| عنوان: | سائنس اور اسلام |
|---|---|
| تحریر: | علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی رحمہ اللہ علیہ |
نظامِ اسباب اور قدرتِ الٰہی
ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات خالقِ کائنات ہے، وہی مُسْتَعَانِ حقیقی ہے، وہی مارتا اور زندہ کرتا ہے اور وہی قادرِ مطلق ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
ترجمہ: "بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔" (پ۱، البقرۃ: ۱۰۹)
وہی فَيَّاضِ مطلق ہے۔ کائنات پر جو فیض ہوتا ہے اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہے۔ فیض کا مبدا اور منتہا اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی نہیں۔ اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں۔
فِعْلُ الْحَكِيمِ لَا يَخْلُو عَنِ الْحِكْمَةِ
البتہ اس ذات نے اپنے فیض و تصرفات کو نافذ فرمانے کے لیے کچھ وسائل و ذرائع پیدا فرمائے ہیں۔ اس سے یہ نہ سمجھ لینا کہ خدا عاجز ہے (معاذ اللہ)، بلکہ ہم فیض لینے میں بغیر وسیلہ کے عاجز ہیں۔ جیسے زمین پر پانی نہ آئے تو اناج نہ ہوگا۔ حالانکہ غلہ اگانا اللہ تعالیٰ کا کام ہے مگر اس پر پانی، بیج اور زمین کی تیاری کو سبب بنا دیا۔
کیا اللہ تعالیٰ ان اسباب کا محتاج ہے؟ ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ احتیاج سے پاک ہے۔ مگر حکمت کو پورا کرنے کے لیے پانی کو غلہ اگانے کا سبب بنا دیا، اسی طرح مارنے والا وہی ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
تَتَوَفّٰهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ
ترجمہ: "ملائکہ مارتے ہیں۔" (پ۱۴، النحل: ۲۸)
کیا اللہ تعالیٰ روح نکالنے میں محتاج ہے؟ (معاذ اللہ) بلکہ حکیم ہو کر حکمت کو پورا کرتا ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم حکمت کو جان لیں۔ مگر جاننے والے جانتے ہیں۔
عقل، حواس اور تسلیم و رضا
لہٰذا غیب پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز سمجھ میں نہ آئے اسے اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے، یہ مطلب نہیں کہ جو سمجھ آئے اسے مان لیں اور جو بات سمجھ میں نہ آئے اسے چھوڑ دیں؛ تو یہ نفس کی خواہش اور پیروی ہوگی اور "اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ" (وہ تو نرے گمان کے پیچھے ہیں) میں داخل ہوگی۔ لہٰذا جو بات سمجھ آئے یا نہ آئے اسے تسلیم کرنا پڑے گا۔ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات حکمت سے خالی نہ ہوگی۔
اگر حواس غلط ہو جائیں تو انسان غلطی کھا جاتا ہے، مثلاً بھینگے کو ایک کی بجائے دو نظر آتے ہیں۔ اب مالک نے اس کو کہا کہ فلاں کمرے میں میز کے اوپر ایک شیشہ رکھا ہے لے آ، جب وہ کمرے میں گیا تو اسے دو شیشے نظر آئے، پھر وہ تہیدست مالک کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کون سا شیشہ لاؤں؟ تو مالک نے کہا کہ شیشہ تو ایک رکھا ہے مگر غلام نہ مانا، تو مالک نے کہا کہ ایک شیشے کو توڑ دو اور دوسرا شیشہ میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ وہ گیا اور شیشے کو توڑ دیا تو دوسرا شیشہ بھی غائب کیونکہ دراصل شیشہ تو وہی ایک تھا۔
مگر اس کے حواس غلط تھے۔ اس لیے غلطی کا مرتکب ہو گیا، اسی طرح دیکھنے والا تو کہتا ہے کہ میں سچا ہوں مگر رکھنے والا جانتا ہے کہ ایک ہے یا دو۔ وہی اللہ ہر حکمت کو جانتا ہے اور اس کے بتانے سے اس کے بندے بھی جانتے ہیں۔
سائنس اور مذہب کے دائرہ کار کا فرق
آج دنیا میں یہ شور مچا ہوا ہے کہ سائنس مذہب پر چھا گئی ہے مگر میں یہ کہوں گا کہ سائنس حواس کی دنیا ہے اور مذہب حواس سے بالاتر ہے۔ مثلاً کوئی شخص فوت ہو گیا تو اس کو کسی نے جلا دیا، کسی نے بہا دیا، کسی نے قبر میں دفن کر کے لٹا دیا، یہ سب تمہارے حواس کی دنیا تھی۔ اب بتاؤ کہ مُردے کو جلایا، بہایا یا لٹایا، اس کے بعد اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ یہ مذہب کی دنیا ہے جہاں حواس ختم ہو گئے۔ جہاں حواس ختم ہوتے ہیں وہاں مذہب کی ابتدا ہوتی ہے۔
آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّم نے فرمایا:
اَلْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِّنْ رِّیَاضِ الْجَنَّةِ اَوْ حُفْرَةٌ مِّنْ حُفَرِ النَّارِ
ترجمہ: "قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوزخ کی خندقوں میں سے ایک خندق ہے۔" (شرح الصدور، ص ۶۷)
مطلب یہ ہوا کہ اگر خاتمہ ایمان پر ہو تو وہ جنت میں ہے ورنہ جہنم میں، اگرچہ قبر کو بہترین بنایا گیا ہو، زیب و زینت کی گئی ہو، پھول برسائے گئے ہوں مگر وہ دوزخ میں ہے۔
سائنس کی سمت اور ہے، اسلام کی اور۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ ایک شخص مشرق کی جانب جا رہا ہے تو دوسرا شخص مغرب کی جانب، جہتِ مخالف سے ملاپ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح اسلام کا عروج بلندی کی طرف ہے اور سائنس کا نزول پستی کی طرف ہے، لہٰذا ان کا ملاپ نہیں ہو سکتا اور نہ سائنس اسلام کا مقابلہ کر سکتی ہے۔
نظریات میں اختلاف اور اصلاحِ باطن
اگر ہمارے حالات خراب ہو جائیں تو حواس بھی خراب ہو جاتے ہیں۔ اگر آج کسی تندرست آدمی کو میٹھی چیز کھلائیں تو وہ مٹھاس محسوس کرے گا اور اگر وہ میٹھی چیز کسی صفراوی مریض کو دیں تو وہ کڑواہٹ محسوس کرے گا کیونکہ اب اس کے حواس غلط ہو گئے ہیں۔ میٹھی چیز کا قصور نہیں ہے۔ اسی طرح جب عقل غلط ہو گئی تو ادراک میں ضرور غلطی پیدا ہو جائے گی۔
کسی کے نظریات کے اندر اختلاف کا ہونا دلیل ہے کہ اس کی عقل میں بھی اختلاف ہے، جیسے میری آواز کا آپ تک نہ پہنچنا لاؤڈ سپیکر کی خرابی کی دلیل ہے کیونکہ اگر لاؤڈ سپیکر میں نقص نہ ہوتا تو آواز کی رسائی میں نقص نہ آتا۔
اگر صداقت چاہتے ہو تو زبانِ رسالت کی بات مانو، خدا کی قسم! آپ ﷺ وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ سکتے، آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّم وہ سنتے ہیں جو ہم نہیں سن سکتے، اس لیے فرمایا:
اِنِّی اَرٰی مَا لَا تَرَوْنَ وَ اَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُوْنَ
ترجمہ: "جو کچھ میں دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے اور جو کچھ میں سنتا ہوں تم نہیں سنتے۔"
بارگاہِ رسالت ﷺ اور مقامِ وسیلہ
اے عقل کے پیچھے دوڑنے والو! تم سوچتے ہو کہ ہم کہاں پہنچ گئے ہیں۔ ایمان سے کہتا ہوں کہ ہم نے ہلاکت اور موت کی طرف قدم اٹھایا ہوا ہے۔ خدا ہمیں اس ترقی سے بچائے جس نے عین ہلاکت کے کنارے پر کھڑا کر دیا ہے۔ اسلام ہمیں حیات دیتا ہے، اب اگر ہمارا رخ آقا کی طرف ہو گیا تو کامیابی ہے ورنہ خرابی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا
ترجمہ: "اور رسول جو کچھ تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں رک جاؤ۔" (پ۲۸، الحشر: ۷)
اب جو کچھ ملے گا بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ملے گا۔
اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ
ترجمہ: "اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو رسول کی۔" (پ۵، النساء: ۵۹)
ہمیں کیا پتہ خدا کیسے راضی ہوتا ہے اور خدا کے راضی کرنے کا کیا ذریعہ ہے! لہٰذا فرمایا: میرے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو خوش کر لو میں خوش ہو جاؤں گا۔ آپ ہزار بار عبادتیں کر لیں، محبوب ناراض تو اللہ تعالیٰ ناراض ہو گا۔
خدا نے ہمارا رخ آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف کر دیا ہے اور ہم آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے محتاج ہیں؛ ایسے ہی جیسے زمین میں غلہ اگانے کے لیے پانی وسیلہ ہے، سننے کے لیے کان وسیلہ ہیں، دیکھنے کے لیے آنکھیں وسیلہ ہیں اور سوچنے کے لیے دماغ وسیلہ ہے۔ ایسے ہی میں نے اپنی ساری رحمتوں کا وسیلہ اپنے محبوبِ اعظم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بنایا ہے۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ
ترجمہ: "اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔" (پ۱۷، الانبیاء: ۱۰۷)
فرمایا رحیم بالذات میں ہوں، لہٰذا فرمایا: اے محبوب! تم مجھ سے لو اور یہ تم سے لیں۔ "وَاللهُ يُعْطِيْ وَأَنَا قَاسِمٌ" (اللہ عطا فرماتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں) کے یہی معنی ہیں۔ میں خدا ہوں، وسیلے کا محتاج نہیں ہوں مگر جن کے لیے میں نے تمہیں وسیلہ بنایا ہے وہ وسیلہ کے محتاج ہیں۔
راحم اسمِ فاعل کا صیغہ ہے اور آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم سارے جہان کے لیے راحم ہیں اور یہ حقانیتِ اسلام کی تلوار ہے اور یہ کلامِ الٰہی کا اعجاز ہے جس نے تمام قوموں کو اسلام لانے پر مجبور کر دیا۔ جو لوگ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ان کا نظریہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ صحیح نہیں ہو سکتا، اور جن کا نظریہ خدا کے رسول کے ساتھ صحیح نہیں ہو سکتا تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا نظریہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟
حواشی و حوالہ جات
(1) ترجمہ کنز الایمان: بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (پ۱، البقرۃ: ۱۰۹)
(2) یعنی حکیم کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
(3) پ۱۴، النحل: ۲۸
(4) ترجمہ کنز الایمان: وہ تو نرے گمان کے پیچھے ہیں۔ (پ۲۷، النجم: ۲۸)
(5) شرح الصدور، ص ۶۷
(6) پ۲۸، الحشر: ۷
(7) پ۵، النساء: ۵۹
(8) ترجمہ کنز الایمان: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔ (پ۱۷، الانبیاء: ۱۰۷)
