| عنوان: | میلادِ مصطفیٰ ﷺ — محبت، تعظیم اور سیرتِ طیبہ کا روشن پیغام (قسط ششم) |
|---|---|
| تحریر: | سرفراز احمد قادری امجدی |
میلادِ مصطفیٰ ﷺ اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں
میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا مہینہ ہمیں صرف خوشی منانے کا موقع نہیں دیتا بلکہ اپنے حالات کا جائزہ لینے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ ہم حضور ﷺ کی آمد کی خوشی مناتے ہیں لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ جس معاشرے میں ہم زندگی گزار رہے ہیں، کیا وہ حضور ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہے؟
اگر ہمارے گھروں میں ناچاقی ہے، اگر رشتہ دار ایک دوسرے سے قطع تعلق ہیں، اگر کاروبار میں دھوکا ہے، اگر جھوٹ عام ہے، اگر والدین بے سہارا ہیں، اگر پڑوسی محفوظ نہیں، اگر غریب بھوکا ہے، اگر یتیم بے سہارا ہے اور اگر نوجوان دین سے دور ہیں، تو ہمیں صرف محفل سجانے کے ساتھ اپنے معاشرے کی اصلاح کی طرف بھی توجہ دینی ہو گی۔
سیرتِ مصطفیٰ ﷺ معاشرے کی تعمیر کا مکمل نظام ہے
حضور اکرم ﷺ نے ایسا معاشرہ قائم فرمایا جس میں عدل، رحمت، اخوت، امانت، صداقت اور حقوق العباد کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ
ترجمہ: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
یہ صرف ایک فرد کے لیے نصیحت نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے اصول ہے۔ اگر ہم میلاد مناتے ہیں تو ہمیں اپنے دلوں میں رحم پیدا کرنا ہو گا، کسی بھوکے کو کھانا کھلانا ہو گا، کسی غریب کی مدد کرنی ہو گی، کسی یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنا ہو گا، کسی پریشان شخص کی پریشانی دور کرنی ہو گی اور کسی مقروض کے ساتھ نرمی کرنی ہو گی۔ یہ سب سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے عملی تقاضے ہیں۔
گھر کو سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا مرکز بنائیں
ہم میلاد کے موقع پر بڑے بڑے جلسے کرتے ہیں، لیکن اگر ہر گھر میں ہفتے میں ایک دن سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا مطالعہ شروع ہو جائے تو اس کے اثرات نسلوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
والدین اپنے بچوں کو حضور ﷺ کے بچپن کے واقعات سنائیں، آپ ﷺ کے اخلاق بتائیں، آپ ﷺ کی عبادت کا ذکر کریں، صحابہ کرام کی محبتِ رسول ﷺ کے واقعات سنائیں، بچوں کو درود شریف یاد کرائیں، نعتیں سکھائیں اور ساتھ یہ بھی سمجھائیں کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت کا مطلب سنت پر عمل کرنا ہے۔ اگر ہمارے گھر سیرت کے مراکز بن جائیں تو ہمارے معاشرے کی اصلاح خود بخود شروع ہو جائے گی۔
نوجوانوں کے لیے پیغام
آج ہمارے نوجوان مختلف فتنوں اور آزمائشوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا، بے مقصد تفریح، فحاشی، بے حیائی اور غلط صحبت ان کی شخصیت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ ایسے ماحول میں ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف ڈانٹنے کے بجائے انہیں محبتِ رسول ﷺ سے جوڑنا ہو گا۔
انہیں حضور ﷺ کی جوانی کے واقعات سنانے ہوں گے، بتانا ہو گا کہ ہمارے نبی ﷺ جوانی میں بھی پاکیزہ کردار کے مالک تھے، مکہ کے لوگ آپ ﷺ کو صادق اور امین کہتے تھے۔ آپ ﷺ کی زندگی پاکیزگی، حیا، امانت اور کردار کی روشن مثال تھی۔ اگر نوجوانوں کے دل میں حضور ﷺ کی محبت پیدا ہو جائے تو وہ خود اپنے کردار کی حفاظت کرنا شروع کر دیں گے۔
تاجر اور میلاد
میلاد کے موقع پر ہم حضور ﷺ کی صداقت و امانت کے واقعات بیان کرتے ہیں، لیکن کیا ہمارے بازار بھی اسی صداقت کی گواہی دیتے ہیں؟ کیا ہم ناپ تول میں کمی نہیں کرتے؟ کیا عیب دار چیز کو چھپا کر نہیں بیچتے؟ کیا جھوٹے دعوے نہیں کرتے؟ کیا قرض واپس کرنے میں ٹال مٹول نہیں کرتے؟
اگر ہم واقعی رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمارے کاروبار میں بھی مصطفوی اخلاق نظر آنا چاہیے۔ حضور ﷺ نے تجارت میں امانت اور سچائی کا جو معیار قائم فرمایا، وہ ہمارے لیے قیامت تک نمونہ ہے۔
والدین اور رشتہ دار
میلاد کی محفل میں حضور ﷺ کے حسنِ اخلاق کا ذکر کرتے ہوئے ہمیں اپنے گھر کی طرف بھی دیکھنا چاہیے۔ والدین کے ساتھ ہمارا برتاؤ کیسا ہے؟ بہن بھائیوں کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہے؟ رشتہ داروں سے تعلق کیسا ہے؟ کیا معمولی اختلاف کی وجہ سے ہم برسوں بات نہیں کرتے؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی میں اپنے رویے کی اصلاح کرنی چاہیے۔ حضور ﷺ نے صلہ رحمی کی تعلیم دی، اس لیے میلاد ہمیں رشتے جوڑنے کا پیغام بھی دیتا ہے۔
میلاد اور خدمتِ خلق
اگر کوئی شخص میلاد کی خوشی میں اپنے محلے کے غریبوں کے لیے کھانے کا انتظام کرتا ہے، کسی مستحق خاندان کی مدد کرتا ہے، کسی یتیم کی کفالت کرتا ہے، کسی طالب علم کی کتابیں خرید دیتا ہے یا مسجد و مدرسہ کی ضروریات میں تعاون کرتا ہے تو یہ خوشی کو نیکی میں تبدیل کرنے کی ایک خوبصورت صورت ہو سکتی ہے۔ محبتِ رسول ﷺ صرف جذبات نہیں بلکہ خیر خواہی بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ربیع الاول میں اپنے ارد گرد کے لوگوں کو دیکھیں اور جس کی ضرورت ہو اس کی مدد کریں۔
اختلاف میں بھی اخلاق
آج مسلمانوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے مسائل پر اختلاف بڑھتا جا رہا ہے۔ اختلاف علمی ہو تو اسے علم و ادب کے ساتھ ہونا چاہیے۔ کسی مسلمان کی عزت پامال کرنا، گالی دینا، بہتان لگانا یا نفرت پھیلانا سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا طریقہ نہیں۔ ہمیں اپنے اختلافات میں بھی ادب، انصاف اور حسنِ اخلاق کو اختیار کرنا چاہیے۔ اگر ہم واقعی حضور ﷺ کے عاشق ہیں تو ہماری زبان سے کسی مسلمان کی بے عزتی نہیں ہونی چاہیے۔
میلاد کو ایک تحریک بنائیے
ضرورت اس بات کی ہے کہ میلاد کو صرف ایک دن کی تقریب نہ رہنے دیا جائے۔ ربیع الاول میں ایک عہد کیا جائے:
- ہر گھر میں سیرت کی ایک کتاب رکھی جائے۔
- ہر روز کچھ وقت درود شریف کے لیے مقرر کیا جائے۔
- ہفتے میں ایک دن سیرت کا مطالعہ کیا جائے۔
- بچوں کو حضور ﷺ کے واقعات سنائے جائیں۔
- نوجوانوں کو سیرت کے عملی پہلو بتائے جائیں۔
- غریبوں کی مدد کی جائے اور اپنی زندگی میں کم از کم ایک سنت کو مضبوطی سے اختیار کیا جائے۔
اگر ہر عاشقِ رسول ﷺ اپنے اندر صرف ایک مثبت تبدیلی پیدا کر لے تو ہزاروں اور لاکھوں تبدیلیاں مل کر معاشرے کی صورت بدل سکتی ہیں۔
اصل میلاد ہماری زندگی ہے
چراغاں ختم ہو جائے گا، جلسہ ختم ہو جائے گا، جلوس واپس آ جائے گا اور نعت کی محفل اختتام پذیر ہو جائے گی؛ لیکن اگر محبتِ رسول ﷺ ہمارے دل میں باقی رہی اور سنتِ رسول ﷺ ہماری زندگی میں باقی رہی تو یہی حقیقی کامیابی ہے۔
ہمیں یہ عہد کرنا ہو گا کہ:
- ہم میلاد منائیں گے مگر نماز نہیں چھوڑیں گے۔
- ہم نعت پڑھیں گے مگر جھوٹ نہیں بولیں گے۔
- ہم درود پڑھیں گے مگر کسی کا حق نہیں ماریں گے۔
- ہم سیرت سنیں گے اور سیرت پر چلنے کی کوشش بھی کریں گے۔
- ہم حضور ﷺ کی رحمت کا ذکر کریں گے اور مخلوق پر رحم بھی کریں گے۔
- ہم اپنے گھروں کو سجائیں گے اور اپنے اخلاق کو بھی سجائیں گے۔
یہی محبت کا راستہ ہے، یہی سیرت کا تقاضا ہے اور یہی میلاد کے پیغام کی خوبصورتی ہے۔
اختتامیہ
میلادِ مصطفیٰ ﷺ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا میں ایک ایسی ہستی تشریف لائی جس نے انسانیت کو جینے کا سلیقہ عطا فرمایا۔ آپ ﷺ نے ہمیں اللہ تعالیٰ سے تعلق سکھایا، والدین کے حقوق سکھائے، رشتہ داروں سے حسنِ سلوک سکھایا، پڑوسیوں کا خیال رکھنا سکھایا، غریبوں اور یتیموں کی مدد سکھائی، تجارت میں دیانت سکھائی، معاملات میں انصاف سکھایا اور سب سے بڑھ کر محبت، رحمت اور اخلاق کا درس دیا۔
لہٰذا ربیع الاول میں ہمیں صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے میلاد کیسے منایا، بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ میلاد کے بعد ہم کیسے بدلیں گے۔ اگر ہماری نماز بہتر ہو گئی، اگر ہمارے اخلاق بہتر ہو گئے، اگر ہمارے معاملات درست ہو گئے، اگر والدین ہم سے خوش ہو گئے، اگر رشتہ دار ہم سے قریب ہو گئے، اگر غریب کی مدد ہو گئی، اگر کسی مظلوم کو سہارا مل گیا اور اگر ہماری زبان جھوٹ و غیبت سے محفوظ ہو گئی تو سمجھ لیجیے کہ میلاد کا پیغام ہماری زندگی میں اتر گیا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضور رحمتِ عالم ﷺ کی سچی محبت عطا فرمائے، محبت کے ساتھ ادب، ادب کے ساتھ اتباع اور اتباع کے ساتھ استقامت عطا فرمائے۔ ہمارے گھروں، مدارس، مساجد اور معاشرے کو تعلیماتِ مصطفیٰ ﷺ کا آئینہ بنائے اور ہمیں قیامت تک دامانِ مصطفیٰ ﷺ سے وابستہ رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔
(نوٹ: قسط ہفتم میں ان شاء اللہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے موقع پر خوشی کے شرعی طریقے، ذکر و درود، نعت، صدقہ و خیرات، محافل و اجتماعات اور جلوس کے متعلق اہم شرعی اصول بیان کیے جائیں گے۔)
رشحاتِ قلم: سرفراز احمد قادری امجدی
۱۰ ربیع النور ۱۴۴۸ھ / ۲۴ اگست ۲۰۲۶ء
بانی و صدر: محبوب اولیاء فاؤنڈیشن لہوریا شریف، ضلع سیتامڑھی، بہار
خطیب و امام: سنی حنفی بریلوی جامع مسجد پرسواڑا، ضلع بالاگھاٹ، ایم پی
