیا بدترین اور غلیظ جھوٹ ہے۔ فتاویٰ رضویہ میں ایسی کوئی عبارت موجود نہیں اور اہلسنت کا عقیدہ خالص توحید پر مبنی ہے۔

اعتراض ۳۶: نغمہ الروح میں لکھا ہے کہ اللہ ۳۵۰ھ میں پیدا ہوا۔
جواب: یہ بھی من گھڑت الزام ہے۔ "نغمہ روح" اہلسنت کی معتبر کتاب نہیں ہے۔ اس کے برعکس دیوبندی اکابرین کے مرثیے میں گنگوہی صاحب کے لیے لکھا گیا کہ "خدا ان کا مربی تھا وہ مربی تھے خلائق کے"، یعنی مخلوق کا مربی بندے کو بنا دیا گیا۔

اعتراض ۳۷: مسجد میں ناچنا جائز ہے۔ (المجالس)
جواب: مسجد کا احترام ہر مسلمان پر فرض ہے اور مسجد میں ناچنے کو اہلسنت ناجائز و حرام مانتے ہیں۔ دوسری طرف "فتاویٰ رشیدیہ" میں گنگوہی صاحب نے مسجد کے اندر چارپائی بچھانے کی اجازت دی ہے۔

اعتراض ۳۸: بریلویوں نے جماعت بنا کر مرزائیوں (قادیانیوں) کی مخالفت نہیں کی۔
جواب: مرزا قادیانی کو سب سے پہلے کافر قرار دینے والے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان تھے۔ اس کے بعد پیر مہر علی شاہ، مناظرِ اعظم عمر اچھروی اور شاہ احمد نورانی جیسے سنی علمائے کرام نے تحریکِ ختمِ نبوت اور پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

اعتراض ۳۹: امام بریلوی اور ان کے ماننے والے گستاخ ہیں، ان کے پیچھے نماز جائز نہیں۔
جواب: معترضین اپنے ہی اکابرین کے فتاویٰ سے ناواقف ہیں۔ اشرف علی تھانوی، رشید احمد گنگوہی اور انور شاہ کشمیری نے اعلیٰ حضرت اور بریلوی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز اور درست قرار دیا ہے۔

اعتراض ۴۰: بریلوی علماء پاکستان میں وہابیوں کے پیچھے نماز سے منع کرتے ہیں لیکن سعودیہ میں امامِ کعبہ کے پیچھے پڑھ لیتے ہیں۔
جواب: خود دیوبندی عالم حسین احمد مدنی نے "شہاب ثاقب" میں وہابیوں کو سخت الفاظ سے یاد کیا۔ اور دیوبندی مفتی یوسف لدھیانوی نے روزنامہ "جنگ" (۱۹۹۶ء) میں فتویٰ دیا کہ امامِ حرمین کی ویڈیو بننے کی وجہ سے ان کے پیچھے دیوبندیوں کی نماز جائز نہیں۔

اعتراض ۴۱: بریلوی امامِ کعبہ کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تو ان کا حج کیسے ہوگا؟
جواب: حج کی صحت اور اس کے ارکان کا تعلق کعبے کے امام کے پیچھے جماعت سے نماز پڑھنے پر منحصر نہیں ہے۔ اگر وضو ٹوٹ جائے یا جماعت چھوٹ جائے تب بھی حج ادا ہو جاتا ہے۔ نماز اور حج کے احکام فقہی دلائل پر مبنی ہوتے ہیں۔

اعتراض ۴۲: احمد رضا نے گستاخی کی ہے اس لیے معاذ اللہ وہ کافر ہیں۔
جواب: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کی تمام زندگی عشقِ رسول ﷺ اور شریعتِ مطہرہ کی پاسداری میں گزری۔ ابتدائی دیوبندی اکابرین (تھانوی، گنگوہی، نانوتوی) کو اعلیٰ حضرت کی کسی تحریر میں کفر نظر نہیں آیا، مگر بعد کے کم علم معترضین اپنی تکفیری سوچ اور بغض کی وجہ سے ایسے باطل فتاویٰ لگاتے ہیں۔

حاصلِ کلام

ان تمام ۴۲ حقائق و دلائل سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ پر کیے جانے والے تمام اعتراضات محض بغض، حسد، کم علمی اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔ آپ کی تمام تر تحریرات قرآن، حدیث اور فتاویٰ سلف کے عین مطابق ہیں اور آپ مسلکِ اہلسنت و الجماعت کے عظیم پاسبان تھے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!