سوانحِ حیات و علمی خدمات: حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ

سوانحِ حیات و علمی خدمات: حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ
عنوان: سوانحِ حیات و علمی خدمات: حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ
تحریر: محمد آزاد رضوی الطیبی

نام و نسب

آپ رحمة اللہ علیہ کا نام مبارک "احمد" اور کنیت "ابو عبد اللہ" ہے۔ سلسلۂ نسب کچھ اس طرح ہے:
احمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن اسد بن ادریس بن عبد الله بن انس بن عوف بن قاسط بن مازن بن شیبان بن ذهل بن ثعلبہ بن عکابہ بن صعب بن علی بن بکر بن وائل بن قاسط بن هنب بن افصیٰ بن دعمی بن جدیلہ بن اسد بن ربیعہ بن نزار بن معد بن عدنان الشیبانی المروزی الاصيل رحمة اللہ علیہ۔
اس نسبت کی وجہ سے آپ رحمة اللہ علیہ اپنے نام کے ساتھ شیبانی لکھتے تھے۔

ولادتِ با سعادت

حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ کے آباؤ اجداد "مرو" سے "بغداد شریف" تشریف لائے تھے۔ آپ رحمة اللہ علیہ کی ولادتِ با سعادت بغداد شریف میں ہی ربیع الاول ۱۶۴ھ (مطابق نومبر ۷۸۰ء) میں ہوئی۔

تعلیم اور علم و عمل

آپ رحمة اللہ علیہ کی تعلیم کا سلسلہ بچپن ہی سے شروع ہو گیا تھا:

حفظِ قرآن: صرف ۴ سال کی عمر میں ہی قرآن پاک حفظ کر لیا۔
حدیث کی تعلیم: ۷ سال کی عمر میں باقاعدہ حدیث پڑھنا شروع کی اور تقریباً ۱۵ سال کی عمر میں باقاعدہ علمِ حدیث کی طلب میں مصروف ہو گئے اور اپنے استاد سے ۳ ہزار سے زائد حدیثیں پڑھیں۔
علمی اسفار: ایک عرصہ تک آپ بغداد شریف میں ہی رہ کر وہاں کے مشائخِ کرام سے استفادہ کرتے رہے، اس کے بعد دینِ اسلام کے مشہور و معروف مراکز مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، کوفہ، بصرہ، یمن، شام اور عراق وغیرہ کا رخ کیا۔
فقہ و عمل: آپ رحمة اللہ علیہ نے فقہ اور اصولِ فقہ کی تعلیم ۱۹۸ھ میں شروع کی۔ آپ رحمة اللہ علیہ جس حدیث کو لکھتے، اس پر باقاعدہ عمل بھی کرتے تھے۔

اساتذۂ کرام

آپ کے اساتذۂ کرام کی فہرست بہت طویل ہے، جن میں سے نمایاں شخصیات درج ذیل ہیں:

حضرت امام ابو یوسف قاضی القضاۃ (شاگردِ رشید حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ)
حضرت امام شافعی رحمة اللہ علیہ (آپ نے فقہ کے علاوہ حدیث اور انساب کا علم بھی ان ہی سے حاصل کیا)
امام سفیان بن عیینہ رحمة اللہ علیہ
سلیمان بن داؤد طیالسی رحمة اللہ علیہ
عبد الرحمن بن مہدی رحمة اللہ علیہ
عبد اللہ بن نمیر رحمة اللہ علیہ
وکیع بن جراح رحمة اللہ علیہ
یحییٰ بن سعید رحمة اللہ علیہ

آپ رحمة اللہ علیہ اپنے استادوں کا اس حد تک احترام کرتے کہ آپ نے ۳۰ سال تک ہر نماز کے بعد اپنے استاد امام شافعی رحمة اللہ علیہ کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔

تلامذہ (شاگرد)

آپ رحمة اللہ علیہ کے تلامذہ کے مختلف طبقات ہیں:

۱. اساتذہ بطور شاگرد: آپ کے اساتذہ نے بھی بہت سے امور و مسائل میں آپ سے استفادہ کیا، جن میں حسن بن موسیٰ، زیاد بن ایوب، عبد الرحمن بن مہدی، عبد الرزاق بن ہمام، امام شافعی، وکیع بن جراح، یحییٰ بن آدم اور یزید بن ہارون رحمہم اللہ شامل ہیں۔
۲. ہم عصر: آپ کے ہم عصر بھی آپ کے چشمۂ علمی سے سیراب ہوتے رہے۔ ان میں احمد بن ابی الحواری، حسین بن منصور، عبد الرحمن بن ابراہیم، عبید الله بن سعید سرخسی، علی بن عبد الله مدینی، محمد بن رافع قشیری اور یحییٰ بن معین رحمة اللہ علیہ شامل ہیں۔
۳. اعزہ و اقرباء: آپ کے چچیرے بھائی حنبل بن اسحاق اور صاحبزادگان صالح اور عبد الله کو آپ سے روایت کا فخر حاصل ہے۔
۴. صحاحِ ستہ کے مصنفین: امام بخاری، امام مسلم اور امام ابو داؤد (بلا واسطہ) جبکہ امام ترمذی، امام نسائی اور امام ابن ماجہ (بالواسطہ) آپ کے شاگرد ہیں۔

عام تلامذہ کی تعداد جن میں سے اکثر اپنے وقت کے امام مانے جاتے تھے، وہ شمار سے باہر ہیں۔

فضل و کمال اور اوصافِ حمیدہ

آپ رحمة اللہ علیہ بڑے بلند پایہ محدث اور ان تمام اوصاف و کمالات سے متصف تھے جو ایک امامِ حدیث میں ہونے چاہئیں:

حفظ و یادداشت: ۴ سال کی عمر میں حفظِ قرآن کے علاوہ مؤرخین کے مطابق آپ کو ۱۲ ٹھروؤں کے بقدر کتابیں زبانی یاد تھیں۔
عدالت و نقد: آپ کی توثیق، عدالت اور ثقاہت پر ائمۂ فن کا اتفاق ہے، اور آپ روایات کے امتیاز پر پورا ملکہ رکھتے تھے۔
مسندِ تدریس: چالیس سال کی عمر میں درس و تدریس کی مسند پر رونق افروز ہوئے اور آپ کے حلقۂ درس میں ۵-۵ ہزار افراد شریک ہوتے تھے۔
عبادت و زہد: نوافل کا کثرت سے اہتمام فرماتے اور ہر ۷ دن میں ایک مرتبہ قرآنِ پاک مکمل کرتے۔ ۵ مرتبہ حج کی سعادت حاصل کی۔
اخلاق و کردار: غربت کے باوجود فیاض، انتہائی متواضع، منکسر المزاج اور خود دار تھے۔ خدمتِ حدیث، تائیدِ سنت اور ابطالِ بدعات آپ کی زندگی کا مشن تھا۔

تصانیف

آپ رحمة اللہ علیہ نے دینِ اسلام کی عظیم علمی خدمت کرتے ہوئے متعدد کتب تصنیف فرمائیں:

۱. کتاب المسند
۲. کتاب طاعة الرسول
۳. کتاب الصلوۃ وما يلزم لها
۴. کتاب العلل
۵. کتاب الفرائض
۶. کتاب التفسیر
۷. کتاب الناسخ والمنسوخ
۸. کتاب الزہد
۹. کتاب الایمان
۱۰. کتاب الاشربہ
۱۱. کتاب المسائل
۱۲. کتاب الفضائل
۱۳. کتاب المناسک
۱۴. کتاب الرد علی الجہمیہ
۱۵. کتاب التاريخ
۱۶. کتاب الحديث فقیہ
۱۷. کتاب المقدم والمؤخر فی القرآن
۱۸. کتاب جوابات القرآن
۱۹. کتاب المناسک الکبیر
۲۰. کتاب المناسک الصغیر

ابتلاء اور خلقِ قرآن کی آزمائش

۲۱۸ھ (مطابق ۸۳۳ء) میں عباسی خلیفہ مامون الرشید کے دور میں فتنے نے سر اٹھایا تو آپ رحمة اللہ علیہ اس کی مخالفت میں پیش پیش رہے۔

خلیفہ عوام اور علماء سے بزورِ شمشیر یہ منوانا چاہتا تھا کہ "قرآن اللہ کی مخلوق ہے"، جبکہ امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ اور دیگر علمائے حق اس موقف پر قائم تھے کہ "قرآن اللہ کا کلام ہے"۔

اس پاداش میں آپ کو بیڑیاں ڈال کر قید خانے میں ڈال دیا گیا۔ مامون کے بعد معتصم خلیفہ بنا تو اس نے بھی آپ پر ظلم ڈھائے اور بے دردی کے ساتھ اسی (۸۰) کوڑے لگوائے، لیکن یہ ظلم بھی آپ کی استقامت کو متزلزل نہ کر سکا۔ بالآخر آپ کو رہا کر دیا گیا، تاہم اس سخت آزمائش کے بعد آپ مسلسل نحیف و کمزور رہے۔

وصالِ مبارک

۲ ربیع الاول کو آپ شدید بخار میں مبتلا ہوئے اور مسلسل علالت کے بعد ۱۲ ربیع الاول ۲۴۱ھ (مطابق ۳۱ جولائی ۸۵۵ء) کو بروز جمعۃ المبارک ۷۷ سال کی عمر میں وصال فرما گئے۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ۔

اتباعِ سنت کا جذبہ: بسترِ مرگ پر زبان سے بول نہیں سکتے تھے، موت سے پہلے وضو کرایا گیا تو انگلیوں کا خلال سہو سے رہ گیا۔ آپ نے فوراً اشارہ فرمایا اور جب تک یہ سنت ادا نہیں ہو گئی، آپ کو سکون نہ آیا۔

جنازے کا منظر:
• آپ کے جنازے میں ۱۰ لاکھ مرد اور ۶۰ ہزار عورتیں شریک تھیں۔ خلیفہ متوکل کے پیمائش کرانے پر حاضرین کی تعداد ۲۵ لاکھ تک پہنچتی ہے۔
• احمد بن الحسن المئدب کے مطابق دنیا کا کوئی ولی اللہ ایسا نہیں تھا جو آپ کے جنازے میں شریک نہ ہوا ہو۔
• آپ کا جنازہ دیکھ کر ۲۰ ہزار یہود، نصاریٰ اور مجوسی اسلام لے آئے۔
• نمازِ جنازہ محمد بن عبد الله بن طاہر نے پڑھائی اور آپ کو "بابِ حرب" کے مقبرہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔
کرامت: انتقال کے ۲۳۰ سال بعد جب پہلو میں قبر کھودی گئی تو آپ کا کفن صحیح و سالم تھا اور جسمِ مبارک میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوا تھا۔

تدفین کے بعد بھی کئی روز تک نمازِ جنازہ کا سلسلہ جاری رہا۔ امام رزاق رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اسلام اور دورِ جاہلیت کے کسی زمانے میں اتنا بڑا جنازہ نہیں ہوا۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!