جہاد قرآن و حدیث کی روشنی میں|محمد آزاد رضوی الطیبی

جہاد قرآن و حدیث کی روشنی میں
عنوان: جہاد قرآن و حدیث کی روشنی میں
تحریر: محمد آزاد رضوی الطیب

اسلام امن و سلامتی اور عدل و انصاف کا دین ہے۔ اسلامی شریعت میں جہاد کا تصور کسی پر ظلم کرنے، ملک گیری کی ہوس یا مالِ غنیمت جمع کرنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ ظلم و بربریت کو روکنے، فتنہ و فساد کا خاتمہ کرنے اور دعوتِ حق کے راستے میں حائل جابرانہ رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے دیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ کے مطالعے سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اسلام کبھی تلوار کے زور سے نہیں پھیلا، بلکہ اپنی پاکیزہ تعلیمات، اخلاقی بلندی اور معجزانہ حقانیت سے پھیلا ہے۔

ذیل میں جہاد کے مفہوم، مقاصد اور فضائل پر قرآنِ کریم کی آیات اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں تفصیلی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

باب اول: جہاد قرآنی آیات کی روشنی میں

پہلی آیت: دفاعی جنگ اور حد سے نہ بڑھنے کا حکم

﴿وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ [سورۃ البقرة: 190]

ترجمہ: “اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے مت بڑھو، کیونکہ حد سے بڑھنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔”

تشریح:

ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کو قتال کی مطلق اجازت نہیں تھی۔ مسلمان کفار و مشرکین کی ایذا رسانی پر صبر کرتے رہے، ظلم سہتے رہے اور قتل ہوتے رہے۔ جب حضورِ انور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت فرما گئے اور کفار کا ظلم حد سے بڑھ گیا، تو دفاع اور ان کے ظلم و فساد کا زور توڑنے کے لیے جو سب سے پہلی آیت نازل ہوئی، وہ یہی تھی۔

اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ جنگ میں پہل مسلمانوں کی طرف سے نہیں بلکہ کفار کی طرف سے ہوئی تھی۔ جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام تلوار کی طاقت سے پھیلا، انہیں انصاف سے سوچنا چاہیے کہ ہجرت سے پہلے جو سینکڑوں لوگ مسلمان ہوئے، انہوں نے کس کی تلوار کے خوف سے اسلام قبول کیا تھا؟ اس وقت تو تلوار کفار کے ہاتھ میں تھی۔ معلوم ہوا کہ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ اپنی حقانیت، پاکیزہ تعلیمات اور پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ سے پھیلا ہے۔ نیز، اس آیت میں میدانِ جنگ میں بھی حد سے بڑھنے (زیادتی کرنے) سے منع فرمایا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمان جنگ کے دوران بھی عالی شان ضابطہٴ اخلاق کا پابند ہے۔

دوسری آیت: فتنے کا خاتمہ اور مذہبی آزادی کا قیام

﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ [سورۃ البقرة: 193]

ترجمہ: “اور ان سے لڑو یہاں تک کہ (کفر و شرک کا) کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے، پھر اگر وہ (سرکشی سے) باز آ جائیں تو ان پر کوئی زیادتی نہ کی جائے، سوائے ظالموں کے۔”

تشریح:

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جہاد کا مقصد ظالمانہ فتنے کو مٹانا ہے۔ مکہ کے کافروں نے لوگوں کی ضمیر اور فکر کی آزادی چھین لی تھی؛ جو شخص بھی توحید کو قبول کرتا، اس کی جان و مال کا دشمن بن جاتے تھے۔ اس ظلم و بربریت کا علاج اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ جہاد کے ذریعے ظالموں کا ہاتھ روکا جائے، ان کے غرور کو توڑا جائے اور انسانوں کو عقیدے کی آزادی فراہم کی جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر حق کو پرکھ کر قبول کر سکیں۔

تیسری آیت: جہاد کا حکم اور انسانی طبعی ناگواری

﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ [سورۃ البقرة: 216]

ترجمہ: “تم پر اللہ کی راہ میں لڑنا فرض کیا گیا جبکہ وہ تمہیں ناگوار ہے، اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناگوار سمجھو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو، اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔”

تشریح:

انسانی طبیعت طبعی طور پر راحت، امن اور زندگی کی بقا چاہتی ہے۔ جان کی قربانی دینا انسان پر گراں گزرتا ہے۔ قرآنِ کریم انسانی فطرت کی اسی حالت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگرچہ تمہیں قتال طبعی طور پر ناگوار محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ بندے کا علم ناقص ہے اور اللہ کا علم کامل ہے۔ بسا اوقات جس چیز کو انسان اپنے لیے برا سمجھتا ہے (جیسے جہاد کا مشقت طلب عمل)، اسی میں اس کی اجتماعی بقا، عزت اور آخرت کی کامیابی چھپی ہوتی ہے۔

چوتھی آیت: مومن کی جان و مال کی خریداری

﴿إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ [سورۃ التوبة: 111]

ترجمہ: “بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، پس وہ قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں۔ یہ اللہ کے ذمے سچا وعدہ ہے تورات میں، انجیل میں اور قرآن میں؛ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا کون ہے؟ پس تم اپنے اس سودے پر خوشیاں مناؤ جو تم نے اللہ سے کیا ہے، اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔”

تشریح:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ رب العزت نے ترغیب و بندہ نوازی کا عجیب انداز اختیار فرمایا ہے۔ اگرچہ مومن کی جان و مال کا اصل مالک اللہ ہی ہے، مگر اس نے غازیوں اور شہیدوں کی جان و مال کو “خریداری” سے تعبیر فرمایا اور اس کی قیمت ابدی “جنت” مقرر کی۔ یہ ایسا نفع بخش سودا ہے جس کا وعدہ سابقہ آسمانی کتابوں (تورات و انجیل) میں بھی درج تھا اور قرآن میں بھی۔

پانچویں آیت: دیگر تعلقات پر اللہ و رسول کی محبت کو ترجیح

﴿قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ﴾ [سورۃ التوبة: 24]

ترجمہ: “(اے پیغمبر!) آپ فرما دیجیے کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارا کنبہ، تمہاری کمائی کے مال، وہ تجارت جس کے مندا ہونے سے تم ڈرتے ہو اور تمہارے پسندیدہ مکانات تمہیں اللہ، اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہیں، تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ (عذاب) لے آئے، اور اللہ فاسق قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔”

تشریح:

اس آیت میں ان تمام دنیوی رشتوں، مال و متاع اور آسائشوں کا احاطہ کیا گیا ہے جو انسان کو اللہ کی راہ میں سرفروشی سے روک سکتی ہیں۔ قرآنی ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ مومن کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اللہ، اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کی محبت دنیا کی تمام چیزوں پر غالب نہ آ جائے۔

باب دوم: جہاد احادیثِ نبویہ کی روشنی میں

پہلی حدیث: مجاہد کی مسلسل عبادت کی مانند مثال

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

«مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ، لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى» [صحيح البخاري، ج: 1، ص: 391 | صحيح مسلم، ج: 2، ص: 133]

ترجمہ: “اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو مسلسل روزے رکھتا ہو، رات بھر قیام کرتا ہو اور اللہ کی آیات کی تلاوت میں مشغول ہو، اور وہ روزے اور نماز سے ذرا بھی سستی نہ کرے، یہاں تک کہ وہ مجاہد لوٹ آئے۔”

تشریح:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ جب تک مجاہد میدانِ کارزار میں رہتا ہے، اسے دن کے روزہ دار اور رات کے شب بیدار کا ثواب مسلسل ملتا رہتا ہے۔

دوسری حدیث: دنیا میں دوبارہ آنے کی خواہش صرف شہید کی

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

«مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا الشَّهِيدُ، يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ» [صحيح البخاري، ج: 1، ص: 395]

ترجمہ: “جنت میں داخل ہونے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ واپس آنا پسند نہیں کرے گا، خواہ اسے زمین کی تمام چیزیں ہی کیوں نہ مل جائیں؛ سوائے شہید کے۔ وہ شہادت کے عزت و اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار لوٹایا جائے اور وہ بار بار اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے۔”

تیسری حدیث: مجاہدین کے لیے جنت کے درجات

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» [صحيح البخاري، ج: 1، ص: 391]

ترجمہ: “بیشک جنت میں سو درجات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھا ہے، دو درجوں کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان ہے۔”

چوتھی حدیث: شہید کے چھ خصوصیات و اعزازات

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

«لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ سِتُّ خِصَالٍ: يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ، وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ، الْيَاقُوتَةُ مِنْهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَيُزَوَّجُ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَقَارِبِهِ» [جامع الترمذي، رقم الحديث: 1663 | سنن ابن ماجه، ج: 2، ص: 201]

ترجمہ: “اللہ کے یہاں شہید کے لیے چھ اعزازات ہیں:

  1. خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے۔

  2. اسے عذابِ قبر سے امان دی جاتی ہے۔

  3. وہ قیامت کی سب سے بڑی گھبراہٹ (فزعِ اکبر) سے محفوظ رہے گا۔

  4. اس کے سر پر عزت و وقار کا تاج رکھا جائے گا، جس کا ایک یاقوت دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہوگا۔

  5. اس کا نکاح 72 بڑی آنکھوں والی حوروں سے کیا جائے گا۔

  6. اس کے 70 رشتہ داروں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔

پانچویں حدیث: ترکِ جہاد کی سزا

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

«مَا تَرَكَ قَوْمٌ الْجِهَادَ إِلَّا عَمَّهُمُ اللَّهُ بِالْعَذَابِ» [المعجم الكبير للطبراني، ج: 12، ص: 331]

ترجمہ: “جو قوم بھی جہاد کو چھوڑ بیٹھتی ہے، اللہ تعالیٰ اس پر ایسا عذاب عام مسلط کر دیتا ہے جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔”

چھٹی حدیث: جہاد کی آرزو کے بغیر موت پر وعید

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِالْغَزْوِ مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنَ النِّفَاقِ» [صحيح مسلم، ج: 2، ص: 131]

ترجمہ: “جو شخص اس حالت میں مرا کہ نہ اس نے کبھی جہاد کیا اور نہ ہی اپنے دل میں جہاد کی آرزو کی، وہ نفاق کے ایک شعبے (خصلت) پر مرا۔”

ساتویں حدیث: غازی کی مدد و دیکھ بھال نہ کرنے کی وعید

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

«مَنْ لَمْ يَغْزُ أَوْ يُجَهِّزْ غَازِيًا أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ أَصَابَهُ اللَّهُ بِقَارِعَةٍ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» [سنن أبي داود، ج: 1، ص: 339]

ترجمہ: “جس شخص نے نہ خود جہاد کیا، نہ کسی غازی کا سامانِ جنگ تیار کرایا، اور نہ کسی غازی کے پیچھے اس کے گھر والوں کی خیر و بھلائی کے ساتھ دیکھ بھال کی، اللہ تعالیٰ قیامت سے پہلے اسے کسی اچانک آنے والی مصیبت میں مبتلا کر دے گا۔”

آٹھویں حدیث: اللہ کی راہ میں بہنے والے قطرے

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

«لَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ قَطْرَتَيْنِ: قَطْرَةٌ مِنْ دُمُوعٍ فِي خَشْيَةِ اللَّهِ، وَقَطْرَةُ دَمٍ تُهْرَقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» [جامع الترمذي، رقم الحديث: 1707]

ترجمہ: “اللہ تعالیٰ کے نزدیک دو قطروں سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں: ایک وہ آنسو کا قطرہ جو اللہ کے خوف سے بہے، اور دوسرا وہ خون کا قطرہ جو اللہ کی راہ میں بہایا جائے۔”

حاصلِ کلام

مذکورہ بالا تمام قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام میں جہاد کا اصل مقصد عدل و انصاف کی بحالی، مظلوموں کی حمایت اور باطل کے غلبے کو ختم کرنا ہے۔ جہاں ایک طرف مجاہدین اور شہداء کے لیے جنت کے عظیم الشان درجات اور بے شمار انعامات کی بشارت دی گئی ہے، وہیں دوسری طرف جہاد سے مکمل بے رغبتی اور ظلم کے سامنے ہتھیار ڈال دینے پر دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی کی وعید آئی ہے۔ اللہ رب العزت تمام اہل ایماں کو دین کی صحیح فہم اور اعلائے کلمۃ الحق کا جذبہ عطا فرمائے۔ آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!