| عنوان: | تعلیماتِ نبوی ﷺ کے عالمگیر تہذیبی اثرات (قسط دوم) |
|---|---|
| تحریر: | عبدالسبحان بزمی مصباحی |
تمہیدی اشعار
ہست دینِ مصطفےٰ دینِ حیات
شرعِ او تفسیرِ آئینِ حیات
عقائدِ باطلہ کی یکسر تردید
پوری دنیا میں شرک و بت پرستی عام تھی، عرب کے لوگ مالکِ حقیقی کی عبادت سے صرفِ نظر کر کے آگ، پتھر، مٹی، سورج، چاند، درخت، دریا وغیرہ کو خدا مانتے تھے، خالقِ حقیقی کا تصور فقدان تھا، مصر و یونان میں دیویوں اور عقولِ عشرہ کو خدا کے مقابل لائقِ عبادت گردانے جاتے تھے۔
عرب میں ہی ہاتھ کے بنے ہوئے بتوں اور مورتوں کو حاجت روا سمجھ کر پرستش کی جاتی تھی۔ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اسی کی بدولت بارش ہوتی ہے، بیماروں کو شفا ملتی ہے، جنگ میں فتحیابی نصیب ہوتی ہے، ہم جو تمنائیں کرتے ہیں، یہی پایۂ تکمیل تک پہنچاتا ہے۔ حج کے موقع سے اطراف و اکناف سے آنے والوں کو بھی اہلِ عرب اس پر ابھارتے۔ اس طرح ہر قبیلے میں بت پرستی داخل ہو گئی، یہاں تک کہ اللہ کے گھر خانۂ کعبہ میں بت موجود تھے اور دیواروں پر بت کی تصاویر بنا دی گئی تھیں۔ شرک کی نحوست میں گھر گھر ملوث ہو گیا، ہر کسی کا من پسند اپنا اپنا الگ بت تھا۔ جہالت و نادانی پر تف کہیے کہ سفر میں پتھر کے بت ساتھ لے جانے کی پریشانی کی وجہ سے، کھانے پینے کی چیزوں، مثلاً: ستو وغیرہ کو اپنا خدا بنا کر رکھ لیتے، انہیں پوجتے اور جب حاجت ہوتی تو اسے گھول کر پی جاتے اور اسے ذرا بھی عار نہیں سمجھتے تھے۔ میں تو یہی کہنا چاہوں گا کہ: یہ کیسا خدا ہے جس کو ہضم کیا جا رہا ہے۔
رسولِ گرامی وقار ﷺ نے اپنی مقدس تعلیمات سے باطل عقائد و نظریات یکسر مسترد کر دیے، انسان کو اس کے اصل معبودِ حقیقی سے روشناس کروا کر باطل خداؤں سے دور رہنے کی تلقین فرمائی اور انہیں توہم و بت پرستی کے دلدل سے نکال کر عقائدِ صحیحہ کے چشمے سے نہلا کر خدائے وحدہٗ کی وحدانیت کی عقیدت کا لباس زیبِ تن کروایا اور ایک خدا کی عبادت کی دعوت دی۔ یاد رہے، توحید ہی اسلامی تہذیب و ثقافت کا پہلا عنصرِ ترکیبی ہے، توحید ہی وہ ایمانی قوت ہے جس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکا۔ اس کے بنا عالمگیر تہذیب و ارتقا کا تصور ایسے ہی ہے جیسے بغیر بنیاد کے مکان۔
قرآن نے الوہیت و وحدانیت میں شرکت کی نفی کی:
"قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ" (اخلاص)۔
ترجمہ: تم فرماؤ، وہ اللہ ہے، وہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔
تفسیر صراط الجنان میں ہے: عرب میں کفار کی بہت سی قسمیں تھیں، دہریہ، مشرک، اللہ تعالیٰ کی صفات کے منکر اور اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ماننے والے وغیرہ، اس سورت میں ان سب کی تردید ہے۔ "هُوَ الله" فرمانے میں دہریوں کی تردید ہے۔ "اَحَدٌ" فرمانے میں مشرکین کا مکمل رد ہے اور اگلی آیات میں بقیہ کفار کا رد ہے۔ ارشاد فرمایا کہ وہ اللہ ایک ہے، یعنی ربوبیت اور الوہیت میں عظمت و کمال کی صفات کے ساتھ موصوف ہے۔ اس کی نہ کوئی مثل ہے، نہ نظیر اور نہ شبیہ، اس کا کوئی شریک نہیں۔
فکرِ آخرت
جس کے دماغ میں یہ بات بیٹھ جائے کہ دنیا ہی اس کے لیے سب کچھ ہے، تو وہ کمایا، کھایا پیا، عیش و مستی میں دن گزارے، بے خوف و خطر فسق و فجور کو اپنایا، من کے مطابق زندگی گزر بسر کی اور آخر میں لقمۂ اجل بن گیا اور سمجھ لیا کہ بعد میں نہ کوئی حساب و کتاب، اور نہ کسی طرح کا سوال و جواب۔ اس طرح کی فکر کے بعد آدمی لاپرواہ ہو جاتا ہے، بڑے سے بڑے گناہ کے بعد بھی اسے عار محسوس نہیں ہوتا، بلکہ جو جتنا بڑا مجرم، اتنا ہی بڑا آدمی کہلانے کا مجاز مانا جاتا ہے اور وہ اس پر خود کو فخریہ بہادروں میں شمار کرے گا، لیکن اگر جواب دہی اور بادشاہِ حقیقی کے یہاں پیش ہونے کا تصور پیدا ہو تو آدمی کا ایک ایک قدم احتیاط کے ساتھ اٹھتا ہے۔ بداعمالی سے کنارہ ہو کر نیک امور کی جانب روئے التفات مبذول کرتا ہے اور بادشاہ کی بارگاہ میں پیشی سے قبل اس کی خوشنودی کا سامان جمع کرتا ہے، مگر بعثتِ نبوی ﷺ سے قبل لوگوں میں فکرِ آخرت مفقود تھی، ہر کوئی اپنی خواہشاتِ نفس کے موافق زندگی بسر کرنے کا عادی و پابند تھا۔ پورے عالم، بالخصوص عرب، کا یہی حال تھا۔
درِ یتیم میں اسی کیفیت کی عکاسی یوں کی گئی ہے:
"اب رہے اخلاق تو ایک خدا شناس قوم جو آخرت کے محاسبہ اور عقوبت کے تصور سے یکسر عاری اور نابلد ہو، اس کو بد اخلاق اور معصیت آلود ہونا ہی چاہیے۔ جہاں اس خیال پر زندگی کی بنیاد ہو کہ کھایا پیا، چین کے مزے اُڑائے اور جب وقت آیا مر گئے۔ پھر نہ کوئی زندگی ہے اور نہ کسی قسم کی باز پرس۔ بس جو کچھ ہے، یہی عالمِ کون و فساد اور دنیائے رنگ و بو کی زندگی ہے۔ وہاں پاکبازی اور نکوکاری کی جگہ فسق و فجور اور سیاہ کاریاں پائی جائیں تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے۔" (ص: 64، ط: فروری 2009)
(جاری...)
