حضور ﷺ کے وصال کا بیان — جسم و روح کا باہمی تعلق

حضور ﷺ کے وصال کا بیان — جسم و روح کا باہمی تعلق (قسط دوم)
عنوان: حضور ﷺ کے وصال کا بیان — جسم و روح کا باہمی تعلق (قسط دوم)
تحریر: محمد افروز قادری چریاکوٹی

جسم و روح کا باہمی تعلق

جب جسم سے روح نکلتی ہے تو بہت شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور یہ تکلیف جسم و روح دونوں محسوس کرتے ہیں؛ کیونکہ روح کا تعلق جسم سے ہے اور اس کو جسم سے الفت ہے۔ جب روح جسم میں داخل ہو جاتی ہے تو اس کی جسم سے الفت شدید تر ہوتی جاتی ہے، اور اس کا اس جسم سے امتزاج ہو جاتا ہے، گویا کہ وہ دونوں مل کر ایک ہی چیز بن جاتے ہیں۔ پھر وہ دونوں جدائی برداشت نہیں کر پاتے، سوائے اس کے کہ ان کو جدا کرنے کے لیے انتہائی کوشش کی جائے اور انسان ایک نا قابلِ برداشت تکلیف سے دوچار ہو جائے۔ ابنِ آدم ایسی تکلیف جیتے جی کبھی نہیں چکھ پاتا۔ اسی فلسفے کی طرف معروف آیت میں اشارہ کیا گیا ہے:

كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ

ترجمہ: ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔ (سورۂ آلِ عمران: ۱۸۵، سورۂ انبیاء: ۳۵، سورۂ عنکبوت: ۵۷)

حضرت ربیع بن خثیم فرمایا کرتے تھے کہ لوگو! موت کو زیادہ سے زیادہ یاد کرو، (اور اس کے لیے تیاری کرو) کہ تم نے موت کا سا ذائقہ موت کے آنے سے پہلے نہیں چکھا۔

عالمِ جاں کنی کی وحشتیں

موت کی تکلیف اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب مرنے والے کو اس بات کا احساس ہو جاتا ہے کہ اب جسم و روح کا تعلق ٹوٹ جائے گا، اور وہ ایک حسرت آفریں نعش بن جائے گا، جسے کیڑے مکوڑے کھا ڈالیں گے اور مٹی اس کے جسم کو بوسیدہ کر ڈالے گی، یہاں تک کہ وہ خود مٹی بن جائے گا۔

اس پر مستزاد یہ کہ اسے اپنے سے جدا ہونے والی روح کا بھی پتا نہیں ہوتا کہ اس کا ٹھکانہ کہاں ہوگا؛ آیا وہ جنت میں جائے گی یا جہنم میں۔ اس لیے اگر مرنے والا عاصی و خاطی ہوا اور اخیر وقت تک گناہ پر ڈٹا رہا تو غالب گمان یہی ہے کہ اس کی روح جہنم کے گڑھے میں ڈال دی جائے گی، تو یہ سوچ کر اس کی حسرت و تکلیف مزید چند آتشہ ہو جاتی ہے۔ اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اسی دوران اس کو دوزخ میں اس کا ٹھکانہ بھی دکھا دیا جاتا ہے، آتشِ جہنم میں جلنے کی خبرِ وحشت اثر دے دی جاتی ہے، تو ایسے موقع پر موت کی تکلیف کے ساتھ اپنے برے ٹھکانے کا سوچ کر وہ درد و الم کا گویا پیکر بن جاتا ہے، اور مندرجہ ذیل فرمانِ باری تعالیٰ کا مفاد یہی ہے:

وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ

ترجمہ: اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹنے لگی۔ (سورۂ قیامت: ۲۹)

اس کی تفسیر کثرت سے سلفِ صالحین نے یہ کی ہے کہ اس پر سکراتِ موت کے ساتھ دنیا کے چھوٹنے کی حسرت بھی اکٹھا ہو جاتی ہے۔ اس وقت اس کا کیا حال ہوگا، اس کے بارے میں بتانے کا بھلا کسے یارا ہوگا!

اللہ تعالیٰ نے موت کی تکلیف کے لیے قرآن میں "سکرۃ" کا لفظ استعمال فرمایا ہے، جس کے معنی مدہوشی کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ موت کی تکلیف اور موت کے لوازمات مرنے والے کو مدہوش کر دیتے ہیں اور عام طور پر اس کی عقل غائب ہو جاتی ہے۔ ارشاد فرمایا:

وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ

ترجمہ: اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آ پہنچی۔ (اے انسان!) یہی وہ چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا! (سورۂ ق: ۱۹)

أَلا لِلْمَوْتِ كَأْسٌ أَيُّ كَأْسٍ وَأَنْتَ لِكَأْسِهِ لا بَدَّ حَاسِي
إِلَى كَمْ وَالْمَمَاتُ إِلَى قَرِيبٍ تَذَكَّرْ بِالْمَمَاتِ وَأَنْتَ نَاسِي

ترجمہ: یعنی یاد رکھنا کہ موت کے لیے ایک پیالہ ہے، مگر کیسا پیالہ! تو جلد ہی اس پیالے کے بارے میں جاننے والا ہے۔ کب تک سرکشی میں مست رہو گے، موت بہت قریب آ پہنچی ہے۔ تجھے موت یاد دلائی جاتی ہے، پھر تو اسے بھول جاتا ہے۔

موت کی یاد سے اک لمحہ نہ غافل ہونا

سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موت کو زیادہ سے زیادہ یاد کرنے کا ہمیں حکم دیا ہے۔ ایک موقع پر ارشاد فرمایا:

أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَادِمِ اللَّذَّاتِ

ترجمہ: یعنی لذتوں کا قلع قمع کر دینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو۔

ایک حدیثِ مرسل میں آتا ہے کہ حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایسی مجلس سے گزرے کہ جہاں سے ہنسنے کی آواز بلند ہو رہی تھی تو آپ نے فرمایا:

شُوبُوا مَجْلِسَكُمْ بِذِكْرِ مُكَدِّرِ اللَّذَّاتِ: الْمَوْتِ

ترجمہ: یعنی اپنی مجلسوں میں لذتوں کا نشہ اتار دینے والی چیز (موت) کی یاد داخل کرو۔

موت کی یاد کے فوائد

موت کو زیادہ سے زیادہ یاد کرنے میں کئی فائدے ہیں۔ موت کے آنے سے پہلے آدمی موت کی تیاری کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اپنی امیدوں کا دائرہ کم سے کم کر دیتا ہے، تھوڑی روزی پر قناعت کر لیتا ہے، دنیا سے اس کا دل اچاٹ ہو جاتا ہے، آخرت پانے کی اس میں لگن پیدا ہو جاتی ہے، مصائبِ دنیا اس پر آسان ہو جاتے ہیں، برائی و تکبر سے رک جاتا ہے، اور دنیا کی لذتوں میں الجھنے سے بچ جاتا ہے۔

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے جسے ابنِ حبان وغیرہ نے بھی اپنی صحیح میں نقل کیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے صحف عبرت و نصیحت سے بھرے ہوئے تھے، جن میں ایک بات یہ بھی تھی:

"مجھے تعجب ہے اس شخص پر جسے موت کا یقین ہے، پھر وہ کیسے خوشیوں میں مست رہتا ہے۔ مجھے حیرت ہے اس انسان پر جسے دوزخ کا یقین ہے، پھر وہ کیسے قہقہے لگاتا ہے۔ مجھے حیرانی ہے اس آدمی پر جسے تقدیر پر یقین ہے، پھر وہ کیوں غم کرتا ہے۔ مجھے استعجاب ہے اس بندے پر جو دیکھ رہا ہے کہ دنیا کس تیزی سے ختم ہو رہی ہے اور اہل دنیا کے حالات بگڑتے جا رہے ہیں، پھر بھی وہ دنیا پر کیسے مطمئن ہو جاتا ہے۔"

روایتوں میں آتا ہے کہ دو بچوں کے لیے رکھے گئے ایک خزانے میں سونے کی ایک تختی ملی تھی، اس کے اندر بھی ایسا ہی کچھ لکھا ہوا تھا۔

تابعیِ کبیر حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ موت نے عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والوں کی زندگیاں غارت کر دیں؛ لہٰذا ایسا عیش تلاش کرو جس میں موت و زوال نہ ہو۔ پھر فرماتے ہیں کہ موت نے دنیا کو ذلت و خواری سے ہمکنار کر دیا۔ الغرض! موت نے کسی عقل مند کے لیے کوئی خوشی نہ چھوڑی۔

موت کی یاد نے زندگی کی لذتیں چھین لیں

ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ موت کی یاد ہر عیش کی لذت لے گئی، اور ہر نعمت کا کیف اس نے چھین لیا۔ پھر روتے ہوئے کہنے لگے: کتنا اچھا ہے وہ گھر جس میں موت نہ ہوگی!

أُذْكُرِ الْمَوْتَ هَادِمَ اللَّذَّاتِ وَتَهَيَّأْ لِمَصْرَعٍ سَوْفَ يَأْتِي

ترجمہ: یعنی موت کو ہمیشہ یاد رکھو کیونکہ وہ لذتوں کو کاٹ ڈالتی ہے، اور اکھاڑے میں اترنے کے لیے تیار رہو کہ موت کسی بھی وقت آ سکتی ہے۔

ایک دوسرے شاعر نے موت کی منظر کشی یوں کی ہے:

يَا غَافِلَ الْقَلْبِ عَنْ ذِكْرِ الْمَمَاتِ عَمَّا قَلِيلٍ سَتَلْقَى بَيْنَ أَمْوَاتِ
فَاذْكُرْ مَحَلَّكَ مِنْ قَبْلِ الْحُلُولِ بِهِ وَتُبْ إِلَى اللَّهِ مِنْ لَهْوٍ وَلَذَّاتِ
إِنَّ الْحِمَامَ لَهُ وَقْتٌ إِلَى أَجَلٍ فَاذْكُرْ مَصَائِبَ أَيَّامٍ وَسَاعَاتِ
لَا تَطْمَئِنَّ إِلَى الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا قَدْ آنَ لِلْمَوْتِ يَا ذَا اللُّبِّ أَنْ يَأْتِي

ترجمہ: یعنی اے موت کی یاد سے غفلت برتنے والے دل! بس کوئی وقت جاتا ہے کہ تو خود کو مردوں کے درمیان پائے گا۔ اس جگہ پہنچنے سے پہلے اس کو خوب یاد کرو اور بارگاہِ الٰہی میں کھیل کود اور خواہشاتِ نفسانی سے بچ کر توبہ کرو۔ بے شک موت کا ایک وقت ہے، وہ اپنے وقت ہی پر آئے گی۔ تاہم تجھے چاہیے کہ شب و روز میں آنے والے مصائب کو ذہن میں رکھ۔ دنیا اور اس کی زینت پر مطمئن ہو کر بیٹھ نہ جانا کہ اے عقل مند! موت آنے والی ہے؛ لہٰذا اس کی پوری تیاری رکھو۔

ایک بزرگ نے فرمایا کہ دو چیزوں نے مجھ سے دنیا کی لذتوں کو چھین لیا: ایک موت کی یاد اور دوسرے اللہ تعالیٰ کے آگے کھڑے ہونے کا خوف۔

شاعر کہتا ہے:

وَ كَيْفَ يَلَذُّ الْعَيْشَ مَنْ كَانَ مُوقِنًا بِأَنَّ الْمَنَايَا بَغْتَةً سَتُعَاجِلُهْ
وَ كَيْفَ يَلَذُّ الْعَيْشَ مَنْ كَانَ مُوقِنًا بِأَنَّ إِلٰهَ الْعَرْشِ لَا بُدَّ سَائِلُهْ

ترجمہ: یعنی وہ شخص بھلا زندگی کی لذتیں کیسے پا سکتا ہے جسے اس بات کا یقین ہو کہ موت بہت جلد اور اچانک آ دبوچے گی؟ وہ آدمی بھلا زندگی کی لذتوں سے کیسے لطف اندوز ہو سکتا ہے جس کو اس بات کا یقین ہے کہ مالکِ عرش اس کی بازپرس ضرور فرمائے گا؟

موت بہترین واعظ ہے

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وعظ و نصیحت کے لیے موت کافی ہے، اور زمانہ ہجر و فراق کے لحاظ سے کافی ہے۔ آج تم سیر و تفریح میں لگے ہوئے ہو، کل یقیناً قبر کے گڑھے میں ہوں گے۔

اذْكُرِ الْمَوْتَ وَلَازِمْ ذِكْرَهُ إِنَّ فِي الْمَوْتِ لِذِي لُبٍّ عِبَرْ
وَكَفَى بِالْمَوْتِ فَاعْلَمْ وَاعِظًا لِمَنِ الْمَوْتُ عَلَيْهِ قَدْ قُدِرْ

ترجمہ: یعنی موت کو یاد کرو اور اس کی یاد کو اپنے اوپر لازم کر لو؛ کیونکہ موت کے اندر اہل جود و خرد کے لیے بڑی عبرت و نصیحت ہے۔ تیرے علم میں یہ بات ہونی چاہیے کہ وعظ و پند کے لیے موت کافی ہے، ایک ایسے آدمی کے لیے جس کے لیے موت کا فیصلہ ہو چکا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!