| عنوان: | بزرگوں کے ہاتھ پاؤں چومنے کا شرعی و تحقیقی ثبوت |
|---|---|
| تحریر: | محمد آزاد رضوی الطیبی |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تمہید
اسلامی شریعت اور اخلاقیات میں علماء، اولیاء اور صلحاء کا احترام و اکرام دینِ اسلام کا ایک بنیادی اور حسنِ معاشرت کا اہم جزء ہے۔ علماء اور صلحاء کی تعظیم دراصل ان کے علم، تقویٰ اور دینی خدمات کی تعظیم ہے۔ علمائے امت اور بزرگانِ دین کے ہاتھ اور پاؤں کا بوسہ لینا (تقبیلِ ید و رجل) اہلِ سنت و الجماعت کے ہاں نہ صرف جائز و مستحب بلکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کا طریقہ اور مبارک سنت سے ثابت ہے۔ ذیل میں احادیثِ مبارکہ اور معتبر فتاویٰ کی روشنی میں اس بات کو روزِ روشن کی طرح واضح اور ثابت کیا گیا ہے۔
احادیثِ مبارکہ سے ثبوت
بزرگوں اور علماء کے ہاتھ پاؤں چومنے کو ناجائز یا ممنوع کہنا جہالت اور نادانی پر مبنی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک اور پائے اقدس کے بوسے لیے ہیں، جو اس کے جواز کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
حدیث شریف میں حضرت زارع رضی اللہ تعالی عنہ (جو وفدِ عبد القیس میں شامل تھے) بیان فرماتے ہیں:
عَنْ زَارِعٍ وَّكَانَ فِيْ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِيْنَةَ فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَّوَاحِلِنَا فَنُقَبِّلُ يَدَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَهُ۔
ترجمہ: حضرت زارع رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو وفدِ عبد القیس میں شامل تھے، وہ فرماتے ہیں کہ جب ہم مدینہ میں آئے تو جلد سے جلد اپنی سواریوں سے اتر پڑے اور ہم نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ہاتھ اور پاؤں کا بوسہ لیا۔ (سنن ابوداؤد؛ مشکوٰۃ، ص ۴۰۲)
محدثین کا استدلال:
اس حدیثِ پاک کے تحت شیخ المحققین حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ تحریر فرماتے ہیں:
"ازیں جا تجویزِ پائے بوس معلوم شد" (اشعۃ اللمعات، جلد ۴، ص ۲۵)
ترجمہ: اس حدیث شریف سے پاؤں چومنے کا جائز ہونا ثابت ہوا۔
فقہائے کرام اور معتبر کتبِ فتاویٰ کے ارشادات
علمائے فقہ نے برکت، علم اور تقویٰ کی بنیاد پر دست بوسی اور قدم بوسی کے جواز و استحباب کو صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے:
درِ مختار:
علامہ ابن عابدین حصکفی رحمہ اللہ درِ مختار (باب الاستبراء) میں تحریر فرماتے ہیں:
لاَ بَأْسَ بِتَقْبِيْلِ يَدِ الرَّجُلِ الْعَالِمِ وَالْمُتَوَرِّعِ عَلَى سَبِيْلِ التَّبَرُّكِ۔
ترجمہ: برکت کے لیے عالم اور پرہیزگار آدمی کا ہاتھ چومنا جائز ہے۔
فتاویٰ عالمگیری:
فتاویٰ عالمگیری (جلد اول مصری، ص ۳۲۱) میں درج ہے:
إِنْ قَبَّلَ يَدَ عَالِمٍ أَوْ سُلْطَانٍ عَادِلٍ لِعِلْمِهِ أَوْ عَدْلِهِ لاَ بَأْسَ بِهِ۔
ترجمہ: اگر علم اور عدل کی وجہ سے عالم اور عادل بادشاہ کے ہاتھ چومے تو جائز ہے۔
اشعۃ اللمعات:
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ اشعۃ اللمعات (جلد ۴، ص ۲۱) میں تحریر فرماتے ہیں:
پرہیزگار عالم کے ہاتھ
