| عنوان: | سیرتِ سرورِ کون و مکاں ﷺ (احمدِ مجتبیٰ، محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد آزاد رضوی الطیبی |
تمہید
تاریخِ عالم کے بے شمار واقعات میں سب سے زیادہ مبارک اور مسعود واقعہ وہ ہے جب مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر سرورِ کون و مکاں، رحمتِ عالم، فخرِ موجودات اور نبیِ آخرالزماں حضور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور ہدایت کے ایک نئے دور کا آغاز تھی۔ آپ نے انسان کو اس کے رب سے جوڑا، جہالت کے اندھیروں کو علم و ایمان کے نور سے روشن کیا اور زندگی کے ہر شعبے کے لیے بہترین نمونۂ عمل پیش فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ صرف تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ قیامت تک پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
۱۔ ولادتِ باسعادت
عامُ الفیل میں ماہِ ربیع الاول کی مبارک ساعتوں میں مکہ مکرمہ میں حضور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔ آپ کے والدِ ماجد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ آپ کی ولادت سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے، جبکہ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدِ مبارک سے دنیا کو وہ آخری نبی عطا ہوا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو ہدایت، رحمت اور نجات کا راستہ دکھایا۔
۲۔ ولادتِ مبارکہ کے مشہور واقعات
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر متعدد غیر معمولی واقعات کا ذکر سیرت کی بعض روایات میں ملتا ہے۔ فارس کے بادشاہ کسریٰ کے محل کے چودہ کنگرے گرنے، فارس کے ایک قدیم آتش کدے کے بجھنے، بحیرۂ ساوہ کے خشک ہونے اور بعض بتوں کے گر پڑنے کے واقعات بھی روایات میں بیان ہوئے ہیں۔ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا سے منقول بعض روایات میں ولادت کے وقت ایک نور ظاہر ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔
۳۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی آغوشِ رضاعت
عرب کے معزز خاندانوں میں یہ رواج تھا کہ بچوں کو دیہاتی علاقوں میں پرورش کے لیے بھیجا جاتا، تاکہ وہ خالص عربی زبان سیکھیں اور پاکیزہ ماحول میں نشوونما پائیں۔ اسی روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلۂ بنو سعد کی معزز خاتون حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رضاعت پائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے لیے باعثِ خیر و برکت ثابت ہوئی۔
۴۔ بچپن اور یتیمی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچپن ہی میں یتیمی کا ذائقہ چکھا۔ آپ کے والدِ ماجد پہلے ہی وفات پا چکے تھے، پھر آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا بھی وصال فرما گئیں۔ اس کے بعد آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے کفالت فرمائی اور ان کے انتقال کے بعد آپ کے چچا حضرت ابوطالب نے آپ کی سرپرستی کی۔ ظاہری اعتبار سے آپ یتیم تھے، لیکن اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور خاص تربیت ہمیشہ آپ کے شاملِ حال رہی۔
۵۔ جوانی اور پاکیزہ کردار
جوانی میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سچائی، امانت، شرافت اور پاکیزہ کردار کی وجہ سے اہلِ مکہ میں ممتاز تھے۔ آپ نے بکریاں چرائیں اور تجارت بھی فرمائی۔ آپ کے معاملات میں ایسی صداقت اور دیانت تھی کہ اہلِ مکہ آپ کو نبوت سے پہلے ہی الصادق اور الامین کے عظیم القاب سے یاد کرتے تھے۔
۶۔ نکاحِ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا
حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت و امانت کو قریب سے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح فرمایا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ہر مشکل گھڑی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا اور آغازِ اسلام میں آپ کی سب سے بڑی معاون بنیں۔ پہلی وحی کے بعد بھی انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق اور تسلی فرمائی۔
۷۔ غارِ حرا اور آغازِ نبوت
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمرِ مبارک چالیس سال ہوئی تو آپ غارِ حرا میں خلوت اختیار فرماتے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت و تفکر میں مشغول رہتے۔ اسی غار میں حضرت جبرائیل علیہ السلام پہلی وحی لے کر حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت و رسالت کے عظیم منصب سے سرفراز کیا گیا۔
۸۔ پہلی وحی اور پیغامِ علم
سب سے پہلے سورۃ العلق کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں:
"اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ"
ترجمہ: پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔
یہ وحی انسانیت کے لیے علم، معرفت اور اپنے خالق کی پہچان کا عظیم پیغام لے کر آئی۔ اسلام نے ابتدا ہی سے انسان کو علم حاصل کرنے، غور و فکر کرنے اور اپنے رب کو پہچاننے کی دعوت دی۔
۹۔ اولین ایمان لانے والے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر سب سے پہلے ایمان لانے والی مبارک ہستیوں میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نمایاں ہیں۔ ان پاکیزہ نفوس نے اسلام کے ابتدائی اور مشکل ترین دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھرپور ساتھ دیا۔
۱۰۔ مکی دور اور قریش کی مخالفت
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی دعوت عام فرمائی تو قریش نے شدید مخالفت شروع کردی۔ مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں، انہیں معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو سخت ظلم و ستم برداشت کرنا پڑا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے صبر و استقامت کا دامن نہ چھوڑا۔
۱۱۔ ہجرتِ حبشہ
جب مکہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم بہت بڑھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دی۔ حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کو پناہ دی اور ان کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کیا۔ یہ اسلام کی تاریخ کی پہلی ہجرتوں میں سے ایک اہم ہجرت تھی۔
۱۲۔ شعبِ ابی طالب
قریش نے اسلام کی دعوت کو روکنے کے لیے بنو ہاشم اور مسلمانوں کا معاشرتی و معاشی بائیکاٹ کردیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان نے تقریباً تین سال شعبِ ابی طالب کی گھاٹی میں انتہائی سخت حالات گزارے۔ بھوک اور تنگی کے باوجود ایمان میں کمزوری نہ آئی اور اہلِ ایمان نے صبر و استقامت کی عظیم مثال قائم کی۔
۱۳۔ سفرِ طائف
مکہ میں دعوت کے راستے میں مشکلات بڑھنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف تشریف لے گئے۔ اہلِ طائف نے آپ کی دعوت قبول کرنے کے بجائے آپ کو پتھر مارے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسمِ مبارک لہولہان ہوگیا۔ اس شدید تکلیف کے باوجود آپ نے انتقام کے بجائے رحمت و خیر خواہی کا راستہ اختیار فرمایا۔ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحمت للعالمین ہونے کی عظیم مثال ہے۔
۱۴۔ ہجرتِ مدینہ
مکہ مکرمہ میں تیرہ سال دعوت و تبلیغ کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس عظیم سفر میں آپ کے رفیق تھے۔ مدینہ پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدِ نبوی کی بنیاد رکھی، مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس کی بنیاد ایمان، عدل، اخوت اور مساوات پر تھی۔
۱۵۔ فتحِ مکہ اور عام معافی
فتحِ مکہ کے موقع پر وہ لوگ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موجود تھے جنہوں نے آپ کو اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بے شمار تکالیف پہنچائی تھیں۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طاقت حاصل کرنے کے باوجود انتقام نہیں لیا بلکہ عام معافی کا اعلان فرمایا۔ یہ واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو، رحم اور بلند اخلاق کی عظیم ترین مثالوں میں سے ہے۔
۱۶۔ حجۃ الوداع
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے آخری سال حجۃ الوداع ادا فرمایا اور ایک عظیم خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے، ظلم سے بچنے، امانتوں کی حفاظت کرنے، عدل و انصاف قائم کرنے اور تقویٰ اختیار کرنے کی تعلیم دی۔ آپ کا یہ آخری جامع پیغام آج بھی پوری انسانیت کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
۱۷۔ وصالِ مبارک
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تئیس سالہ نبوی جدوجہد کے ذریعے انسانیت کو توحید، ایمان، اخلاق، عدل اور ہدایت کا راستہ دکھایا۔ ۱۱ ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا سے پردہ فرمایا اور اپنے رفیقِ اعلیٰ سے جا ملے۔ آپ کی ظاہری رحلت امت کے لیے سب سے بڑا غم تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآنِ کریم اور اپنی سنتِ مبارکہ کی لازوال دولت امت کے لیے چھوڑ گئے، جو قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی۔
اختتامیہ و نذرانۂ محبت
سیرتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم صرف واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل طریقہ ہے۔ اگر ہمیں عبادت سیکھنی ہے تو آپ کی عبادت دیکھیں، اخلاق سیکھنے ہیں تو آپ کے اخلاق دیکھیں، صبر سیکھنا ہے تو آپ کی زندگی دیکھیں، دشمن کو معاف کرنا ہے تو آپ کا اسوہ دیکھیں اور انسانیت سے محبت کرنا ہے تو آپ کی پوری حیاتِ مبارکہ ہمارے سامنے ہے۔
محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم صرف زبان سے دعویٰ کرنے کا نام نہیں، بلکہ آپ کی سنت کو زندگی میں اختیار کرنے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے منور فرمائے، ہمیں آپ کی سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور قیامت کے دن اپنے محبوبِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا، وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی، جان ہے تو جہاں ہے
