| عنوان: | تعلیماتِ نبوی ﷺ کے عالمگیر تہذیبی اثرات (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | عبدالسبحان بزمی مصباحی |
تمہیدی کلمات اور اشعار
ہست دینِ مصطفےٰ دینِ حیات
شرعِ او تفسیرِ آئینِ حیات
ہستی مسلم تجلی گاہِ او
طورہا بالد ز گردِ راہِ او
تہذیب و تمدن اور اصلاحِ انسانیت
ہمارے پیارے اور آخری نبی ﷺ نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ ہر محاذ پر باشندگانِ عرب، بلکہ پورے عالمِ انسانیت کی رہنمائی میں بسر فرمائی، انہیں ظلمت کدہ سے نکال کر خانۂ نور و رحمت میں منتقل فرمایا، جینے کا سلیقہ سکھایا، عملی طور پر آپسی معاملات نباہنے کا انداز دیا، تنزلی و انحطاط سے دور رہنے اور ترقیاتی منازل طے کرنے کا شعور بخشا اور حضارت و تہذیب (Culture) اپنانے کی فکر اجاگر فرمائی کہ کس طرح قوم کو جرائم و معاصی کے چنگل سے آزاد کروا کر حسنات کا خوگر بنایا جائے، جہالت و غلاظت کے اندھیروں سے کس طرح باہر نکال کر تعلیم و تربیت کے ضیا بار مکانات میں بھیجا جائے اور پنجۂ سفاکیت و بربریت کو مروڑ کر کس طرح ایوانِ عدل و انصاف مہیا کرایا جائے۔
یعنی نبی کریم ﷺ نے ہر شعبۂ زندگی میں اپنی سیرت اور تعلیمات کی جلوہ ریزیوں سے اہم کردار پیش فرمایا اور آپ ﷺ کی ذاتِ ستودہ نے عالمِ انسانیت کی تہذیب و تمدن پر وہ انمٹ نقش چھوڑے، جن پر چل کر جملہ انسانیت اپنی کامیابی کا لوہا منوا سکتی ہے، ہر فیلڈ میں اپنا علم عروج و ارتقا نصب کر سکتی ہے اور ایک مہذب قوم کی بآسانی تشکیل دے سکتی ہے۔ تہذیب و تمدن، حضارت و کلچر، اور ثقافت (Civilization) وغیرہ کا مفہوم و مدعا تقریباً یہی ہے۔
تعلیماتِ مصطفوی ﷺ کی عالمگیر اثر پذیری
یقیناً تعلیماتِ مصطفوی ﷺ میں حد درجہ اثر پذیری کا عنصر غالب ہے۔ واللہ! جس طرح بے مثال کارکردگی رحمتِ عالم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ نے پیش کی ہے، اس طرح عالم میں کسی نے نہیں کی۔ اور پورے عالم پر کسی شخصیت نے اتنے گہرے اثرات مرتب نہیں کیے جتنے آپ ﷺ کی تعلیمات نے کیے ہیں۔
آج بھی آپ ﷺ کے قولی و عملی پیغام کی عطر بیزیوں سے مشامِ عالم معطر و مشکبار ہے اور دنیا کی تہذیبی و تمدنی زندگی کا نقشہ بدل کر اخلاق و مروت، حسنِ معاشرت کی فضا قائم کی ہوئی ہے۔ یہ سب آپ ﷺ کی تہذیبی و تمدنی حیات و تعلیمات کی رہینِ منت ہے۔ ہماری گردنیں تادمِ حیات آپ کے جملہ احسانات تلے خم رہیں گی۔
ایسے محسنِ انسانیت پہ لاکھوں سلام۔
(جاری..)
