| عنوان: | سیرت و سوانح امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد آزاد رضوی الطیبی |
نام، کنیت، اور اسمِ گرامی
فقہِ اسلامی کے عظیم پیشوا کا نامِ نامی نعمان، کنیت ابو حنیفہ اور لقب امامِ اعظم ہے۔ آپ کا نسبی نام نعمان بن ثابت بن نعمان بن مرزبان بیان کیا جاتا ہے۔
پیدائش اور خاندانی پس منظر
مشہور اور معتبر روایات کے مطابق امامِ اعظم رحمہ اللہ کی ولادتِ با سعادت 80 ہجری میں کوفہ میں ہوئی۔
آپ کے خاندانی پس منظر کے بارے میں تاریخ میں روایات ملتی ہیں کہ آپ کے والدِ گرامی ثابت بن زوطی فارسی النسل تھے، اسی نسبت سے امام صاحب کا تعلق ایران سے ہے۔ آپ کے دادا کا تعلق کابل سے تھا، جو ان علاقوں کی فتح کے بعد کوفہ تشریف لائے اور بنی تیم بن ثعلبہ کے ایک خاندان سے وابستہ ہو گئے اور بعد ازاں آزاد ہونے پر نسبتاً 'تیمی' کہلائے (اس روایت کو امامِ اعظم کے پوتے عمر بن حماد بن حنیفہ بیان کرتے ہیں)۔ تاہم، ان کے بھائی اسماعیل کا بیان ہے کہ ہمارا خاندان کبھی غلامی کے زیرِ اثر نہیں رہا۔
تاریخی کتب میں مذکور ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے امامِ اعظم کے والدِ گرامی اور ان کی نسل کے لیے خیر و برکت کی بالخصوص دعا فرمائی تھی۔ اس بابرکت واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا کے وقت آپ کے والد صاحب مسلمان تھے اور امام صاحب کی پرورش و تربیت ایک پاکیزہ اسلامی گھرانے میں ہوئی۔ تمام علمائے کرام اس پر متفق ہیں۔
صحابیات و صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ملاقات (مقامِ تابعی)
امامِ اعظم رحمہ اللہ کو یہ عظیم الشان مقام حاصل ہے کہ آپ "تابعی" ہیں، یعنی آپ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زیارت کی اور ان سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔ 80 ہجری کے بعد زندہ رہنے والے جن جلیل القدر صحابہ سے آپ کی ملاقات کا ذکر ملتا ہے، ان میں درج ذیل اسمائے گرامی نمایاں ہیں:
• حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ (متوفی 93 ہجری)
• حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ (متوفی 87 ہجری)
• حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ (متوفی 85 ہجری)
• حضرت ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ (متوفی 102 ہجری)
• حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ (متوفی 88 ہجری)
تحصیلِ علم اور فقہی مقام
امامِ اعظم رحمہ اللہ کے علمی مراتب کا اندازہ اس تاریخی مکالمے سے ہوتا ہے جب خلیفہ منصور نے آپ سے پوچھا کہ آپ نے علم کن مبارک ہستیوں سے حاصل کیا؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا:
"میں نے حضرت عمر، حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کے تلامذہ اور اصحاب سے علم حاصل کیا ہے، اور میں نے اپنے دور میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بڑا عالم روئے زمین پر نہیں دیکھا۔"
یہ سن کر منصور نے کہا: "اے امام! آپ کے علم و فضل کا کیا کہنا!"
امام محمد باقر رحمہ اللہ سے پہلی ملاقات کا علمی واقعہ
مدینہ منورہ میں جب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی امام محمد باقر رحمہ اللہ سے پہلی ملاقات ہوئی، تو امام صاحب ابھی نوجوان تھے لیکن اپنی فہم و فراست اور قیاس کی وجہ سے مشہور ہو چکے تھے۔ ملاقات کے وقت امام محمد باقر رحمہ اللہ نے فرمایا:
"سنا ہے تم نے میرے آباؤ اجداد، یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دین اور احادیثِ مبارکہ کو اپنی رائے اور قیاس سے بدل دیا ہے؟"
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے ادب سے عرض کیا:
"معاذ اللہ! مجھ میں یہ جرات کہاں!"
پھر امامِ اعظم رحمہ اللہ نے التماس کی:
"آپ اپنے مقامِ عزت پر تشریف رکھیں اور میں آپ کے سامنے ایک شاگرد کی طرح بیٹھتا ہوں۔ میرے دل میں آپ کا وہی احترام ہے جو صحابہ کرام کے دلوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا تھا اور ہے۔"
جب امام باقر رحمہ اللہ تشریف فرما ہو گئے، تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے مودبانہ انداز میں تین سوالات پیش کیے:
۱) وراثت کا مسئلہ:
امام ابو حنیفہ: "مرد کمزور ہے یا عورت؟"
امام باقر: "عورت زیادہ کمزور ہے۔"
امام ابو حنیفہ: "وراثت میں عورت اور مرد کا حصہ کیا ہے؟"
امام باقر: "عورت کا ایک حصہ اور مرد کے دو حصے ہیں۔"
امام ابو حنیفہ: "یہ آپ کے آباؤ اجداد کا شرعی حکم ہے۔ اگر میں قیاس سے کام لیتا تو تقاضہ یہ تھا کہ کمزور ہونے کی وجہ سے عورت کو دو حصے دیے جاتے اور مرد کو ایک حصہ۔"
۲) نماز اور روزے کا مسئلہ:
امام ابو حنیفہ: "نماز افضل ہے یا روزہ؟"
امام باقر: "نماز افضل ہے۔"
امام ابو حنیفہ: "اگر میں قیاس کے ذریعے دین بدلتا، تو حکم دیتا کہ ایام سے پاک ہونے کے بعد عورت پر نماز کی قضا لازم ہے روزے کی نہیں، لیکن میں شریعت کے تابع ہوں۔"
۳) طہارت کا مسئلہ:
امام ابو حنیفہ: "پیشاب زیادہ ناپاک ہے یا نطفہ؟"
امام باقر: "پیشاب۔"
امام ابو حنیفہ: "اگر دین میں قیاس کو دخل ہوتا، تو میں حکم دیتا کہ پیشاب کے بعد غسل واجب ہو اور نطفے پر صرف وضو۔ معاذ اللہ! یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اپنی رائے سے آپ کے جدِ امجد کے دین میں تبدیلی کروں؟"
اس علمی جواب سے امام محمد باقر رحمہ اللہ بے حد مسرور ہوئے۔ انہوں نے فوراً اٹھ کر امامِ اعظم رحمہ اللہ کو گلے سے لگایا، آپ کے چہرے پر بوسہ دیا اور احترام کے ساتھ اپنے پاس بٹھا لیا۔
تلامذہ سے شفقت و محبت
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اپنے شاگردوں کو صرف تلامذہ نہیں بلکہ اپنے بہترین دوست اور اصحابِ نظر سمجھتے تھے اور ان پر اپنی جان سے زیادہ شفقت فرماتے تھے۔ آپ اکثر ان سے فرماتے:
"تم میرے دکھ کی دوا اور میرے دل کی خوشی ہو۔"
علمی تصنیفات و کارنامے اور وصال
امامِ اعظم رحمہ اللہ نے امتِ مسلمہ کی رہنمائی کے لیے متعدد عظیم الشان کتب تحریر فرمائیں، جن میں سے ایک "الفقه الأكبر" ہے۔
تمام علمی و دینی خدمات سرانجام دینے کے بعد، امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا وصال 150 ہجری میں دارالسلام بغداد میں ہوا space۔ آپ کے جنازے میں اس قدر بے پناہ ہجوم تھا کہ نمازِ جنازہ 5 مرتبہ پڑھائی گئی۔ آخری مرتبہ جنازے کی امامت آپ کے صاحبزادے حضرت حماد رحمہ اللہ نے فرمائی۔
آپ کو قاضی القضا حسن بن عمارہ نے غسل دیا اور بوقتِ غسل ترحم کے بعد فرمایا:
"خدا کی رحمت ہو آپ پر! آپ نے 30 برس مسلسل روزے رکھے اور 40 برس تک رات کو سوئے نہیں (شب بیداری کی)۔"
