حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ

حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ
عنوان: حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ
تحریر: مولانا عدنان احمد عطاری مدنی

نام و نسب اور فضائل

عظیم جرنیل اور مشہور صحابیِ رسول حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہما کا پورا نام شرحبیل بن عبداللہ ہے جبکہ صحابیہ بی بی "حسانہ" آپ کی والدہ کا نام تھا، (۱) آپ تاریخِ اسلام کی ان عظیم شخصیات میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنے کردار، بہادری اور تقویٰ سے اسلام کی ابتدائی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔

حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ کا شمار رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے معزز صحابہ اور کاتبینِ وحی میں ہوتا ہے۔ (۲) آپ نے اپنی والدہ، بھائی اور دو بھتیجوں کے ساتھ حبشہ کی جانب ہجرت کی پھر سن ۷ ہجری میں حضرت جعفر اور دیگر مہاجرین رضی اللہ عنہم حبشہ سے مدینے پہنچے تو آپ بھی ان میں شامل تھے۔ (۳) آپ رضی اللہ عنہ ان عظیم سپہ سالاروں میں سے ایک ہیں جن کو خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی فتح کے لیے روانہ کیا۔ (۴) ملکِ اردن کے تمام شہر اور قلعوں کو فتح کرنے کا اعزاز حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ کے حصے میں آتا ہے۔ (۵)

زہد و تقویٰ اور سادگی

آپ کی زندگی زہد و تقویٰ کا بہترین نمونہ تھی سادگی کا عالم یہ تھا کہ ایک مرتبہ حضرت شفاء رضی اللہ عنہا آپ کے گھر تشریف لائیں تو نماز کا وقت ہو چکا تھا اور آپ گھر پر ہی موجود تھے۔ انہوں نے آپ کو ملامت کی کہ نماز کا وقت ہے اور آپ یہاں بیٹھے ہیں۔ آپ نے نرمی سے جواب دیا: "اے پھوپھی! مجھے ملامت نہ کیجیے، ہمارے پاس دو کپڑے تھے جن میں سے ایک کپڑا نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ادھار لے لیا۔" حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دوسرا کپڑا ایک (پرانی) قمیص تھی جس پر پیوند لگے ہوئے تھے۔ (۶)

فتحِ دمشق اور جنگِ یرموک میں شرکت

حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہما ایک بے مثال اور نڈر سپہ سالار بھی تھے۔ فتحِ دمشق میں رومی لشکر مسلمانوں پر حملہ آور ہوا تو آپ نے بلند آواز میں پکارا: "اے مسلمانوں! اپنی زندگیوں کی فکر نہ کرو اور اپنے رب کی جنت کے طلب گار بنو، اپنے عمل سے اپنے خالق کو راضی کرو کیونکہ اللہ تم سے فرار کو پسند نہیں کرتا، ان پر حملہ کرو، اللہ تم پر برکت نازل فرمائے۔" یہ سن کر مسلمانوں نے ایک شدید حملہ کیا اور گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی۔ (۷)

۱۵ ہجری جنگِ یرموک میں آپ کا سامنا رومی کمانڈر سے ہوا دونوں کے درمیان شدید لڑائی شروع ہو گئی۔ دورانِ مقابلہ آپ نے ایک جنگی چال چلی اور پیچھے ہٹے کمانڈر نے آپ کا پیچھا کیا تو آپ نے اچانک پلٹ کر نیزے سے حملہ کیا، لیکن کمانڈر بچ نکلا دونوں کے درمیان پھر شدید لڑائی ہوئی یہاں تک کہ دونوں کی تلواریں ٹوٹ گئیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گلے سے پکڑ لیا۔ کمانڈر جسمانی طور پر بہت بھاری بھرکم اور طاقتور تھا جبکہ آپ دبلے پتلے جسم کے مالک تھے۔ کمانڈر نے آپ کو اتنی زور سے دبایا کہ آپ کو شدید تکلیف ہوئی وہ آپ کو قتل کرنے ہی والا تھا کہ حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ نے خود سے کہا: "اے ضرار! تجھ پر افسوس ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کاتبِ وحی شہید ہو جائیں اور تو دیکھتا رہے؟" چنانچہ تیزی سے بھاگ کر آئے اور پیچھے سے اس رومی کمانڈر کو خنجر مار کر ہلاک کر دیا۔ (۸)

ایک معجزاتی مدد

جنگِ قیساریہ میں رومیوں کی تعداد ۸۰ ہزار تھی جبکہ مسلمان صرف ۵ ہزار تھے اس موقع پر شدید سردی تھی اور آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ اور رومی کمانڈر قیدموں کے درمیان لڑائی جاری تھی کہ اچانک مشکوں کے دہانوں کی طرح تیز بارش شروع ہو گئی۔ اس پر دونوں اپنے گھوڑوں سے اتر آئے اور کیچڑ میں گتھم گتھا ہو گئے۔ اسی دوران قیدمون نے آپ پر حملہ کیا اور آپ کو اٹھا کر پشت کے بل زمین پر پٹخ دیا، پھر سینے پر چڑھ کر آپ کو ذبح کرنا چاہا۔ اس لمحے آپ نے پکارا: يَا غِيَاثَ الْمُسْتَغِيْثِيْن (یعنی اے مدد مانگنے والوں کے مددگار!)۔

اسی وقت رومی لشکر سے سنہری زرہ پہنے اعلیٰ نسل کے گھوڑے پر سوار ایک جنگجو نکلا اور سیدھا اسی جانب آیا۔ قیدموں نے سمجھا کہ وہ اسے اپنا گھوڑا دینے اور اس کی مدد کرنے آیا ہے۔ لیکن شہسوار قریب آتے ہی گھوڑے سے اترا اور قیدموں کو لات مار کر گرا دیا اور آپ سے کہا: "اے اللہ کے بندے! مدد مانگنے والوں کے مددگار کی طرف سے تیرے لیے مدد آ پہنچی ہے۔" آپ فوراً کھڑے ہوئے اور حیرت کرتے ہوئے اس شہسوار کو دیکھنے لگے، شہسوار کے چہرے پر نقاب تھا۔ پھر اس نے اپنی تلوار نکالی اور ایک ہی وار میں قیدموں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

حضرت شرجبیل نے اس سے فرمایا: "اللہ کی قسم! میں نے تم سے زیادہ عجیب معاملہ نہیں دیکھا، تم تو رومیوں کے لشکر کی جانب سے آئے تھے۔" شہسوار کہنے لگا: "میں وہ بدبخت اور دھتکارا ہوا شخص طلیحہ بن خویلد ہوں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا اور اللہ پر جھوٹ باندھا تھا۔" حضرت شرجبیل نے فرمایا: "اے میرے بھائی! اللہ کی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اور جو شخص توبہ کر لیتا ہے اور اللہ کی طرف لوٹ آتا ہے تو اللہ اس کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے اور اس کے پچھلے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے: توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔"

طلیحہ نے کہا: "میرے پاس کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں اسلام کی طرف لوٹ آؤں"، پھر واپس جانے کا ارادہ کیا تو آپ نے اسے روک لیا اور فرمایا: "میں تمہیں یوں جانے نہیں دوں گا بلکہ تم میرے ساتھ اسلامی لشکر میں چلو۔" طلیحہ نے کہا: "مجھے ڈر ہے کہ حضرت خالد بن ولید مجھے قتل کر دیں گے۔" آپ نے فرمایا: "حضرت خالد رضی اللہ عنہ لشکر میں نہیں ہیں، سپہ سالار حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ہیں۔" پھر آپ طلیحہ کو اپنے ساتھ اسلامی لشکر میں لے آئے، امیر لشکر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ طلیحہ کو دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھے اور خوش آمدید کہا (اس طرح حضرت طلیحہ دائرۂ اسلام میں داخل ہو گئے اور بہت اچھے مسلمان ثابت ہوئے)۔ (۹)

طاعونِ عمواس پر ایمانی تاثرات

سن ۱۸ ہجری میں جب شام میں طاعون کی وبا پھیلی تو اس وقت کے امیرِ شام نے لوگوں سے کہا کہ یہ ایک عذاب ہے، لہذا اس سے بچنے کے لیے پہاڑوں اور وادیوں میں پھیل جاؤ۔ جب یہ بات حضرت شرجبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہا تک پہنچی تو وہ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: "خدا کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صحبت پائی ہے، یہ (طاعون) تمہارے رب کی رحمت اور تم سے پہلے صالحین کی وفات کا ذریعہ ہے۔" (۱۰)

خلافتِ فاروقی اور معزولی

جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو حضرت شرجبیل کو معزول کر دیا۔ آپ نے پوچھا: "اے امیر المؤمنین! کیا میں نے کوئی خیانت کی ہے یا میں اس کام کے لیے نااہل ہو گیا ہوں؟" فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "نہ آپ نے خیانت کی اور نہ آپ نااہل ہیں۔" عرض کی: "پھر مجھے کیوں معزول کیا؟" فرمایا: "جب مجھے زیادہ باصلاحیت شخص مل گیا ہے تو آپ کو قائد بنانے میں مجھے ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔" عرض کی: "یہ بات لوگوں کے سامنے بھی بیان کر دیں کہ میں نے نہ کوئی خیانت کی ہے اور نہ میں نااہل ہوں"، پھر حضرت عمر فاروق نے اس بات کو لوگوں کے سامنے بیان کر دیا۔ (۱۱)

وفات

حضرت شرجبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہما سن ۱۸ ہجری میں طاعونِ عمواس کی وبا میں مبتلا ہو کر ۶۷ سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ (۱۲) آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت، جہاد فی سبیل اللہ اور زہد و عبادت میں گزاری اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال قائم کی۔

حوالہ جات / حواشی

(۱) مستدرک، ۴ / ۳۱۴، حدیث: ۵۲۵۱
(۲) فتوح الشام، ۱ / ۲۰۶
(۳) تاریخ ابن عساکر، ۲۲ / ۴۶۷، ۴۷۱
(۴) مستدرک، ۴ / ۳۱۵، حدیث: ۵۲۵۶
(۵) فتوح البلدان، ص ۱۶۹
(۶) مستدرک، ۵ / ۷۷، حدیث: ۶۹۷۶ ملخصاً
(۷) فتوح الشام، ۱ / ۶۶ ملخصاً
(۸) فتوح الشام، ۱ / ۲۰۶ ملخصاً
(۹) فتوح الشام، ۲/۲، ۲۲-۲۳، المصباح المضی لابن الحدیدہ، ص ۱۰۶ تا ۱۰۷
(۱۰) مصنف عبد الرزاق، ۱۰/ ۱۶۹، حدیث: ۲۰۳۳۳ ملخصاً
(۱۱) مصنف عبد الرزاق، ۵/ ۳۱۴، حدیث: ۹۸۳۳
(۱۲) مستدرک، ۴ / ۳۱۵، حدیث: ۵۲۵۴

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!