| عنوان: | صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی فراست اور معاملہ فہمی: ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ |
|---|---|
| تحریر: | مولانا مہروز علی عطاری مدنی |
۷) فتح مکہ کی تیاری کا راز اور معاملہ فہمی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فتح مکہ کی تیاری کو انتہائی خفیہ رکھا تاکہ قریش کو غفلت میں ہی رکھا جائے اور خونریزی سے بچا جا سکے۔ اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سفر کے کھانے وغیرہ کا سامان تیار کرنے کا حکم دیا۔
ایک دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ آپ کی بیٹی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا گیہوں چھان کر کھانے کا سامان تیار کر رہی ہیں۔ آپ نے پوچھا: "اے میری بیٹی! تم یہ کھانے کا سامان کیوں تیار کر رہی ہو؟" حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے راز کو راز رکھا اور کوئی جواب نہ دیا۔ حضرت ابو بکر نے پھر دریافت کیا: "کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کسی غزوہ کا ارادہ رکھتے ہیں؟" اس سوال پر بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خاموش رہیں۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کئی سوالات پوچھے، لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خاموش رہیں۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی کی مسلسل خاموشی دیکھی تو سمجھ گئے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے راز کو ظاہر نہیں کریں گی۔ یہ آپ کی اعلیٰ فراست اور تربیت کا نتیجہ تھا کہ آپ نے اپنی بیٹی پر مزید زور دینے کے بجائے ان کی خاموشی میں چھپے راز کو سمجھ لیا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خود تشریف لے آئے تو آپ نے رسول کریم سے خود معلومات حاصل کر لیں۔ (۱) یہ واقعہ بھی آپ کی بصیرت اور معاملہ فہمی کا ایک بہترین نمونہ ہے کہ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی غیر معمولی مصروفیات اور سوالات پر سکوت سے صورت حال سمجھ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے راز کو افشا کرنے پر بھی مصر نہ ہوئے۔
۸) فتنہ ارتداد اور معاملہ فہمی کی مثال
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصال کے بعد، دینِ اسلام کو ایک ایسے نازک ترین موڑ کا سامنا کرنا پڑا جس کی حساسیت کا اندازہ لگانا ممکن تھا۔ بعض قبائل نے زکوٰۃ کی فرضیت سے انکار کر دیا، اور جھوٹے مدعیانِ نبوت نے سر اٹھا لیے، ان حالات میں ارتداد کا فتنہ پھیلنے کا شدید اندیشہ تھا۔ اس صورتِ حال میں جہاں ایک طرف بڑے بڑے صحابہ اس صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وقتی طور پر نرمی برتنے کی رائے دے رہے تھے، وہیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا ایمان اور ان کی معاملہ فہمی اپنے عروج پر تھی۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس وقت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: ابھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسلام سے مرتد ہو گئی ہے، (جبکہ آپ نے لشکرِ اسامہ کو بھی روانہ کر دیا ہے) ایسے میں آپ زکوۃ نہ دینے والوں سے جنگ کا ارادہ رکھتے ہیں؟ کیا آپ ان کے کلمہ پڑھنے کے باوجود بھی ان سے جنگ کریں گے؟ یہ ایک ایسا سوال تھا جو اس وقت کی ہنگامی صورتحال اور امت کے انتشار کے اندیشے کو ظاہر کرتا تھا۔ لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جو جواب دیا، وہ ان کی ایمانی فراست اور کمالِ معاملہ فہمی کا ایک ایسا شاہکار ہے جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ آپ نے فرمایا:
"اللہ کی قسم! جو لوگ نماز اور زکوۃ کے درمیان فرق کریں گے، میں ان سے ضرور جہاد کروں گا۔ زکوۃ مال کا حق ہے۔ اگر یہ لوگ رسی کا ایک بھی ٹکڑا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں دیا کرتے تھے، ادا کرنے سے انکار کریں گے تو میں اس کے بدلے میں بھی ان سے جہاد کروں گا۔"
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بعد میں اس واقعے کو یاد کر کے فرمایا کرتے تھے کہ "خدا کی قسم! جب میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابو بکر کا سینہ جہاد کے لیے کھول دیا ہے تو میں سمجھ گیا کہ ابو بکر کا فیصلہ درست اور حق پر تھا۔" (۲) حضرت عمر کا یہ اعتراف اس بات کی گواہی ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بصیرت عام لوگوں کی سوچ سے کہیں بلند تھی۔ ان کے اس جرأت مندانہ اقدام نے اسلام کو انتشار اور زوال کے گڑھے میں گرنے سے بچا لیا اور اس کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔
۹) ہجرت کی رات کی بے مثال عقیدت اور فراست
حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حجۃ الوداع سے واپس تشریف لائے) منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور فرمایا: "ایک بندہ ہے جسے اللہ نے اختیار دیا کہ چاہے تو ہمیشہ دنیا میں رہے اور اس کی بہاریں لوٹتا رہے اور چاہے تو اس کے پاس تیار کردہ نعمتوں کو اختیار کر لے— تو اس بندے نے جو اس کے رب کے پاس نعمتیں ہیں انہیں اختیار کر لیا۔"
سرکارِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات کو کوئی نہ سمجھ سکا کہ کیا معاملہ ہے؟ لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اللہ پاک کی عطا کردہ فہم و فراست سے فوراً سمجھ گئے اور جان گئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جس بندے کو اختیار دیا ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ خود آپ کے محبوب نبی، سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور اس حدیث کے ذریعے آپ اپنی وفات کا اشارہ فرما رہے تھے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: پس وہ (بندہ) جس کو اختیار دیا گیا تھا وہ وتاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے۔ (۳) یہ آپ کی ایمانی فراست اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزاج شناس ہونے کا بین ثبوت تھا۔
۱۰) خلافت کے لیے حضرت عمر کا انتخاب
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میری معلومات میں تین ہستیاں ایسی گزری ہیں جو فراست کے بلند ترین مقام پر تھیں، جن میں سے ایک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان کی فراست کی ایک واضح مثال حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اپنے بعد خلافت کے لیے منتخب کرنا ہے۔
جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وصال قریب آیا تو انہوں نے امت کے مستقبل کی فکر کرتے ہوئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین بنانے کا فیصلہ کیا۔ بعض صحابہ کرام نے حضرت عمر کی جلالی طبیعت کا ذکر کیا، لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فراست پر قربان، آپ جانتے تھے کہ امت کو اس نازک دور میں ایک ایسے مضبوط اور جری قائد کی ضرورت ہے جو اپنے فیصلوں میں ثابت قدم ہو اور امت کے داخلی و خارجی فتنو ں کا مقابلہ کر سکے۔ آپ نے فرمایا کہ میں عمر کو خلیفہ بنا رہا ہوں۔ (۴) بعد میں پوری دنیا کے مؤرخین اور دانشوروں نے اس فیصلے کو بہترین قرار دیا۔ یہ آپ کی معاملہ فہمی اور دور اندیشی کی انتہا تھی۔
حاصلِ کلام
ان تمام واقعات سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ایمان اور تقویٰ کے ساتھ ساتھ معاملہ فہمی، حکمت اور فراست میں بھی بلند ترین مقام پر تھے۔ آپ کی زندگی کا ہر پہلو آنے والے قائدین اور عام مسلمانوں کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے کہ کس طرح حالات کی گہرائی میں اتر کر درست فیصلے کیے جاتے ہیں، اور کس طرح مشکل ترین حالات میں بھی اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر کامل یقین کے ساتھ عمل کرنا ہے۔
حوالہ جات / حواشی
(۱) البنایہ والنہایہ، ۳/۴۷۵
(۲) السنن الکبریٰ للبیہقی، ۴/۱۹۱
(۳) بخاری، ۵۹۱/۲، حدیث: ۳۹۰۵
(۴) ازالۃ الخفاء، ۳/۱۲۱ مفہوماً
