سرکار ﷺ کی اپنی امت سے محبّت

سرکار ﷺ کی اپنی امت سے محبّت
عنوان: سرکار ﷺ کی اپنی امت سے محبّت
تحریر: محمد ریحان عطاری رضوی

اے عاشقان رسول! اللہ پاک کا کروڑہا کروڑ احسان کہ اس نے ہمیں مسلمان بنایا، مزید نور علیٰ نور یہ کہ اپنے پیارے حبیب صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی امّت میں پیدا فرماکر احسانِ عظیم فرمایا اور اپنے پیارے حبیب، نور والے آقا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاللَّهِ وَسَلم کا جشنِ ولادت منانے کی توفیق عطا فرمائی۔ اللہ پاک پارہ 4 سورۂ آلِ عمران آیت نمبر 164 میں ارشاد فرماتا ہے:

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝١٦٤

ترجمۂ کنز الایمان: بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔

رحمت و شفقت کے دریا بہا رہے ہیں

اس آیت مبارکہ کے تحت "صراط الجنان فی تفسیر القرآن" میں ہے: "مراد یہ ہے کہ اللہ پاک نے عظیم احسان فرمایا کہ انہیں اپنا سب سےعظیم رسول عطا فرمایا۔ کیا عظیم رسول عطا فرمایا کہ اپنی ولادتِ مبارکہ سے لے کر وفات شریف تک اور اس کے بعد کے تمام زمانے میں اپنی امت پر مسلسل رحمت و شفقت کے دریا بہا رہے ہیں۔ پیدائش کے وقت ہی آپ صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْهِ وَسَلَّم نے ہم امتّیوں کو یاد فرمایا، شبِ معراج بھی رَبُّ الْعَالَمِین کی بارگاہ میں یاد فرمایا، وفات شریف کے بعد قبرِ منور میں اتارتے ہوئے بھی دیکھا گیا تو حضور صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْهِ وَسَلَّم کے مبارک ہونٹوں پر امت کی نجات و بخشش کی دعائیں تھیں، راتوں میں جب ساری دنیا آرام کرتی، وہ رحمت والے حبیب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اپنا بسترِ پاک چھوڑ کر اللہ پاک کی بارگاہ میں ہم گناہگاروں کے لئے دعائیں فرمایا کرتے۔ قیامت کے دن سخت گرمی میں شدید پیاس کے وقت ربِ قہار کی بارگاہ میں ہمارے لئے سر سجدے میں رکھیں گے اور امت کی بخشش کی درخواست کریں گے۔ کہیں امتیوں کی نیکیوں کے پلڑے بھاری کریں گے، کہیں پلِ صراط سے سلامتی سے گزاریں گے، کہیں حوضِ کوثر سے سیراب کریں گے، کبھی جہنم میں گرے ہوئے امتیوں کو نکال رہے ہوں گے، کسی کے درجات بلند فرمارہے ہوں گے، خود روئیں گے ہمیں ہنسائیں گے، خود غمگین ہوں گے ہمیں خوشیاں عطا فرمائیں گے، اپنے نورانی انسوؤں سے امت کے گناہ دھوئیں گے، اِس نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دنیا میں ہمیں قرآن دیا، ایمان دیا، خدا کا عرفان (یعنی پہچان) دیا، اور ہزاروں وہ چیزیں جن کے ہم قابل نہ تھے اپنے سایہِ رحمت کے صدقے ہمیں عطا فرمائیں۔"[صراط الجنان، ۸۷/۲]

اللہ کیا جہنَّم اب بھی نہ سَرد ہوگا
رو رو کے مصطفٰے نے دریا بہا دیے ہیں

مختصر وضاحت: اس شعر میں اعلیٰ حضرت علیه الرحمہ ربِّ کریم کے پاک دربار میں عرض گزار ہیں: اے پروردگار! کیا جہنَّم کی آگ غلامانِ مصطفٰے کےحق میں اب بھی ٹھنڈی نہ ہوگی! میرے پیارے پیارے پروردگار! تیرے پیارے حبیب صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم اپنی اُمّت کی بخشش کیلئے دعائیں کرتے ہوئے اتنا روئے ہیں اتنا روئے ہیں، گویا رو رو کر دریا بہا دیے ہیں۔

اللہ پاک آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کی اپنی امت سے محبت و شفقت کو بیان کرتے ہوئے پارہ 11 سورہ توبہ کی ایت نمبر 128 میں ارشاد فرماتا ہے۔

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ ۝۱۲۸

تَرْجَمَۂ کنز العرفان: بیشک تمہارے پاس تم میں سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر بہت مہربان، رحمت فرمانے والے ہیں۔

بیان کردہ آیتِ مقدسہ کے تحت ”تفسیر صراط الجنان“ میں لکھا ہے: یہ تو قرآنِ مجید سے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی مسلمانوں پر رحمت و شفقت کا بیان ہوا، اب مسلمانوں پر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی رحمت و شفقت کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

اُمّت پر شفقت و رحمت کی چند مثالیں

(1) اُمّت کے کمزور، بیمار اور کام کاج کرنے والے لوگوں کی مَشَقَّت کے پیشِ نظر عشاء کی نماز کو تہائی رات تک مُؤَخَّر نہ فرمایا۔
(2) کمزور، بیماروں اور بچوں کا لحاظ کرتے ہوئے نماز کی قراءت کو زیادہ لمبا نہ کرنے کا حکم دیا۔
(3) رات کے نوافل پر ہمیشگی نہ فرمائی تاکہ یہ اُمّت پر فرض نہ ہو جائیں۔
(4) اُمّت کے مَشَقَّت میں پڑ جانے کی وجہ سے انہیں صومِ وصال کے روزے رکھنے سے منع کر دیا۔
(5) اُمّت کی مَشَقَّت کی وجہ سے ہر سال حج کو فرض نہ فرمایا۔
(6) مسلمانوں پر شفقت کرتے ہوئے طواف کے تین چکروں میں رَمل کا حکم دیا تمام چکروں میں نہیں دیا۔
(7) تاج

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!