| عنوان: | ایصالِ ثواب اور فاتحہ کی شرعی حیثیت و آسان طریقہ |
|---|---|
| تحریر: | محمد آزاد رضوی الطیبی |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تمہید
اسلام ایک ایسا کامل اور سراپا رحمت دین ہے جو انسان کو نہ صرف زندگی میں ایک دوسرے کا خیرخواہ بناتا ہے، بلکہ دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد بھی باہمی تعلق، محبت اور احسان کا سلسلہ منقطع نہیں ہونے دیتا۔ جب کوئی مومن اس دارِ فانی سے کوچ کر جاتا ہے، تو اس کے عمل کا دفتر بظاہر بند ہو جاتا ہے، لیکن زندوں کی دعائیں، استغفار اور صدقہ و خیرات اس کے لیے درجات کی بلندی اور مغفرت کا باعث بنتے ہیں۔
اہلِ سنت والجماعت کا یہ متفقہ عقیدہ اور معمول رہا ہے کہ قرآن خوانی، درود و سلام، اور صدقہ و طعام کے ذریعے اپنے مرحومین، بالخصوص اولیائے کرام، صحابہ کرام اور والدین کو ثواب پہنچایا جائے، جسے عرفِ عام میں "ایصالِ ثواب" یا "فاتحہ و نیاز" کہا جاتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں اس مستحسن عمل کی شرعی حیثیت، بزرگانِ دین کے اقوال اور فاتحہ کا آسان طریقہ دلائل کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔
۱۔ حدیثِ پاک کی روشنی میں ایصالِ ثواب کی اصل
ایصالِ ثواب کی اصل سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور طریقۂ صحابہ کرام سے ثابت ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے:
عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ، فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْمَاءُ»، فَحَفَرَ بِئْرًا وَقَالَ: هٰذِهِ لِأُمِّ سَعْدٍ. (رواہ ابو داؤد والنسائی)
ترجمہ: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کیا: "یا رسول اللہ! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے لیے کون سا صدقہ افضل ہے؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پانی۔" چنانچہ انہوں نے ایک کنواں کھدوایا اور فرمایا: "یہ سعد کی ماں کے لیے ہے۔"
اس حدیثِ مبارکہ سے حاصل ہونے والے نکات:
• میت کو ثواب پہنچانا: صحابیِ رسول کا اپنی والدہ کے لیے کنواں کھدوا کر ثواب بخشنا ثابت کرتا ہے کہ زندوں کے عمل کا ثواب مردوں کو پہنچتا ہے۔
• زبانی الفاظ سے ثواب کی تخصیص: کنواں کھودنے کے بعد زبانی طور پر کہنا کہ "یہ سعد کی ماں کے لیے ہے" صحابی کی سنت ہے، جس سے معلوم ہوا کہ فاتحہ میں زبان سے نیت یا ایصال کے الفاظ کہنا مستحسن ہے۔
• کھانا یا شیرینی سامنے رکھنا: حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اشارۂ قریب کے لیے "ھٰذِہِ" (یہ) کا لفظ استعمال فرمایا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ صدقہ یا کھانا سامنے رکھ کر ثواب ایصال کرنا جائز ہے۔
• غریبوں کو کھلانے سے پہلے ثواب بخشنا: کھانا یا پانی تیار ہوتے ہی، استعمال سے پہلے ثواب کی نیت کر لینا سنتِ صحابہ ہے۔
۲۔ درمختار اور ردّالمحتار (شامی) کی روشنی میں قرات کا ثواب
فقہِ حنفی کی معتبر کتاب درمختار (بحث قرأة للمیت) میں حدیثِ پاک نقل ہے:
مَنْ قَرَأَ الإِخْلَاصَ أَحَدَ عَشَرَ مَرَّةً ثُمَّ وَهَبَ أَجْرَهَا لِلْأَمْوَاتِ أُعْطِيَ مِنَ الأَجْرِ بِعَدَدِ الأَمْوَاتِ
ترجمہ: جو شخص گیارہ بار سورۂ اخلاص پڑھ کر اس کا ثواب مردوں کو بخشے، تو اسے تمام مردوں کی تعداد کے برابر ثواب ملتا ہے۔
اسی طرح ردّالمحتار (شرح الدر المختار) میں ہے کہ انسان جو کچھ قرآن مجید سے پڑھے (مثلاً: سورۂ فاتحہ، سورۂ بقرہ کی ابتدائی و آخری آیات، آیۃ الکرسی، سورۂ یٰسین، سورۂ ملک، سورۂ تکاثر، یا سورۂ اخلاص ۳، ۷، ۱۱ یا ۱۲ بار) اور پڑھ کر بارگاہِ الٰہی میں دعا کرے: "اے اللہ! جو کچھ میں نے پڑھا اس کا ثواب فلاں (یا تمام مومنین) کو پہنچا دے" تو ثواب پہنچ جاتا ہے۔
۳۔ اکابرینِ امت اور علمائے دیوبند کا اعتراف
فاتحہ و ایصالِ ثواب صرف عوامی معمول نہیں بلکہ اکابر محدثین اور فقہاء کا طریقہ رہا ہے:
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ:
فتاویٰ عزیزیہ (جلد ۱، صفحہ ۸) میں فرماتے ہیں: "جو کھانا حضرت حسنین کریمین رضی اللہ عنہما یا دیگر بزرگانِ دین کی نیاز کے لیے بنایا جائے، اس پر فاتحہ، قل اور درود شریف پڑھنا باعثِ برکت اور بہت اچھا عمل ہے۔" مزید فرماتے ہیں (صفحہ ۵۰): "اگر مالیدہ یا چاولوں کی کھیر کسی بزرگ کے فاتحہ و ایصالِ ثواب کے لیے پکا کر کھلائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، بالکل جائز ہے۔"
حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ:
فیصلہ ہفت مسئلہ (صفحہ ۶ و ۷) میں رقمطراز ہیں: "گیارھویں شریف حضرت غوثِ پاک قدس سرہٗ، بیسواں، چہلم، ششماہی، سالانہ عرس، اور توشہ حضرت شیخ احمد عبدالحق رودولوی رحمہ اللہ، نیز حلوائے شبِ برائت، یہ سب اسی قاعدہ ایصالِ ثواب پر مبنی ہیں... اور فیصلہ کر دیا کہ فاتحہ و نیاز کی مروجہ صورتیں جائز ہیں۔ اب بھی جو ان باتوں کو ناجائز کہے وہ ہٹ دھرمی ہے!"
۴۔ فاتحہ کا آسان اور مسنون طریقہ
اگر گھر میں یا کسی مجلس میں فاتحہ دلانی ہو تو اس کا آسان اور بہترین طریقہ درج ذیل ہے:
• ابتداء: پہلے ۳، ۵ یا ۷ بار درود شریف پڑھیں۔
• تلاوت:
- ایک بار سورۂ فاتحہ (الحمد للہ رب العالمین...)
- ایک بار سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات (الم ذٰلِکَ الْکِتٰبُ... سے مُفْلِحُوْنَ تک)
- چاروں قل (سورۂ کافرون، سورۂ اخلاص، سورۂ الفلق، سورۂ الناس) یا کم از کم تین/گیارہ بار سورۂ اخلاص پڑھیں۔
• انتہاء: آخیر میں پھر ۳، ۵ یا ۷ بار درود شریف پڑھیں۔
• دعا و ایصالِ ثواب: ہاتھ اٹھا کر بارگاہِ الٰہی میں اس طرح عرض کریں:
"یا اللہ! ہم نے جو کچھ درود شریف، قرآن مجید کی آیات پڑھیں اور (اگر کھانا یا شیرینی ہو تو کہیں:) اس کھانے/شیرینی کا ثواب، ہماری جانب سے حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں نذر پہنچا۔ آپ کے وسیلے سے جملہ انبیاءِ کرام، صحابۂ کرام، اولیائے عظام، خصوصاً حضرت غوثِ پاک رضی اللہ عنہ، اور تمام مومنین و مومنات کی ارواح کو عطا فرما۔ (اور جن مخصوص مرحومین یا والدین کے لیے فاتحہ ہو ان کا نام لے کر کہیں:) بالخصوص ہمارے والدین/مرحومین کی ارواح کو ثواب پہنچا دے۔"
خلاصۂ کلام
فاتحہ و ایصالِ ثواب ایک نہایت مبارک، مسنون اور باعثِ برکت عمل ہے۔ اس سے نہ صرف مرحومین کو ایصالِ ثواب کی صورت میں تحفہ پہنچتا ہے بلکہ زندہ انسان کے لیے بھی اجر و ثواب اور برکت کا ذریعہ بنتا ہے۔ قرآن و حدیث اور ائمۂ دین کے ارشادات سے اس کا مستحسن ہونا روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔
دعائیہ کلمات
اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔
یا رب العالمین! ہمارے تمام نیک اعمال، تلاوتِ قرآن، اور صدقات و خیرات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما، ہمارے مرحومین کی کامل مغفرت فرما اور ہمیں اپنے محبوبین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔
تمت بالخیر
(بعونہ تعالیٰ ثم بعون رسولہ الاعمل وصلی اللہ تبارک و تعالیٰ علیہ وسلم)
