عقل و برہان کا سچا پاسبان: دینِ اسلام اور فکرِ انسانی کی عظمت

عقل و برہان کا سچا پاسبان: دینِ اسلام اور فکرِ انسانی کی عظمت
عنوان: عقل و برہان کا سچا پاسبان: دینِ اسلام اور فکرِ انسانی کی عظمت
تحریر: محمد آزاد رضوی الطیبی

بنیادی تصور اور تمہید

دنیا کا کوئی بھی دانشمند اور صاحبِ بصیرت شخص جب مطالعہ، تحقیق اور غیر جانب دارانہ غور و فکر کی روشنی میں حقائق کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اسلام اور عقلِ سلیم کے درمیان کوئی حقیقی منافات، تضاد یا تصادم نہیں ہے۔

اس کے باوجود بعض کم فہم اور سطحی نظر رکھنے والے لوگ یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ: "نعوذ باللہ! اسلام عقل کا مخالف ہے اور انسان کو آزادانہ غور و فکر سے روکتا ہے۔"

یہ دعویٰ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ:
• سائنس کا سب سے بڑا دشمن آئزک نیوٹن اور البرٹ آئنسٹائن تھے!
• ٹیلی فون کا سب سے بڑا مخالف گراہم بیل تھا!
• جدید اسمارٹ فون کے انقلاب کا سب سے بڑا دشمن اسٹیو جابز تھا!

اگر یہ جملے کسی علمی مجلس میں کہے جائیں تو تاریخ اور سائنس سے واقف ہر شخص حیران رہ جائے گا، کیونکہ یہ وہی شخصیات تھیں جنہوں نے اپنی زندگیاں علم، تحقیق، دریافت اور ایجادات کے میدان میں صرف کیں۔ بالکل اسی طرح اسلام کو عقل کا دشمن قرار دینا بھی حقیقت سے ناواقفیت اور اسلامی تعلیمات کے صحیح مطالعے سے محرومی کی علامت ہے؛ کیونکہ اسلام نے انسان کو سوچنے، سمجھنے، غور کرنے، تحقیق کرنے، کائنات میں تدبر کرنے اور حقائق تک پہنچنے کی بار بار دعوت دی ہے۔

اسلامی تعلیمات میں عقل، تدبر اور تفکر کا عظیم مقام

یہ کہنا کہ اسلام عقل کے خلاف یا عقل کے بالمقابل ہے، ایسی بات صرف وہی شخص کہہ سکتا ہے جس نے قرآنِ مجید کی تعلیمات پر غور و فکر نہیں کیا۔ قرآنِ کریم کا مطالعہ کرنے والا شخص دیکھتا ہے کہ قرآن بار بار انسان کی عقل، علم، فکر، بصیرت، تدبر اور شعور کو بیدار کرتا ہے۔

علم اور اہلِ علم کا مقام

قرآنِ مجید میں علم اور اس کے مختلف مشتقات کثرت سے وارد ہوئے ہیں۔ قرآنِ کریم نے اہلِ علم اور جاہل کے درمیان واضح فرق بیان کرتے ہوئے فرمایا:

هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

ترجمہ: "کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟" (الزمر: ۹)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلام علم، شعور اور معرفت کو عظمت عطا کرتا ہے اور جہالت کو پسند نہیں کرتا۔

عقل اور عقل سے کام لینے کی دعوت

قرآنِ مجید میں لفظ "عقل" بطور اسم نہیں بلکہ اس کے مختلف افعال اور صیغے، جیسے: تَعْقِلُونَ، يَعْقِلُونَ اور دیگر صورتوں میں متعدد مقامات پر وارد ہوئے ہیں۔ قرآن انسان کو بار بار عقل سے کام لینے کی دعوت دیتا ہے:

أَفَلَا تَعْقِلُونَ

ترجمہ: "تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟" (الأنعام: ۳۲)

غور کیجیے! قرآنِ مجید صرف انسان کو کوئی حکم دے کر خاموش نہیں ہو جاتا بلکہ بار بار اس کے اندر سوچنے، سمجھنے اور عقل سے کام لینے کی صلاحیت کو بیدار کرتا ہے۔

تفکر اور غور و فکر کی دعوت

قرآنِ پاک میں جگہ جگہ انسان کو کائنات کی وسعتوں، آسمان و زمین، سورج و چاند، رات و دن، پہاڑوں، درختوں، نباتات، جانوروں اور خود اپنی ذات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ غور و فکر انسان اپنے ہاتھ، پاؤں یا دیگر جسمانی اعضاء سے نہیں بلکہ اپنی فہم، شعور، عقل اور بصیرت کے ذریعے کرتا ہے۔ قرآنِ مجید فرماتا ہے:

أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ

ترجمہ: "تو کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح پیدا کیا گیا؟" (الغاشیہ: ۱۷)

یہاں صرف ظاہری آنکھ سے دیکھنے کا حکم نہیں بلکہ کائنات کی تخلیق میں غور کرنے، اس کے نظام کو سمجھنے اور خالق کی قدرت تک پہنچنے کی دعوت دی گئی ہے۔

تدبر کا حکم

تدبر کا مطلب کسی چیز کی گہرائی میں اتر کر اس کی حقیقت، حکمت اور انجام پر غور کرنا ہے۔ قرآنِ مجید ارشاد فرماتا ہے:

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ

ترجمہ: "تو کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟" (النساء: ۸۲)

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ قرآن خود اپنے ماننے والوں کو محض الفاظ پڑھنے پر اکتفا کرنے کا حکم نہیں دیتا بلکہ اپنے معانی، حکمتوں اور حقائق میں تدبر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

اولوالالباب، بصیرت اور عبرت

قرآنِ کریم میں اولوالالباب یعنی عقل و خرد رکھنے والوں کا ذکر بار بار آیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ

ترجمہ: "نصیحت تو وہی قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔" (الرعد: ۱۹)

اسی طرح فرمایا:

فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ

ترجمہ: "پس عبرت حاصل کرو اے بصیرت والو!" (الحشر: ۲)

یہ تمام آیات اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ اسلام عقل، بصیرت، تدبر، تفکر اور صحیح نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت کو بیدار کرتا ہے۔

استعمالِ عقل پر ترغیب اور عدمِ استعمال پر مذمت

اسلام نہ صرف عقل اور ف

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!