| عنوان: | فنِ کتابیات نویسی |
|---|---|
| تحریر: | مولانا ابو النور راشد علی عطاری مدنی |
کتابیات جسے عربی میں فِہْرِسُ الْکُتُب اور انگلش میں Bibliography سے تعبیر کرتے ہیں اس کا سادہ سا مطلب ہے ”کتابوں کا ذکر و تعارف“۔ جبکہ اصطلاحی اعتبار سے کتابیات کا اطلاق کتابوں کی دو طرح کی فہرستوں پر ہوتا ہے:
۱۔ کوئی مقالہ یا کتاب لکھتے ہوئے جن کتب میں سے مواد لیا جاتا ہے ان کتب کی فہرست کو اس کتاب یا مقالہ کی کتابیات کہا جاتا ہے۔ عام طور پر اسے مصادر و مراجع یا ماخذ و مراجع بھی کہتے ہیں۔
۲۔ کسی شخصیت، فن، موضوع، دورانیہ، اسلوب یا صنف کی کتابوں کے تفصیلی یا اجمالی تعارف پر مشتمل کتب کو بھی کتابیات کہا جاتا ہے۔ (یہاں کتابیات سے مراد یہی دوسری صورت بیان کی جائے گی)۔
تحقیق کے میدان میں کتابیات کی اہمیت
تحقیق کے میدان میں محققین کو درپیش مسائل میں سے سب سے اہم مسئلہ کتابیات کے فقدان کا ہوتا ہے کیونکہ کتبِ کتابیات کسی بھی مصنف و محقق کےلیے ریڑھ کی ہڈی یا آکسیجن کی سی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسے یوں سمجھیں کہ اگر کسی نے عقیدۂ ختمِ نبوت پر لکھنا ہو تو سب سے پہلے دو باتوں کو طے کرنا ضروری ہے: ایک یہ کہ اس موضوع پر پہلے کیا کیا لکھا جا چکا ہے؟ اور دوسرا یہ کہ اب کیا لکھنا چاہئے؟
ان دونوں پوائنٹس کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت پر لکھی گئی کتابوں سے آگاہی ہو جو کہ مختلف لائبریریز، ویب سائٹس اور مارکیٹس وزٹ کرنے سے ہوگی یا پھر ان کتب کے تعارف و تذکرہ پر مشتمل کتبِ کتابیات سے معلوم ہوگا۔ جب محققین اور مصنفین اپنے عنوان سے متعلق کتابیات کو پیشِ نظر نہیں رکھتے تو اکثر ایسے عنوانات پر لکھتے رہتے ہیں جو پہلے بھی کئی بار لکھے جا چکے ہوتے ہیں۔ کتابیات سے عدمِ واقفیت کی بناء پر ایک ہی طرز و اسلوب اور مواد پر مشتمل کتب کی بھر مار آج بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
آج کل علمی تحقیق کا پہلے ہی رجحان و ذوق ختم ہوتا جا رہا ہے اور اگر کوئی اس میدان میں اترتا بھی ہے تو اسے سب سے پہلے کتابیات (Bibliography) کے فقدان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ مختلف علوم و فنون پر لکھی گئی کتب کی معلومات پر مبنی کتبِ کتابیات تیار کی جائیں تاکہ اگر کوئی اسکالر کسی موضوع پر کالم، مضمون، مقالہ یا کتاب لکھنا چاہے تو اسے متعلقہ کتابوں کی فہرست ایک جگہ پر مرتب شکل میں مل جائے تاکہ وہ اپنے موضوع پر دستیاب کتب پڑھ کر پورا پورا علمی و تحقیقی کام کر سکے۔
فنِ کتابیات کا آغاز کب ہوا؟
فنِ کتابیات کا آغاز کب ہوا اور سب سے پہلے فہرستِ کتب کب تیار ہوئی؟ اس حوالے سے وکی پیڈیا کے مطابق تیسری صدی قبلِ مسیح میں اسکندریہ کی ایک لائبریری کا لائبریرین کالیماخوس (Callimachus) سرِ فہرست نظر آتا ہے جس نے اپنی لائبریری کی ایک ضخیم فہرست مرتب کی تھی۔
جبکہ عربی میں کتابیات پر سب سے پہلی تصنیف محمد بن اسحاق بن ندیم المعروف ابنِ ندیم (وفات: ۴۳۸ھ) معتزلی کی ملتی ہے۔ یہ کتاب ۳۷۷ھ میں لکھی گئی۔ اسی طرح ولید الخوارزمی (وفات: ۳۸۷ھ) کی 'مَفَاتِیْحُ الْعُلُوْم'، امام فخر الدین الرازی (وفات: ۶۰۶ھ) کی 'حَدَائِقُ الْأَنْوَارِ فِي حَقَائِقِ الْأَسْرَار'، علامہ قطب الدین شیرازی (وفات: ۷۱۰ھ) کی 'دُرَّةُ التَّاجِ لِغُرَّةِ الدِّبَاج' اور دیگر کئی کتبِ کتابیات کے نام ملتے ہیں۔
کتابیات کے اسلوب
کتابیات کے مختلف اسلوب ہیں:
• اپنے اساتذہ اور ان سے پڑھی ہوئی کتب کا تعارف
• کسی ایک مصنف کی تمام کتب کا تعارف
• کسی ایک موضوع (مثلاً تفسیر، فقہ، سیرت، حدیث، تاریخ وغیرہ) کی تمام کتب کا تعارف
• کسی ایک دورانیہ (مثلاً ۱۹۰۰ء تا ۱۹۵۰ء) کی کتب کا تعارف
• کسی ایک ادارے کی کتب کا تعارف
• کسی ایک لائبریری کی کتب کا تعارف
• صرف کتاب، مصنف اور طابع کا نام مع ملنے کا پتا ذکر کرنا
• کتاب پر مختصر تبصرہ اور چند سطری تعارف شامل کرنا
• کتاب کے مندرجات، ترتیب اور موضوع سے مطابقت وغیرہ پر سیر حاصل تبصرہ شامل کرنا۔
چند اہم کتابیات کا تعارف
کتابیات بولا جائے تو اوّلاً فہارس الکتب ہی ذہن میں آتی ہیں لیکن یاد رہے کہ تذکرۃ الاعلام کے تحت ضمناً کتابیات کے ذخیرہ میں بہت اضافہ ہوا ہے، کئی علماء و محدثین نے ان کتب کا تعارف جمع فرمایا ہے جو انہوں نے اپنے مشائخ سے پڑھیں یا ان کتب کی مشائخ سے اجازت حاصل کی، مثلاً:
• "فهرس لابن عطية": مؤلف شیخ ابو محمد عبد الحق بن غالب المعروف ابن عطیہ محاربی اندلسی (وفات: ۵۴۲ھ)
• "فهرسة ابن خير الإشبيلي": مؤلف ابو بکر محمد بن خیر اشبیلی (وفات: ۵۷۵ھ)
• "فهرسة اللّبلي": مؤلف شہاب الدین احمد بن یوسف بن علی المالکی (وفات: ۶۹۱ھ)
• "بَرْنامَج الوادي آشي": مؤلف محمد بن جابر بن محمد اندلسی (وفات: ۷۴۹ھ)
• "الْمُعْجَمُ الْمُفَهْرَسُ أَوْ تَجْرِيدُ أَسَانِيدِ الْكُتُبِ الْمُشْهُورَةِ وَالْأَجْزَاءِ الْمُنْثُورَةِ": مؤلف علامہ ابن حجر عسقلانی (وفات: ۸۵۲ھ)
• "برنامج المجاری": مؤلف ابو عبد الله محمد بن محمد مجاری اندلسی (وفات: ۸۶۲ھ)
البتہ جو کتب باقاعدہ فنِ کتابیات پر مشتمل ہیں ان میں سے چند کا مختصر تعارف یہ ہے:
الفہرست لابن ندیم
یہ عربی زبان میں مرتب کی گئی سب سے پہلی کتابیات ہے جو کہ ۳۷۷ھ میں لکھی گئی، اس کتاب میں اس کے زمانۂ تالیف تک لکھے گئے تقریباً تمام عربی لٹریچر کا تعارف ہے۔ مؤلف محمد بن اسحاق بن ندیم المعروف ابن ندیم نے کتاب کو ۱۰ ابواب پر مرتب کیا ہے اور ہر باب کو مقالہ کا نام دیا ہے۔ وہ ۱۰ ابواب یہ ہیں:
۱۔ اَللُّغَات وَالْكُتُب المُقَدَّسہ وَعُلُوْمُ الْقُرْآن
۲۔ اَللُّغَة وَالنَّحْو
۳۔ الْأَخْبَار وَالْأَنْسَاب
۴۔ اَلشِّعْر
۵۔ عِلْمُ الْكَلَام
۶۔ الْحَدِيث وَالْفِقْه
۷۔ الْفَلْسَفَات
۸۔ الْأَسْمَاء وَالْخُرَافَات
۹۔ الْاِعْتِقَادَات
۱۰۔ الْكِيْمِيَاء وَالصَّنْعَه
ابن ندیم نے کتاب مؤلفین کے ناموں کے اعتبار سے مرتب کی ہے اور ہر مؤلف کے تعارف میں اس کی کتب کا ذکر کیا ہے۔ اس کتاب میں ۲۲۳۸ مؤلفین کی ۸۳۶۰ کتب کا ذکر کیا گیا ہے۔
کشف الظنون
عربی کتبِ کتابیات میں "کَشْفُ الظُّنُوْن" کو بہت شہرت حاصل ہے۔ یہ کتاب مصطفیٰ بن عبد الله الْقُسْطَنْطِیْنِی (وفات: ۱۰۶۷ء) نے لکھی جو کہ حاجی خلیفہ اور ملا کاتب چلپی کے نام سے معروف تھے۔ کتاب کا پورا نام کَشْفُ الظُّنُوْنِ عَنْ اَسَامِی الْکُتُبِ وَالْفُنُوْنِ ہے۔ مؤلف نے اس کتاب میں ۳۰۰ علوم کی تعریفات، ۹۵۰۰ مؤلفین اور ۱۵ ہزار کتب کا تعارف ذکر کیا ہے۔ اس کتاب میں علوم و فنون اور کتب کی ترتیب کے سلسلہ میں حروفِ تہجی کا اعتبار کیا گیا ہے۔ اس میں کئی بڑی تصانیف کے متعلق معلومات فراہم کی گئی ہیں اور مختلف علوم و فنون کے متعلق تفصیلی معلومات بہم پہنچائی گئی ہیں۔
ہدية العارفين
اسماعیل بن محمد امین بغدادی (وفات: ۱۳۳۹ھ) کی کتاب "ہدِیَّۃُ الْعَارِفِیْن اَسْمَاءُ الْمُؤَلِّفِیْن وَآثَارُ الْمُصَنِّفِیْن" بھی فنِ کتابیات میں ایک اہم اضافہ ہے۔ اس کتاب میں مؤلفین کے نام حروفِ تہجی کی ترتیب پر دیے گئے ہیں اور ہر مؤلف کی کتب کا ذکر نام کے ساتھ کیا گیا ہے۔ کتاب دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔
الرسالة المستطرفة
"اَلرِّسَالَةُ الْمُسْتَطْرَفَة" شیخ ابو عبد اللہ محمد بن جعفر بن ادریس الْکَتَّانِی (وفات: ۱۳۴۵ھ) کی ایک عظیم تالیف ہے جو کہ حدیث اور علومِ حدیث کی ۱۴۰۰ کتب اور ۶۰۰ کے قریب محدثین کے تعارف پر مشتمل ہے۔ علامہ کتانی نے کتاب اور صاحبِ کتاب دونوں کا مختصر تعارف اور تبصرہ شامل کیا ہے۔ کتاب حروفِ تہجی یا سنِ وصال کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ علامہ کتانی نے طبقات، فنون، موضوعات اور دیگر کئی اعتبارات سے تقسیم کی ہے۔ اس کا اردو ترجمہ مفتی مہتاب احمد مدنی نعیمی صاحب نے "تعارفِ محدثین و کتبِ محدثین" کے نام سے کیا ہے۔
اردو کتابیات: مرأۃ التصانیف
عربی کی طرح اردو میں بھی کتابیات کے فن میں لکھا گیا ہے۔ اس کی ایک عظیم مثال شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا حافظ عبد الستار سعیدی صاحب کی "مرأة التصانيف" ہے۔ اس کتاب میں تیرھویں اور چودھویں صدی ہجری کے ۸۷۰ اہل قلم کی ۵۸۱۸ کتب کی فہرست مرتب کی گئی ہے۔ پاک و ہند کے سنّی لٹریچر سے آگاہی کے لئے یہ ایک اہم کتاب ہے۔
تحقیقی کام کے لئے چند اہم تجاویز (Practical Topics)
کتابیات کی اہمیت و ضرورت ابتداء میں ذکر کی گئی، طلبۂ تحقیق کو چاہئے کہ اس فن میں بھی ضرور بالضرور پریکٹس کریں، پریکٹیکل کے لئے چند ایسے عنوان پیش کئے جاتے ہیں جن پر کام کرنا وقت کی اہم ضرورت بھی ہے:
• تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کی اردو تفاسیر
• تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کی اردو کتبِ سیرت
• تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری کی درسی کتب اور شروحات و حواشی
• پاک و ہند کی اردو مترجم کتبِ حدیث اور سیرت
• اردو فتاویِٰ احناف
• پاک و ہند کے سنّی رسائل و جرائد
حواشی / لنکس:
(1) https://en.wikipedia.org/wiki/Callimachus#Bibliography
(2) تصدیر، کشف الظنون، 1/8
(3) ابن ندیم، الفہرست، مقدمہ، 7/1
(4) تصدیر، کشف الظنون، 1/8
