| عنوان: | شیخ العلماء علی الاطلاق اور شیخ المشائخ شعیب الاولیاء |
|---|---|
| تحریر: | سمیر احمد فیضی ازہری |
ضلع اعظم گڑھ کا مردم خیز علاقہ جس طرح ماضی میں علم و ادب کا محور و مرکز رہا ہے جہاں عظیم شاعر، ادیب، فقیہ، محدث، مفسر، فلسفی اور مؤرخ، غرضیکہ جملہ علوم و فنون پر دستگاہ رکھنے والے لوگ پیدا ہوئے ہیں؛ موجودہ علمی زوال کے دور میں بھی اس خاک سے علم و فن اور فضل و کمال کے آفتاب و ماہتاب طلوع ہو کر دنیائے علم و فضل کو روشنی بخش رہے ہیں، جس کی ترجمانی اقبال سہیل نے مشہور شعر میں کی ہے:
اس خطۂ اعظم گڑھ پہ فیضانِ تجلی ہے مگر
جو ذرہ یہاں سے اٹھتا ہے وہ نیرِ اعظم ہوتا ہے
اسی اعظم گڑھ کا ایک قدیم گہوارۂ علم و فن قصبہ گھوسی بھی ہے جس کی علمی تاریخ قدیم ہے۔ زمانۂ دراز سے آج تک کوئی ایسا دور نہیں گزرا جو اصحابِ علم و فن سے خالی رہا ہو۔ انیسویں صدی عیسوی کے ربعِ آخر سے لے کر موجودہ صدی تک کا زمانہ خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہے۔ قصبہ گھوسی کا ایک چھوٹا سا محلہ "کریم الدین پور" ہے جسے علمی دنیا میں اہم ترین حیثیت حاصل ہے۔ اس مختصر سی آبادی نے علماء و مشائخ کی ایک ایسی جماعت ہمیشہ پیدا کی ہے جو ہند و پاک کے طول و عرض میں علومِ اسلامیہ کی تدریس اور دینِ اسلام کی اشاعت و تبلیغ میں مصروف ہیں۔
انہیں علماء و مشائخ میں حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے وقت کے جلیل القدر عظیم المرتبت عالمِ دین شیخ العلماء علامہ غلام جیلانی صاحب قبلہ اعظمی نور اللہ مرقدہ (سابق شیخ الحدیث دار العلوم فیض الرسول، براؤں شریف) کی ذات تھی؛ کتاب و سنت کے دائرے میں جن حضرات کی حمد و ثنا کی جائے گی ان میں صدر الصدور، شیخ العلماء کی ذات نمایاں طور پر نظر آئے گی۔
تعلیمی و تدریسی سرگرمیاں
آپ کے والدِ ماجد حضرت مولانا محمد صدیق صاحب اعظمی رحمہ اللہ چونکہ آپ کے بچپن ہی میں وصال فرما گئے تھے، اس لیے آپ کا تعلیمی زمانہ عسرت و تنگدستی میں گزرا، اور آفریں ہے آپ کی ہمت پر کہ ہر مصیبت و غربت کو برداشت کر کے تحصیلِ علم میں مشغول ہو گئے۔
حضور شیخ العلماء نے فراغت حاصل کرنے کے بعد ہی تدریسی زندگی اختیار کر لی اور تا حیات ملک کے مختلف اداروں میں تعلیمی و تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔
بزبانِ شیخ العلماء سرکارِ براؤں شریف
صاحبِ تذکرہ بلند والا صفات کو مشرقی یوپی کی عظیم روحانی شخصیت شعیب الاولیاء کی سیرت و شخصیت کا براؤں شریف میں رہ کر مطالعہ کرنے کا کافی سنہرا موقع ملا تھا، جس میں آپ فرماتے ہیں کہ: "براؤں شریف کی حاضری سے پیشتر جب میں متقدمین اولیائے کرام میں سے کسی کی سوانح عمری کا مطالعہ کرتا اور ان کی کسی کرامت کو پڑھتا تو دل میں تمنا پیدا ہوتی کہ کاش میں اس زمانے میں کسی ایسے ہی صاحبِ کرامت بزرگ سے شرف حاصل کرتا! الحمد للہ و لوجہہ الکریم کہ براؤں شریف آنے کے بعد اور آپ کی کرامت دیکھنے اور سننے کے بعد یہ تمنا پوری ہو گئی۔"
شیخ العلماء علیہ الرحمۃ والرضوان کی براؤں شریف میں آمد
متعدد جگہ درس و تدریس کی خدمات انجام دینے کے بعد آپ خود فرماتے ہیں کہ شعیب الاولیاء خواجہ صوفی شاہ محمد یار علی رضی اللہ عنہ کے ادارہ دار العلوم فیض الرسول، براؤں شریف سے میرے طلبی کے مراسلات جانے لگے، حتیٰ کہ وہاں کے مدرس مولوی محمد یونس نعیمی اشرفی مجھے لینے کے لیے بریلی شریف پہنچے اور مجھے براؤں شریف ساتھ میں لائے۔
۱۳۷۹ھ میں بحیثیت شیخ الحدیث میرا تقرر دار العلوم فیض الرسول میں بمشاہرہ ۱۲۵ روپے ہوا اور اب ۳۵۰ روپے ماہوار مجھے ملتے ہیں، تا ہنوز تدریسی خدمات انجام دے رہا ہوں۔ یہاں کے روحانی ماحول میں انتہائی سکون اور قلبی استراحت محسوس کرتا ہوں۔ حضرت شعیب الاولیاء کی بیکراں شفقت میرے قلب کی گہرائیوں میں جا گزیں ہو گئی ہے، ان کے وصال کے بعد ان کی ابدی آرام گاہ کا قرب میرے لیے سکونِ جان ہے۔
مزید آپ نے ارشاد فرمایا: "میں آپ کی ذات سے کافی متاثر ہوں، آپ کو شریعت و طریقت کا پابند پایا، آپ کا قول آپ کے عمل کے موافق تھا۔ ان کے یہاں تصوف میں کوئی ایسی منزل نہیں جو شریعتِ طاہرہ سے متصادم ہو۔ آپ دینی امور کے لیے تعلیم و تعلم کو مقدم سمجھتے تھے، اسی خیال کے پیشِ نظر آپ نے دار العلوم فیض الرسول کا قیام کیا۔ آپ وسیع النظر، فراخ دل اور غیر متعصب انسان تھے؛ ان کی یہ کوشش نہیں رہی کہ اس دار العلوم میں وہی علماء مدرس ہوں جو یار علوی ہوں۔ اس ادارے میں رضوی، اشرفی، نعیمی، امجدی مختلف روحانی خانوادے کے مدرسین ہیں، سب کے ساتھ آپ کا حسنِ سلوک برابر رہا اور علماءِ دین کا احترام بیش از بیش کرتے تھے۔"
آپ بحیثیت شیخ الحدیث دار العلوم فیض الرسول براؤں شریف میں مسلسل اپنی بیماریوں کی وجہ سے نحیف الجثہ اور نہایت کمزور تھے، مگر حیرت ہے کہ ضعیفی، بیماری اور لاغری کے باوجود مسلم الثبوت وغیرہ جیسی اہم کتابیں پڑھانے بیٹھتے تو معلوم ہوتا تھا کہ صحت مند جوان ہیں۔
رئیس التحریر علامہ ارشد القادری رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ شیخ العلماء علامہ غلام جیلانی اعظمی صاحب قبلہ نے مجھ سے بیان فرمایا: "مولانا! ان کتابوں کے پڑھانے میں جو لطف آتا ہے!" تفسیر و حدیث، فقہ و اصول، بیان و معانی، منطق و فلسفہ، فصاحت و بلاغت، تمام علومِ مروجہ و کتبِ متداولہ پڑھانے میں زندگی کے آخری ایام تک کامیاب رہے۔
آپ اپنے علمی و روحانی مشائخ و اسلاف کے سچے وارث تھے، علم و فن اور درس و حکمت میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے۔ بعض فنون میں تو انہیں اتنی عظیم مہارت حاصل تھی کہ وہ اپنے معاصرین و اقران پر فوقیت رکھتے تھے۔ ویسے تو ساری زندگی اپنے مسندِ تدریس سے علم و حکمت کے خزانے لٹاتے رہے اور دین کی خدمت میں مصروف رہے، لیکن ان کی عمر کا وہ حصہ جو براؤں شریف میں گزرا وہ بڑا ہی قابلِ رشک تھا۔ براؤں شریف میں دورانِ قیام وہ علم و دانش اور فقر و عشق کا سنگم بن گئے تھے؛ مقاماتِ سلوک و عرفان اتنی خاموشی اور سرعت کے ساتھ انہوں نے طے کیے کہ دیکھتے ہی دیکھتے کیا سے کیا ہو گئے۔
مجاہدِ سنیت حضرت خلیفہ صاحب قبلہ کا تاثر
سابق سجادہ نشین خانقاہِ فیض الرسول و ناظمِ اعلیٰ دار العلوم فیض الرسول براؤں شریف حضرت خلیفہ صاحب قبلہ (تغمدہ اللہ بغفرانہ) فرماتے ہیں:
"والدِ محترم کی وفات کے بعد ہم لوگوں کو اپنی یتیمی کا شدید احساس نہ تھا جیسا کہ حضرت شیخ العلماء علیہ الرحمۃ کی وفات کے بعد ہم محسوس کر رہے ہیں۔ والدِ محترم کے وصال کے بعد ہماری آنکھوں کے آنسو انہی کے آستین میں جذب ہوئے۔ حضرت شاہ صاحب کے سائے کے اٹھ جانے کے بعد حضرت شیخ العلماء ہی کی آغوشِ شفقت میں ہم نے اطمینان و سکون کا سانس لیا، کیونکہ آپ ہمارے ہر دکھ درد کا مداوا تھے۔ آہ! حضرت شیخ العلماء قبلہ علیہ الرحمہ! کون ہے جو ہماری پلکوں کا آنسو جذب کرے گا؟ اب کس کی آغوش میں ہم پناہ ڈھونڈیں گے؟ اب کون ہر موڑ پر اپنے مفید مشوروں سے ہماری رہنمائی کرے گا؟"
شیخ العلماء، سرکارِ شعیب الاولیاء کی نظر میں
شعیب الاولیاء حضرت شاہ صوفی یار علی بانیِ ادارہ دار العلوم فیض الرسول فرمایا کرتے تھے: "شیخ العلماء ہمارے لیے نعمت ہیں اور پورا ادارہ شیخ العلماء کا محتاج ہے، سب کو ان کی ضرورت ہے۔"
احاطۂ فیض الرسول اور دار العلوم سے کچھ ایسی محبت فرماتے تھے اور برملا اظہار فرماتے تھے کہ زندگی کے آخری سانس تک فیض الرسول کو نہ چھوڑوں گا؛ ضعف و نقاہت کے باعث اگر تدریسی خدمات کے لائق نہ بھی رہ گیا تب بھی سجادہ نشین حضرت خلیفہ صاحب سے اجازت لے کر فیض الرسول کے ایک گوشے میں زندگی کے آخری ایام بسر کروں گا، اور بشرطِ قسمت و اجازت احاطۂ فیض الرسول میں بانیِ ادارہ حضرت شاہ صاحب کے قریب دفن ہونے کو اپنے لیے معراجِ کمال سمجھوں گا۔
آپ کے وصال سے نہ صرف طلبہ یتیم ہو گئے ہیں بلکہ اساتذۂ فیض الرسول ایک ایسا خلا محسوس کر رہے ہیں کہ اب اساتذۂ فیض الرسول اپنا مسئلۂ لاینحل بلا جھجھک کس کے سامنے رکھ سکیں گے؟ ادارہ فیض الرسول کو دوسرا شیخ الحدیث تو ضرور مل جائے گا، مگر اساتذۂ فیض الرسول کو وہ علم کا بحرِ ناپیدا کنار کہاں مل سکے گا جس کے آگے زانوئے ادب وہ تہ کر سکیں!
شیخ العلماء علی الاطلاق جو نہ رہا
حق تو یہ ہے کہ آپ کے بارے میں شیخ المشائخ براؤں شریف کی فیض ترجمان زبان سے نکلا ہوا لقب "شیخ العلماء" حرف بہ حرف صحیح تھا اور وہ اپنے دور کے علی الاطلاق شیخ العلماء تھے۔ عربی ادب میں تو ہم عصروں میں کوئی ثانی ہی نہیں دکھائی دیتا۔
رونا تو اس بات کا ہے کہ دھیرے دھیرے ہمارے اکابرین اور ماہرینِ تعلیم اٹھتے جاتے ہیں اور ہمارے درمیان جو نئی پود آ رہی ہے اور ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں جو نئے علماء فارغ ہو رہے ہیں، ان کے اندر اتنی صلاحیت نہیں ہوتی کہ جانے والوں کی جگہوں کو پر کر سکیں، جس کی وجہ سے دینی مدارس اور ان کے ارکان کے لیے ایک مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ صورتِ حال انتہائی تشویشناک ہونے کے باوجود بھی میرے خیال میں ناممکن الحل نہیں ہے۔
اگر سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کثرتِ شہادت سے متاثر ہو کر تحفظِ قرآن کے لیے مضبوط پیش بندی اور مؤثر لائحہ عمل مرتب فرما کر "حفاظتِ قرآن" کے مسئلے پر قابو پا سکتے ہیں، تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ سیدنا صدیقِ اکبر کے متبع اور پیروکار ان کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس تعلیمی بحران پر قابو نہ پا سکیں؛ صرف جرأتِ رندانہ کی ضرورت ہے اور بس!
وصالِ پرملال
وصال کی تاریخ ۶ ربیع النور شریف ۱۳۹۷ھ یومِ جمعہ ہے۔ آپ کے عرس کی تقریب حسبِ دیرینہ ۶ ربیع النور شریف کو منعقد ہوتی ہے جس میں کثیر تعداد میں تلامذہ، محبین و متوسلین شرکت فرماتے ہیں۔
امسال بھی ۶ ربیع النور شریف (مطابق ۲۰ اکتوبر ۲۰۲۴ء) کو آپ کے آبائی وطن گھوسی کے قبرستان میں قبۂ صدر الشریعہ سے متصل نہایت ہی اعلیٰ پیمانے پر نبیرۂ حضرت شیخ العلماء، ماہرِ علم و فن مولانا حافظ و قاری محمد معین اختر جیلانی (سجادہ نشین آستانۂ شیخ العلماء و مؤقر استاد دار العلوم فیض الرسول براؤں شریف) کی صدارت میں ہونے جا رہا ہے؛ جس میں ملک و ملت کے نامور علماء و مشائخ و تلامذۂ حضور شیخ العلماء کے روح پرور بیانات کو سماعت کرنے کے لیے شرکت فرما کر جوق در جوق کثیر تعداد میں دارین کی سعادتوں سے مالا مال ہوں۔
