حدیثِ معنعن سے حجت پکڑنے کا اصول، اصولِ حدیث

حدیثِ معنعن سے حجت پکڑنے کا اصول
عنوان: حدیثِ معنعن سے حجت پکڑنے کا اصول
تحریر: اختر رضا بن محمد سلیم

حدیثِ معنعن سے حجت پکڑنے کا اصول

معنعن حدیث سے حجت پکڑنا اصولِ حدیث کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ اہلِ علم کے نزدیک جب سند کے دونوں راوی ایک ہی زمانے میں موجود ہوں، ان کے درمیان ملاقات کا امکان ہو اور راوی مدلس نہ ہو تو محض «عن» کے الفاظ کی وجہ سے روایت کو ناقابلِ حجت قرار نہیں دیا جائے گا، بلکہ اسے اتصالِ سند پر محمول کیا جائے گا، جب تک کوئی واضح دلیل عدمِ ملاقات یا عدمِ سماع پر موجود نہ ہو۔

حدیثِ معنعن کی تعریف اور حکم

لفظ «عن» کے ذریعے جو حدیث روایت کی جائے اسے حدیثِ معنعن کہتے ہیں اور اس طرح روایت کرنے کو عنعنہ کہا جاتا ہے۔

دو شرائط کے ساتھ اسے متصل شمار کیا جاتا ہے:
۱۔ راوی مدلس نہ ہو۔
۲۔ جن راویوں کے درمیان «عن» کا لفظ آئے، وہ ایک ہی زمانے میں موجود ہوں اور ان کے درمیان ملاقات کا امکان ہو۔
(معارفِ اصولِ حدیث، ص: ۲۰۱)

اعتراض

بعض اہلِ علم نے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر سند میں ایک راوی دوسرے سے «عن فلاں» کے الفاظ سے روایت کرے اور دونوں کا ایک زمانے میں ہونا تو معلوم ہو، لیکن یہ ثابت نہ ہو کہ دونوں کی ملاقات ہوئی یا ایک نے دوسرے سے حدیث سنی، تو ایسی روایت حجت نہیں ہوگی۔

ان کے نزدیک روایت اس وقت تک قابلِ قبول نہیں ہوگی جب تک کم از کم ایک مرتبہ دونوں کی ملاقات اور باہمی سماع ثابت نہ ہو جائے۔
(صحیح مسلم، باب: صحة الاحتجاج بالحديث المعنعن، ص: ۲۴، ط: لبنان)

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کا جواب

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس موقف کو رد کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ یہ اصولِ حدیث میں ایک نیا اور غیر معروف قول ہے، جس کی پہلے محدثین کے یہاں کوئی بنیاد نہیں ملتی۔

آپ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مشہور اور اہلِ علم کا معروف طریقہ یہ ہے کہ جب ایک ثقہ راوی دوسرے ثقہ راوی سے روایت کرے، دونوں ایک ہی زمانے میں موجود ہوں اور ان کے درمیان ملاقات ممکن ہو تو اس روایت کو متصل اور قابلِ حجت سمجھا جائے گا، خواہ کسی خاص روایت میں ملاقات یا سماع کی صراحت موجود نہ ہو۔

البتہ اگر کوئی واضح دلیل یہ ثابت کر دے کہ دونوں راویوں کی ملاقات نہیں ہوئی یا ایک نے دوسرے سے حدیث نہیں سنی، تو ایسی روایت حجت نہیں ہوگی۔ لیکن محض عدمِ صراحت کی بنیاد پر روایت کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

ایک اہم سوال

اگر معنعن روایت کو صرف اس احتمال کی وجہ سے ناقابلِ حجت قرار دیا جائے کہ ممکن ہے راوی نے اپنے شیخ سے براہِ راست حدیث نہ سنی ہو، تو پھر یہ اصول تمام معنعن روایات میں جاری کرنا پڑے گا۔

مثلاً ہشام بن عروہ اپنے والد حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں۔ اگر کسی سند میں صرف «عن عروہ» کے الفاظ ہوں تو عقلاً یہ احتمال باقی رہتا ہے کہ شاید ہشام نے یہ روایت اپنے والد سے براہِ راست نہ سنی ہو، بلکہ کسی واسطے سے حاصل کی ہو اور اس واسطے کا ذکر نہ کیا ہو۔

اسی طرح حضرت عروہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان بھی محض احتمال کی بنیاد پر کسی واسطے کا فرض کیا جا سکتا ہے، حالانکہ ان کی باہمی ملاقات اور روایت معروف ہے۔

اگر صرف ایسے احتمالات کی بنیاد پر ہر معنعن روایت کو رد کر دیا جائے تو حدیث کی بہت سی روایات ناقابلِ قبول قرار پائیں گی، جو محدثین کے معروف اصول کے خلاف ہے۔

دلیل

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی بیان کردہ دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ محض احتمالِ ارسال روایت کو ضعیف قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔ جب راوی ثقہ ہو، اپنے مروی عنہ کا معاصر ہو، ان دونوں کے درمیان ملاقات ممکن ہو اور راوی تدلیس سے معروف نہ ہو تو اس کی معنعن روایت کو اتصال پر محمول کیا جائے گا۔

اصل یہ ہے کہ ثقہ راوی کی روایت کو بلا دلیل رد نہ کیا جائے؛ البتہ اگر عدمِ سماع یا عدمِ ملاقات کی کوئی معتبر دلیل سامنے آ جائے تو پھر روایت کا حکم مختلف ہوگا۔

پہلی مثال

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس اصول کی عملی مثال بھی ذکر فرمائی ہے۔

ہشام بن عروہ سے متعدد ائمہ، مثلاً ایوب سختیانی، ابن مبارک، وکیع اور ابن نمیر وغیرہ نے روایت کیا کہ ہشام اپنے والد حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کے احرام باندھنے اور کھولنے کے وقت آپ ﷺ کو خوشبو لگایا کرتی تھیں۔ (صحیح مسلم، باب: صحة الاحتجاج بالحديث المعنعن، ص: ۲۳، ط: لبنان)

اسی روایت کو بعض دوسرے رواۃ نے ہشام سے صراحتِ سماع کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ہشام نے کہا: عثمان بن عروہ نے مجھے خبر دی، انہوں نے اپنے والد حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی حدیث کبھی معنعن سند سے اور کبھی صراحتِ سماع کے ساتھ مروی ہوتی ہے۔

دوسری مثال

اسی طرح ہشام بن عروہ اپنے والد حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اعتکاف میں ہوتے تو اپنا سرِ مبارک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھا دیتے اور وہ آپ ﷺ کے بالوں میں کنگھی کرتیں، حالانکہ وہ حائضہ ہوتیں۔

اس روایت کو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے زہری کے واسطے سے حضرت عروہ رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ (صحیح مسلم، باب: صحة الاحتجاج بالحديث المعنعن، ص: ۲۳، ط: لبنان)

یہ مثال بھی واضح کرتی ہے کہ مختلف اسانید میں کبھی سماع کی صراحت ہوتی ہے اور کبھی صرف «عن» کے الفاظ ہوتے ہیں، لیکن محض اس فرق کی وجہ سے روایت کو ناقابلِ حجت قرار نہیں دیا جاتا۔

حدیثِ معنعن کے فوائد — فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں

امام اہل سنت، مجددِ دین و ملت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

۱۔ "عنعنۂ مدلس جمہور محدثین کے مذہبِ مختار و معتمد میں مردود و نامستند ہے۔" (فتاویٰ رضویہ، ج: ۵، ص: ۲۴۵)

۲۔ "ہم حنفیوں، مالکیوں، حنبلیوں، جمہور علماء کے اصول پر عنعنہ کا لحاظ ہی اصلاً ساقط ہے؛ کیونکہ عنعنہ کے لحاظ کی وجہ تو یہ شبہ ہے کہ تدلیس، حدیث کے مرسل ہونے کا ڈر ہے، اور ہمارے اور جمہور کے نزدیک تو خود ارسال بھی سند کا عیب نہیں اور حدیثِ مرسل بھی مقبول ہے، تو پھر شبہِ ارسال سے حدیث پر کیا اثر پڑے گا۔" (فتاویٰ رضویہ، ج: ۲۸، ص: ۸۱)

۳۔ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے تدریب الراوی میں ارشاد فرمایا کہ جمہور علمائے کرام جو مراسیل قبول کرتے ہیں، وہ عنعنہ کو بھی قبول کرتے ہیں۔ اسی میں امام جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ جملہ تابعین نے مراسیل کو بالکلیہ قبول کرنے پر اجماع کیا ہے۔ نہ تو تابعین نے مراسیل کا انکار کیا اور نہ ان کے بعد ۲۰۰ھ تک کسی اور نے۔ (فتاویٰ رضویہ، ج: ۲۸، ص: ۸۱)

خلاصہ

حاصلِ کلام یہ ہے کہ حدیثِ معنعن اصولاً حجت ہے، جب راوی ثقہ ہوں، ان کا ایک ہی زمانے میں ہونا اور باہمی ملاقات کا امکان ثابت ہو، اور راوی تدلیس سے معروف نہ ہو۔ صرف یہ بات کہ کسی خاص روایت میں "میں نے سنا" یا "اس نے مجھے خبر دی" کے الفاظ موجود نہیں، روایت کو ضعیف قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔

ہاں، اگر معتبر دلیل سے ثابت ہو جائے کہ دونوں راویوں کی ملاقات نہیں ہوئی یا ایک نے دوسرے سے سماع نہیں کیا، تو ایسی روایت حجت نہیں ہوگی۔

لہٰذا محدثین کے بیان کردہ اصول کے مطابق محض احتمالِ عدمِ سماع کی بنیاد پر روایت کو رد نہیں کیا جائے گا، بلکہ جب تک اس کے خلاف کوئی واضح اور معتبر دلیل قائم نہ ہو، روایت کے اتصال کو ملحوظ رکھا جائے گا۔

از قلم: اختر رضا بن محمد سلیم
درجہ: دورۃ الحدیث | متعلم: جامعۃ المدینہ فیضانِ عطار، ناگپور
تاریخ: ۲۰ اگست ۲۰۲۶ء

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!