| عنوان: | بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے، تو تم بھی اسے دشمن سمجھو! |
|---|---|
| تحریر: | محمد آزاد رضوی الطیبی |
تمہید
انسان کی زندگی خیر و شر، حق و باطل اور ہدایت و گمراہی کے درمیان ایک مسلسل کشمکش کا نام ہے۔ ایک طرف اللہ رب العزت اپنے بندوں کو ایمان، تقویٰ، نیکی اور صراطِ مستقیم کی طرف بلاتا ہے، جبکہ دوسری طرف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے ہر لمحہ گناہ، غفلت، خواہشاتِ نفسانی اور نافرمانی کے راستے پر ڈالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
شیطان کوئی معمولی دشمن نہیں، بلکہ وہ انسان کی کمزوریوں کو پہچانتا ہے، اس کی نفسانی خواہشات سے واقف ہے اور مختلف راستوں سے اسے دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے۔ کبھی وہ گناہ کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے، کبھی نیکی کو مشکل دکھاتا ہے، کبھی توبہ کو مؤخر کرواتا ہے اور کبھی انسان کو اس قدر غفلت میں مبتلا کر دیتا ہے کہ اسے اپنے انجام کی بھی خبر نہیں رہتی۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں انسان کو اپنے اس کھلے دشمن سے خبردار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا
ترجمہ: "بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے، تو تم بھی اسے دشمن سمجھو۔"
یہ آیتِ مبارکہ صرف ایک تنبیہ نہیں، بلکہ پوری انسانی زندگی کے لیے ایک عظیم رہنمائی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ خود شیطان کو ہمارا دشمن قرار دے رہا ہے تو ایک مومن کا فرض ہے کہ وہ اس کے مکر و فریب کو پہچانے اور اس سے بچنے کے تمام اسباب اختیار کرے۔
ہر مسلمان اور خصوصاً ہر مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ علماء، اولیاء، صالحین اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرے، ان کے نصائح سے فائدہ اٹھائے اور قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرے، تاکہ شیطان اور نفس کے فریب سے محفوظ رہ سکے۔
انسانی قلب اور شیطان کی لشکر کشی
انسانی دل کی مثال ایک ایسے محفوظ قلعے کی ہے جس پر شیطان ہر وقت قبضہ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ جس طرح کوئی دشمن قلعے میں داخل ہونے کے لیے اس کے دروازوں اور کمزور راستوں کی تلاش کرتا ہے، اسی طرح شیطان بھی انسان کے دل میں داخل ہونے کے لیے مختلف راستے تلاش کرتا ہے۔
جب انسان غفلت، خواہشات اور گناہوں کے دروازے کھلے چھوڑ دیتا ہے تو شیطان انہی راستوں سے اس کے قلب میں داخل ہو جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اسے راہِ حق سے دور کرنے لگتا ہے۔
غضب اور شہوت: غصہ اور شہوت شیطان کے بڑے ہتھیاروں میں سے ہیں۔ غصہ انسان کی عقل کو کمزور کر دیتا ہے اور جب عقل ماند پڑ جاتی ہے تو انسان صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ اسی لمحے شیطانی لشکر انسان پر حملہ آور ہوتا ہے اور وہ ایسے کام کر بیٹھتا ہے جن پر بعد میں اسے شدید ندامت ہوتی ہے۔ اسی طرح بے لگام شہوت انسان کو گناہوں کی ایسی دلدل میں دھکیل دیتی ہے جہاں سے نکلنا دشوار ہو جاتا ہے۔
پیٹ کا بھرا ہونا: ضرورت سے زیادہ کھانا انسان کے جسم کو سست اور دل کو غافل کر دیتا ہے۔ پیٹ بھر کر کھانے سے انسان میں عبادت کی رغبت کم اور آرام و راحت کی خواہش زیادہ ہو جاتی ہے۔ ایسا شخص نماز، ذکر، تلاوت اور دیگر نیکیوں میں سستی محسوس کرنے لگتا ہے، اور یہی غفلت شیطان کے لیے انسان پر حملہ کرنے کا بہترین موقع بن جاتی ہے۔
حرص اور طمع: حرص اور لالچ انسان کی بصیرت کو ختم کر دیتے ہیں۔ جب انسان دنیا کی لالچ میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ طمع انسان کو اندھا اور بہرا کر دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ برائیوں کو بھی خوبصورت سمجھ کر قبول کر لیتا ہے اور اسے اپنی گمراہی کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
طویل امیدیں: لمبی لمبی امیدیں اور دنیاوی منصوبے انسان کو توبہ اور آخرت کی تیاری سے غافل کر دیتے ہیں۔ شیطان انسان کے دل میں یہ خیال پیدا کرتا ہے کہ ابھی بہت زندگی باقی ہے، ابھی توبہ کر لیں گے، ابھی نماز کی پابندی شروع کر لیں گے اور ابھی نیک بن جائیں گے۔ مگر موت کسی کو مہلت دے کر نہیں آتی، اور بہت سے لوگ اسی غفلت میں دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔
مال و متاع کی شیفتگی: دنیا کا مال، جاہ و منصب، خوبصورتی اور آسائشیں بھی شیطان کے بڑے ہتھیار ہیں۔ جب انسان دنیا کی چمک دمک میں گم ہو جاتا ہے تو آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے دور ہو جاتا ہے۔ اس کی ساری فکر مال جمع کرنے، شہرت حاصل کرنے اور دنیاوی مقام بنانے میں لگ جاتی ہے، حالانکہ دنیا عارضی ہے اور اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔
مسلمانوں کے بارے میں بدگمانی: دوسروں کے عیوب تلاش کرنا، ان کے بارے میں بدگمانی کرنا اور ان کی خامیوں کو پھیلانا بھی شیطان کے بڑے حملوں میں سے ہے۔ شیطان انسان کو دوسروں کے عیوب میں اس قدر مشغول کر دیتا ہے کہ وہ اپنی اصلاح سے غافل ہو جاتا ہے۔ ایک مومن کا کام دوسروں کی برائیاں تلاش کرنا نہیں، بلکہ پہلے اپنی اصلاح کرنا اور پھر حکمت و خیرخواہی کے ساتھ دوسروں کی بھلائی کی کوشش کرنا ہے۔
انبیاء علیہم السلام کے واقعات اور نصیحت آموز روایات
انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات اور بزرگانِ دین کے ارشادات میں شیطان کے مکر و فریب کے بارے میں بہت سی عبرت آموز باتیں ملتی ہیں، جن سے انسان کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ شیطان کس طرح مختلف راستوں سے انسان کو دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام اور ابلیس: روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی کشتی میں جانوروں کو سوار کر لیا تو ابلیس بھی چھپ کر کشتی میں داخل ہو گیا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے جب اسے دیکھا تو فرمایا کہ تم یہاں کیسے آئے؟ اس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میں انسانوں کے دلوں کو گمراہ کرنے کے لیے دو بنیادی ہتھیار استعمال کرتا ہوں: حسد اور حرص۔ حسد ہی کی وجہ سے میں راندۂ درگاہ ہوا اور ملعون ٹھہرا، اور حرص کے ذریعے ہی میں انسان کو حق سے دور کرتا ہوں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ حسد اور حرص انسان کو تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور شیطانی وسوسے: روایات میں ملتا ہے کہ ایک مرتبہ شیطان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سامنے ظاہر ہوا اور اس کے پاس انسانی نفس کو پھنسانے کے متعدد فریب اور حیلے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے عمل اور زہد سے اس کے تمام حیلوں کو باطل ثابت کر کے دنیا کے سامنے یہ واضح فرمایا کہ جو شخص اللہ کی معرفت اور کامل زہد اختیار کرتا ہے، شیطان کا کوئی بھی فریب اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت اور شیطان کی بوکھلاہٹ: روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت باسیادت ہوئی تو تمام باطل بت سرنگوں ہو گئے اور ابلیس اپنے لشکریوں کے ساتھ سخت پریشان ہوا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اب انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے ان کی جلد بازی، غفلت اور بے احتیاطی کے لمحات سے فائدہ اٹھاؤ۔ معلوم ہوا کہ انسان کی جلد بازی اور غفلت ہی شیطان کا سب سے بڑا موقع بنتی ہے۔
اکابرین اور اولیاء کے ارشادات
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ہمارے سامنے ایک سیدھی لکیر کھینچی اور فرمایا: "یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے۔" پھر آپ ﷺ نے اس سیدھی لکیر کے دائیں اور بائیں بہت سی لکیریں کھینچیں اور فرمایا: "یہ مختلف راستے ہیں اور ہر راستے پر ایک شیطان بیٹھا ہے جو انسانوں کو اپنی طرف بلاتا ہے۔" یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ حق کا راستہ ایک ہے، جبکہ گمراہی کے راستے بے شمار ہیں۔
حضرت ثابت البنانی رحمہ اللہ کا قول: حضرت ثابت البنانی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جب حضور نبی کریم ﷺ مبعوث ہوئے تو شیطان نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو ایمان سے نہیں پھیر سکتے، لیکن آنے والے لوگ دنیا اور اموال کی محبت میں مبتلا ہو جائیں گے اور یہی ان کی گمراہی کا سبب بنے گا۔ یہ بات آج کے دور میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے، کیونکہ دنیا اور مال کی محبت انسان کو آہستہ آہستہ اپنے اصل مقصد سے دور کر دیتی ہے۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا قول: حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ شیطان نے کہا: "میں نے امتِ محمدیہ کو گناہوں میں مبتلا کیا، مگر انہوں نے استغفار کے ذریعے مجھے شکست دے دی۔ تب میں نے انہیں ایسی خواہشاتِ نفسانی اور بدعتوں میں مبتلا کر دیا جن پر وہ استغفار بھی نہیں کرتے (کیونکہ وہ اسے برائی ہی نہیں سمجھتے)۔" یہ قول ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ گناہ کے بعد توبہ کی توفیق مل جائے تو انسان بچ جاتا ہے، لیکن سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ انسان گناہ یا گمراہی کو نیکی یا معقول کام سمجھنے لگے۔
بنی اسرائیل کے زاہد کا عبرت ناک انجام: بنی اسرائیل کے ایک عبادت گزار شخص (برصیصا) کا واقعہ بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں انتہائی عبرت ناک ہے۔ شیطان نے اسے بتدریج اور قدم بہ قدم گمراہ کیا۔ پہلے معمولی وسوسوں کے ذریعے قریب کیا، پھر گناہِ عظیم میں مبتلا کیا، پھر رسوائی کے خوف کے ذریعے قتل جیسے سنگین جرم تک پہنچایا اور آخر میں جان بچانے کے جھوٹے وعدے پر اس سے شرک و سجدہ کروا کر خود الگ ہو گیا۔ یہ واقعہ اس بات کا درس دیتا ہے کہ شیطان انسان کو یکبارگی بڑے گناہ میں نہیں ڈالتا، بلکہ چھوٹے گناہوں اور قدم بہ قدم وسوسوں کے ذریعے تباہی کے غار میں دھکیلتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ اور شیطانی وسوسہ: ایک مرتبہ ایک شیطانی وسوسے اور پیچیدہ سوال کے ذریعے عقیدۂ عدل الٰہی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی کہ "اللہ اگر اپنے بندے کے ساتھ جو چاہے کرے تو اس کی حقیقت کیا ہے؟" امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنے علم اور حکمت سے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ملکیت کا مطلق مالک ہے۔ جو اپنی ملکیت میں تصرف کرے، اس پر ظلم کا اطلاق نہیں ہوتا، بلکہ اس کا ہر فعل عینِ عدل اور حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔ اس جواب نے شیطانی وسوسے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔
شیطان سے بچنے کے اہم ذرائع
ان واقعات اور ارشادات کی روشنی میں ہمیں اپنی زندگی میں درج ذیل تدابیر اختیار کرنی چاہئیں:
1۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر: جو دل اللہ کے ذکر سے آباد رہتا ہے، وہاں شیطانی وسوسوں کی گنجائش نہیں رہتی۔
2۔ نماز کی پابندی: نماز مومن کی معراج اور شیطان کے حملوں کے خلاف مضبوط ترین ڈھال ہے۔
3۔ توبہ اور استغفار: استغفار شیطان کے وار کو ناکام بنانے کا سب سے کاری ہتھیار ہے۔
4۔ نیک لوگوں کی صحبت: علماء اور صالحین کی صحبت انسان کو حق پر قائم رکھتی ہے۔
5۔ قرآنِ مجید سے تعلق: قرآنِ کریم نور اور ہدایت ہے جو حق و باطل کے درمیان تمیز سکھاتا ہے۔
6۔ خواہشاتِ نفسانی پر قابو: عقل اور شریعت کو اپنے نفس پر حاکم بنانا شیطانی تسلط سے بچاتا ہے۔
7۔ دنیا کی حقیقت کو سمجھنا: دنیا کو محض ضرورت اور آخرت کی کھیتی سمجھ کر زندگی گزارنا۔
حاصلِ کلام
شیطان انسان کا کھلا اور قدیم دشمن ہے۔ اس نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے اور وہ ہر انسان کو اس کی کمزوری کے مطابق دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے۔ کسی کو مال کے ذریعے، کسی کو شہوت، کسی کو غصے، کسی کو حسد اور کسی کو دنیاوی جاہ و حشم کے ذریعے گمراہ کرتا ہے۔
لہٰذا عقلمند مومن وہی ہے جو اپنے دشمن کو پہچانے، اس کے حملوں سے باخبر رہے اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا رہے۔ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار غفلت ہے، جبکہ مومن کا سب سے بڑا ہتھیار ایمان، علم، ذکر، نماز، توبہ، استغفار اور توکل علی اللہ ہے۔
دعائیہ کلمات
اے اللہ رب العزت! ہم تیرے کمزور بندے ہیں اور تو ہی سب سے زیادہ طاقت والا ہے۔ یا اللہ! ہمیں شیطان کے شر، اس کے مکر و فریب، غلیظ وسوسوں اور اس کے تمام حملوں سے محفوظ فرما۔ یا اللہ! ہمارے دلوں کو ایمان کے نور سے روشن فرما۔ ہمیں غفلت، حسد، حرص، طمع، تکبر، شہوت اور دنیا کی بے جا محبت سے محفوظ فرما۔ یا اللہ! ہمیں نیک لوگوں کی صحبت نصیب فرما، علماء و صالحین کے فیوض و برکات سے مالامال فرما اور قرآن و سنت کے راستے پر ثابت قدم رکھ۔ اے اللہ! ہمیں سچی توبہ، کثرتِ استغفار اور اپنی کامل اطاعت کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں صراطِ مستقیم پر قائم رکھ، دنیا و آخرت کی سعادتیں نصیب فرما اور دونوں جہانوں میں کامیابی عطا فرما۔
آمين بجاہ سید المرسلین، خاتم النبیین، رحمة للعالمین، حضور نبی کریم ﷺ
