| عنوان: | امام احمد رضا اور علم تفسیرِ قرآن (قسط سوم) |
|---|---|
| تحریر: | ابو الحسن مصباحی |
تصانیفِ رضا سے تفسیری شہ پارے
اب مفسرِ قرآن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قدس سرہٗ کی تصنیفات و فتاویٰ سے آیاتِ قرآنیہ کی تفسیرات کے جلوے نظر افروز کیے جاتے ہیں، تاکہ یہ دعویٰ محقق اور ثابت ہو سکے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا ایک بلند پایہ مفسر تھے اور اس فن کے عظیم مروج اور مصنف بھی۔ واضح رہے کہ آپ کے تفسیری شہ پارے مفصل بھی ہیں، مجمل بھی، اصولِ تفسیر کے آئینہ ہیں، طرقِ تفسیر کی تصویر بھی۔
تفسیر کے چار طریقے بتائے گئے ہیں:
(۱) تفسیر القرآن بالقرآن
(۲) تفسیر القرآن بالحدیث
(۳) تفسیر القرآن بالآثار
(۴) تفسیر القرآن باللغۃ العربیۃ والقواعد الاسلامیۃ
آپ کے تفسیری نمونہ جات میں تفسیر کے اصول و طرق کی مکمل پاسداری نظر آئے گی، بلکہ جا بجا ذاتی تحقیقات و اہم تفسیری افادات کے گل بوٹے بھی باصرہ نواز ہوں گے، جنہیں پڑھ کر قارئین کے ذہن و دماغ ضرور بالضرور مسرور و شادماں ہوں گے۔
(۱) بین یدیہ کی تفسیر و تحقیق
سورۂ بقرہ کی آیتِ کریمہ ۹۷ ہے:
«قُلۡ مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبۡرِيۡلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلۡبِكَ بِاِذۡنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَهُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ»
ترجمہ: تم فرما دو جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو اس جبریل نے تو تمہارے دل پر اللہ کے حکم سے قرآن اتارا، اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتا اور ہدایت و بشارت مسلمانوں کو۔
اذانِ خطبہ کہاں ہو؟ مسجد کے اندر یا باہر؟ حدیثِ پاک میں ہے: عن السائب بن يزيد رضي الله تعالى عنه قال كان يؤذن بين يدي رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم اذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجد وابي بكر وعمر (سنن ابو داؤد، ج: ۱ / ص: ۱۵۶)۔ بعض علمائے اہل سنت اور وہابیہ نے لفظ "بین یدی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم" سے یہ معنی نکالا کہ اذان خطیب کے قریب مسجد کے اندر ہو، جبکہ جماہیر اہل سنت نے مسجد کے باہر مگر خطیب کے روبرو بتایا۔ اس طرح "بین یدی" کے معنی میں اختلاف ہو گیا تو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ اس کی تحقیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"اب میں اس لفظ «بین یدیہ» کی تحقیق کرتا ہوں۔ لفظ «بین یدیہ» دو حرفوں سے مرکب ہے، ان اجزائے ترکیبیہ کے اعتبار سے اس لفظ کے معنی تحقیقی یہ ہوئے کہ آدمی کے دونوں ہاتھ کے درمیان جو فضا ہے چاہے وہ آدمی کے آگے کی فضا ہو چاہے پیچھے کی، کیونکہ دونوں ہاتھوں کو کھلا چھوڑ دیا جائے تو ان کے بیچ میں آدمی کے دونوں پہلو اور دونوں رانے ہوتی ہیں، اور انہیں دونوں کو جب منہ کے آگے یا پشت کے پیچھے دراز کیا جائے تو پہلی صورت میں آگے کی جانب دونوں ہاتھ کے بیچ کی فضا، دوسری صورت میں پیچھے کی جانب کی اتنی فضا «بین یدیہ» ہے اور دونوں ہاتھ لٹکانے کی صورت میں آگے پیچھے کا سوال ہی نہیں۔ لفظ «بین یدیہ» کے معنی ترکیبی حقیقی تو یہی ہیں لیکن یہاں مراد نہیں ہو سکتے اور معنی مرکب میں بسا اوقات یہی ہوتا ہے کہ معنی حقیقی تفصیلی چھوڑ کر دوسرے معنی اجمالی مراد ہوتے ہیں، یہ اطلاق کبھی لغوی ہوتا ہے اور کبھی عرفی، اپنے معنی تفصیلی کے لحاظ سے یہ دوسرے معنی اگرچہ مجازی قرار دیے جائیں لیکن استعمال کے لحاظ سے حقیقی ہوتے ہیں۔ لفظ «بین یدیہ» کا بھی یہی حال ہے کہ وہ سامنے اور مقابل کے معنی میں طے ہوگا، قرب کے معنی سے قطع نظر کر کے یا اس کا لحاظ کرتے ہوئے اور اس وقت میں اس لفظ کی تفسیر حاضر اور مشاہد سے کی جاتی ہے، کیونکہ رؤیتِ عادیہ کے لیے قرب و مقابلہ شرط ہے جو مرئی ہے، دیکھنے کے وقت قریب بھی ہے اور مقابل بھی ہے، لفظ «بین یدیہ» کا اصلی مفاد یہی ہے، البتہ قرب جو کہ ایک امرِ اضافی حد درجہ متفاوت معنیِ کلی کا مشکک ہے اس لیے اس کے مختلف درجات میں سے کسی ایک کی تعیین مقام کی خصوصیت کے لحاظ سے ہوگی اور قرب و بُعد کے مختلف مراتب پر دلائل لفظ کے تقاضے سے نہیں عقل کے تقاضوں سے ہیں، پھر اصل میں تو یہ لفظ ظرفِ مکان کے لیے تھا، لیکن بعد میں ظرفِ زمان کے لیے بھی مستعمل ہونے لگا، یا تو مطلقاً زمانہ ماضی یا ماضی قریب کے لیے کیونکہ ماضی حضور کے قریب ہے اور اسی طرح مستقبل میں بھی کہ آنے والا زمانہ بھی مقابل اور متوجہ ہے۔ قرآنِ عظیم اور محاوراتِ عرب میں لفظ «بین یدیہ» ان دونوں معنوں میں وارد ہوا، مفسرین نے اسی معنی سے اس کی تفسیر کی، میں نے تتبع اور تلاش سے قرآنِ پاک میں ۳۸ (اڑتیس) جگہ یہ لفظ پایا، جن میں بیس مقامات میں قرب پر کوئی دلالت نہیں اور ایک مقام پر معنیِ ترکیبی حقیقی کے لیے ہے، اور سترہ مقامات پر قرب کے لیے، مگر اس قرب میں بھی تفاوتِ عظیم ہے کہ اتصالِ حقیقی سے پانچ سو برس کی راہ کی دوری تک پر قرب کا اطلاق ہوا ہے۔"
اس تفصیل کے بعد اڑتیس آیاتِ کریمہ ترجمہ اور ضروری استشہاد کے ساتھ پیش کر کے اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کتبِ تفسیر و لغت سے "بین یدیہ" کا معنی بیان فرماتے ہیں:
ائِمۂ تفسیر و لغت کا بیان یہ ہے: صحاح، قاموس، مختار الصحاح، تاج العروس وغیرہ میں "بین یدی الساعۃ" کے معنی قیامت سے پہلے، اور صراح میں آگے جانے والے۔ اور تاج العروس میں ہے کہ "بین یدیک" ہر اس چیز کو کہا جائے گا جو تمہارے آگے ہو، معالم التنزيل، تفسیر سورۂ حجرات میں "بین الیدین" کے معنی آگے ہیں، اور خازن میں "بین یدیہ" کے معنی جو اس کے آگے ہو، تفسیر ابو السعود میں سورۂ یونس علیہ السلام میں "بین یدیہ" کے معنی آگے، اور جلالین میں سورۂ رعد کے لفظ "بین یدیہ" کے معنی آگے، اسی میں سورۂ مریم کے لفظ "ما بین ایدینا" کے معنی ہمارے آگے، اسی میں اور دیگر تفاسیر میں سورۂ بقرہ اور دیگر سورتوں کے لفظ "مصدقاً لما بین یدیہ" کے معنی اس سے پہلے کی کتابیں۔ انموذج میں جلیل ستائسویں آیت کے تحت ہے "ما بین یدی الانسان" ہر وہ چیز جس پر انسان کی نظر چہرے پھیرے بغیر پڑے۔ کردی اور فتوحاتِ الٰہیہ میں اسی آیت کے تحت ہے، انسان کے "ما بین یدیہ" وہ چیز ہے جس پر اس کی نظر چہرہ پھیرے بغیر پڑے۔ تکملہ مجموع البحار میں ہے "فعلتہ بین یدیک" کا ترجمہ میں نے اس کو تیرے حضور میں کیا۔ اور عنایۃ القاضی میں آیۃ الکرسی کے "ما بین ایدیہم" کے معنی لکھے ہیں کہ "ما بین یدیہ" کا اطلاق امورِ دنیا پر ہے کہ وہ تمہارے سامنے ہیں اور حاضر کی تعبیر "ما بین یدیہ" سے کی جاتی ہے، اور امورِ آخرت تم سے پوشیدہ ہیں جیسے وہ چیز جو تمہارے پیچھے ہو، اور جمل میں اسی آیت کی تفسیر میں "ما بین ایدیہم" کے معنی جو حاضر و مشاہد ہو لکھے ہیں۔ خطیب اور جمل میں "بین یدی اللہ و رسولہ" کے معنی ان دونوں کے حضور کیے ہیں کہ جو آدمی کے پاس ہو وہ "بین یدیہ" ہے اور آدمی اس کو دیکھنے والا ہے۔
پھر نتیجہ کے طور پر فرماتے ہیں:
"تو قرآنِ عظیم، احادیثِ کریمہ اور قدیم و جدید ائمہ کی نصوص سے ظاہر ہو گیا کہ قولِ فقہاء «يؤذن بين يدي الخطيب» کی دلالت مسجد کے اندر ہونے پر بھی نہیں، چہ جائیکہ منبر کے پاس ہو۔"
اخیر میں حدیثِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور عہدِ رسالت میں ہونے والے عمل سے استدلال کرتے ہوئے اپنا موقف بڑے پرزور انداز میں واضح کرتے ہوئے یوں فرماتے ہیں:
"یہاں «بین یدیہ» کی حد متعین کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم العدل ہیں، اور جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہد میں ہوتا تھا وہ حق و باطل کے درمیان امتیاز ہے، جسے صحیح سے سنا جا چکا کہ حضور کے سامنے مسجد کے دروازہ پر اذان ہوتی تھی تو قرب کی بحکمِ رسول یہی حد مقرر ہوئی اور جو اس پر اضافہ کرے یا اس میں کمی کرے وہ ظلم و تعدی کرنے والا ہے۔ پس جس نے اس قربِ مروی میں اضافہ کر کے داخلِ مسجد کر دیا اس نے سنتِ رسول پر زیادتی کی، اور جس نے اس قرب میں کمی کی ہر سہ معنی مسجد سے اس کو خارج کر دیا اس نے بھی ظلم کیا۔ جس نے دو آخری معنی کے اعتبار سے خارجِ مسجد کیا اور معنیِ اول کے اعتبار سے داخلِ مسجد کیا اس نے حق کے موافق حکم کیا اور حکم تو اللہ و رسول جل وعلا و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ہے" (ملخصاً شمائم العنبر)۔
اس کے بعد امام راغب کی عبارت سے "بین یدیہ" کا معنی قریب ہی میں مختص سمجھنے والوں کا دلائل سے ردِ بلیغ کیا اور ایسی تفہیم کی کہ ہمیشہ اعلیٰ حضرت کا احسان یاد رکھنا چاہیے۔ آپ کی یہ تحقیق تصنیفِ منیف شمائم العنبر میں ۱۸ صفحات پر بکھری ہوئی ہے، یقیناً یہ علم و فضل کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے، جو اربابِ علم کو استفادہ کی دعوت دے رہا ہے، یہ جہاں آپ کی فقہی صلاحیت کا ایک آئینہ ہے، وہیں علمِ تفسیر میں آپ کی مہارت و امامت کا عظیم جلوہ ہے۔
(۲) قلب کی تفسیر
سورۂ احزاب کی آیتِ کریمہ ہے:
«مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ»
ترجمہ: اللہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے۔
اس میں لفظ "قلبین" قلب کا تثنیہ ہے۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ "قلب" کیا ہے؟ اس کی تعریف کیا ہے؟ اور کیا اب تک کسی ایک انسان میں دو دل رکھے گئے؟ اگر نہیں تو کیا آئندہ یہ ہو سکتا ہے؟ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ آیتِ بالا کی تفسیر میں پہلے قلب کی ایک جامع تعریف پیش کرتے ہیں، پھر اپنی خداداد صلاحیتوں سے اس پر برہانِ نقلی پیش کرتے ہیں، پھر برہانِ عقلی بھی قائم فرماتے ہیں، کہ آدمی کے اندر ایک ہی دل رکھا گیا اور ایک ہی ہو سکتا ہے، اب تک نہ کسی کے اندر دو دل رکھے گئے اور نہ ہی آئندہ کسی میں دو دل رکھے جا سکتے ہیں۔
قلب کی تعریف میں فرماتے ہیں:
"قلب وہ عضو ہے کہ سلطانِ اقلیمِ بدن و محلِّ عقل و فہم و منشائے قصد و اختیار و رضا و انکار ہے" (فتاویٰ رضویہ قدیم: جلد ۱۲ / ص: ۱۹۵)۔
اس کے بعد علمِ اصول سے ثابت کرتے ہیں کہ آیت میں کسی فردِ خاص کی بابت نہیں، بلکہ کسی بھی انسان کے اندر اب تک دو دل نہ رکھے گئے، چنانچہ فرماتے ہیں:
ایک شخص کے دو دل نہیں ہو سکتے "دو بادشاہ در اقلیمے نہ گنجد"۔ آیۂ کریمہ میں "رجل" نکرہ ہے اور تحتِ نفی داخل ہے تو مفیدِ عموم و استغراق ہے، یعنی اللہ عزوجل نے کسی کے دو دل نہ بنائے نہ کہ فقط اس شخص سے خاص کی نسبت انکار فرمایا ہو۔
اس کے بعد دلیلِ نقلی یعنی درج ذیل حدیث سے بھی اپنا مدعا ثابت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
«أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ»
سنتے ہو بدن میں ایک پارۂ گوشت ہے، کہ وہ ٹھیک ہے تو سارا بدن ٹھیک رہتا ہے، وہ بگڑ جائے تو سارا بدن بگڑ جاتا ہے، سنتے ہو وہ دل ہے۔
تو یہ تفسیر القرآن بالحدیث ہوئی۔ بعدہٗ برہانِ تمانع سے محقق فرماتے ہیں کہ کسی بھی فردِ انسان میں دو دل ہونا محال ہے، ملاحظہ کریں اور اعلیٰ حضرت کے علمِ قرآن سے استفادہ کریں:
تو اگر کسی کے دو دل ہوں ان میں ایک ٹھیک رہے ایک بگڑ جائے تو چاہیے معاً ایک آن میں سارا بدن بگڑا اور سنبھلا دونوں ہوا اور یہ محال ہے، جو دو دل ہوں ایک نے ارادہ کیا یہ کام کیجیے، دوسرے نے ارادہ کیا نہ کیجیے تو اب بدن ایک کی اطاعت کرے یا دونوں کی یا کسی کی نہیں۔ ظاہر ہے کہ دونوں کی اطاعت محال ہے اور کسی کی نہ ہو تو ان میں کوئی قلب نہیں، تو قلب تو وہی ہے کہ بدن اسی کے ارادے سے حرکت و سکونِ ارادی کرتا ہے، اور اگر ایک کی اطاعت کرے گا دوسرے کی نہیں تو وہ جو اس کی اطاعت کرے گا وہی قلب ہے اور دوسرا ایک بد گوشت ہے، کہ بدن میں صورتِ قلب پر پیدا ہو گیا، جیسے کسی کے پنجے میں چھ انگلیاں ہیں اور بعض کے ایک ہاتھ میں دو ہاتھ لگے ہوتے ہیں، ان میں جو کام دیتا ہے وہ ٹھیک موقع پر ہے وہی ہاتھ ہے دوسرا بد گوشت ہے۔ ڈاکٹروں کا بیان اگر سچا ہو تو اس کی یہی صورت ہوگی کہ بدن میں ایک بد گوشت بصورتِ دل زیادہ پیدا ہو گیا ہوگا، ہاتھ میں تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اصلی اور زائد دونوں ہاتھ کام دیں مگر قلب میں یہ ناممکن ہے۔ آدمی روحِ انسانی سے آدمی ہے اور اسی کے مرکب کا نام قلب ہے۔ اور روحِ انسانی متجزّی نہیں کہ آدھی ایک دل میں رہے اور آدھی دوسرے میں کہ جس سے وہ اصالۃً مطلق ہوگی وہی قلب ہے دوسرا سلب ہے۔ اور یہ آیۂ کریمہ میں «يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ» فرمایا ہے کہ ماں کے پیٹ میں تمہاری تصویر بناتا ہے جیسے وہ چاہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ "کیف تشاؤن وبخیالتکم تخترعون" جیسی تم چاہو اور اپنے خیالات میں گڑھو ویسی تصویر بنا دے، یہ محض باطل ہے اور اس نے اپنی مشیت بتا دی کہ کسی کے جوف میں میں نے دو دل نہ رکھے، تو اس کے خلاف تصویر نہ ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (فتاویٰ رضویہ قدیم، جلد ۱۲ / صفحہ ۱۹۴-۱۹۵)۔
(۳) لفظ صلوٰۃ کی تفسیر و بیانِ مراد
سورۂ توبہ کی آیت ۹۹ ہے:
«وَمِنَ الْأَعْرَابِ مَن يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَاتٍ عِندَ اللّٰهِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ ۚ أَلَا إِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ ۚ سَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهٖ ۗ إِنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ»
ترجمہ: اور کچھ گاؤں والے وہ ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو خرچ کریں اسے اللہ کی نزدیکیوں اور رسول سے دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھیں۔ ہاں ہاں وہ ان کے لیے باعثِ قرب ہے، اللہ جلد انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا، بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
آیتِ بالا میں مذکورہ صلوات کا لفظ صلوٰۃ کی جمع ہے، صلوٰۃ کے دو مشہور معانی ہیں۔ اول: دعا، دوم: نماز (عبادتِ مخصوصہ)۔ آیتِ بالا میں معنیِ اول مراد ہے یا معنیِ دوم؟ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ احادیثِ جلیلہ اور شروحِ معتمدہ سے ثابت فرماتے ہیں کہ یہاں صلوٰۃ سے مراد دعا ہے، یعنی معنیِ اول ہے۔ ملاحظہ ہو، امام احمد رضا محدث بریلی قدس سرہٗ فرماتے ہیں:
اس میں "صلوٰۃ" بمعنی دعا ہے۔ حدیث موطا امام مالک و سنن نسائی: عن ام المؤمنين الصديقة رضي الله تعالى عنها عن رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم قال اني بعثت الى اهل البقيع لاصلي عليهم۔ یعنی میں اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا کہ ان پر صلوٰۃ کروں۔ صلوٰۃ کو بمعنی دعا و استغفار لیا۔
اقول: بلکہ سنن نسائی کی دوسری روایت میں ہے: ان جبريل اتاني (فذكر الحديث قال) فامرني ان آتي البقيع فاستغفر لهم قلت له: كيف اقول يا رسول الله؟ قال: قولي السلام على اهل الدار من المؤمنين والمسلمين ويرحم الله المستقدمين منا والمستاخرين وانا ان شاء الله بكم لاحقون۔ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبریل میرے پاس آئے، مجھے حکم فرمایا کہ بقیع جا کر اہل بقیع کے لیے دعائے مغفرت کرو۔ ام المؤمنین فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کس طرح کہوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے زیارتِ قبور تعلیم فرمائی: السلام على اهل الدار من المؤمنين والمسلمين يرحم الله المستقدمين منا والمستاخرين وانا ان شاء الله بكم لاحقون۔
تو یہ خود اور حدیثِ بخاری و مسلم و ابی داؤد و نسائی «عن عقبة ابن عامر ان النبي صلى الله تعالى عليه وسلم خرج يوماً فصلى على اهل احد صلاته على الميت» حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن احد تشریف لے جا کر اہل احد پر صلوٰۃ پڑھی، جیسے میت پر صلاۃ پڑھی جاتی ہے۔ اس میں بھی علماء نے "صلوٰۃ" بمعنی "دعا" لیا ہے۔ ارشاد الساری شرح صحیح البخاری میں ہے: زاد (اي البخاري) في غزوة احد من طريق حيوة بن شريح عن يزيد بعد ثمان سنين والمراد انه صلى الله عليه وسلم صلاة الميت وليس المراد صلاة الميت معهودة كقوله تعالى: "وَصَلِّ عَلَيْهِمْ" والاجماع يدل له لانه لا يصلى عليه عندنا فعند ابي حنيفة المخالف لا يصلي على القبر بعد ثلاثة ايام۔ یعنی امام بخاری نے غزوۂ احد کے بیان میں بطریق حیوہ بن شريح عن یزید آٹھ سال کے بعد کا اضافہ کیا ہے، یعنی اہل احد کے لیے صلوٰۃِ مذکور کا واقعہ ان کی شہادت کے آٹھ سال کے بعد کا ہے۔ اور صلوٰۃ سے مراد یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کی جو نمازِ میت میں ہوتی ہے، معروف نمازِ جنازہ مراد نہیں، جیسے ارشادِ باری تعالیٰ: "وصل عليهم" کا معنی ہے ان کے لیے دعا کرو، اس مراد کی دلیل اجماع ہے، اس لیے کہ ہمارے نزدیک شہید کی نمازِ جنازہ نہیں، اور امام اعظم ابو حنیفہ جو اس بارے میں ہمارے مخالف ہیں ان کے نزدیک تین دن کے بعد قبر پر نمازِ جنازہ نہیں۔
پھر امام نووی شرح مہذب، پھر امام سیوطی مرقاة الصعود شرح سنن ابی داؤد میں فرماتے ہیں: «قال اصحابنا وغيرهم ان المراد من الصلوة هٰهنا الدعاء وقوله صلاته على الميت اي دعاء لهم کدعاء صلوة الميت وليس المراد صلوة الجنازة المعروفة بالاجماع اھ۔۔ مختصراً»۔ ہمارے علماء اور دیگر حضرات نے فرمایا کہ یہاں صلوٰۃ سے مراد دعا ہے، اور "صلاتہ علی المیت" کا معنی یہ ہے کہ جیسے نمازِ میت میں دعا ہوتی ہے وہی دعا ان کے لیے کی اور معروف نمازِ جنازہ بالاجماع مراد نہیں (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد ۹، ص: ۲۸۲، مطبوعہ مرکزِ اہل سنت پوربندر گجرات)۔
یہ تفسیر القرآن بالحدیث ہے۔ اس سے واضح ہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آیات و کلماتِ قرآنیہ سے متعلق تمام احادیث مستحضر تھیں اور آپ رموزِ تفسیر سے صرف واقف نہیں بلکہ اس کے پاسدار تھے۔
(بحوالہ: مصنف اعظم نمبر، ص: ۱۲۲ تا ۱۲۶)
