| عنوان: | ابدى مسرتوں کا عدل: جنت، عورت اور مساوات کا اسلامی تصور |
|---|---|
| تحریر: | محمد آزاد رضوی الطیبی |
ابدی مسرتوں کا عدل: جنت، عورت اور مساوات کا
۱۔ تمہید: اعتراض کی حقیقت اور جنت کے بارے میں بنیادی غلط فہمی
اسلام اور اس کی عالمگیر تعلیمات پر مختلف ادوار میں متعدد اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں۔ انہی اعتراضات میں ایک سوال یہ بھی پیش کیا جاتا ہے: "اگر جنت میں مردوں کو حوریں ملیں گی تو عورتوں کو کیا ملے گا؟"
بعض لوگ اس سوال کو عورت کے حقوق اور مساوات کے عنوان سے پیش کرتے ہیں، لیکن اکثر اس کے پسِ پردہ اسلام کے نظامِ عدل پر اعتراض کرنا اور یہ تاثر دینا ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ اسلام نے عورت کو مرد سے کم درجہ دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراض جنت کی حقیقت کو دنیا کے محدود پیمانوں سے ناپنے کا نتیجہ ہے۔ جنت دنیا نہیں ہے۔ جنت وہ مقام نہیں جہاں کسی کے ساتھ ناانصافی ہو، کسی کی خواہش کو نظر انداز کیا جائے، کسی کے دل میں حسد، رنج، محرومی یا احساسِ کمتری باقی رہے۔ بلکہ جنت اللہ تعالیٰ کی کامل رحمت، عدل، فضل اور مہمان نوازی کا ابدی گھر ہے۔
اس مسئلے کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ اصول ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ: جنت میں اللہ تعالیٰ کسی مرد یا عورت کے ساتھ ناانصافی نہیں فرمائے گا، بلکہ ہر جنتی کو وہ عطا ہوگا جو اس کے لیے کامل خوشی اور مسرت کا سبب ہوگا۔ اسی حقیقت کو قرآنِ کریم نے نہایت جامع الفاظ میں بیان فرمایا۔
۲۔ جنت کی سب سے بڑی بنیاد: مرد ہو یا عورت، ہر جنتی کو اس کی خواہش ملے گی
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ
ترجمہ: ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی، اور تمہارے لیے وہاں ہر وہ چیز ہے جس کی تمہارے دل خواہش کریں، اور تمہارے لیے
