بد مذہبوں سے رشتے اور شرعی احکام

بد مذہبوں سے رشتے اور شرعی احکام
عنوان: بد مذہبوں سے رشتے اور شرعی احکام
تحریر: محمد آزاد رضوی الطیبی

bold">لَكَ الْحَمْدُ يَا الله، وَ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ الله

تمہید: انسان اور اس کی شرعی اقسام

اسلامی عقائد و شریعت کی روشنی میں انسانوں کی بنیادی تقسیم اور ان کے عقائد کے احوال کو جاننا ہر مسلمان کے لیے ایمان کی حفاظت کے خاطر نہایت ضروری ہے۔ انسان کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں: مسلمان اور کافر۔

۱. کافر کی قسمیں

کافر کی دو قسمیں ہیں:

کافرِ اصلی: وہ کافر جو شروع ہی سے کلمۂ اسلام کو نہ مانتا ہو، جیسے دہر یہ، مجوسی، مشرک اور یہود و نصاریٰ وغیرہ۔

کافرِ مرتد: اس کی بھی دو قسمیں ہیں:
  – مرتدِ مجاہر: وہ کافر جو پہلے مسلمان تھا پھر کھلم کھلا اسلام سے پھر گیا اور کلمہ لَا إِلٰهَ إِلَّا الله کا انکار کر کے دہر یہ، مشرک، مجوسی یا کتابی وغیرہ کچھ بھی ہو گیا۔
  – مرتدِ منافق: وہ کافر جو کلمہ لَا إِلٰهَ إِلَّا الله اب بھی پڑھتا ہے، اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتا ہے مگر خداوندِ قدوس، حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یا کسی نبی کی توہین کرتا ہے یا دیگر ضروریاتِ دین میں سے کسی بات کا انکار کرتا ہے۔ کافروں میں سب سے برا یہی مرتدِ منافق ہے کہ مسلمان بن کر کفر سکھاتا ہے اور اللہ و رسول جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے۔ الْعِيَاذُ بِاللهِ تَعَالٰی

۲. مسلمان کی قسمیں

مسلمان کی بھی دو قسمیں ہیں:

صحیح مسلمان: وہ ہے جو ضروریاتِ دین کو تسلیم کرنے کے ساتھ تمام ضروریاتِ اہل سنت کو بھی مانتا ہو۔

گمراہ مسلمان (بد مذہب): وہ بد مذہب ہے جو ضروریاتِ اہل سنت میں سے کسی بات کا انکار کرتا ہو مگر اس کی بد مذہبی حدِ کفر کو نہ پہنچی ہو۔

بد مذہب اور مرتد کی پہچان اور ان کے گروہ

رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آخری زمانہ میں پیدا ہونے والے مکار اور فریب کار گروہوں کے بارے میں پہلے ہی خبردار فرما دیا تھا:

«يَكُوْنُ فِيْ آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُوْنَ كَذَّابُوْنَ يَأْتُوْنَكُمْ مِّنَ الْأَحَادِيْثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوْا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ لَا يُضِلُّوْنَكُمْ وَلَا يَفْتِنُوْنَكُمْ»
(آخری زمانہ میں کچھ لوگ فریب دینے والے اور جھوٹ بولنے والے ہوں گے۔ وہ تمہارے سامنے ایسی باتیں لائیں گے جن کو نہ تم نے کبھی سنا ہوگا نہ تمہارے باپ دادا نے۔ تو ایسے لوگوں سے بچو اور انہیں اپنے قریب نہ آنے دو تاکہ وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور نہ فتنے میں ڈالیں۔ - مسلم، مشکوٰۃ ص ۲۸)

حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اشعۃ اللمعات (جلد ۱ ص ۱۳۳) میں اس کی شرح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ باطل جماعتیں ہیں جو مکر و فریب سے علماء، مشائخ اور صلحا کا روپ دھار کر عام مسلمانوں کے سامنے خیر خواہ بنیں گی تاکہ اپنا باطل مذہب اور فاسد خیالات پھیلا سکیں۔

موجودہ زمانہ کے چند گمراہ و باطل گروہ

۱. چکڑالوی (اہلِ قرآن): یہ گروہ کھلم کھلا تمام احادیثِ کریمہ کا انکار کرتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ﴾ (پارہ ۵، سورة النساء: ۵۹)۔

۲. قادیانی: یہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرے نبی کا پیدا ہونا جائز ٹھہراتے ہیں، حالانکہ قرآن فرماتا ہے: ﴿وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ﴾ (سورة الأحزاب: ۴۰) اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اَنَا خَاتَمُ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ» (مشکوۃ ص ۴۶۵)۔

۳. رافضی (شیعہ): یہ گروہ افضل البشر بعد الانبیاء حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا کہتا ہے، حالانکہ قرآن کریم کا ارشاد ہے: ﴿وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى﴾ (سورة الحديد: ۱۰) اور ﴿رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ﴾ (سورة التوبة: ۱۰۰)۔

۴. وہابی / دیوبندی اور ان کی شاخیں:
دیوبندی عقائد: یہ گروہ خاتمیتِ محمدی کا غلط مطلب بیان کرتا ہے (تحذیر الناس ص ۳، ۲۸)، علمِ مصطفیٰ کو معاذ اللہ حیوانات کے برابر یا شیطان و ملک الموت کے علم سے کم بتاتا ہے (حفظ الایمان ص ۸، براہینِ قاطعہ ص ۵۱)، اور حضور کے مٹی میں ملنے کا عقیدہ رکھتا ہے (تقویۃ الایمان ص ۹۲)۔ اسی بنا پر حرمین شریفین، ہند، پاک، برما و بنگلہ دیش کے علماء نے فتاویٰ حسام الحرمین اور الصوارم الہندیہ میں ان پر فتویٰ جاری کیا۔
وہابی غیر مقلد (اہلِ حدیث): یہ ائمہ دین (حضرت امام اعظم و شافعی) اور جلیل القدر اولیائے کرام (غوثِ اعظم، خواجہ غریب نواز، نظام الدین اولیاء، مجدد الف ثانی، شیخ عبد الحق محدث دہلوی وغیرہ) کو گمراہ کہتے ہیں۔
تبلیغی جماعت: یہ عوام کو دھوکہ دینے کے لیے صرف کلمہ و نماز کا نام لیتے ہیں اور آہستہ آہستہ انہیں گستاخ بنا دیتے ہیں۔
مودودی جماعت (جماعتِ اسلامی): اس کے بانی ابو الاعلیٰ مودودی نے تمام انبیاء کرام (حضرت نوح، یوسف، موسیٰ، داؤد، یونس اور سید الانبیاء علیہم السلام) کی شان میں اور جلیل القدر صحابہ (حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، خالد بن ولید، امیر معاویہ رضی اللہ عنہم) کی ذات پر توہین آمیز الزامات لگائے ہیں۔

بد مذہبوں کے متعلق احادیثِ کریمہ کے احکام

وہ مسلمان جو بد مذہب ہیں ان کے بارے میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے درج ذیل احکام ہیں:

۱. ترش روئی کا حکم:
«إِذَا رَأَيْتُمُ صَاحِبَ بِدْعَةٍ فَاقْفَهُرُّوْا فِي وَجْهِهِ فَإِنَّ اللهَ يُبْغِضُ كُلَّ مُبْتَدِعٍ»
(جب تم کسی بد مذہب کو دیکھو تو اس کے سامنے ترش روئی سے پیش آؤ۔ اس لیے کہ خدائے تعالیٰ ہر بد مذہب کو دشمن رکھتا ہے۔ - کنز العمال ج ۱ ص ۳۸۸)

۲. عبادات کی عدمِ قبولیت:
«لَا يَقْبَلُ اللهُ لِصَاحِبِ بِدْعَةٍ صَوْمًا وَلَا صَلَاةً وَلَا صَدَقَةً وَلَا حَجًّا وَلَا عُمْرَةً وَلَا جِهَادًا وَلَا صَرْفًا وَلَا عَدْلًا يَخْرُجُ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا تَخْرُجُ الشَّعْرَةُ مِنَ الْعَجِيْنِ»
(خدائے تعالیٰ بد مذہب کا نہ روزہ قبول کرتا ہے، نہ نماز، نہ زکاۃ، نہ حج، نہ عمرہ، نہ جہاد اور نہ کوئی نفل نہ فرض۔ بد مذہب دین سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے آٹے سے بال نکل جاتا ہے۔ - ابن ماجہ ج ۱ ص ۶)

۳. دوزخیوں کے کتے:
«أَهْلُ الْبِدَعِ كِلَابُ أَهْلِ النَّارِ»
(بد مذہب دوزخ والوں کے کتے ہیں۔ - کنز العمال ج ۱ ص ۲۲۳)

۴. توقیر و تعظیم کی ممانعت:
«مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَةٍ فَقَدْ أَعَانَ عَلَى هَدْمِ الْإِسْلَامِ»
(جس نے کسی بد مذہب کی عزت کی تو اس نے اسلام کے ڈھانے پر مدد کی۔ - مشکوۃ ص ۳۱)
محقق علی الاطلاق شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: در توقیر وی استخفاف و استہانت سنت است و ایں می کشد بویران کردن بنائے اسلام یعنی بد مذہب کی عزت کرنے میں سنت کی حقارت ہے جو اسلام کی بنیاد ڈھانے تک پہنچا دیتی ہے (اشعۃ اللمعات ج ۱ ص ۱۷)۔

۵. مکمل معاشرتی و مذہبی بائیکاٹ:
«إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ وَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَلَا تُسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ وَلَا تُجَالِسُوهُمْ وَلَا تُشَارِبُوهُمْ وَلَا تُوَاكِلُوهُمْ وَلَا تُنَاكِحُوهُمْ وَلَا تُصَلُّوا عَلَيْهِمْ وَلَا تُصَلُّوا مَعَهُمْ»
(بد مذہب اگر بیمار پڑیں تو عیادت نہ کرو، مر جائیں تو جنازہ میں شریک نہ ہو، ملاقات ہو تو سلام نہ کرو، ان کے پاس نہ بیٹھو، ان کے ساتھ پانی نہ پیو، کھانا نہ کھاؤ، شادی بیاہ نہ کرو، ان کے جنازہ کی نماز نہ پڑھو اور نہ ان کے ساتھ نماز پڑھو۔ - ابن ماجہ ج ۱ ص ۱۰، کنز العمال ج ۱۱ ص ۵۳۰)

خلاصہ احادیث:
بد مذہب سارے مسلمانوں میں سب سے برے ہیں۔ ان کے ساتھ خوش اخلاقی جائز نہیں۔ ان کا ہر طرح سے اسلامی بائیکاٹ کیا جائے گا اور مذہبی یا نكاحی تعلقات رکھنا حرام ہے۔

ظاہری عبادات اور خاندانی نام کی غلط فہمی کا ازالہ

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جو مسلمان کے گھر پیدا ہوا اور اس کا نام مسلمانوں جیسا ہے، وہ اللہ و رسول کی شان میں کچھ بھی کہے کافر نہیں ہوگا—یہ بہت بڑی جہالت و غلط فہمی ہے۔

سورة التوبة (آیت ۷۴): منافقین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کی اور قسمیں کھائیں کہ انہوں نے نہیں کہا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ﴾
(اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا، حالانکہ انہوں نے کفر کی بات کہی اور اسلام میں آنے کے بعد کافر ہو گئے۔)

سورة التوبة (آیت ۶۵، ۶۶): جنگل میں اونٹنی والے واقعے پر جب کسی نے ہنسی مذاق میں استہزاء کیا تو آیت نازل ہوئی:
﴿قُلْ أَبَاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ﴾
(تم فرما دو کیا اللہ، اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ٹھٹھا کرتے تھے؟ بہانے نہ بناؤ، اپنے ایمان کے بعد تم کافر ہو گئے۔)

مانعینِ زکاۃ کا واقعہ: حضور کے وصال کے بعد جن لوگوں نے نماز و کلمہ پڑھا مگر زکاۃ کا انکار کیا، شیخ عبد الحق محدث دہلوی کے مطابق وہ ارتداد کی راہ پر گئے (اشعۃ اللمعات ج ۱ ص ۸۳)۔

خوارج کی نمازیں اور تلاوت: حضرت ابو سعید خدری و انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالخویصرہ تمیمی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں فرمایا:
«يَحْقِرُ اَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصِیَامَهُ مَعَ صِیَامِهِمْ... یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّیْنِ كَمَا یَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِیَّةِ»
(ان کی نمازوں اور روزوں کو دیکھ کر تم اپنی نمازوں اور روزوں کو حقیر سمجھو گے۔ وہ قرآن پڑھیں گے مگر ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ - بخاری ج ۱ ص ۵۰۹، مشکوۃ ص ۳۰۸)

ان تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ کلمہ، نماز اور تلاوتِ قرآن، تعظیمِ مصطفیٰ کے بغیر انسان کو کافر و مرتد ہونے سے نہیں بچا سکتے۔

مرتد کا حکم اور موجودہ دور میں مسلمانوں کی ذمہ داری

حاکمِ اسلام کا حکم: جو کھلم کھلا اسلام سے پھر جائے اسے حاکمِ اسلام تین دن کی مہلت دے کر توبہ کا موقع دے گا، ورنہ قتل کر دے گا (درمختار مع شامی ج ۳ ص ۲۸۶)۔

گستاخِ رسول کی توبہ: اگر کوئی شخص نبی کی توہین کر کے مرتد ہوا ہو، تو بادشاہِ اسلام کے نزدیک اس کی توبہ قبول نہیں (یعنی سزا معاف نہیں ہوگی)، جیسا کہ حضرت صدر الشریعہ نے بہارِ شریعت (ج ۹ ص ۱۷۷) میں تحریر فرمایا۔

موجودہ صورتِ حال میں مسلمانوں کا فرض:
چونکہ گستاخ کو سزا دینا بادشاہِ اسلام کا کام ہے اور موجودہ دور میں یہ نظام میسر نہیں، اس لیے عام مسلمانوں پر لازمی و فرض ہے کہ:
۱. ایسے لوگوں کا مکمل مذہبی و معاشرتی بائیکاٹ کریں۔
۲. ان کا ذبیحہ نہ کھائیں۔
۳. ان کے ساتھ شادی بیاہ اور رشتے ناطے نہ کریں۔
۴. ان کی نمازِ جنازہ نہ پڑھیں اور نہ انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے دیں۔

خاتمہ

تمام احادیثِ مبارکہ اور فقہی نصوص کا حاصل یہی ہے کہ عقیدے کی صحت اور اللہ و رسول جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم ہی اصلِ ایمان ہے۔ جو لوگ زبان سے کلمہ پڑھنے کے باوجود توہین و گمراہی کے مرتکب ہوتے ہیں، ان سے دور رہنا اور تمام مذہبی تعلقات منقطع کرنا ہر مومن پر واجب ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!