| عنوان: | اولیاءِ کرام کی نذر و نیاز اور توسل کا شرعی ثبوت |
|---|---|
| تحریر: | محمد آزاد رضوی الطیبی |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
تمہید
اسلام ایک ایسا کامل اور جامع دین ہے جس میں شعائرِ اللہ کی تعظیم اور بارگاہِ خداوندی کے مقرب بندوں یعنی اولیائے کرام علیہم الرحمہ کی محبت، احترام اور ان کے وسائط سے برکات حاصل کرنے کو باعثِ خیر و ثواب قرار دیا گیا ہے۔ خالقِ کائنات کی بارگاہ میں اس کے محبوبین کے ذریعے مدد چاہنا اور ان کی یاد میں نذر و نیاز پیش کرنا امتِ مسلمہ کا ایک دیرینہ اور معمول بہ عمل ہے۔ اولیائے کرام کی نذر کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے فقہی اور عرفی اصطلاحات کا فرق اور قرآن و حدیث و اکابرینِ امت کی تصریحات کا مطالعہ نہایت ضروری ہے تاکہ حق و باطل کا تمیز واضح ہو سکے۔
قرآنِ پاک سے ولایت اور نصرت کا ثبوت
قرآنِ کریم میں رب العزت نے واضح فرمایا ہے کہ وہ اپنے صالح اور محبوب بندوں کو مدد اور نصرت کا ذریعہ بناتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِيرٌ
یہ آیتِ کریمہ اس بات پر صریح دلیل ہے کہ رب تعالیٰ کی نصرت کے ساتھ ساتھ انبیاء، ملائکہ اور صالحینِ مومنین بھی مددگار اور ذریعہ برکت بنتے ہیں۔
نذرِ فقہی اور نذرِ عرفی میں فرق
نذر کی دو قسمیں ہیں: فقہی اور عرفی۔ نذرِ فقہی کے معنی ہیں غیر ضروری عبادات کو اپنے لیے ضروری کر لینا۔ اور نذرِ عرفی کے معنی ہیں نذرانہ، ہدیہ اور نیاز۔ نذرِ فقہی: خدائے تعالیٰ کے سوا کسی کی ماننا جائز نہیں۔ اور نذرِ عرفی: جو بزرگانِ دین کے لیے ان کے حیاتِ ظاہری یا حیاتِ باطنی میں پیش کی جاتی ہیں جائز ہیں۔
حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی کے بھائی شاہ رفیع الدین صاحب "رسالہ نذور" میں تحریر فرماتے ہیں:
"نذریکہ ایں جامستعمل می شود نہ بمعنی شرعی استچہ عرف آنست کہ آنچہ پیش بزرگان می برندنذرونیازمی گویند۔"
ترجمہ: لفظِ نذر جو کہ یہاں مستعمل ہوتا ہے، شرعی معنی پر نہیں ہے اس لیے کہ عرف میں جو کچھ بزرگوں کے یہاں لے جاتے ہیں نذر و نیاز کہتے ہیں۔
حضرت علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ "حدیقہ ندیہ" میں تحریر فرماتے ہیں:
مِنْ هَذَا الْقَبِيلِ زِيَارَةُ الْقُبُوْرِ وَالتَّبَرُّكُ بِضَرَائِحِ الْأَوْلِيَاءِ وَالصَّالِحِيْنَ وَالنَّذْرُ لَهُمْ بِتَعْلِيْقِ ذَلِكَ عَلَى حُصُوْلِ شِفَاءِ أَوْ قُدُوْمِ غَائِبٍ فَإِنَّهُ مَجَازٌ عَنِ الصَّدَقَةِ عَلَى الْخَادِمِيْنَ لِقُبُوْرِهِمْ۔
ترجمہ: اسی قبیل سے ہے قبروں کی زیارت کرنا، اور اولیائے کرام و بزرگانِ دین کی مزارات سے برکت حاصل کرنا اور بیمار کی شفا یا مسافر کے آنے پر اولیائے گزشتہ کے لیے نذر ماننا کہ وہ ان کی قبروں کی خدمت کرنے والوں پر صدقہ کرنے سے مجاز ہے۔
محدثین اور اولیاء کے واقعات سے ثبوت
امام اجل حضرت ابو الحسن نور الملة والدین علی بن یوسف شٹنوفی قدس سرہُ العزیز اپنی کتاب "بہجة الاسرار شریف" میں محدثانہ اسانیدِ صحیحہ معتبرہ سے روایت کرتے ہیں:
أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَفَافِ مُوسَى بْنُ عُثْمَانَ بِالْقَاهِرَةِ ۶۶۳ھ قَالَ أَخْبَرَنَا الشَّيْخَانِ أَبُو عُمَرَ وَ عُثْمَانُ الصَّرِيْفِيْنِيُّ وَ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْحَقِّ الْحَرِيْمِيُّ بِبَغْدَادَ سنه ۵۵۹ھ قَالَ كُنَّا بَيْنَ يَدَيِ الشَّيْخِ مُحْيِي الدِّيْنِ عَبْدِ الْقَادِرِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَوْمَ الْأَحَدِ ثَالِثِ صَفَرٍ سنه ۵۵۵ھ
ابو العفاف موسیٰ بن عثمان نے ۶۶۳ھ میں ہم سے شہر قاہرہ میں حدیث بیان کی کہ میرے والد ماجد ابو المعانی عثمان نے ہمیں ۶۱۴ھ میں شہر دمشق میں خبر دی کہ ہمیں دو بزرگ حضرت ابو عمر و عثمان صریفینی اور حضرت ابو محمد عبدالحق حریمی نے ۵۵۹ھ میں بغداد شریف میں خبر دی کہ ہم ۳ صفر روز یکشنبہ ۵۵۵ھ میں حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دربار میں حاضر تھے۔
حضرت نے وضو کر کے کھڑاویں پہنی اور دو رکعت نماز پڑھی سلام کے بعد ایک عظیم نعرہ مارا اور ایک کھڑاؤں ہوا میں پھینکی۔ پھر دوسرا نعرہ مارا دوسری کھڑاؤں پھینکی۔ وہ دونوں ہماری نگاہوں سے غائب ہو گئیں پھر حضرت نے تشریف رکھی مگر ہیبت کے سبب کسی کو پوچھنے کی جرأت نہ ہوئی ۲۳ دن کے بعد عجم سے ایک قافلہ حاضرِ بارگاہ ہوا اور کہا: انّ معنا للشّیخ نذراً یعنی ہمارے پاس حضرت کی ایک نذر ہے، فَاسْتَأْذَنَاهُ فَقَالَ خُذُوهُ مِنْهُمْ یعنی ہم نے حضرت سے اس نذر کے لینے میں اجازت طلب کی۔ حضرت نے فرمایا لے لو۔ انہوں نے ایک من ریشم، خز کے تھان، سونا اور حضرت کی کھڑاویں جو اس روز ہوا میں پھینکی تھی پیش کی۔ ہم نے ان سے پوچھا یہ کھڑاویں تمہارے پاس کہاں سے آئی؟ انہوں نے کہا ہم ۳ صفر یکشنبہ کو سفر میں تھے کہ بہت سے ڈاکوؤں سرداروں کے ساتھ ہم پر ٹوٹ پڑے۔ ہمارے مال لوٹ لیے اور کچھ آدمیوں کو قتل کر دیے پھر ایک نالے میں مال تقسیم کرنے کے لیے اترے نالے کے کنارے ہم تھے:
فَقُلْنَا لَوْ ذَكَرْنَا الشَّيْخَ عَبْدَالْقَادِرِ فِي هٰذَا الْوَقْتِ وَ نَذَرْنَا لَهُ شَيْئًا مِنْ أَمْوَالِنَا إِنْ سَلِمْنَا۔
یعنی ہم نے کہا کہ بہتر ہو کہ اس وقت ہم حضرت غوث اعظم کو یاد کریں اور نجات پانے پر کچھ مال حضرت کے لیے نذر مانیں۔ ہم نے حضرت کو یاد ہی کیا تھا کہ دو عظیم نعرے سنے گئے جن سے جنگل گونج اٹھا اور ہم نے ڈاکوؤں کو دیکھا کہ ان پر خوف چھا گیا۔ ہم سمجھے کہ ان پر کوئی اور ڈاکو آ پڑے۔ وہ بھاگ کر ہمارے پاس آئے اور بولے اپنا مال لے لو اور دیکھو ہم پر کیسی مصیبت آ پڑی۔ ہمیں اپنے دونوں سرداروں کے پاس لے گئے۔ ہم نے دیکھا وہ مرے پڑے ہیں اور ہر ایک کے پاس ایک کھڑاؤں پانی سے بھیگی ہوئی رکھی ہے۔ ڈاکوؤں نے ہمارے سب مال ہمیں واپس کر دیے اور کہا کہ اس واقعہ کی کوئی عظیم الشان خبر ہے۔
اور بہجة الاسرار شریف ہی میں دوسری روایت ہے:
حَدَّثَنَا أَبُو الْفُتُوحِ نَصْرُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَرْجِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْفَضْلِ قَالَ شَيْخُنَا الشَّيْخُ مُحْيِي الدِّيْنِ عَبْدِ الْقَادِرِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَقْبَلُ النُّذُورَ وَيَأْكُلُ مِنْهُمَا۔
حدیث بیان کی ہم سے ابو الفتوح نصر اللہ بن یوسف ارجی نے انہوں نے کہا ہمیں شیخ ابو العباس احمد بن اسماعیل نے خبر دی انہوں نے کہا ہمیں شیخ ابو محمد عبد اللہ بن حسین بن ابو الفضل نے خبر دی کہ ہمارے شیخ حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نذریں قبول فرماتے اور بذاتِ خود اس میں سے تناول فرماتے۔
دیکھئے اگر یہ نذرِ فقہی ہوتی تو حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ساداتِ کرام میں سے ہیں اس میں سے ہرگز تناول نہ فرماتے کہ سیدوں کے لیے نذرِ فقہی میں سے کھانا جائز نہیں اس لیے کہ اسے وہی کھا سکتا ہے جو زکوٰۃ لے سکتا ہے۔
عارف باللہ حضرت عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ، طبقاتِ کبریٰ میں حضرت ابو المواہب محمد شاذلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حالات میں تحریر فرماتے ہیں:
وَ كَانَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ يَقُوْلُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِذَا كَانَ لَكَ حَاجَةٌ وَ أَرَدْتَ قَضَائَهَا فَانْذُرْ نَفِيْسَةَ الطَّاهِرَةَ وَلَوْ فُلْسًا فَإِنَّ حَاجَتَكَ تُقْضَى۔
حضرت ابو المواہب محمد شاذلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے سرکارِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا حضور نے فرمایا جب تمہیں کوئی حاجت پیش آئے اور چاہو کہ وہ پوری ہو جائے تو سیدہ طاہرہ حضرت نفیسہ کے لیے کچھ نذر مان لیا کرو اگرچہ ایک ہی پیسہ ہو تمہاری حاجت پوری ہو گی۔
ثابت ہوا کہ اولیاء کرام کی نذر، نذرِ فقہی نہیں ہے بلکہ نذرِ عرفی ہے اسے ساداتِ کرام اور امیر و غریب سب لوگ لے سکتے ہیں اور کھا سکتے ہیں۔
علماءِ ہند کے شواہد
شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی اپنے والد ماجد شاہ عبدالرحیم صاحب کے حال میں لکھتے ہیں کہ وہ قصبہ ڈاسنہ حضرت مخدوم اللہ دیا قدس سرہ کے مزار پر حاضر ہوئے رات کا وقت تھا والد گرامی نے فرمایا کہ حضرت مخدوم ہماری دعوت کر رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ کچھ کھا کے جانا۔ تھوڑے دیر ٹھہر گئے جب لوگوں کی آمد و رفت بند ہو گئی تو ایک عورت تھالی میں چاول اور شیرینی لئے حاضر ہوئی۔ اور کہا کہ میں نے نذر مانی تھی کہ اگر میرا شوہر آ جائے گا تو میں اسی وقت یہ کھانے پکا کر حضرت مخدوم اللہ دیا کی درگاہ میں حاضرین کے لے پہنچاؤں گی تو میرا شوہر اس وقت آ گیا تو میں نذر پوری کرنے کے لیے حاضر ہوئی ہوں۔
شاہ صاحب کے اصل فارسی الفاظ یہ ہیں:
"حضرت ایشاں درقصبہ ڈاسنہ بزیارت مخدوم اللہ دیارفتہ بودندشب ہنگام بود در آن محل فرمودند مخدوم ضیافت ما می کنند ومی گویند چیزے خوردہ روید توقف کردندتا آنکہ اثر مردم منقطع شد و ملال بریاراں غالب آمد آنگاہ زمانے بیامد طبقی برنج وشیرینی بر سر و گفت نذر کردہ بودم کہ اگر زوج من بیاید ہماں ساعت ایں طعام پختہ بہ نشیند گان درگاہ مخدوم اللہ دیا رسانم دریں وقت آمد ایفاۓ نذر کردم۔" (انفاس العارفین)
اور مزید شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ میرے والد شاہ عبدالرحیم صاحب فرمایا کرتے تھے کہ فرہاد بیگ نے مشکل کے وقت میری نذر مانی مگر وہ بھول گئے نذر پوری نہ کی تو ان کا گھوڑا بیمار ہو گیا یہاں تک کہ مرنے کے قریب پہنچ گیا۔ مجھے معلوم ہوا کہ فرہاد بیگ پر یہ مصیبت میری نذر پوری نہ کرنے کے سبب ہے میں نے کہلا بھیجا کہ گھوڑا بچانا چاہتے ہو تو ہماری نذر پوری کرو۔ فرہاد بیگ نے نذر پوری کی تو گھوڑا فوراً اچھا ہو گیا۔ شاہ صاحب کے الفاظ درج ذیل ہیں:
"حضرت ایشاں می فرمودند کہ فرہاد بیگ را مشکلی افتاد نذر کرد کہ بارخدایا اگر ایں مشکل بسر آید ایں قدر مبلغ بحضرت ایشاں ہدیہ دہم آن مشکل مندفع شد آن نذر از خاطر او برفت بعد چندے اسپ او بیمار شد ونزدیک ہلاک رسید، برسبب ایں مشرف شدم بدست یکے از خادماں گفتہ فرستادم کہ ایں بیماری اسپ عدم وفاۓ نذر ست اگر اسپ خود را می خواہی نذرے را کہ فلاں محل التزام نموده بفرست وے نادم شدوآن نذر فرستاد ہماں ساعت اسپ او شفا یافت۔" (انفاس العارفین)
مذکورہ بالا بزرگوں کے اقوال واحوال سے خوب اچھی طرح واضح ہو گیا کہ نذرِ عرفی جو بزرگوں کے لیے مانی جاتی ہے بلا شبہ جائز ہے اسے ناجائز اور شرک کہنا بزرگوں کو مشرک اور گنہگار ٹھہرانا ہے۔
جہالت پر مبنی واہیات منتوں کی مذمت
البتہ جاہلوں میں غلط منتیں جو رائج ہیں ان سے بچنا ضروری ہے۔ صدر الشریعہ حضرت مولانا حکیم ابو العلا محمد امجد علی صاحب علیہ الرحمة والرضوان تحریر فرماتے ہیں:
"علم اور تعزیہ بنانے اور پیک بننے اور محرم میں بچوں کو فقیر بنانے اور بدھی پہنانے اور مرثیہ کی مجلس کرنے اور تعزیہ پر نیاز دلوانے وغیرہ خرافات جو روافض اور تعزیہ دار لوگ کرتے ہیں ان کی منت سخت جہالت ہے ایسی منت نہ ماننی چاہیے اور مانی ہو تو پوری نہ کرے۔" (بہار شریعت)
اور مزید فرمایا:
"بعض جاہل عورتیں لڑکوں کے کان ناک چھدوانے اور بچوں کی چوٹیاں رکھنے کی منت مانتی ہیں اور طرح طرح کی ایسی منتیں مانتی ہیں جن کا جواز کسی طرح ثابت نہیں۔ اوّلاً ایسی واہیات منتوں سے بچیں اور مانی ہو تو پوری نہ کریں اور شریعت کے معاملہ میں اپنے لغو خیالات کو دخل نہ دیں۔ نہ یہ کہ ہمارے بڑے بوڑھے یوں ہی کرتے چلے آئے ہیں اور یہ کہ پوری نہ کریں گے تو بچہ مر جائے گا، بچہ مرنے والا ہوگا تو یہ ناجائز منتیں بچا نہ لیں گی منت مانا کرو تو نیک کام نماز، روزہ، خیرات، درود شریف کلمہ شریف اور قرآن شریف پڑھنے، فقیروں کو کھانا دینے، کپڑا پہنانے وغیرہ کی منت مانو۔"
خلاصہ کلام
مذکورہ دلائلِ قاطصہ سے ثابت ہوا کہ اولیائے کرام کے نام پر نذرانہ اور نیاز پیش کرنا دراصل نذرِ عرفی یعنی ہدیہ اور ایصالِ ثواب ہے، جسے فقہی نذر (عبادت) قرار دے کر شرک یا حرام کہنا جہالت ہے۔ تاہم، خرافات، غیر شرعی رسومات اور واہیات منتوں سے بچنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے اور نذر ہمیشہ جائز و شرعی امور جیسے نماز، روزے، صدقات اور ایصالِ ثواب کی ہی ماننی چاہیے۔
دعا
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں التجا ہے کہ وہ ہمیں اولیائے کرام کا ادب، ان کی سچی محبت اور ان کی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور ہر قسم کی جہالت، بدعات اور خرافات سے محفوظ رکھے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
