حضور ملت سید شاہ شرف الدین نیر قادری کی یاد میں تعزیت نامہ

حضورِ ملت اِک ہمہ جہت شخصیت (تاثر و تعزیت نامہ)
عنوان: حضورِ ملت اِک ہمہ جہت شخصیت (تاثر و تعزیت نامہ)
تحریر: پیرزادہ سید شاہ ابوذر حسنات حسینی قادری ابدالی

خبرِ وصال اور اظہارِ تعزیت

یہ جانکاہ و جاں گسل خبر موصول ہوئی کہ گُلِ گلزارِ قادریت، آبروئے خانقاہیت، سرچشمۂ ولایت، شیخِ طریقت حضورِ ملت عارف باللہ حضرت الحاج سید شاہ شرف الدین نیر قادری رحمتہ اللہ علیہ (سجادہ نشین خانقاہ قادریہ محمدیہ، امجھر شریف) ہزاروں مریدین و متوسلین کو روتا بلکتا چھوڑ کر اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

خانقاہِ قادریہ محمدیہ امجھر شریف کو تعمیری، تعلیمی اور روحانی خدمات سے بامِ عروج تک پہنچانے والے مردِ قلندر ہمارے درمیان سے بظاہر روپوش ہو گئے لیکن آپ کے کارہائے نمایاں آپ کی یاد کو مٹنے نہیں دیں گے۔ اس مشکل گھڑی میں، میں آپ اور جملہ اہل خانہ کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ حضرت کے درجات بلند فرمائے، ان کی دینی خدمات کو قبول فرما کر اجرِ عظیم عطا فرمائے اور پسماندگان و مریدین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

ان کے دیکھے سے آجاتا ہے دل کو قرار
جنہیں لوگ کہتے ہیں نیرؔ فخرِ بہار

نسبی و خاندانی عظمت

حضورِ ملت کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ نے اپنی مکمل زندگی خدمتِ دین و خلق کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ آپ کا سلسلۂ نسب امام المشارق والمغارب، باب العلم، شیرِ خدا حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے خلفِ اکبر، خلیفۃ الرسول حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا ملتا ہے۔

حضور شیخ الجن والانس سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شہزادے قطب الاقطاب سیدنا محمد قادری بغدادی نے حکمِ نبوی ﷺ پا کر جب بھارت کا سفر کیا اور امجھر شریف کو مستقل قیام گاہ بنایا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد میں ایک سے بڑھ کر ایک ماہ پارے قوم و ملت کی ہدایت کے لیے عطا فرمائے۔

سجادگی اور تعمیرِ روضۂ سید الہند

حضورِ ملت کے والدِ بزرگوار حضرت سید شاہ جلال الدین ابدال قادری علیہ الرحمہ (۱۳ ویں سجادہ نشین) نے ۱۹۹۳ء میں سفرِ حج سے قبل اپنے بڑے بیٹے حضرت سید شاہ شرف الدین نیر قادری علیہ الرحمہ کو خلافت و اجازت سے نوازا۔ ۱۰ محرم الحرام ۲۰۰۰ء میں ان کے وصال کے بعد حضورِ ملت خانقاہِ ہٰذا کے ۱۴ ویں سجادہ نشین ہوئے۔

مسندِ سجادگی پر متمکن ہوئے ابھی چالیس دن بھی نہیں گزرے تھے کہ سید الہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو خواب میں بشارت دی کہ "میرا روضہ تعمیر کرانے کی ذمہ داری میں تمہارے سپرد کرتا ہوں"۔ الحمدللہ! جو کام پچھلے ۵۰۰ سالوں میں بڑے بڑے رؤسا اور نواب نہ کر سکے، وہ شرف حضورِ ملت کو حاصل ہوا اور روضۂ مبارک کی عالیشان تعمیر مکمل ہوئی۔

شخصیت، اخلاق اور ذاتی خاطرات

آپ بلا شبہ مقبولِ بارگاہِ سید الہند، منکسر المزاج، بااخلاق اور خرد نواز تھے۔ راقم الحروف کی پہلی ملاقات غالباً ۲۰۱۲ء میں امجھر شریف میں ہوئی۔ جب خاندانی تعارف ہوا کہ میرا خاندان حضرت سید شاہ مراد علی قادری (منورہ شریف) کے واسطے سے حضرت سید شاہ فیروز قادری سے ملتا ہے، تو آپ نے بے پناہ محبت سے گلے لگا لیا اور فرمایا: "ابوذر بابو! آپ کے اور میرے والد کا نام صرف الگ ہے، ورنہ میں آپ کو اپنے بھائی سے کم نہیں سمجھتا۔"

۲۰۱۳ء میں عرسِ سیدنا پاک کے موقع پر تبرکاتِ شریفہ کے صندوق لائے جا رہے تھے، تو آپ نے مجھے بلایا اور خرقۂ غوثِ اعظم والا صندوق میرے سر پر رکھا۔ آپ کی یہ ذرہ نوازی اور شفقت ناقابلِ فراموش ہے۔

۲۰۱۴ء میں عرس کے موقع پر آپ نے مجھ ناچیز کو عمامہ، جبہ، جائے نماز اور تسبیح کے ساتھ خلافت و اجازت عطا فرمائی، جو اس بات کا اشارہ تھا کہ مسند پر بیٹھنے کے ساتھ مصلیٰ بچھا کر ذکرِ الٰہی میں بھی مشغول رہنا۔ نیز ۲۰۱۹ء میں آپ نے میرے والدِ بزرگوار حضرت سید شاہ ابو الحسنات حسینی قادری ابدالی علیہ الرحمہ کو آستانۂ سید الہند میں اپنا مبارک عمامہ اور ٹوپی پہنا کر دستارِ خلافت عطا فرمائی۔

تعلیمی اصلاحات اور نسوانی تعلیم پر توجہ

حضورِ ملت نے اپنے والد کے زمانے کے اداروں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ موجودہ دور کے فتنوں اور ارتداد کے سدِ باب کے لیے جامعہ للبنات کا قیام فرمایا۔ آپ کی دور اندیشی کا نتیجہ تھا کہ بچیوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میسر آئے تاکہ ان کا ایمان و عقیدہ محفوظ رہے۔ چونکہ ماں کی گود پہلی درسگاہ ہے، لہٰذا آپ نے آنے والی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کا پختہ انتظام فرما دیا۔

اسی طرح ۱۰ مئی ۲۰۲۳ء کو جب ہم نے کیمور میں مسجد و جامعہ حضرت ابدال کا عریضہ پیش کیا، تو آپ نے نہ صرف سرپرستی فرمائی بلکہ عوام کو تعمیری کام میں حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: "یہ ادارہ ابوذر بابو نہیں بلکہ میں بنوا رہا ہوں، کل بروزِ قیامت میں اپنے نانا جان ﷺ اور دادا جان غوثِ اعظم سے تمہاری شفاعت کراؤں گا۔"

خلفائے کرام کا تذکرہ

آپ نے تصوف و طریقت کی بقا کے لیے وقت کے جید علماء و دانا شخصیات کو خلافت سے نوازا۔ آپ کے چند ممتاز خلفائے کرام کے اسماء درج ذیل ہیں:
• حضرت سید شاہ منظر حسین قادری (بمنڈیہا، اورنگ آباد)
• حضرت سید شاہ ابو الحسنات حسینی قادری ابدالی (سہسرام)
• حضرت سید شاہ ابو المحاسن قادری گیلانی (ولی عہد بمنڈیہا)
• حضرت مولانا سید شاہ اقبال حسنی قادری (گیا)
• حضرت مولانا سید حامد رضا صاحب (امجھر شریف)
• حضرت سید شاہ زکی عرف جمی قادری (امجھر شریف)
• حضرت سید شاہ حافظ شاکر اصدقی قادری (ہزاری باغ)
• حضرت مفتی سید ریحان قادری (الہ آباد)
• حضرت مولانا سید امجد حسنین قادری (خوشڈہرہ)
• حضرت سید شاہ خواجہ نظام الدین امجد قادری (بہار شریف)
• حضرت سید شاہ شہزاد قادری سہروردی (بہار شریف)
• حضرت مولانا ثابت علی قادری (موہن پور، بنگال)
• حضرت الحاج مفتی انوار القادری (جھریا)
• حضرت الحاج مولانا شاہد جمال قادری (کولکاتا)
• حضرت قاری ابو الکلام قادری (بارہ بنکی)
• حضرت مفتی برجیس قادری (رانچی)
• حضرت الحاج مفتی عبد المجید مصباحی (دھنباد)
• حضرت مولانا اشرف القادری (کولکاتا)
• حضرت مولانا مستقیم علی مصباحی (گریڈیہہ)
• حضرت الحاج مفتی فہیم الدین مصباحی (رام گڑھ)
• حضرت حافظ فیض احمد خان قادری (دھنباد)
• حضرت مولانا وارث جمال قادری (رانچی)
• حضرت مولانا عبد الرقیب (اوڈیشہ)
• حضرت مفتی عطاء النبی قادری مصباحی (نیپال)
• حضرت مفتی اظہار النبی قادری مصباحی (نیپال)
• حضرت مولانا مشاہد رضا قادری (نیپال)
• حضرت مولانا عنایت اللہ قادری (کھگڑیا)
• ناچیز سید ابوذر حسنات حسینی قادری ابدالی (سہسرام)

خصوصی طور پر آپ کے دو مقرب خلفاء—حضرت علامہ مولانا سید شاہ عتیق الرحمن صاحب (اول خلیفہ) اور خطیبِ بزمِ قادریت حضرت علامہ اسرار احمد قادری علیہ الرحمہ (جھریا)—حضورِ ملت کے دست و بازو تھے جنھوں نے خانقاہ کی بے پناہ مخلصانہ خدمت کی۔

پس ماندگان اور دلی تمنا

آپ کے دو شہزادے ہیں:
۱. بابو حضور الحاج سید شاہ محمد حسین عبد الرزاق قادری: جنہیں خانقاہِ قادریہ محمدیہ امجھر شریف کے ۱۵ ویں سجادہ نشین ہونے کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔
۲. عزیزم مولانا سید شاہ عفان قادری: جو درسِ نظامی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

خانقاہِ قادریہ محمدیہ کے ناظمِ اعلیٰ حضرت علامہ مولانا سید شاہ جمال الدین عابد قادری مدظلہ العالی کے کاندھوں پر خانقاہ و جامعہ کی ترقی کا بارِ گراں ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ہمت و حوصلے میں برکت عطا فرمائے۔

تم جو گئے تو دنیائے طریقت میں خلا ہوا
جان کر یہ بات میرا دل غم میں مبتلا ہوا


شریکِ غم:
پیرزادہ سید شاہ ابوذر حسنات حسینی قادری ابدالی المعروف شیرازی
سجادہ نشین خانقاہ قادریہ گنج الغوث، سہسرام

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!