امام احمد رضا اور علم تفسیرِ قرآن (قسط چہارم)

امام احمد رضا اور علم تفسیرِ قرآن (قسط چہارم)
عنوان: امام احمد رضا اور علم تفسیرِ قرآن (قسط چہارم)
تحریر: ابو الحسن مصباحی

(۴) آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی؟

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
«فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ إِلَىٰ يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِمَا أَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ» (التوبة: ۷۷)
ترجمہ: تو اس کے پیچھے اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا، اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے۔

عہدِ رسالت میں ثعلبہ نام کے دو لوگ ہوئے ہیں۔ اول: ثعلبہ بن حاطب بن عمرو بن عبید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ دوم: ثعلبہ بن ابی حاطب۔ دونوں قبیلۂ اوس سے تھے۔ اول بدری صحابی، جنگِ احد میں شہید ہوئے، دوم منافق منکرِ زکوٰۃ تھا۔ آیتِ کریمہ کی شانِ نزول سے متعلق سوال ہوا کہ کس کے حق میں نازل ہوئی؟ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ تفسیرِ امام ابن جریر، تفسیرِ معالم اور تفسیرِ ثعلبی کی روشنی میں متعین فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مصداق ثعلبہ بن ابی حاطب ہے، ثعلبہ بن حاطب نہیں۔ تفسیری عبارات ملاحظہ ہوں:

تفسیرِ امام ابن جریر میں ہے:
«حدثني محمد بن كعب حدثني ابي حدثني عمي حدثني ابي عن ابيه عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما ان رجلا يقال له ثعلبة ابن ابي حاطب اخلف الله ما وعدوه فقص الله تعالى شانه في القرآن ومنهم من عاهد الله الى قوله يكذبون»

تفسیرِ معالم میں ہے:
«قال نزل الله تعالى في ومنهم عاهد الله عند رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل من اقارب ثعلبة فسمع ذلك فخرج حتى اتاه فقال ويحك يا ثعلبة قد انزل الله فيك كذا وكذا فخرج ثعلبة حتى اتى النبي صلى الله عليه وسلم فساله ان يقبل صدقته فقال ان الله منعني ان اقبل منك صدقتك ثم اتى ابا بكر حين استخلف فقال اقبل صدقتي فقال ابو بكر لم يقبلها رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا اقبلها فلما ولي عمر اتاه فقال يا امير المؤمنين اقبل صدقتي فقال لم يقبلها رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم ولا ابو بكر ولا انا اقبلها ثم ولي عثمان فاتاه فساله فقال لم يقبلها رسول الله ولا ابو بكر ولا عمر رضوان الله تعالى عليهما وانا لا اقبلها فلم يقبلها منه وهلك ثعلبة في خلافة عثمان رضي الله عنه، اھـ مختصراً»

یہ سب اس حدیثِ ثعلبہ کی تسلیم پر ہے، ورنہ دوسرے سے ثابت الصحت نہیں۔ امام ابن حجر عسقلانی نے اصابہ میں فرمایا: «ان صح الخبر ولا اظنه يصح»۔ اور تفاسیرِ بالا کی روشنی میں اعلیٰ حضرت خود فرماتے ہیں:
"حضرت سیدنا ثعلبہ بن حاطب بن عمرو بن عبید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ [بدری صحابی] ہیں۔ اور یہ شخص جس کے باب میں یہ آیت اتری ثعلبہ بن ابی حاطب ہے۔ اگرچہ یہ بھی قومِ اوس سے تھا، اور بعض نے اس کا نام بھی ثعلبہ بن حاطب کہا، مگر وہ بدری خود زمانۂ اقدسِ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم میں جنگِ احد میں شہید ہوئے اور یہ منافق زمانۂ خلافتِ امیر المؤمنین عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں مرا، جب اس نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا اور یہ آیۂ کریمہ میں اس کی مذمت اتری، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں زکوٰۃ لے کر حاضر ہوا، حضور نے قبول نہ فرمائی۔ پھر صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں لایا، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیری زکوٰۃ قبول نہ فرمائی اور میں قبول کر لوں، ہرگز نہ ہوگا۔ پھر خلافتِ فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں حاضر لایا، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر قبول نہ فرمائیں اور میں لے لوں یہ کبھی نہ ہوگا۔ پھر خلافتِ ذی النورین غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں لایا فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و صدیق و فاروق نے قبول نہ فرمائی، میں بھی نہ لوں گا۔ آخر انہی کی خلافت میں مرا" (فتاویٰ رضویہ قدیم، جلد ۱۲ / ص: ۳۳)۔

(۵) حرفِ علیٰ کی تفسیر

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
«فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا ۚ فَلَمَّا جَاءَهُ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ ۖ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ» (القصص: ۲۵)
ترجمہ: تو ان دونوں میں سے ایک اس کے پاس آئی شرم سے چلتی ہوئی بولی میرا باپ تمہیں بلاتا ہے کہ تمہیں مزدوری دے اس کی جو تم نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے، جب موسیٰ اس کے پاس آیا اور اسے باتیں کہہ سنائیں اس نے کہا ڈریے نہیں آپ بچ گئے ظالموں سے۔

آیتِ بالا میں «عَلَى» کا لفظ آیا ہے، یہ اصل معنی کے اعتبار سے الزام کے لیے آتا ہے، اس کے علاوہ با، اور عند کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہاں یہ کس معنی میں ہے یعنی اپنے معنیِ اصلی میں ہے یا با اور عند کے معنی میں استعمال ہوا ہے؟ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ تفسیرِ قرآن باللغۃ العربیۃ کی روشنی میں فرماتے ہیں:
"تمام اہل زبان کا اس پر اتفاق ہے کہ لفظ کے معنیِ حقیقی جب تک بن سکیں معنیِ مجازی مراد لینے کی کوئی سبیل نہیں۔ اور یہ واضح ہے کہ «علی» کو «عند» یا «با» یا مبالغہ کے لیے لینا اس کے معنیِ مجازی ہوں گے کہ اس کے معنیِ حقیقی تو لازم کرنے کے ہیں جیسا کہ اصولِ امام شمس الائمہ اور کشفِ امام بخاری میں ہے: «اما على فللالزام باعتبار اصل الوضع» (علی وضع کے اعتبار سے الزام کے لیے ہے)۔ تحریرِ امام ابن ہمام اور تقریبِ امام ابن امیر الحاج میں ہے: «وهو للزوم وهو معناه الحقيقي» (لزوم ہی علی کے معنیِ حقیقی ہیں)۔ اور رضی شرح کافیہ میں ہے: «منه سر على اسم الله أي ملتزماً» (اس محاورہ سے ہے: اللہ کے نام پر سیر کرو یعنی اس کو لازم پکڑو)۔

قرآنِ عظیم میں یہ لفظ اسی معنی میں وارد ہوا، ارشادِ الٰہی ہے: «فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ» ای ملازمة للحیاء۔ ان دو عورتوں میں سے ایک شرم کرتی ہوئی آئی یعنی وہ شرم کو لازم کیے ہوئے تھی" (شمائم العنبر، ص: ۲۹۵-۲۹۶)۔

(۶) مرادِ آیت کی تعیین و سببِ نزول

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
«إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ» (القصص: ۵۶)
ترجمہ: بے شک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کر دو ہاں اللہ ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت والوں کو۔

اس آیت میں "مَنْ" سے کون مراد ہے یعنی یہ کس ذات کے بارے میں نازل ہوئی؟ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیتِ کریمہ ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی۔

معالم التنزيل میں ہے: «نزلت في ابي طالب»۔
جلالین میں ہے: «نزل في حرصه صلى الله عليه وسلم على ايمان عمه ابي طالب»۔
مدارک التنزيل میں ہے: «قال الزجاج اجمع المفسرون انها نزلت في أبي طالب»۔
امام نووی شرح مسلم شریف کتاب الایمان میں فرماتے ہیں: «اجمع المفسرون على انها نزلت في ابي طالب وكذا نقل اجماعهم على هذا الزجاج وغيره»۔
مرقاة شرح مشکوٰة شریف میں ہے: «لقوله تعالى في حقه باتفاق المفسرين انك لا تهدي من احببت»۔

تفسیر کی کتبِ معتمدہ سے واضح و روشن کرنے کے بعد اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلم شریف کی حدیثِ صحیح سے اس کا سببِ نزول بیان فرماتے ہیں:
صحیح حدیث میں اس آیتِ کریمہ کا سببِ نزول یوں مذکور ہے کہ جب حضور اقدس سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب سے مرتے وقت کلمہ پڑھنے کو ارشاد فرمایا، صاف انکار کیا اور کہا مجھے قریش عیب لگائیں گے کہ موت کی سختی سے گھبرا کر مسلمان ہو گیا ورنہ حضور کو خوش کر دیتا۔ اس پر رب العزت تبارک و تعالیٰ نے آیۂ کریمہ اتاری یعنی اے حبیب! تم اس کا غم نہ کرو تم اپنا منصبِ تبلیغ ادا کر چکے، ہدایت دینا اور دل میں نورِ ایمان پیدا کرنا یہ تمہارا فعل نہیں اللہ عزوجل کے اختیار سے ہے اور اسے خوب معلوم ہے کہ کسے یہ دولت دے گا کسے محروم رکھے گا۔ صحیح مسلم شریف کتاب الایمان و جامع ترمذی کتاب التفسیر میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی:
«قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم لعمه (وزاد مسلم في اخرى عند الموت): قل لا اله الا الله اشهد لك بها يوم القيامة، قال لولا ان تعيرني قريش يقولون انما حمله على ذلك الجزع لاقررت عينيك فانزل الله عز وجل انك لا تهدي من احببت ولكن الله يهدي من يشاء»۔
معالم و مدارک و بیضاوی و ارشاد العقل السلیم و خازن و فتوحاتِ الٰہیہ وغیرہ تفاسیر میں اسی حدیث کا حاصل اس آیت کے نیچے ذکر کیا (ایمانِ ابو طالب، ص: ۹-۱۰)۔

(۷) آیتِ ہجرت کی تفصیل اور اس کا حکم

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
«إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنتُمْ ۖ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ ۚ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا ۚ فَأُولَٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا ﴿۹۷﴾ إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا ﴿۹۸﴾» (النساء: ۹۷-۹۸)
ترجمہ: وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے ان سے فرشتے کہتے ہیں تم کاہے میں تھے کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور تھے کہتے ہیں کہ اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے تو ایسوں کا ٹھکانہ جہنم ہے اور بہت بری جگہ پلٹنے کی، مگر وہ جو دبا لیے گئے مرد اور عورتیں اور بچے جنہیں نہ کوئی تدبیر بن پڑے نہ راستہ جانیں۔

آیتِ بالا کی تفسیر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجرت کی اقسام اور اس کی تمام صورتوں کا احاطہ کرتے ہوئے حکم بیان فرماتے ہیں کہ کس کے حق میں ہجرت فرض اور کس پر حرام ہے، انہی کے الفاظ میں ملاحظہ ہوں:

"ہجرت دو قسم ہے: عامہ و خاصہ۔ عامہ یہ کہ تمام اہل و وطن ترکِ وطن کر کے چلے جائیں، اور خاصہ یہ ہے کہ خاص اشخاص۔
پہلے ہجرت دار الحرب سے ہر مسلمان پر فرض ہے جس کا بیان آیۂ کریمہ «إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ» میں ہے، اس سے صرف عورتیں اور بچے اور عاجز مرد جو نکل نہیں سکتے مستثنیٰ ہیں، جس کا ذکر اس کے متصل دوسری آیۂ کریمہ «إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ» میں ہے۔ باقی سب پر فرض ہے، جو باوصفِ قدرت دار الحرب میں سکونت رکھے اور ہجرت نہ کرے مستحقِ عذاب ہے۔

رہا دار الاسلام، اس سے ہجرتِ عامہ حرام ہے کہ اس میں مساجد کی ویرانی و بے حرمتی، قبورِ مسلمین کی بربادی، عورتوں، بچوں اور ضعیفوں کی تباہی ہوگی۔
اور ہجرتِ خاصہ میں تین صورتیں ہیں:
(۱) اگر کوئی شخص کسی وجہِ خاص اس سے کسی مقامِ خاص میں اپنے فرائضِ دینیہ بجا نہ لا سکے اور دوسری جگہ ممکن ہو، تو اگر یہ خاص اسی مکان میں ہے اس پر فرض ہے کہ یہ مکان چھوڑ کر دوسرے مکان میں چلا جائے اور اگر اس محلہ میں معذور ہو تو دوسرے محلہ میں اٹھ جائے اور اس شہر میں مجبور ہو تو دوسرے شہر میں وعلیٰ ہذا القیاس، جیسا کہ مدارک التنزيل میں اس کی تفصیل ہے اور اس پر حدیثِ مبارک سے استشہاد کیا ہے۔
(۲) دوسرے یہ کہ یہاں اپنے فرائضِ مذہبی بجا لانے سے عاجز نہیں اور اس کے ضعیف ماں یا باپ یا بیوی یا بچے جن کا نفقہ اس پر فرض ہے وہ نہ جا سکیں گے یا نہ جائیں گے اور اس کے چلے جانے سے بے وسیلہ رہ جائیں گے تو اس کو دار الاسلام سے ہجرت کرنا حرام ہے، حدیث میں ہے: «كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ» (کسی آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اسے ضائع کر دے جس کا نفقہ اس کے ذمہ تھا)۔ یا وہ عالم جس سے بڑھ کر اس شہر میں عالم نہ ہو اسے بھی حرام ہے، جیسا کہ بزازیہ اور درِ مختار میں تصریح ہے کہ ایسے آدمی کے لیے طویل سفر جائز نہیں چہ جائیکہ وہ وہاں سے ہجرت کر جائے۔
(۳) تیسرے یہ کہ نہ فرائض سے عاجز ہے نہ اس کی یہاں حاجت، اسے اختیار ہے، رہے یا چلا جائے جو اس کے مصلحت میں ہو، یہ تفصیل دار الاسلام میں ہے، جیسا کہ ہم نے اپنے فتاویٰ میں تحقیق کیا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم" (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد ۱۴ / ص: ۱۳۲-۱۳۳)۔

(بحوالہ: مصنفِ اعظم نمبر، ص: ۱۲۷ تا ۱۳۰)

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!