| عنوان: | حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت خاتم النبیین |
|---|---|
| تحریر: | سرفراز احمد قادری امجدی |
سب سے اوّل سب سے آخر
سب سے اوّل سب سے آخر، ابتدا ہو انتہا ہو
تھے وسیلے سب نبی، تم اصل مقصود ہدیٰ ہو
سب تمہاری ہی خبر تھے، تم مؤخر مبتدا ہو
قرب حق کی منزلیں تھے، تم سفر کا منتہا ہو
عقیدہ ختم نبوت اسلام کے بنیادی اور قطعی عقائد میں سے ہے۔ قرآن کریم نے حضور اقدس سید عالم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین قرار دیا، یعنی آپ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کسی شخص کو نبوت عطا نہیں کی جائے گی۔
یہ عقیدہ محض کسی ایک آیت یا ایک حدیث سے ثابت نہیں بلکہ قرآن کریم کی صریح نصوص، احادیث مبارکہ، آثار صحابہ، اجماع امت اور امت مسلمہ کے متواتر عملی تعامل سے ثابت ہے۔ قرآن کریم کی صریح آیت ہے:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰـكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۔
ترجمہ کنزالایمان: "محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔" (سورۃ الاحزاب، آیت ۴۰)
یہاں خاتم النبیین کا مطلب یہی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلسلہ نبوت ختم ہوگیا اور آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ امام طبری رحمہ اللہ نے بھی اس آیت کے تحت خاتم النبیین کے معنی "آخرہم" یعنی تمام انبیاء کے آخری نبی بیان کیے ہیں۔
کائنات کے نظام سے ختم نبوت کی حکمت
ہم اپنے اطراف و اکناف میں جب نظر کرتے ہیں تو ہر پیکر وجود کی تین حالتیں ہماری نگاہوں کے سامنے رونما ہوتی ہیں: ابتدا، ارتقا اور اختتام۔ خواہ وہ انسان ہو یا حیوانات، نباتات یا جمادات، ہر شئی ان تین مراحل سے گزرتی ہوئی نظر آتی ہے۔
انسان پیدا ہوتا ہے، پھر بچپن سے جوانی کی طرف بڑھتا ہے اور بالآخر موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ چاند پہلے ہلال کی شکل میں طلوع ہوتا ہے، پھر بڑھتے بڑھتے بدر کامل بن جاتا ہے اور پھر گھٹتے گھٹتے نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ غرض دنیا کی ہر شئی اپنے آغاز، ارتقا اور انجام کے مراحل سے گزرتی نظر آرہی ہے۔
ایک دن ایسا بھی رونما ہوگا کہ پوری کائنات اپنے اختتام کی منزل میں جاپہنچے گی۔ جب کائنات کا بھی ایک آغاز ہے اور ایک انجام ہے تو یہ کیسے محال ہوسکتا ہے کہ سلسلہ نبوت بھی اپنے ایک آخری نقطے پر ختم ہو۔ چنانچہ اللہ رب العزت نے اپنے محبوب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سلسلہ نبوت کی آخری کڑی قرار دیا اور آپ پر نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند فرمادیا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخریت احادیث مبارکہ میں
صاحب لولاک، حضور احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کی طرف اشارہ فرما کر ارشاد فرمایا:
اَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ
ترجمہ: "میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی مانند ہیں۔"
اس حدیث مبارک میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت اور قیامت کی قربت بیان فرمائی۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ آپ کی بعثت سلسلہ انبیاء کے اختتامی دور میں ہوئی اور آپ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔
اور اس عقیدے کی سب سے صریح اور فیصلہ کن حدیث وہ ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ل
