| عنوان: | امام احمد رضا خان: عشق رسول، علم و عرفان اور احیائے سنت کا روشن باب (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | سرفراز احمد قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی |
تمہید، ولادت، نسب، والد ماجد اور ابتدائی تعلیم و تربیت
اسلام کی تاریخ میں وقتاً فوقتاً ایسی عظیم شخصیات جلوہ گر ہوتی رہی ہیں جنہوں نے اپنے علم، عمل، تقوی، بصیرت اور اخلاص کے ذریعے امت مسلمہ کی صحیح رہنمائی کی، باطل افکار کا تعاقب کیا اور دین اسلام کی اصل تعلیمات کو عام کیا۔ یہ نفوس قدسیہ اپنے زمانے کے فتنوں کا مقابلہ صرف قوت استدلال سے نہیں بلکہ اپنے کردار، تقوی اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت بھی کرتے ہیں۔ ان ہی عبقری شخصیات میں ایک عظیم نام امام اہل سنت، مجدد دین و ملت، عاشق رسول، عظیم فقیہ، محدث، مفسر، متکلم، محقق، مفتی اور مجدد امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کا ہے۔
آپ نے ایسے نازک دور میں آنکھ کھولی جب برصغیر میں مذہبی انتشار، فکری گمراہی اور نئے نئے باطل فرقے مسلمانوں کے عقائد و اعمال پر حملہ آور تھے۔ ایک طرف انگریزی استعمار اپنی سیاسی چالوں سے مسلمانوں کی دینی شناخت کمزور کرنے میں مصروف تھا تو دوسری طرف مختلف باطل تحریکیں عوام کے عقائد میں شکوک و شبہات پیدا کر رہی تھیں۔ ایسے ماحول میں اللہ تعالیٰ نے امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کو امت کی رہنمائی کے لیے منتخب فرمایا۔ آپ نے اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کی خدمت، عقائد اہل سنت کے تحفظ، احیائے سنت، رد بدعت، فقہ اسلامی کی اشاعت اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فروغ میں وقف کر دی۔
آپ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ آپ صرف ایک فقیہ یا محدث نہیں تھے بلکہ علم و عرفان، تحقیق، تصنیف، افتا، روحانیت، شاعری، مناظرہ، ریاضی، ہیئت، علم توقیت اور متعدد علوم و فنون میں یگانہ روزگار تھے۔ آپ کی علمی خدمات آج بھی عالم اسلام کے لیے مشعل راہ ہیں اور آپ کی تصانیف ہر دور میں اہل علم کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ بنی ہوئی ہیں۔
ولادت باسعادت
اللہ تعالیٰ نے امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کو ایسے علمی و روحانی خاندان میں پیدا فرمایا جس کی بنیاد ہی دین اسلام کی خدمت پر قائم تھی۔ آپ کی ولادت بریلی شریف کے محلہ جسولی میں 10 شوال 1272ھ بروز ہفتہ بوقت ظہر مطابق 14 جون 1856ء کو ہوئی۔ سِن پیدائش کے اعتبار سے آپ کا تاریخی نام المختار نکالا گیا، جبکہ آپ کا اصل نام محمد رکھا گیا۔ بعد ازاں آپ کے دادا حضرت مولانا رضا علی خان رحمہ اللہ نے محبت سے احمد رضا کہہ کر پکارا، اور یہی نام پورے عالم اسلام میں آپ کی شناخت بن گیا۔ [حیات اعلی حضرت، ج: 1، ص: 58، مکتبۃ المدینہ، باب المدینہ]
ولادت ہی سے آپ کی زندگی میں غیر معمولی آثار نمایاں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی فطری ذہانت، پاکیزہ طبیعت اور دینی ذوق عطا فرمایا جو آگے چل کر پوری امت کے لیے باعث خیر و برکت ثابت ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے کم عمری ہی میں علم و فضل کی وہ منزلیں طے کر لیں جن تک عام اہل علم پوری عمر میں بھی نہیں پہنچ پاتے۔
نسب اور خاندانی پس منظر
امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کا خاندان علم، تقوی، زہد اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا گہوارہ تھا۔ آپ کا نسب افغانستان کے مشہور قبیلہ بڑہیچ سے جا ملتا ہے، جو قیس عبدالرشید رضی اللہ عنه کی اولاد میں شمار ہوتا ہے۔ روایت کے مطابق قیس عبدالرشید وہ خوش نصیب صحابی ہیں جنہیں بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اسی نسبت سے امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کا خاندان دینی غیرت، شجاعت اور خدمت اسلام میں ممتاز رہا۔ [شاہ احمد رضا خان بڑیچ افغانی از قلم محمد اکبر اعوان، ص: 35]
یہی پاکیزہ خاندانی ماحول آگے چل کر امام احمد رضا کی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، جہاں علم بھی تھا، عمل بھی، عشق رسول بھی تھا اور اتباع سنت کا بے مثال جذبہ بھی۔
والد ماجد حضرت مولانا شاہ نقی علی خان
امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے والد گرامی رئیس الاتقیا حضرت مولانا شاہ نقی علی خان رحمہ اللہ اپنے زمانے کے جلیل القدر عالم، صاحب تصنیف، صاحب تقوی اور سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ آپ یکم رجب 1246ھ مطابق 1830ء میں بریلی شریف میں حضرت مولانا رضا علی خان کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اور کم عمری ہی میں علوم دینیہ پر کامل دسترس حاصل کر لی۔ [تذکرہ علمائے ہند، ص: 449]
حضرت شاہ نقی علی خان نے اپنی پوری زندگی سنت رسول کی اشاعت، بدعات کے رد اور مسلمانوں کی دینی رہنمائی میں صرف کی۔ آپ شجاعت، سخاوت، تواضع، قناعت، استغنا اور بلند ہمتی جیسی صفات سے آراستہ تھے۔ دنیاوی جاہ و منصب سے بے نیاز رہ کر صرف دین کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔
امام احمد رضا علیہ الرحمہ اپنے والد گرامی کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان کی فراست، دور اندیشی، سخاوت، شجاعت، صدقات خفیہ، فقراء سے محبت، حکام سے بے نیازی اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل قابل رشک تھا۔ آپ کے اخلاق و کردار نے ہزاروں لوگوں کو متاثر کیا۔ [حیات اعلی حضرت از مولانا ظفر الدین بہاری، ص: 65]
حضرت شاہ نقی علی خان کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت تھی۔ ایک مرتبہ سخت بیمار ہوئے تو خواب میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالے میں دوا عطا فرمائی، جس کے پینے کے بعد صحت یاب ہو گئے۔ یہ واقعہ آپ کے عشق رسول اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت کا روشن ثبوت ہے۔ [مولانا نقی علی خان از شہاب الدین رضوی، ص: 37]
ابتدائی تعلیم و تربیت
امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی ابتدائی تعلیم گھر ہی میں والد گرامی کی نگرانی میں شروع ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی حافظہ، بے مثال ذہانت اور فطری صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ کم عمری ہی سے آپ کی توجہ دینی علوم کی طرف تھی اور معمولی سے معمولی علمی نکتے کو بھی فوراً سمجھ لیتے تھے۔
اساتذہ اور اہل خانہ نے جلد ہی محسوس کر لیا کہ یہ بچہ عام بچوں کی طرح نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے۔ آپ کے والد گرامی نے بھی آپ کی ذہانت کو دیکھتے ہوئے خصوصی توجہ دی، جس کے نتیجے میں آپ نے مختصر مدت میں مختلف علوم پر غیر معمولی عبور حاصل کر لیا۔
آپ کے بچپن کا ایک حیرت انگیز واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم پڑھاتے وقت استاد ایک لفظ کو زبر کے ساتھ پڑھاتے تھے جبکہ آپ کی زبان سے بار بار زیر نکلتی تھی۔ جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ قرآن مجید کے نسخے میں کاتب سے کتابت کی غلطی ہو گئی تھی، اور صحیح قراءت وہی تھی جو امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی زبان سے ادا ہو رہی تھی۔ اس واقعے نے استاد کو بھی حیرت میں ڈال دیا اور وہ آپ کی غیر معمولی ذہانت کے معترف ہو گئے۔ [حیات اعلی حضرت، ج: 1، ص: 68، مکتبۃ المدینہ، باب المدینہ]
اسی غیر معمولی ذہانت، پاکیزہ فطرت اور دینی تربیت نے آگے چل کر امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کو وہ عظیم مقام عطا کیا جہاں آپ صرف برصغیر ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کے مسلمہ امام، محقق، فقیہ اور مجدد اعظم کی حیثیت سے پہچانے گئے۔
ان شاء اللہ الرحمن، اگلی قسط میں فقیر قادری امجدی امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی حیات مبارکہ کے ان روشن پہلوؤں کو قلم بند کرے گا جو آپ کے بچپن کے تقوی، عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم، عبادت و زہد، حسن اخلاق، پاکیزہ عادات، اتباع سنت، شریعت کی غیر متزلزل پاسداری اور بلند کردار کا آئینہ دار ہیں، تاکہ قارئین آپ کی ہمہ جہت شخصیت کے مزید درخشاں نقوش سے روشناس ہو سکیں۔
