| عنوان: | حضور ﷺ کے وصال کا بیان (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | محمد افروز قادری چریاکوٹی |
رازدانِ نبی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ حضورِ سیدِ عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہو کر ارشاد فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دے دیا ہے کہ چاہے تو اسے دنیا کی زیب و زینت دے دی جائے، یا پھر اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے اس کو اختیار کر لے، تو اللہ کے اس بندے نے جو کچھ خداوندِ قدوس کے پاس موجود ہے اس کو اختیار کر لیا۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بہت روئے، اور اشک بار پلکوں کے ساتھ عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم نے اپنے ماں باپ آپ پر قربان کر دیے۔
راوی کہتے ہیں کہ یہ ماجرا دیکھ کر ہمیں بڑی حیرت ہوئی اور لوگ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے کہ ذرا اس شیخ (یعنی ابوبکر صدیق) کو دیکھو کہ حضور تو کسی بندے کی بابت خبر دے رہے ہیں کہ اس کو زینتِ دنیا یا دولتِ عقبیٰ لینے کا اختیار دیا گیا ہے، اور یہ کہتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ آپ پر وارے جائیں یا رسول اللہ!
راوی کہتے ہیں کہ (پھر ہمیں یہ بات بہت بعد میں پتا چلی کہ) جس بندے کو اختیار دیا گیا تھا وہ خود نبی محترم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذاتِ گرامی تھی، اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس راز کو اسی وقت جان لیا تھا!
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اسلام و مسلمین پر احسانِ عظیم
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے تعلق سے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا تھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ رفاقت و دولت کے لحاظ سے مجھ پر احسان ابوبکر کا ہے۔ اگر میں اہل عالم میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو وہ یقیناً ابوبکر ہوتے؛ لیکن اسلامی بھائی چارہ (سب سے بہتر) ہے۔ مسجد میں آنے والے سارے دروازے بند کر دو، سوائے ابوبکر صدیق کے دروازے کے۔
موت سے کس کو رستگاری ہے!
یہ بات لوحِ دل پر نقش کر لینی چاہیے کہ ہر ذی روح کو ایک نہ ایک دن وادیِ موت میں اترنا ہے، خواہ وہ انبیاء و مرسلین ہوں یا کوئی اور۔ اللہ جل مجدہ نے اپنے پیارے محبوب دانائے غیوب علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں ارشاد فرمایا:
إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ
ترجمہ: (اے حبیبِ مکرم!) بے شک آپ کو (تو) موت (صرف ذائقہ چکھنے کے لیے) آنی ہے اور وہ یقیناً (دائمی ہلاکت کے لیے) مردہ ہو جائیں گے (پھر دونوں موتوں کا فرق دیکھنے والا ہوگا)۔ (سورۂ زمر: ۳۰)
مزید ارشاد فرمایا:
وَمَا جَعَلْنَا لَبَشَرٍ مِّن قَبْلِكَ الْخُلْدَ أَفَإِن مِّتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ ، كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
ترجمہ: اور ہم نے آپ سے پہلے کسی انسان کو (دنیا کی ظاہری زندگی میں) بقائے دوام نہیں بخشی، تو کیا اگر آپ (یہاں سے) انتقال فرما جائیں تو یہ لوگ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی میں آزمائش کے لیے مبتلا کرتے ہیں، اور تم ہماری ہی طرف پلٹائے جاؤ گے۔ (سورۂ انبیاء: ۳۴-۳۵)
ارشاد فرمایا:
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ
ترجمہ: اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی تو رسول ہی ہیں (نہ کہ خدا)، آپ سے پہلے بھی کئی پیغمبر (مصائب اور تکلیفیں جھیلتے ہوئے اس دنیا سے) گزر چکے ہیں، پھر اگر وہ وفات فرما جائیں یا شہید کر دیے جائیں تو کیا تم اپنے (پچھلے مذہب کی طرف) الٹے پاؤں پھر جاؤ گے! اور جو کوئی اپنے الٹے پاؤں پھرے گا تو وہ اللہ کا ہرگز کچھ نہیں بگاڑے گا، اور اللہ عنقریب (مصائب پر ثابت قدم رہ کر) شکر کرنے والوں کو جزا عطا فرمائے گا۔ (سورۂ آلِ عمران: ۱۴۴)
فلسفۂ جسم و روح
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو مٹی سے پیدا فرمایا، پھر ان میں اپنی روح کا چراغ روشن کیا۔ تو وہ روح حضرت آدم اور اولادِ آدم کے جسموں میں اس دنیا کے اندر بس وقتی طور کے لیے رکھی گئی ہے۔ کوئی وقت جاتا ہے کہ وہ روح بنی آدم کے جسموں سے نکال لی جائے گی اور ان کے جسموں کو اسی مٹی سے ملا دیا جائے گا جن سے ان کی پیدائش ہوئی تھی۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ جسموں کو دوبارہ زمین میں لوٹائے گا، اور ان میں دوبارہ اپنی روح ڈال کر انہیں حیاتِ دائمی عطا کرے گا، پھر انہیں اس طرح ہمیشہ کے گھر میں رکھا جائے گا کہ روح کبھی قالبِ جسم سے باہر نہ آ سکے گی۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ
ترجمہ: تم اسی (زمین) میں زندگی گزارو گے اور اسی میں مرو گے اور (قیامت کے روز) اسی میں سے نکالے جاؤ گے۔ (سورۂ اعراف: ۲۵)
ارشاد فرمایا:
مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَىٰ
ترجمہ: (زمین کی) اسی (مٹی) سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے، اور اسی سے ہم تمہیں دوسری مرتبہ (پھر) نکالیں گے۔ (سورۂ طٰہٰ: ۵۵)
ارشاد فرمایا:
وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا
ترجمہ: اور اللہ نے تمہیں زمین سے سبزے کی مانند اگایا۔ پھر تم کو اسی (زمین) میں لوٹا دے گا اور (پھر) تم کو (اسی سے دوبارہ) باہر نکالے گا۔ (سورۂ نوح: ۱۷-۱۸)
زمین سے دوبارہ جی اٹھنے کی تمثیل
ان آیات میں ہمیں یہ دکھایا گیا ہے کہ اس دنیا میں جس طرح کھیتیاں اگتی ہیں، اسی طرح ہمارے جسم بھی مٹی سے دوبارہ زندہ نکل آئیں گے جیسے اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے مردہ (یعنی بنجر) ہونے کے بعد بارش کے ذریعہ زندہ فرما دیتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے بندوں کے جسموں سے جب ان کی روحیں حالتِ نیند میں قبض کر لی جاتی ہیں تو بیداری میں ان کو پھر لوٹا دیا جاتا ہے۔ قرآن اس کی گواہی دے رہا ہے:
اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا ۖ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَىٰ عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَىٰ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِك لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
ترجمہ: اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے اور ان (جانوں) کو جنہیں موت نہیں آئی ہے ان کی نیند کی حالت میں، پھر ان کو روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم صادر ہو چکا ہو اور دوسری (جانوں) کو مقررہ وقت تک چھوڑے رکھتا ہے۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔ (سورۂ زمر: ۴۲)
مسندِ بزار میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے جب کہ وہ اپنی نمازوں سے سوتے رہ گئے تھے، فرمایا: "اے لوگو! یہ روحیں بندوں کے جسموں میں عاریت ہیں، اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے ان کو روک لیتا ہے اور جب چاہتا ہے ان کو جسموں میں چھوڑ دیتا ہے۔"
عربی اشعار و ترجمہ
اسْتَعِدَِّي لِلْمَوْتِ يَا نَفْسُ وَاسْعَيْ لِلنَّجَاةِ فَالْحَازِمُ الْمُسْتَعِدُّ
قَدْ تَيَقَّنْتِ أَنَّهُ لَيْسَ لِلْحَيِّ خُلُودٌ وَلَا مِنَ الْمَوْتِ بُدٌّ
إِنَّمَا أَنْتِ مُسْتَعِيرَةٌ مَا سَوْفَ تَرُدِّينَ وَالْعَوَارِي تُرَدُّ
ترجمہ: یعنی اے نفس! موت کے لیے تیار ہو جاؤ، اور نجات کی کوشش میں لگ جاؤ؛ کیونکہ لذتوں کو توڑ ڈالنے والی موت آنے کے لیے تیار ہے۔ مجھے یقین ہو گیا کہ نہ تو کسی زندہ کو یہاں باقی رہنا ہے اور نہ ہی موت سے بچ نکلنے کا کوئی چارہ ہے۔ اے نفس! تو یہاں تھوڑے عرصے کے لیے ہے، پھر جلد ہی تجھ کو لوٹا دیا جائے گا کہ مانگی ہوئی چیز بہر صورت لوٹانی ہی پڑتی ہے۔
فَمَا أَهْلُ الْحَيَاةِ لَنَا بِأَهْلٍ وَلَا دَارُ الْفَنَاءِ لَنَا بِدَارٍ
وَمَا أَمْوَالُنَا وَالْأَهْلُ فِيهَا وَلَا أَوْلَادُنَا إِلَّا عَوَارِي
وَأَنْفُسُنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ سَيَأْخُذُهَا الْمُعِيرُ مِنَ الْمُعَارِ
ترجمہ: یعنی زندہ لوگوں میں کوئی ہمارے اہل خانہ نہیں ہیں اور نہ ہی اس فنا کے گھر دنیا میں ہمارا کوئی گھر ہے۔ ہمارے مال، ہماری اولاد اور ہمارے گھر والے سب کے سب ادھار ہیں۔ ہماری جانیں موت کے بالکل قریب ہیں، اور ادھار دینے والا بہت جلد اپنی ادھار دی ہوئی چیزوں کو واپس لینے والا ہے۔
