| عنوان: | علمِ فقہ: حقیقت، تاریخ، اور ضرورت |
|---|---|
| تحریر: | محمد آزاد رضوی الطیبی |
1۔ فقہ کے لغوی و اصطلاحی معنی
لغوی مفہوم
لغت میں فقہ کے معنی “الشق والفتح” یعنی شق کرنے (پھاڑنے) اور کھولنے کے ہیں۔ کسی چیز کی گہرائی میں اتر کر اس کی حقیقت کو واضح کر دینا اور باریک بینی سے سمجھنا فقہ کا لغوی جوہر ہے۔
علامہ زمخشری علیہ الرحمہ کی تعبیر:
«الفَقِيهُ: العَالِمُ الَّذِي يَشُقُّ الْأَحْكَامَ وَيُفَتِّشُ عَنْ حَقَائِقِهَا»
ترجمہ: فقیہ وہ عالمِ دین ہے جو شریعت کے احکام کو کھولتا ہے اور ان کے حقائق کی تفتیش کرتا ہے۔
اصطلاحی مفہوم
فقہاء اور اصولیین کی اصطلاح میں فقہ کی تعریف یوں کی گئی ہے:
عام فقہاء و اصولیین کی تعریف:
«الْعِلْمُ بِالْأَحْكَامِ الشَّرْعِيَّةِ الْعَمَلِيَّةِ مِنْ أَدِلَّتِهَا التَّفْصِيلِيَّةِ»
ترجمہ: تفصیلی دلائل (قرآن، سنت، اجماع، قیاس) کے ذریعہ احکامِ شرعیہ عملیہ کو معلوم کرنے کا نام فقہ ہے۔
شرح مسلم الثبوت کی تعبیر:
«الْفِقْهُ حِكْمَةٌ شَرْعِيَّةٌ فَرْعِيَّةٌ»
ترجمہ: فقہ اس حکمتِ شرعیہ کا نام ہے جس کا تعلق عقائد سے نہیں بلکہ عملی و فرعی احکام سے ہے۔
2۔ علمِ فقہ کا دائرہ کار اور اس کا ارتقاء
عہدِ قدیم میں فقہ کا وسیع مفہوم
عہدِ اول میں فقہ کا دائرۂ بحث انتہائی وسیع اور ہمہ گیر تھا؛ اس میں شریعتِ ظاہر کے علاوہ الٰہیات، ایمانیات اور تزکیہ و طریقت کے تمام مسائل بھی شامل ہوا کرتے تھے:
علمِ حقیقت (الٰہیات/عقائد): ذات و صفاتِ خداوندی کے مباحث۔
علمِ طریقت (اخلاق و تزکیہ): منجیات (نجات دینے والے اوصاف) اور مہلکات (ہلاک کرنے والے عیوب) کے مباحث۔
علمِ شریعتِ ظاہر: عملی و فرعی احکام (عبادات، معاملات، عقوبات) کے مباحث۔
امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی جامع تعریف:
«الْفِقْهُ مَعْرِفَةُ النَّفْسِ مَا لَهَا وَمَا عَلَيْهَا»
ترجمہ: انسان کے حق میں کیا چیز مفید (باعثِ نفع) ہے اور کیا مضر (باعثِ ضرر)، اس کی معرفت حاصل کرنا فقہ ہے۔
[نوٹ: امامِ اعظم علیہ الرحمہ کی تصنیف الفقه الأكبر اسی قدیم اور وسیع اصطلاحی مفہوم پر مبنی ہے]
علمِ کلام کا قیام اور فقہ کی تخصیص
اسلامی فتوحات کے پھیلنے اور یونانی فلسفے کے وارد ہونے کے بعد، عقائد و ایمانیات کی حفاظت کے لیے “علمِ کلام” مدون ہوا۔ اس کے بعد فقہ کا لفظ بنیادی طور پر “علمِ شریعتِ ظاہر” (عملی و فرعی احکام) کے لیے خاص ہو گیا۔
باطنی فقہ اور اوصافِ فقیہ (امام غزالی علیہ الرحمہ کا نقطۂ نظر)
حجت الاسلام امام غزالی رضی اللہ عنہ نے اپنی مایۂ ناز تصنیف إحياء علوم الدين میں واضح فرمایا کہ فقہ پر باطنی اخلاق اور طریقت کا اثر قائم رہنا چاہیے۔ ان کے نزدیک سچے فقیہ کے بنیادی اوصاف یہ ہیں:
-
دنیا کی طمع نہ رکھے اور آخرت کی کامیابی کی طرف ہمیشہ راغب رہے۔
-
دین میں کامل بصیرت رکھتا ہو اور طاعات و عبادات پر مداومت کرے۔
-
کسی حال میں مسلمانوں کی حق تلفی برداشت نہ کرے اور اجتماعی مفاد کو مقدم رکھے۔
-
نفس کی آفات کی باریکیوں سے واقف ہو اور عمل کو فاسد کرنے والی چیزوں کا ادراک رکھتا ہو۔
-
خلوت و جلوت، ہر حال میں دل پر خوفِ خداوندی غالب ہو۔
3۔ علمِ فقہ کا شرعی و قرآنی ماخذ
فقہ کوئی خود ساختہ یا من گھڑت علم نہیں، بلکہ اس کے اصول و فروع کی بنیادیں کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پیوست ہیں۔
قرآنی آیات
﴿فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ﴾ [سورۃ التوبة: 122]
ترجمہ: پس ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلتی تاکہ وہ دین میں فقہ (گہرا فہم) حاصل کرتے۔
﴿وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا﴾ [سورۃ البقرة: 269]
ترجمہ: اور جسے حکمت (تفقہ و بصیرت) عطا کی گئی، اسے خیرِ کثیر سے نواز دیا گیا۔
احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
صحیح بخاری:
«مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ» [صحيح البخاري]
ترجمہ: اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین میں تفقہ (فقہی بصیرت) عطا فرما دیتا ہے۔
مشکوٰۃ المصابیح (کتاب العلم):
«إِنَّ رِجَالًا يَأْتُونَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ يَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ فَإِذَا أَتَوْكُمْ فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ خَيْرًا» [مشكاة المصابيح]
ترجمہ: دنیا کے مختلف گوشوں سے لوگ تمہارے پاس آئیں گے تاکہ دین میں تفقہ حاصل کریں۔ جب وہ تمہارے پاس آئیں تو ان کے ساتھ خیر و بھلائی کا سلوک کرنا۔
4۔ فقہ کی ضرورت اور منکرین کا جواب
منکرین کا اعتراض
منکرینِ فقہ و تقلید کا دعویٰ ہے کہ ہمارے لیے صرف قرآن و حدیث کافی ہیں، اور ائمۂ مجتہدین کے تدوین کردہ فقہی مکاتب کی پیروی کرنا معاذ اللہ مستقل شریعت بنانے یا شرک کے مترادف ہے۔
علمی و عقلی جوابات
اطاعتِ اولوالامر کا صریح حکم:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ﴾ [سورۃ النساء: 59]
جمہور مفسرین کے نزدیک “اولوالامر” میں خلفاء کے ساتھ ساتھ فقہاء اور مجتہدین داخل ہیں، جن کی اطاعت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی تعبیر کی روشنی میں کی جاتی ہے۔
اہلِ علم سے رجوع کا حکم:
﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ [سورۃ الأنبياء: 7]
قرآن کا یہ عالمگیر اصول ہے کہ غیر ماہر انسان متعلقہ فن کے ماہرین سے رجوع کرے۔ عامۃ الناس کا ائمہ و فقہاء سے مسائل پوچھنا اور ان پر عمل کرنا اسی قرآنی ہدایت کا نام ہے۔
شارع اور شارح کا بنیادی فرق:
شارع (قانون ساز): صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
شارح (قانون کی تعبیر کرنے والے): ائمۂ مجتہدین قانون وضع نہیں کرتے بلکہ قرآن و حدیث کی نصوص سے جزئیات و مسائل کا استنباط اور تشریح کرتے ہیں۔
اصولِ فقہ کی استخراجی ضرورت:
قرآن و حدیث کے عام و خاص، ناسخ و منسوخ، اور مطلق و مقید کو سمجھے بغیر صحیح حکم تک پہنچنا ناممکن ہے۔ اصولِ فقہ وہ سائنسی ضوابط فراہم کرتا ہے جس کے بغیر قرآن و سنت کی روح کو سمجھنا ممکن نہیں۔
5۔ علمِ فقہ کے چار تاریخی ادوار
-
پہلا دور (عہدِ رسالت: بعثت تا 10ھ): حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود منبعِ احکام تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور دراز بھیجے جانے والے صحابہ (مثلاً حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ) کو نصوص نہ ملنے پر اجتہاد کی اجازت عطا فرمائی۔
-
دوسرا دور (عہدِ کبارِ صحابہ: 10ھ تا 40ھ): اسے “فقہِ صحابہ” کہا جاتا ہے۔ نئے درپیش مسائل پر خلفائے راشدین اور کبارِ صحابہ نے شوریٰ، اجماع اور سنت کی روشنی میں فیصلہ و اجتہاد فرمایا۔
-
تیسرا دور (صغارِ صحابہ و تابعین: 41ھ تا پہلی صدی): اسلام کے آفاقی پھیلاؤ کے ساتھ صحابہ و تابعین نے کوفہ، بصرہ، مدینہ اور شام میں علمی مراکز قائم کیے اور فتاویٰ کی تدوین کی بنیاد پڑی۔
-
چوتھا دور (تدوینِ فقہ و ائمہ مجتہدین): اس دور میں ائمۂ اربعہ (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل) نے اصول و قواعد کی روشنی میں فقہ کو باقاعدہ مدون و مرتب کیا۔
6۔ اہم شخصیات کا مختصر تعارف
صحابۂ کرام و ام المؤمنین
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ: دوسرے خلیفۂ راشد، جلیل القدر مجتہد، جن کی رائے کے مطابق متعدد قرآنی آیات نازل ہوئیں۔ 23ھ میں شہادت ہوئی۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ: تیسرے خلیفۂ راشد، ذو النورین، جن کے دور میں امت کو ایک مصحف (قرأتِ قریش) پر جمع کیا گیا۔ 35ھ میں شہید ہوئے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ: فقیہ الامت، کوفہ کے تعلیمی و فقہی مکتب فکر کے بانی اور قرآن و سنت کے عظیم شناسا۔ 32ھ / 33ھ میں وفات ہوئی۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ: یمن، بصرہ اور کوفہ کے عامل، جج اور حسنِ قرأت کے مالک۔ وفات 44ھ۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم، یمن کے قاضی۔ 18ھ (طاعونِ عمواس) میں وصال۔
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ: سید القراء، کاتبِ وحی اور انصاری مفتی۔ دورِ فاروقی/عثمانی میں وصال۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ: کاتبِ وحی، علمِ فرائض (میراث) اور فقہ کے امام، تدوینِ مصحف کے نگراں۔ وفات 45ھ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا: فتاویٰ و احادیث کا عظیم الشان سرچشمہ، کبارِ صحابہ بھی پیچیدہ مسائل میں آپ سے رجوع فرماتے تھے۔ وفات 58ھ۔
ائمہ و علماء
امامِ اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت علیہ الرحمہ (80ھ - 150ھ): فقہ حنفی کے بانی، تابعیت کا شرف حاصل، تدوینِ فقہ کی مجلسِ شوریٰ کے قائد۔ مشہور کتب: كتاب الآثار، مسند الإمام أبي حنيفة، الفقه الأكبر۔
امام ابو حامد محمد الغزالی علیہ الرحمہ (450ھ - 505ھ): حجت الاسلام، مفکر و مجدد۔ مشہور کتب: إحياء علوم الدين، كيمياء السعادة، تهافت الفلاسفة، المنقذ من الضلال۔
ابوالقاسم محمود بن عمر الزمخشری (1075ء - 1144ء): معروف لغوی و مفسر، مکہ مکرمہ میں طویل قیام کی بنا پر “جار اللہ” کا لقب پایا۔ مشہور تصنیف: تفسير الكشاف۔
خلاصۃ الکلام
علمِ فقہ کوئی خود ساختہ یا نیا قانون نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی روح اور اس کی حقیقی تعبیر و تشریح کا علمی نام ہے۔ ائمۂ مجتہدین شارع (قانون ساز) نہیں بلکہ شارح (قانون کی تعبیر کرنے والے) ہیں، جنہوں نے امت کو پیش آمدہ جدید حوادث و درپیش مسائل کا حل کتاب و سنت کے اصول و کلیات کی روشنی میں فراہم کیا۔
اس لیے تفقہ فی الدین حاصل کرنا اور فقہی رہنمائی پر عمل پیرا ہونا، اسلامی شریعت پر اس کی روح کے مطابق کاربند ہونے کا سب سے مستند اور محفوظ ذریعہ ہے۔
