| عنوان: | دارالافتاء اہل سنت (مفتی محمد قاسم عطاری کے اہم فتاویٰ) |
|---|---|
| پیش کش: | صوفیہ خاتون |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
۱۔ کیا وضو میں کینولہ یا اس کا ٹیپ ہٹانا ہوگا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جس شخص کو بار بار ڈرپ یا سرنج لگانی ہو، ڈاکٹر کینولہ لگا کر ٹیپ سے لگا ہوا چھوڑ دیتے ہیں، اتارتے نہیں اور نماز کے لیے وضو کرتے ہوئے ٹیپ کے نیچے کی کھال پر سے پانی نہیں بہتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں وضو کے لیے کینولہ ہٹانا ضروری ہے؟ یا ٹیپ کے اوپر سے پانی بہانے سے بھی وضو ہو جائے گا؟
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں جس مریض کو بار بار ڈرپ یا سرنج لگانے کی ضرورت ہو، اس کے لیے وضو میں کینولہ اتارنا یا اس کی ٹیپ ہٹانا ضروری نہیں ہے، بلکہ ٹیپ کے اوپر سے پانی بہانے سے بھی وضو ہو جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیپ ہٹانے سے خون کی رگ کے اندر سوئی ہل سکتی ہے اور ڈاکٹرز سے ملی ہوئی معلومات کے مطابق تجربہ کار شخص ٹیپ ہٹائے، تو سوجن یا انفیکشن کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔
نیز وہ کینولہ بھی بے کار ہو جاتا ہے اور نیا کینولہ جگہ بدل کر لگانا پڑتا ہے اور بار بار کینولہ لگانا تکلیف کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ لہٰذا اس مشقت و حرج کی وجہ سے مریض کو وضو میں ٹیپ کے اوپر سے پانی بہانے کی رخصت ہے اور ٹیپ ہٹا کر اس کے نیچے پانی بہانا معاف ہے۔ اس کی مثال جبیرے کی طرح ہے کہ اگر زخم پر پانی بہانا اور مسح کرنا بھی نقصان دہ ہو تو اس پر لپٹی پٹی یا کپڑے وغیرہ کے اوپر سے پانی بہانے کا حکم ہوتا ہے، لیکن یہ یاد رہے کہ ٹیپ بقدرِ ضرورت ہی لگی ہوئی ہو، اس سے زائد ہوگی، تو زائد حصے والی جگہ کو دھونا ہی ہوگا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
۲۔ احرام کی نیت سے پہلے جسم پر باڈی اسپرے لگانا کیسا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا احرام کی نیت کرنے سے پہلے جسم پر باڈی اسپرے لگا سکتے ہیں؟ تاکہ جسم سے بدبو نہ آئے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
احرام کی نیت کرنے سے پہلے بدن یا جسم پر خوشبو لگانا سنت اور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے عملِ مبارک سے ثابت ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر کوئی شخص بدبو سے بچنے کے لیے احرام کی نیت کرنے سے پہلے جسم پر باڈی اسپرے لگاتا ہے، تو یہ جائز ہے، بلکہ بہتر ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
۳۔ کیا جادو کے توڑ کے لیے جادو کروایا جا سکتا ہے؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا جادو کے توڑ کے لیے جادو کروا سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
جادو ایک شیطانی عمل ہے، جس کی مذمت پر قرآن و احادیث کی واضح نصوص موجود ہیں۔ جادو میں عموماً کفریہ اعتقادیات و افعال پائے جاتے ہیں؛ جیسے ستاروں کو سجدہ کرنا، قرآنِ پاک یا دیگر معظماتِ دینیہ کی بے ادبی کرنا، اسی طرح ان چیزوں کے ذریعے شیاطین سے مدد طلب کرنا اور ان کی خدمت کرنا جو کفر کی طرف لے جانے والی ہیں۔ تو بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ جادو کفریات سے خالی ہو، اگر خالی ہو بھی تو یہ ایک سفلی، مذموم، ناجائز کام ہے۔
لہٰذا جادو کرنا اور کروانا دونوں عام حالات میں ہوں یا جادو کے توڑ کے لیے، بہر صورت ناجائز و حرام اور سخت گناہ کا کام ہے، بلکہ کئی صورتوں میں کفر ہے۔ ایک مسلمان کو اپنے مسائل کے لیے قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق روحانی علاج کروانا چاہیے، کہ اس میں جان کی سلامتی کے ساتھ ایمان کی بھی سلامتی ہے۔ جادو کی کوئی ایک آدھ صورت اگر کفر و حرام سے خالی بھی ہو تو وہ نادر صورت ہے جس پر حکم نہیں دیا جاتا اور بعض علماء کے کلام میں جو ایک آدھ صورت کا جواز ہے وہ اسی پر محمول ہے لیکن عمومی حکم حرام ہی کا ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
۴۔ قرض معاف کر کے دوبارہ مانگنا یا لینا کیسا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے اپنے ایک دوست کو کچھ رقم قرض دی تھی۔ بعد میں ایک موقع پر میں نے اس سے کہا: ”मुझे पैसों की ज़रूरत नहीं, मैंने अपना क़र्ज़ معاف کر دیا“ (مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں، میں نے اپنا قرض معاف کر دیا)، اور اس وقت میرے دوست نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اب کچھ عرصے بعد مجھے پیسوں کی اشد ضرورت ہے، تو کیا شرعاً میرے لیے دوبارہ اس قرض کا مطالبہ کرنا جائز ہے؟ اور اگر میں مطالبہ نہ کروں اور وہ خود رقم واپس کر دے، تو کیا ایسی صورت میں میرے لیے وہ رقم لینا جائز ہوگا؟ برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں شرعاً قرض معاف ہو چکا ہے، لہٰذا دوبارہ اس کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔ ہاں! اگر آپ کا دوست پھر بھی بطورِ تبرع (تحفے کے طور پر) رقم دینا چاہے، تو آپ کے لیے وہ رقم لینا جائز ہے۔
البتہ اگر قرائن وغیرہ سے ظاہر ہو جائے کہ وہ رقم کی ادائیگی اس گمان میں کر رہا ہے کہ قرض اب بھی اس کے ذمہ باقی ہے، تو آپ پر لازم ہے کہ اسے بتائیں کہ شرعاً قرض معاف ہو چکا ہے۔ اس صورت میں اس سے رقم لینا ناجائز ہے اور اگر لے لیا تو واپس کرنا لازم ہوگا۔ ہاں! اگر بتانے کے بعد بھی وہ دینے پر راضی رہے، تو تب لینے میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ قرض کی واپسی نہیں بلکہ اس کی طرف سے احسان ہوگا۔ جب قرض خواہ مقروض کو قرض ہبہ یا معاف کر دے، تو شرعاً قرض معاف ہو جاتا ہے، اس کے نفاذ میں مقروض کے قبول کی حاجت نہیں ہوتی، بس اتنا ضروری ہوتا ہے کہ وہ رد نہ کرے۔
اگر کوئی مسلمان کسی دوسرے شخص کو یہ سمجھ کر کچھ دے کہ دینا مجھ پر لازم ہے لیکن حقیقتاً اس پر لازم نہ ہو، اور دوسرا شخص یہ جانتا بھی ہو، تو دوسرے شخص کے لیے اس کا لینا ناجائز و حرام ہے۔ اگر مجبوری کے تحت بھی لے لیتا ہے، تو اس کی ملک میں داخل نہیں ہوگا اور بہرحال اسے واپس کرنا لازم رہے گا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
