| عنوان: | دونوں جہاں میں کامیابی کا راستہ: انہیں جانا انہیں مانا |
|---|---|
| تحریر: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
| پیش کش: | مرکزی جامعۃ المدینہ نیپال گنج |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
یوں تو امامِ اہلِ سنت اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے جہاں عقائدِ اہلِ سنت و جماعت کو بالتفصیل بیان فرمایا ہے، وہیں آپ نے بالاجماع و الاجمال بھی ذکر فرمایا ہے، کبھی نظم کی صورت میں تو کبھی نثر کی صورت میں، کبھی فتاویٰ کی صورت میں تو کبھی اشعار کی صورت میں۔
ہم غلامانِ رضا بارگاہِ رضا میں یوں عرض گزار ہوتے ہیں کہ: "آپ نے تو دین بہت زیادہ پڑھا ہے، آپ مفسر بھی ہیں، محدث بھی ہیں، مفتی بھی ہیں، فقیہ بھی ہیں اور نہ جانے کیا کیا ہیں! ہم آپ کی بارگاہ میں عرض گزار ہیں کہ ہمیں کوئی ایسا فارمولہ ذرا اجمال میں بیان فرما دیجیے جس سے دنیا میں بھی ایمان سلامت رہے اور آخرت میں بھی۔"
آپ نے جواب ارشاد فرما کر دل و جگر کو مسحور کر دیا، فرماتے ہیں:
انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
لِلّٰہِ الْحَمْد میں دنیا سے مسلمان گیا
شعرِ مذکور کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم سب دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کامیابی و کامرانی اور سرخروئی چاہتے ہیں، تو اس کے لیے ایک ہی شرط ہے: بس حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے حقیقی محبت۔ اگر مسلمان اس شرط پر پورا اتر جائے تو اِنْ شَآءَ اللہُ الْکَرِیْم! دنیا میں بھی کامیاب ہو جائے گا اور آخرت میں بھی نجات سے بہرہ مند ہو گا۔
لیکن المناک اور افسوس ناک خبر تو یہ ہے کہ عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ اگر کسی چیز میں سب سے زیادہ عملی اور قولی ہر اعتبار سے پیچھے نظر آتی ہے، تو بس پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی محبت سے دوری ہے اور غیروں کو اپنا آئیڈیل بنا لینا ہے۔
اور ظاہر ہے جب انسان اپنے حقیقی آئیڈیل کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا آئیڈیل بنائے گا تو بجائے اس کے کہ وہ ارتقاء و ترقی کی راہ طے کرے، الٹا انحطاط و تنزلی کی عمیق گہرائی میں جا گرے گا اور اسے خبر بھی نہ ہوگی کہ کس وادی کے کس دار الغلاظت میں غوطہ زن ہے۔
نیز حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کا بھی یہی قول و عمل ہے:
نبی سے جو ہو بیگانہ اسے دل سے جدا کر دیں
پدر، مادر، برادر، جان و مال ان پر فدا کر دیں
لہٰذا اگر کوئی پوچھے کہ دونوں جہاں میں کامیابی کا راستہ کیا ہے؟ تو بلا جھجھک کہہ دینا:
انہیں جانا انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
لِلّٰہِ الْحَمْد میں دنیا سے مسلمان گیا
